September 22nd, 2019 (1441محرم22)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ

 

آپ ؓ کی ذاتِ اقدس میں مسلم خواتین کے لیے بہترین نمونہ موجود ہے

شمس الرحمٰن 

آپ ؓ عبادات کے معاملے میں ہمیشہ حضور اکرم ﷺ کی پیروی کرنے کی کوشش کرتی تھیں ، حضور اکرم ﷺ رات میں بیدار ہو جاتے اور تہجد کی نماز ادا فرماتے ، آخری پہر میں آپ ﷺ حضرت عائشہ کو بھی بیدار فرما دیتے ، وہ اٹھ کر حضور اکرم ﷺ کے ساتھ نماز ادا کرتیں ، نبی کریم ﷺ طویل سورتیں تلاوت فرماتے ۔ آخر میں وتر ادا فرماتے ۔ پھر سپیدۂ سحر نمو دار ہوتا تو فجر کی سنتیں پڑھ کر لیٹ جاتے اور حضرت عائشہ ؓ سے باتیں کرتے ۔ پھر نماز فجر کے لیے باہر نکل جاتے آپ ؓ اکثر حضور اکرم ﷺ کے ساتھ روزے رکھتیں ، رمضان المبارک میں اپنے حجرے میں اعتکاف کرتی تھیں ۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ جب گھر میں ہوتیں اور رسول اکرم ﷺ مسجد نبوی میں صحابہ کرام ؓ کو تعلیم دے رہے ہوتے تو آپ ؓ کان لگا کران کی باتیں سنا کرتیں ۔ اگر کبھی کوئی بات سمجھ میں نہ آتی تو اسے بعدمیں رسول اللہ ﷺ سے پوچھ لیتیں۔ آپ ؓ آں حضرت ﷺ سے کوئی بات سنتی تھیں تو جب تک اسے سمجھ نہ لیتی تھیں کسی اور سے بیان نہ کرتی تھیں ۔ آپ ﷺ نے خواتین کی درخواست پر ہفتہ میں ایک دن مقرر فرما دیا تھا ۔ اس دن خواتین آ کر آپ ﷺ سے مسائل پوچھا کرتی تھیں ۔ آں حضرت ﷺ آپ ؓ سے بے حد محبت فرمایا کرتے تھے ۔ آپؓ کی کم سنی اور اس عمر کے ذوق کو پیش نظر رکھتے ہوئے حضور اکرم ﷺ آپ ؓ سے ہلکی پھلکی اور پر مزاح گفتگو بھی فرمایا کرتے تھے اور آپ ؓ کو دل بہلانے کے مواقع بھی فراہم کیا کرتے تھے ۔
ایک بار حضرت عائشہ ؓ ایک سفر میں حضور اکرم ﷺ کے ساتھ تھیں ، آپ ﷺ نے تمام صحابہ ؓ کو آگے بڑھنے کا حکم دیا اور حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا ، آئو دیکھیں کون آگے نکل جاتا ہے ۔ حضرت عائشہ ؓ اس وقت دبلی پتلی تھیں ، دوڑ میں رسول پاک ﷺ سے آگے نکل گئیں ۔ کئی سال بعد پھر ایسا ہی موقع آیا ۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اب میرا بدن بھاری ہو گیا تھا ، دوڑ میں حضور اکرم ﷺ آگے نکل گئے ، آپ ﷺ نے فرمایا ، عائشہ، یہ اس دن کا جواب ہے ۔ ( ابو دائود)
اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نوجوان بیوی کے جذبات اور خوشیوں کا خیال رکھنے کے سلسلے میں آں حضرت ﷺ کے طرزِ عمل میں کیسا مثالی نمونہ موجود ہے ،لیکن یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ حضور اکرم ﷺ حضرت عائشہ ؓ سے بے تکلفانہ گفتگو فرما رہے ہوتے اور اچانک اذان کی آواز آتی ، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اس موقع پر آپ ﷺ فوراً اٹھ کھڑے ہوتے اور ایسا محسوس ہوتا جیسے آپ ﷺ ہم کو پہچانتے ہی نہیں ہیں ۔
