June 17th, 2019 (1440شوال14)

ایک اور اجلاس ایک اور اعلامیہ

 

عارف بہار

نیوزی لینڈ میں مسلمانوں پر ایک قیامت برپا ہوگئی۔ قتل عام کی اس واردات نے ہر آنکھ کو نمناک کردیا۔ نیوزی لینڈ کے عوام اور حکومت تو اس واقعے پر اس قدر شرمسار ہیں کہ مسلمانوں کی دلجوئی اور ان کے زخموں پر پھاہا رکھنے کی ہر تدبیر کرنے میں مصروف ہیں۔ یادش بخیر اس واقعے نے احساس دلایا کہ مسلمان دنیا کی ایک تنظیم اسلامی تعاون تنظیم کے نام سے دنیا میں کہیں موجود ہے۔ یہ تنظیم ایسے مواقعے پر نظر نہ آئے تو بھی کوئی گلہ نہیں‘ نظر آجائے تو اسے غنیمت ہی سمجھنا چاہیے۔ حسب روایت او آئی سی نے نیوزی لینڈ واقعے پر غور کرنے کے لیے ترکی کے دارالحکومت استنبول میں وزرائے خارجہ کا ایک اہم اجلاس منعقد کیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اجلاس سے چند روز قبل ہی اطلاع دی تھی کہ نیوزی لینڈ واقعے پر غور اور لائحہ عمل تیار کرنے کے او آئی سی کا اہم اجلاس بلایا جا رہا ہے اور میں خود اس اجلاس میں شریک ہوں گا۔ نیوزی لینڈ میں شہید ہونے والے افراد کا تعلق دنیا کے مختلف ممالک سے تھا مگر اس واقعے میں دس کے قریب پاکستانیوں نے اپنی جانیں جان آفریں کے سپرد کیں۔ نیوزی لینڈ میں ہونے والے حادثے نے مسلمانوں کو عالمی سطح پر جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ جس خطرے کو محض ایک واہمہ اور خیالی سمجھا جاتا تھا وہ ایک حقیقی خطرے کی صورت میں سامنے آچکا ہے۔
مغرب میں ایک مخصوص ذہن کو مسلمانوں کی ان معاشروں اور ملکوں میں آمد گوارا نہیں۔ مغرب میں ایک بڑی تعداد کو گزشتہ کچھ دہائیوں سے اس بات سے خوف زدہ کر دیا گیا کہ اگر ان ملکوں میں مسلمان تارکین وطن اسی رفتار سے آتے رہے تو جلد ہی مغربی باشندے اپنی ہی سرزمین پر اقلیت بن کررہ جائیں اور مسلمان ان ملکوں میں اکثریت حاصل کرکے اپنی حکومتیں اور اپنے نظام اور قوانین لاگو کریں گے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ مغرب سے اس کی تہذیب چھن جائے گی اور مغربی باشندوں کو اپنے معاشرے میں ذمیوں کی حیثیت سے رہنا پڑے گا۔ اپنا کلچر اور تہذیب چھن جانے کا مطلب مغربی معاشروں کے لیے موت سے کم نہیں۔ نائن الیون کے بعد یہودی ذہن نے اس خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور اس ذہن نے یورپ کو باور کرایا اگر یورپ کی طرف مسلمانوں کی آمد کو روکا نہ گیا تو یورپ بہت جلد ’’یوریبیا‘‘ بن کر رہ جائے گا۔ یعنی یورپ پر عرب کلچر اور تہذیب غالب آئے گی۔ مغربی عورتوں کو اپنی وضع قطع چھوڑ کر اسکارف اور برقع اوڑھنے پر مجبور کیا جائے گا۔ یہ اور اس طرح کے خوف مغربی باشندوں کے ذہنوں میں راسخ کیے گئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مغرب میں شدید متعصب اور جنونی ذہن پیدا ہوگئے جو مسلمانوں سے نفرت کو مذہب کی حد تک اختیار کیے ہوئے ہیں۔ برینٹن ٹارنٹ اسی ذہن اور نسل کا نمائندہ تھا۔ اس طرح نیوزی لینڈ کے واقعے نے اسلامی دنیا کے لیے خطرے کی ایک گھنٹی بجادی ہے۔
