September 22nd, 2019 (1441محرم22)

نفلی روزے اور ماہِ شعبان

 

سید مہرالدین افضل

الحمد للہ ہم ماہ رمضان کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں… وہ مبارک مہینہ جو اجر و ثواب کے بے شمار خانوں سے بھرا ہوا ہے… جو نیکیوں کا موسم بہار ہے… جو ہمیں تبدیل ہونا سکھاتا ہے… جو جہنم سے آزادی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، جس کی ایک رات… ہزار مہینوں سے بہتر ہے… جو ہماری دینی تربیت کرتا ہے اور روح کو تازگی دیتا ہے اس ماہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور بخششوں کا سمندر انتہائی پرجوش ہوتا ہے۔ جو سچے دل سے معافی مانگتا ہے اس کے سارے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ جنت کے دروازے اور ثواب کے خزانوں کے منہ اہل ایمان کے لیے کھول دیے جاتے ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے لیے ماہ شعبان میں برکت ڈال دے اور ماہ رمضان ایمان اور صحت کے ساتھ عطا فرمائے۔ آمین
جس طرح نماز اور زکٰوۃ دین کے ستون ہیں اور ان کی تعداد اور نصاب طے شدہ اور سب کو معلوم ہیں۔ اسی طرح روزوں کا کورس بھی اسلام کی شرط لازم ہے۔ ہماری زندگی اسلامی زندگی نہیں بن سکتی جب تک ہم رمضان کے پورے مہینے کے روزوں کی پابندی نہ کریں۔ ہمارے نفس کی صفائی، تربیت اور اللہ سے قربت کے لیے نفلی روزوں کو خاص مقام حاصل ہے اسی لیے حضورؐ نے نفلی روزوں کے بارے میں زبانی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے عمل سے بھی امت کی تربیت کا خصوصی اہتمام کیا۔ نفلی روزوں کے بارے میں آپؐ کی تعلیمات کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے کہ
نفل کی پابندی فرض کی طرح نہیں:۔
کسی خاص دن کے روزے یا خاص دنوں کے روزوں کی اس طرح پابندی نہ کی جیسے فرض کی پابندی کی جاتی ہے۔ نفلی روزوں کے بارے میں آپؐ کا کوئی لگا بندھا دستور و معمول نہیں تھا جس کو آپؐ نے توڑا نہ ہو، آپؐ کبھی مسلسل بلاناغہ روزے رکھتے تھے اور کبھی مسلسل بغیر روزے کے رہتے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ امت کے لیے آپ کی پیروی میں مشکل اور تنگی نہ ہو بلکہ وسعت کا راستہ کھلا رہے اور ہر شخص اپنے حالات اور اپنی ہمت کے مطابق آپ کے کسی طرز عمل کی پیروی کر سکے۔ آپ پورے اہتمام سے پورے مہینے کے روزے صرف رمضان کے رکھتے تھے (جو اللہ نے فرض کیے ہیں) ہاں شعبان میں دوسرے مہینوں کی بہ نسبت زیادہ روزے رکھتے تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دستور (نفلی روزوں کے بارے میں) یہ تھا کہ آپ (کبھی کبھی) مسلسل بلاناغہ روزے رکھنے شروع کرتے، یہاں تک کہ ہمیں خیال ہوتا کہ اب ناغہ ہی نہیں کریں گے، اور (کبھی اس کے برعکس ایسا ہوتا کہ) آپ روزے نہ رکھتے اور مسلسل بغیر روزے کے دن گزارتے، یہاں تک کہ ہمیں خیال ہوتا کہ اب آپ بلاناغہ روزے ہی سے رہا کریں گے… اور فرماتی ہیں کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ کسی پورے مہینے کے روزے رکھے ہوں اور میں نے نہیں دیکھا کہ آپؐ کسی مہینے میں شعبان سے زیادہ نفلی روزے رکھتے ہوں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک حدیث مروی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ شعبان میں بہت زیادہ روزے اس لیے رکھتے تھے کہ پورے سال میں مرنے والوں کی فہرست اسی مہینے میں ملک الموت کے حوالے کی جاتی ہے، آپؐ چاہتے تھے کہ جب آپ کی وفات کے بارے میں ملک الموت کو احکام دیے جارہے ہوں تو اس وقت آپ روزے سے ہوں۔