نبی کریم ﷺ جہاں اپنے صحابہ کرام ؓ کی تربیت فرماتے تھے ، وہیں آپ ﷺ نے اپنی ازواجِ مطہرات کی تربیت کا بھی خاص اہتمام فرمایا ۔ آپ ﷺ جہاں مناسب سمجھتے نصیحت فرماتے اور جہاں ضرورت محسوس کرتے ٹوک دیتے ۔ ایک بار حضرت عائشہ ؓ نے آٹا پیسا اور اس کی ٹکیاں پکائیں ۔ حضور ﷺ تشریف لائے تو نماز ادا کرنے لگے ، آپ ﷺ کے انتظار میں حضرت عائشہ ؓ کی آنکھ لگ گئی ، اس دوران پڑوس کی ایک بکری گھر میں چلی آئی اور ٹکیاں کھا گئی ، حضرت عائشہ ؓ بیدار ہوئیں تو بکری کو مارنے کے لیے دوڑیں ۔ رسول پاک ﷺ نے آپ ؓ کو روک دیا اور فرمایا: عائشہ ہمسائے کو تکلیف نہ دو ۔
حضرت عائشہ ؓ جب حضور اکرم ﷺ کی زوجیت میں آئیں تو آپ ﷺ کی پہلی زوجہ محترمہ ( حضرت خدیجہ ؓ ) سے چار بیٹیوں میں سے تین کی شادی ہو چکی تھی یعنی حضرت زینب ؓ ، حضرت رقیہ ؓ اور حضرت ام کلثوم ؓ ۔ ایک صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ کا نکاح حضرت علی ؓ سے ہوا ۔ اس موقع پر حضرت عائشہ ؓ نے خاص طور پر سامان درست کیا ، مکان لیپا ، بستر لگایا، اپنے ہاتھ سے کھجور کی چھال دھن کر تکیے بنائے ، چھوہارے اور منقے دعوت میں پیش کیے، لکڑی کی الگنی بنائی تاکہ اس پر پانی کی مشک اور کپڑے لٹکائے جا سکیں ۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں’’فاطمہ ؓ کے بیاہ سے اچھا بیاہ میں نے نہیں دیکھا۔‘‘
صفر11ھ میں آں حضرت ﷺ علیل ہو گئے ، آپ ﷺ حضرت میمونہ ؓ کے گھر جا کر رہے پھر ایک ایک دن تمام ازواج مطہرات ؓ کے پاس قیام فرمایا ۔ آپ ﷺ ہر روز استفسار فرماتے کہ کل میں کہاں ر ہوں گا ، ازواج مطہرات ؓ نے سمجھ لیا کہ آپ ﷺ حضرت عائشہ ؓ کے پاس رہنا چاہتے ہیں ۔ چنانچہ آپ ﷺ حضرت عائشہ ؓ کے ہاں منتقل ہو گئے ۔ آپﷺ اپنی زندگی کے آخری ایام میں 13دن بیمار رہے اور ان13 دنوں میں آٹھ دن آپ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کے ہاں قیام فرمایا ۔ کچھ عجب نہیں کہ آنحضرت ﷺ کی اس خواہش کا مقصد یہی ہو کہ حضرت عائشہ ؓ جیسی قوت حافظہ اور مثالی فہم و دانش رکھنے والی خاتون کے ذریعے ، آپ ﷺ کی زندگی کے آخری لمحات تک کے واقعات اور آپ ﷺ کے ارشادات ، امت مسلمہ تک پہنچ سکیں ۔
جب حضور اکرم ﷺ کی علالت بہت شدید ہو گئی تو آپ ﷺ بہت بے چین تھے ۔ حضرت عائشہ ؓ آخر وقت تک دعائیں پڑھ پڑھ کر آپ ﷺ پر دم کرتی رہیں ۔ حضرت عائشہ ؓ کو یہ فخر حاصل ہے کہ آخر دم تک آنحضرت ﷺ کا سر مبارک آپ ؓ کے زانو پر رہا اور آپ ؓ ہی کے حجرے میںرسول اکرم ﷺ سپرد خاک کیے گئے ۔
