October 15th, 2019 (1441صفر15)

یمن میں مداخلت کا ایرانی اعتراف

 

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان نے عالمی برادری خصوصی طور پر مسلمان ممالک سے اپیل کی ہے کہ ایران کو یمن ،شام اور بحرین میں دہشت گردوںکی امداد سے روکا جائے ۔ عرب لیگ اور خلیجی ممالک کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ سلمان نے کہا کہ تہران مذکورہ ممالک میں مالی امداد کے ساتھ ہتھیار بھی فراہم کررہا ہے ۔ ایران نے فوری طور پر اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سارے الزامات من گھڑت ہیں ۔ ممکن ہے کہ ایسا ہی ہو مگر خود ایران کے اندر سے یہ گواہی موجود ہے کہ ایران ایسا ہی کچھ کررہا ہے جس کی بات شاہ سلمان نے کی ہے ۔ ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے نائب کمانڈر ایڈمرل علی فداوی نے جمعہ کے روز ایران کے چینل 3 سے نشر ہونے والے انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ ان کا ملک یمنی حوثیوں کی ہر ممکن مدد کررہا ہے ۔ علی فداوی نے کہا ہے کہ یمن کی ناکا بندی کی وجہ سے ایران اتنی مدد نہیں کر پا رہا، جتنی وہ چاہتا ہے ۔ علی فداوی نے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ اگرایران کا اسلامی انقلاب بالکل اسی طرح یمن میں گھستا جس طرح وہ شام میں گیا ہے تو پھر تصور کریں کہ یمن کی کیا صورت حال ہوسکتی تھی؟ علی فداوی کا انٹرویو بی بی سی فارسی نے بھی رپورٹ کیا ہے۔علی فداوی کے ا س انٹرویو کی روشنی میں دیکھا جائے تو شاہ سلمان کی تشویش بالکل درست ہے کہ ایران دیگر ممالک میں دراندازی کا مرتکب ہورہا ہے جس کی وجہ سے پورے خطے کا امن خطرے میں پڑگیا ہے ۔ دنیا کے سارے ممالک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی کا نظام منتخب کریں اور اس کے تحت زندگی گزاریں ۔ کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی ملک میں اپنے نظریات کی برآمد کے لیے دہشت گردوں کی مالی مدد کے ساتھ ساتھ ان کو ہتھیار بھی فراہم کرے ۔ یمن میں جو کچھ ہورہا ہے ، اس کے اصل متاثرین یمنی ہی ہیں ۔ سعودی عرب ہو یا ایران ، یہ تو پراکسی وار لڑ رہے ہیں مگر اس جنگ میں یمن کا حشربرا ہوگیا ہے ۔ ہزاروں یمنی جان سے گئے جبکہ لاکھوںاپنے گھر بار کے ہوتے ہوئے بھی دربدر ہیں ۔ کچھ ایسی ہی صورتحال شام کی ہے ۔ اگر یمن اور شام میں رہنے والوں کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق دے دیا جاتا اور ایران مداخلت نہ کرتا تو یہاں پر بھی امن اور سکون ہوتا ۔ ایرانی مداخلت کی پالیسی بنانے والے کیا یہ بتاسکتے ہیں کہ ان کی اس پالیسی سے دنیا کو کیا فائدہ پہنچا ۔ مداخلت کی اس پالیسی کا صرف اور صرف ایک نتیجہ نکلا ہے اور وہ ہے مسلمان ممالک کی تباہی ۔ اس پورے قضیے میں خوشحال ترین مسلمان ممالک تباہی کا شکار ہوگئے ہیں جس سے مسلمانوں کی اجتماعی قوت ٹوٹ کر رہ گئی ہے اور اس کے نتیجے میں اب پوری دنیا میں مسلمان ابتلا کا شکار ہیں ۔ اسرائیل کے حوصلے پوری طرح بلند ہیں اور اب وہ پوری ڈھٹائی کے ساتھ روز مسلمانوں کا قتل عام کررہا ہے ۔ میانمار جیسے ممالک بھی اب شیر ہوچکے ہیںاور اس نے پوری روہنگیا نسل کو یا تو ملک بدر کردیا ہے یا پھر ماردیا ہے جبکہ چین میںا یغور نسل کے پندرہ لاکھ سے زاید مسلمان حراستی مراکز میں قید ہیں ۔بھارت میں مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد بھارت کے گوشے گوشے میں گجرات کا ری پلے ہونے کے اندیشے سامنے آرہے ہیں ۔ اب دنیا کا کوئی کونا ایسا نہیں بچا ہے جہاں پر مسلمانوں پر نفرت انگیزحملے نہ ہورہے ہوں ۔ جب تک مسلمان متحد تھے ، کسی کو بھی ایسا کرنے کی ہمت نہیں تھی ۔ ایران کو سمجھنا چاہیے کہ اس کی مداخلت کی اس پالیسی کے مسلمانوں پر کتنے خطرناک اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔ اس وقت بھی خطے میں جنگ جیسی صورتحال ہے اور کسی بھی لمحے یہ جنگ میں تبدیل ہوسکتی ہے ۔ اگر ایران مسلم ممالک میں دراندازی اور مداخلت کی پالیسی پر نظر ثانی کرلے تو عرب ممالک کا بھی سیکٹروں ارب ڈالر کا جنگی بجٹ مختصر ہوسکتا ہے جو مسلم امہ ہی کے کام آئے گا ۔ اس سے ایران کو بھی دیگر اسلامی ممالک کی حمایت حاصل ہوگی اور وہ امریکا کی جانب سے عاید کردہ بے جا پابندیوں کا بھرپور مقابلہ کرسکے گا ۔ ایران کی جانب سے مسلم ممالک میں مداخلت کو کہیں سے بھی عاقلانہ فیصلہ قرار نہیں دیا جاسکتا کہ اس سے ایران سمیت سارے ہی اسلامی ممالک کا سراسر نقصان ہے البتہ اس سے وہ سارے مغربی ممالک اورروس بہت خوش ہیں جو سیکڑوں ارب ڈالر کا اسلحہ اسلامی ممالک کو فروخت کررہے ہیں اور جن کی کوشش ہے کہ کسی بھی طرح ان ممالک کے درمیان جنگ شروع ہوجائے ۔ ہم سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک سے بھی درخواست کریں گے کہ وہ کسی بھی قسم کا جذباتی اور عاجلانہ فیصلہ کرنے کے بجائے اس پر ٹھنڈے دل کے ساتھ کوئی حکمت عملی ترتیب دیں جس سے علاقے میں امن دوبارہ سے بحال ہوسکے ۔ ہم ایران سے بھی دروخواست کریں گے کہ وہ مسلم ممالک میں مداخلت کی پالیسی پر نظر ثانی کرے اوریہود وہنود جیسے مشترکہ دشمنوں کے خلاف مسلمانوںکا بلاک تشکیل دینے میں اپنی قوتوں کو صرف کرے ۔ یہ کوئی راز نہیں کہ صورتحال کا سارا فائدہ اسرائیل اور امریکا کو پہنچ رہا ہے۔

                          بشکریہ جسارت