ایک سبق آموز واقعہ:
نفلی روزوں کے حوالے سے صحیح مسلم میں انتہائی سبق آموز واقعہ درج ہے اس کے روای حضرت ابوقتادہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا اور اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ روزے کس طرح رکھتے ہیں؟
(یعنی نفلی روزے رکھنے کے بارے میں آپ کا کیا معمول و دستور ہے؟
سوال کرنے والے کو اصل بات دریافت کرنی چاہیے تھی یعنی یہ پوچھنا چاہیے تھا کہ میرے نفلی روزوں کے بارے میں کیا طرز عمل مناسب ہے؟ اس نے بجائے اس کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول دریافت کیا تھا۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندگی کے بہت سے شعبوں میں ان بہت سے اسباب کی بنا پر جو آپ کے منصب نبوت اور مصالح امت سے تعلق رکھتے تھے ایسا طرز عمل بھی اختیار فرماتے تھے جس کی تقلید ہر ایک کے لیے ممکن نہیں ہے اس لیے سائل کو آپ کا معمول دریافت کرنے کے بجائے اصل مسئلہ دریافت کرنا چاہیے تھا)
اس شخص کے اس سوال سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگواری ہوئی اور چہرہ مبارک پر ناپسندیدگی اور برہمی کے آثار ظاہر ہوئے… واضح رہے کہ ساتھیوں کے نامناسب سوال، انداز اور طرز عمل پر آپ اپنے فوری اور فطری ردعمل کو چھپاتے نہ تھے آپؐ کے چہرے کے تاثرات آپؐ کے دل کے احساسات کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے تھے استاذ اور مربی کی اس طرح کی ناگواری بھی دراصل تربیت ہی کا ایک جزو ہے۔
حضرت عمرؓ نے (جو حاضر تھے) جب آپ کی ناگواری کی کیفیت کو محسوس کیا تو نہ صرف اپنی طرف سے بلکہ پوری امت کی طرف تجدید ایمان کے طور پر فرمایا کہ: ’’ہم راضی ہیں اللہ کو اپنا رب مان کر اور اسلام کو اپنا دین بنا کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مان کر، اللہ کی پناہ اس کی ناراضی سے اور اس کے رسولؐ کی ناراضی سے۔‘‘
حضرت عمرؓ کے اس اظہار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے ناگواری کے تاثرات دور ہو گئے تو حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! وہ شخص کیا ہے جو ہمیشہ بلاناغہ روزہ رکھے، اورا س کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟
آپ نے فرمایا نہ اس نے روزہ رکھا نہ افطار کیا…
پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: اور اس آدمی کے بارے میں کیا ارشاد ہے جو دو دن روزے رکھے اور ایک دن ناغہ کرے یعنی بغیر روزے کے رہے؟
آپؐ نے فرمایا کیا کسی میں اس کی طاقت ہے؟
(یعنی یہ بہت مشکل ہے ہمیشہ روزہ رکھنے سے بھی زیادہ مشکل ہے اس لیے اس کا ارادہ نہ کرنا چاہیے)
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا اور اس کے بارے میں کیا ارشاد ہے جو ہمیشہ ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن ناغہ کرے؟ آپؐ نے فرمایا یہ صوم دائود ہے (یعنی حضرت دائود علیہ السلام جن کو اللہ نے غیر معمولی جسمانی قوت بخشی تھی ان کا معمول یہی تھا کہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے)حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ اس آدمی کے بارے میں کیا ارشاد ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن ناغہ کرے؟ (اور اس طرح اوسطاً ہر مہینے میں دس دن روزہ رکھے) آپؐ نے فرمایا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ مجھے اس کی طاقت عطا فرمائی جائے۔