حضور اکرم ﷺ کے وصال کے بعد حضرت عائشہ ؓ نے عہد صدیقی ؓ اور عہد فاروقی ؓ کو بھی دیکھا اور حضرت عثمان ؓ اور حضرت علی ؓ کی خلافت کا زمانہ بھی ۔ حضرت امیر معاویہ ؓ کے خلیفہ بننے کے اٹھارہ رس تک آپ ؓ حیات رہیں ۔ رمضان المبارک 58ھ میں آپ ؓ علیل ہو گئیں ، صحابہ کرام ؓ عیادت کے لیے آتے تو آپ ؓ کی تعریفیں کرتے ، آپ ؓ جواب میں فرماتیں ،’’ اے کاش میں پتھر ہوتی ، میں کسی جنگل کی جڑی بوٹی ہوتی ۔ ‘‘
رمضان المبارک کی 17تاریخ تھی (13 جون 678ء) رات نماز وتر کے بعد آپ ؓ دنیا کی زندگی کو الوداع کہہ کر آخرت کے سفر پر روانہ ہو گئیں ۔ آپ ؓ کی وصیت کے مطابق آپ ؓ کو رات ہی میں جنت البقیع کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔جنازے میں اتنے لوگ تھے کہ رات کے وقت پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے تھے ۔ صحابی رسول ، حضرت ابو ہریرہ ؓ ان دنوں مدینہ منورہ کے قائم مقام حاکم تھے ، انہوں نے آپ ؓ کی نمازجنازہ پڑھائی ، آپ ؓ کے بھتیجوں اور بھانجوں قاسم بن محمد ؓ ، عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ ، عبداللہ بن عتیقؓ ، عروہ بن زبیر ؓ اور عبداللہ بن زبیر ؓ نے مل کر قبر میں اتارا ۔
آپ ؓ نے اپنے ترکہ میں ایک جنگل اور چند دیگر اشیا چھوڑیں ۔ جنگل آپ ؓ کی ہمشیرہ اسماء ؓ کے حصہ میں آیا ، حضرت معاویہ ؓ نے یہ جنگل تبرک کے طور پر ایک لاکھ درہم میں خریدا ۔ حضرت اسماء ؓ نے یہ تمام رقم عزیزوں میں تقسیم کر دی ۔
حضرت عائشہ ؓ کی ذاتِ اقدس میں امت مسلمہ کی خواتین کے لیے بہترین نمونہ موجود ہے ۔ آپ ؓ کو متعدد فضیلتیں حاصل ہیں ۔ کئی بار ایسا ہوا کہ آپ ؓ کے ساتھ کوئی واقعہ پیش آیا اور پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر وحی نازل فرمائی ۔ بعض اوقات آپ ؓ کے کسی واقعہ کے نتیجے میں اہم دینی اصول مرتب کیے گئے ۔
شعبان 5ھ میں غزوۂ بنی مصطلق سے واپسی پر منافقین نے حضرت عائشہ ؓ پر ( معاذ اللہ) تہمت تراشی کی اس کا مقصد پوری اسلامی تحریک کو زبر دست زک پہنچانا تھا، یہ بے حد کڑی آزمائش تھی ، کئی دن تک مدینہ کی صورتِ حال کشیدہ رہی ۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے سورۂ نور کی آیات نازل فرما کر حضرت عائشہ ؓ کی پاک دامنی کی خود گواہی دی ۔ 
اسی موقع پر بہت سے دیگر احکام نازل ہوئے جن کا مقصد معاشرے سے بے حیائی کو دور کرنا اور انسان کے فطری تقاضوں کی تکمیل میں آسانیاں پیدا کرنا تھا ۔ قدیم زمانے میں طلاق کی کوئی حد مقرر نہ تھی ۔ شوہر طلاق دیتا اور پھر کچھ عرصے بعد رجوع کر لیتا ۔ ایک عورت اس طرح کی شکایت لے کر حضرت عائشہ ؓ کے پاس آئی ، آپ ؓ نے حضور اکرم ﷺ کی عدالت میں یہ معاملہ پیش کیا ،اس پر سورۂ بقرہ کی29 ویں آیت نازل نازل ہوئی جس میں مرد کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ بیوی کوصرف 2 طلاقیں دینے کے بعد رجوع کر سکتا ہے اس کے بعد اسے چاہیے کہ یا تو بیوی کو اچھی طرح رکھے یا خوبی کے ساتھ رخصت کر دے ۔
آنحضرت ﷺ حضرت عائشہ ؓ کو بہت محبوب رکھا کرتے تھے ، ایک بار ایک سفر میں حضرت عائشہ ؓ کا اونٹ بدک کر بھاگنے لگا،حضور اکرم ﷺ بے قرار ہو گئے ۔ ایک بار حضرت عمرو بن العاص نے حضور اکرم ﷺ سے دریافت کیا ، ’’ آپ ﷺ دنیا میں سب سے زیادہ کسے محبوب رکھتے ہیں؟‘‘ فرمایا’’عائشہؓ کو‘‘ ۔ عرض کیا ’’ مردوں کی نسبت سوال ہے ۔ ’’’فرمایا، ’’عائشہ ؓ کے باپ کو ۔ ‘‘ (صحیح بخاری)۔ حضرت عائشہ ؓ سے حضور ﷺ کے اس غیر معمولی انس کو دیکھتے ہوئے حضرت عمر ؓ آپ ؓ کا زیادہ خیال رکھا کرتے تھے ۔ ایک بار عراق کی فتوحات میں موتیوں کی ایک ڈبیا آئی ، موتیوں کی تقسیم دشوار تھی ، حضور عمر ؓ نے صحابہ کرام ؓ سے کہا کہ آپ ؓ لوگ اجازت دیں تو میں یہ موتی ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ کو بھیج دوں ، وہ آنحضور ﷺ کو زیادہ محبوب تھیں ۔سب نے خوشی سے اجازت دے دی ۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے متعلق خود رسول اکرم ﷺ اللہ کی زبان مبارک نے ارشاد فرمایا،’’عائشہ کو عورتوں پر اسی طرح فضیلت حاصل ہے جس طرح ثرید کو تمام کھانوں پر ۔ ‘‘(صحیح بخاری)۔(ثرید ایک کھانا ہے ، جو گوشت اور روٹی کو ملا کر تیار کیا جاتا ہے ) آپؓ کو یہ فضیلت بھی حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کو بشارت دی کہ وہ حضرت عائشہ ؓ کو اپنی زوجیت میں لیں ، صحیح بخاری کی حدیث ہے کہ آں حضرت ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ ریشم کے کپڑے میں لپیٹ کر کوئی چیز آپ ﷺ کے سامنے پیش کر رہا ہے ۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا ، یہ کیا ہے ۔ جواب ملا ، یہ آپ ﷺ کی زوجۂ محترمہ ہیں ۔ آپﷺ نے کھول کر دیکھا تو حضرت عائشہ ؓ تھیں ۔ حضرت عائشہ ؓ کو اللہ یہ نے شرف بھی عطا فرمایا کہ آپؓ کے سوا اور کسی کے بستر پر حضور اکرم ﷺ پر وحی نازل نہیں ہوئی ۔ جب سورۂ بقرہ اور سورۃ النسأ نازل ہوئیں تو حضرت عائشہ ؓ حضور اکرم ﷺ کے پاس موجود تھیں ۔ آپ ؓ کو یہ فخر بھی حاصل ہوا کہ حضرت جبرئیل ؑ نے آپ ؓ کو سلام کہا اور حضرت عائشہ ؓ نے حضرت جبرئیلؑ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو یہ افضلیت بھی عطا ہوئی کہ آپ ؓ تمام امہات المؤمنین میں واحد کنواری خاتون ہیں جنہیں نبی اکرم ﷺ کی زوجیت کا شرف حاصل ہوا آپ ؓ بہت سنجیدہ ، فیاض ، قانع ، عبادت گزار اور رحم دل تھیں ، اپنی ذات پر آپؓ بہت کم خرچ کرتی تھیں ، پہننے کے لیے صرف ایک جوڑا پاس رکھتی تھیں، کبھی کبھی زعفران میں رنگ کر کے کپڑے زیب تن فرما لیا کرتی تھیں ، سرخ کرتا اور سیاہ رنگ کی اوڑھنی بھی استعمال کرتی تھیں ۔ کبھی کبھی زیور پہنا کرتی تھیں ، کبھی کبھی یمن کا بنا ہوا ہار گلے کی زینت بنتا تھا ۔