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر مہینے کے تین نفلی روزے اور رمضان تا رمضان یہ (اجر و ثواب کے لحاظ سے) ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہے (لہٰذا جو صائم الدہر کا ثواب حاصل کرنا چاہے وہ اس کو اپنا معمول بنائے)
اور یومِ عرفہ (9 ذی الحجہ) کے روزے کے بارے میں میں امید کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے کرم سے کہ وہ صفائی کردے گا اس سے پہلے سال کی اور بعد کے سال کی (یعنی اس کی برکت سے ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کی گندگیاں دھل جائیں گی) اور یوم عاشورہ (10 محرم) کے روزے کے بارے میں امید کرتا ہوں اللہ تعالیٰ سے کہ وہ صفائی کر دے گا اس سے پہلے سال کی۔ (صحیح مسلم)
جسمانی صحت و طاقت کا جائزہ:
اپنی جسمانی طاقت و صحت کا لحاظ رکھتے ہوئے اعتدال کی حد سے آگے نہ بڑھا جائے رمضان سے پہلے شعبان کے روزے رکھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آدمی روزے رکھ کر یہ دیکھ لے کے اس کے لیے صحت کا کوئی مسئلہ تو پیدا نہیں ہوتا اور اگر ایسا ہو تو رمضان سے پہلے ہی اس کا علاج کرا سکے اور رمضان سے پہلے ہی اپنے آپ کو رمضان کے روزوں کی مشقت کا عادی بنا سکے۔ کیونکہ ساری عمر کے روزے بھی رمضان کے ایک روزے کا بدل نہیں ہو سکتے واضح رہے کہ رمضان کا روزہ ٹوٹنے کی صورت میں کفارہ لازم آتا ہے جب کہ نفل روزہ ٹوٹنے کی صورت میں کفارہ لازم نہیں آتا۔
مولانا منظور نعمانی صاحب نے معارف الحدیث میں لکھا ہے کہ: رمضان کا قرب اور اس کے خاص انوار و برکات سے مزید مناسبت پیدا کرنے کا شوق اور داعیہ بھی غالباً اس کا سبب اور محرک ہو گا اور شعبان کے ان روزوں کو رمضان کے روزوں سے وہی نسبت ہو گی جو فرض نمازوںسے پہلے پڑھے جانے والے نوافل کو فرضوں سے ہوتی ہے، اور اسی طرح رمضان کے بعد شوال میں چھ نفلی روزوں کی تعلیم و ترغیب جو آگے درج ہونے والی حدیث میں آرہی ہے، اس کو رمضان کے روزوں سے وہی نسبت ہو گی۔
روزے کے سلسلے میں عام مسلمانوں کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ وہ رمضان کے فرض روزے رکھا کریں اس کے علاوہ ہر مہینے میں تین نفلی روزے رکھ لیا کریں جو ایک نیکی کے دس نیکیوں کے برابر ہونے کے حساب سے ثواب میں تیس روزوں کے برابر ہوں گے اور اس طرح ان کو صائم الدہر کا ثواب مل جائے گا۔ مزید نفع مندی اور کمائی کے لیے یوم عرفہ اور یوم عاشورہ کے دو روزے بھی رکھ لیا کریں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے امید ظاہر فرمائی کہ رب کریم کے کرم سے مجھے امید ہے کہ یوم عرفہ کا روزہ ایک سال پہلی اور ایک سال بعد کی خطاکاریوں کا اور یوم عاشورہ کا روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کی خطا کاریوں کا اور یوم عاشورہ کا روزہ پہلے غلط کی کاریوں کا کفارہ بن جائے گا۔ تفصیل کے لیے معارف الحدیث جلد چہارم کا مطالعہ کریں اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہم سب کو اپنے دین کا صحیح فہم بخشے، اور اس فہم کے مطابق دین کے سارے تقاضے اور مطالبہ پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
وآخردعوانا ان لحمدو للہ رب العالمین۔