آپ ؓ نے بہت سے بچوں کو گود لے کر پرورش کی ، کئی یتم بچوں کا خرچ برداشت کیا ۔ ایک انصاری لڑکی کی پرورش کی اور بیاہ کیا ۔ حضرت اسماء ؓ( ہمشیرہ ) کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ کو تو آپ ؓ نے اپنا بیٹا بنا لیا تھا ۔ حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ بھی آپ ؓ سے بہت محبت کرتے تھے ۔ حضرت محمد بن ابی بکر ؓ کی صاحبزادیوں کو لے کر آپ ؓ نے پالا اور پھر ان کی شادیاں کیں ۔
ایک بار حضرت معاویہ ؓ نے ایک لاکھ درہم بھیجے ، آپ ؓ نے شام ہوتے ہوتے ساری رقم محتاجوں میں بانٹ دی ۔ اس دن آپ ؓ کا روزہ تھا ۔ ایک بار حضرت ابن زبیر ؓ نے ایک لاکھ کی رقم بھیجی ۔ ایک طبق میں رقم رکھ دی اور بانٹنا شروع کر دی حتیٰ کہ طبق خالی ہو گیا ، اس دن بھی آپ ؓ روزے سے تھیں ۔ ایک اور مرتبہ ، آپ ؓ کا روزہ تھا ، دروازے پر کسی سائلہ نے صدا دی ، گھر میں صرف ایک روٹی تھی وہی دے دی ۔ خادمہ نے عرض کیا ، شام کو افطار کس سے کیجیے گا؟ شام ہوئی تو کسی نے بکری کا سالن بھیجا ۔ خادمہ سے فرمایا: دیکھو اللہ نے تمہاری روٹی سے بہتر چیزبھیج دی ۔
آپ ؓ کے آزاد کردہ غلاموں کی تعداد67 ہے ۔ علمی حیثیت سے حضرت عائشہ ؓ کا مقام انتہائی بلند ہے ۔ ترمذی میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے، ہم ( صحابہ کرام ؓ) کی کوئی ایسی مشکل بات کبھی پیش نہیں آئی جس کو ہم نے حضرت عائشہ ؓ سے نہ پوچھا ہو ، اور ان سے اس کے متعلق کچھ معلومات نہ ملی ہوں ۔ عطا بن رباح ؒ مشہور تابعی ہیں ۔ مستدرک میں آپ ؒ کا یہ بیان نقل کیا گیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ سب سے زیادہ فقیہ اور سب سے زیادہ صاحب علم تھیں ۔ امام زہری ؒ کا کہنا ہے کہ حضرت عائشہؓ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ عالم تھیں ۔ بڑے بڑے صحابہ کرام ٓؓ ان سے مسائل پوچھا کرتے تھے ۔ صحابی رسول حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کے صاحبزادے ابو سلمہ ؒ تابعی ہیں ۔ فرماتے ہیں ۔ ’’ میں نے رسول اللہ کی سنتوں کا جاننے والا ، آیتوں کی شان نزول اور فرائض کے مسئلے کا واقف کار حضرت عائشہ ؓ سے بڑھ کر کسی کو نہ دیکھا ۔ ‘‘
حضرت عائشہ ؓ نے اپنے ایک غلام ابو یونس سے قرآن پاک کی کتابت کروائی تھی ۔ آپ ؓ ہر مسئلے کے جواب کے لیے پہلے قرآن پاک سے رجوع فرماتی تھیں ۔ آپ ؓ نے حضور اکرم ﷺ سے جو احادیث روایت کی ہیں ان کی تعداد 2210 ہے ۔ ان میں سے 1286 احادیث ایسی ہیں جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں شامل ہیں ۔ 54 ایسی احادیث ہیں جو صرف صحیح بخاری میں ہیں اور 58 ایسی ہیں جنہیں صرف صحیح مسلم میں شامل کیا گیا ہے ، بقیہ 174 احادیث دونوں کتب میں مشترک ہیں ۔
حضرت عائشہ ؓ نے جو 2210ء روایات فرمائیں ان کی ترتیب و تدروین کا کام ہجرت کے سو سال بعد حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کے دور میں کیا گیا ۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ جب خلیفہ بنے تو مدینہ منورہ میں ابو بکر بن عمر بن حزم الانصاری ؒ ، قاضی ( جج) کے منصب پر فائز تھے۔
حضرت ابو بکر بن عمر ؒ کو علم کے اس درجے پر پہنچانے میں ان کی خالہ عمرہ بنت عبدالرحمن ؓ کا بڑا کردار تھا ، جو حضرت عائشہ ؓ کی شاگرد تھیں ۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ نے حضرت ابو بکر بن عمر ؓ کو ہدایت کی کہ وہ اپنی خالہ عمرہ ؓ کے ذریعے حضرت عائشہ ؓ کی تمام روایتیں تحریری صورت میں خلیفہ کے پاس ارسال کر دیں ۔
حضرت عائشہ ؓ نہ صرف حدیث روایت کرتی تھیں بلکہ اس کی تشریح و توضیح بھی فرماتی تھیں ۔ آپ ؓ کا شمار فقہا میں ہوتا ہے ، اکثر لوگ آپ ؓ سے مسئلے پوچھنے یا فتویٰ حاصل کرنے کے لیے آیا کرتے تھے ۔ آپ ؓ کو اگر کسی ذریعے سے حدیث ملتی تھی تو اس کے بارے میں سخت چھان بین کرنے کے بعد ہی اسے روایت کرتی تھیں ۔ اگر کوئی فرد ایسے مسئلے پر سوال کرتا جس کے بارے میں کسی اور سے حدیث روایت ہوئی ہو تو آپ ؓ اس فرد کو متعلقہ راوی کے پاس بھیج دیتی تھیں، مثلاً کسی نے موزوں پر مسح کا مسئلہ دریافت کیا ، آپ ؓ نے فرمایا:’’ حضرت علی ؓ کے پاس جائو وہ سفر میں آں حضرت ,ﷺ کے ساتھ رہتے تھے ۔ ‘‘
آپ ؓ نے بہت سے مسائل کی تصحیح فرمائی ، مثلاً ایک صحابی ؓ نے فرمایا کہ حضور ﷺ نے چار عمرے کیے جن میں سے ایک رجب میں ادا کیا ۔ حضرت عائشہ ؓ نے سنا تو ان صحابی ؓ کے لیے دعائے رحمت کر کے فرمایا’’ رجب میں حضور اکرم ﷺ نے کوئی عمرہ ادا نہیں فرمایا ۔ ‘‘ آپ ؓ نے فجر کی نماز میں صرف دو رکعت فرض رکھنے کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ فجر کی رکعتوں میں طویل قرأت کی جاتی ہے ۔ اسی طرح آپ ؓ نے وضاحت کی کہ حضور اکرم ﷺ نفل نمازیں بیٹھ کر اس وقت پڑھنے لگے تھے جب آپ ﷺ بہت کمزور ہو گئے تھے ۔
دور اور نزدیک سے لوگ علم حاص کرنے آپ ؓ کے پاس آتے ۔ آپ ہجرے میں اوٹ میں بیٹھ جاتیں اور لوگ مسجد میں جمع ہو جاتے ۔ سوالات کرتے ، آپ ؓ جوابات مرحمت فرماتیں ۔ کبھی کوئی سلسلۂ بحث چھڑ جاتا ، کبھی خود مسئلۂ بیان فرماتیں ۔ آپؓ اپنے شاگردوں کی زبان ، طرز ادائیگی اور تلفظ کی کڑی نگرانی کرتی تھیں ۔ حج کے موقع پر جہاں آپ ؓ کا خیمہ نصب ہوتا ، لوگ آ کر آپ ؓ سے مسائل پوچھتے ۔ اگر کوئی سوال پوچھتے ہوئے شرم محسوس کرتا تو اس کو حوصلہ دلاتیں اور کہتیں کہ میں تمہاری ماں ہوں ۔
حضرت عائشہ ؓ کے خاص شاگردوں میں آپؓ کے بھانجے عروہ بن زبیر ؓ قابل ذکر ہیں ۔ مشہور تابعی امام زہری ؒ حضرت عروہ ؒ کے شاگرد ہیں ۔ ان کے علاوہ قاسم بن محمد ؓ(بھتیجے) بڑے ہو کر مدینہ کے فقیہ کہلائے ۔ مسروق کوفی ؒ کی پرورش حضرت عائشہ ؓ نے فرمائی ۔ آپ ؓ فقہائے عراق میں شمار ہوتے ہیں ۔ خواتین میں اسد بن زرارہ ؓ کی پوتی عمرہ بنت عبدالرحمن ؓنمایاں ہیں ، امام بخاری ؒ کے مطابق لوگ اپنے مراسلے ، خطوط اور تحائف انہی کے ذریعے حضرت عائشہ ؓ تک پہنچاتے تھے ۔ آپؓ کے شاگردوں کی تعداد دو سو کے قریب ہے ۔
حضرت عائشہ ؓ کے دبستان سے نہ صرف لوگوں کو تعلیم دی جاتی تھی بلکہ یہ وہ تربیت گاہ تھی جہاں انسانوں کے اخلاق بھی سنوارے جاتے تھے ۔ آپؓ کی حیثیت ایک مشفق مربی کی تھی ،جو تعلیم دینے میں تو نرم خوئی اور شفقت سے کام لیتا ہے لیکن اس تعلیم پر عمل نہ ہونے کی صورت میں سخت گیری سے گریز نہیں کرتا ۔
مدینہ منورہ میں بچے پیدا ہوتے تو آپ ؓ کی خدمت میں لائے جاتے ۔ ایک بار ایک نو زائیدہ بچہ آپؓ کے پاس لایا گیا ، اس ک سر کے نیچے لوہے کا استرا نظر آیا ۔ دریافت کیا’’ یہ کیا ہے ؟‘‘ لوگوں نے بتایا ،’’ اس کی وجہ سے بھوت بھاگ جاتے ہیں ۔ ‘‘ آپ ؓ نے استرا اٹھا کر پھینک دیا اور فرمایا: حضور اکرم ﷺ نے شگون سے منع فرمایا ہے۔ ایک بار ایک شخص نے آ کر کہا، ’’ بعض لوگ ایک رات میں قرآن شریف دو دو بار ختم کر ڈالتے ہیں۔‘‘ آپؓ نے ارشاد فرمایا۔’’ ان کا پڑھنا اور نہ پڑھنا دونوں برابر ہیں، آں حضرت ﷺ تمام رات نماز میں کھڑے رہتے تھے لیکن بقرہ ، آل عمران اور نساء سے آگے نہ بڑھتے تھے ، جب کسی بشارت کی آیت پر پہنچتے تو اللہ سے دعا مانگتے اور جب کسی ایسی آیت پر پہنچتے جس میں عذاب الٰہی سے ڈرایا گیا ہے تو پناہ مانگتے۔‘‘
جاہلیت کے دور میں عرب کا کیا حال تھا ، اس عہد کی رسوم کیا تھیں اور قبائل کا شجرۂ نسب کیا تھا ، ان تمام امور میں خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق ؓ کا علم بہت وسیع تھا ۔ حضرت عائشہ ؓ ان ہی کی صاحبزادی تھیں ۔ آپ ؓ نے بھی والد گرامی ؓ کے اس علم سے بھر پور استفادہ فرمایا۔ حضرت عروہ ؓ فرماتے ہیں ، ’’ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے زیادہ کسی کو عرب کی تاریخ کا ماہر نہ پایا ۔ ‘‘ حضرت عائشہ ؓ کی بے مثال قوتِ حافظہ کا کمال تھا کہ عرب کی رسوم جاہلیت ، اس دور کے معاشرتی حالات ، شادی کے طریقے، طلاق کی صورتیں ، پھر اسلام آنے کے بعد کے حالات تاریخی ترتیب سے حضرت عائشہ ؓ کے ذریعے دیگر انسانواں تک پہنچے اور تاریخ کے صفحات پر محفوظ ہو گئے۔
حضرت عائشہ ؓ نہایت فصیح اللسان تھیں اور آپؓ کا اندازِ گفتگو بہترین ، شیریں اور متاثر کن تھا ۔ آپ ؓ کے شاگرد حضرت موسیٰ بن طلحہ ؓ کا کہنا ہے کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے زیادہ فصیح اللسان نہیں دیکھا۔ آپؓ کو اللہ نے تقریر و خطابت کی بہت عمدہ صلاحیت بھی بخشی تھی ۔ آپ ؓ کی آواز بلند تھی اور سننے والے اس آواز کے جلال سے مرعوب ہو جاتے تھے ۔ حضرت عائشہ ؓ کا شعری ذوق بھی اعلیٰ تھا ۔ حضرت حسان بن ثابت ؓ صحابیٔ رسول اللہ ﷺ تھے ۔ آپؓ بہت اچھے شاعر تھے اکثر آپ ؓ حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر اشعار سناتے ۔ حضرت عائشہ ؓ کو بہت سے اشعار یاد تھے اور وہ موقع محل کی مناسبت سے شعر پڑھنے میں مہارت رکھتی تھیں ۔ آپؓ کو طب کا بھی علم تھا ۔ جب مختلف علاقوں سے اطبأ آ کر مدینہ منورہ میں ٹھہرتے تو وہ جن بیماریوں کے علاج بتاتے انہیں حضرت عائشہ ؓ یاد کر لیتیں ۔
حضرت عائشہ ؓ نے رسول کریم ﷺ کی زوجۂ محترمہ کی حیثیت سے تقریباً نو برس آپ ﷺ کی رفاقت میں بسر کیے ۔ یہ وہ عہد زیریں ہے جس میں حضرت عائشہ ؓ نے اللہ کے حبیب ﷺ سے علم و عرفان کی ایک دنیا حاصل کی اور یہ تائید ایزدی ہی تھی کہ نبی کریم ﷺ کے معمولات ، اخلاق ، عادات اور زندگی کے بہت سے شعبوں میں آپ ﷺ کی تعلیمات، امت مسلمہ تک حضرت عائشہ ؓ کی ذات گرامی کے ذریعے پہنچیں ۔ اللہ نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کو بے پناہ فہم و فراست اور قیمتی معلومات اور احکام کو عوام الناس تک پہنچانے کا باعث بنی۔
غور کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جہاں دیگر وجوہ کی بنا پر مختلف سن و سال اور مختلف صلاحیتیں رکھنے والی خواتین سے عقد فرمایا وہیں ، حضرت عائشہ ؓ کو ان کی غیر معمولی ذکاوت اور مثالی حافظے کی بنا پر اپنی زوجیت میں لینے کا شرف عطا فرمایا ۔ ایک شخص کی نجی زندگی سے اگر کوئی پوری طرح واقف ہو سکتا ہے ، تو وہ اس کی بیوی ہو سکتی ہے ۔ حضرت عائشہ ؓ نے حضور اکرم ﷺ کی رفاقت میں آپ ﷺ کے ایک ایک عمل کو دیکھا ، اسے سمجھا ، یاد رکھا اور دوسروں تک پہنچایا ۔ فی الواقع رب العالمین نے حضور عائشہ ؓ کی صورت میں امت مسلمہ پر احسانِ عظیم فرمایا ہے جن کے ذریعے نبی کریم ﷺ کی زندگی کا ہر گوشہ امت مسلمہ پر آشکار ہوا اور زندگی کے ہر شعبے میں امت مسلمہ کے لیے واضح طرزِ عمل اور ہدایت میسر آ گئی ۔