او آئی سی مسلمان ملکوں کی تنظیم ہے مگر اس کی حیثیت کٹی ہوئی پتنگ سے زیادہ نہیں۔ ماضی میں فلسطین کے حوالے سے ایک آدھ بیان داغ کر یہ تنظیم اپنا وجود ظاہر کرتی رہتی تھی مگر نائن الیون کے بعد اورمشرق وسطیٰ کے بحرانوں میں یہ تنظیم کہیں گم ہو کر رہ گئی تھی۔ یوں لگ رہا تھا کہ او آئی سی کی قیادت کے لبوں پر تالے چڑھا دیے گئے ہیں۔ یہی وہ عرصہ ہے جو مسلمان دنیا کے لیے ایک عہد ستم تھا جس میں فلسطین، کشمیر، افغانستان، عراق، لیبیا، لبنان، تیونس، یمن، مصر اور شام میں انسانوں پر قیامتیں گزر گئیں۔ گوانتا ناموبے، ابوغرائب اور دشت لیلیٰ کے قید خانوں میں مسلمانوں پر انسانیت سوزمظالم ڈھانے کے علاوہ مسلمانوں کے کلچر اور مذہب پر قرآن کی توہین کرکے رکیک حملے کیے گئے۔ اسی عرصے میں مسلمانوں کو مزید ذہنی اذیت پہنچانے کے لیے گستاخانہ خاکے بنانے کا عمل شروع ہوا۔ اس پورے عرصے میں او آئی سی کا وجود ’’ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے‘‘ کے مخمصے کی دھند میں لپٹا رہا۔ یوں لگ رہا تھا کہ اب نیوزی لینڈ واقعہ نے شاید پانی سر سے گزر جانے کا احساس پیدا کیا ہوگا مگر یہ خیال بھی خام ہی ثابت ہوا۔ او آئی سی کے اس اجلاس سے وابستہ توقعات بھی پوری نہ ہو ئیں۔ او آئی سی جب تک ناٹو کی طرح ایک فعال اور متحرک اتحاد کی شکل میں سامنے آتی اس کا وجود یونہی کٹی ہوئی پتنگ رہے گا۔ او آئی سی اگر واقعی مسلمانوں کے کاز کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہے تو اسے اپنی موجودہ سست روی ترک کرنا ہوگی۔ مسلمان دنیا کے سلگتے ہوئے مسائل پر جاندار موقف اپنانا ہوگا۔ اجلاس تو پہلے بھی منعقد ہوتے رہے ہیں اور اس کا ’’غور وفکر‘‘ اور اظہار تشویش بھی مدتوں سے جاری ہے اس سے کچھ بھی نہیں بدلا۔ اب بھی وہی روش جاری رہی تو اس کا مطلب کبوتر کی طرح بلی کو دیکھ کر آنکھیں موند لینا ہوگا۔ استبول اجلاس بھی اصل خطرے کی نشاندہی اور احتجاج کی رسم سے زیادہ کچھ اور نتیجہ نہ دے سکا۔ اس اجلاس میں شرکاء نے یہ کہہ کر اپنی ذمے داریاں اقوام متحدہ کے کندھے پر ڈال دیں کہ عالمی ادارہ ’’اسلامو فوبیا‘‘ کے حوالے سے ایک خصوصی سیشن منعقد کرے۔ اقوام متحدہ کو فنڈز کون فراہم کرتا ہے؟ کچھ عرصہ قبل اقوام متحدہ کی آزاد پروازی کی خواہش کے بال وپر کترنے کی خاطر اس کے فنڈز کس نے کم کیے؟ او آئی سی کے باخبر وزرائے خارجہ کو معلوم ہونا چاہیے تھا کہ یہ وہی ہیں جو ’’اسلامو فوبیا‘‘ کا ایفل ٹاور تعمیر کر چکے ہیں۔ او آئی سی کو خود کیا کرنا ہے؟ اصل سوال تو یہ ہے۔ وسائل کی ان کے پاس کمی نہیں، بہترین دماغ ان کے پاس موجود ہیں ذرائع ابلاغ اب کمرشل ہوچکے ہیں جنہیں پیسے دے کر استعمال میں لانا آسان ہوگیا ہے۔ اس ماحول میں مسلمان دنیا کو اسلامو فوبیا کے خاتمے کے لیے فنڈ قائم کرنا چاہیے تھا اور پھر اسلام دشمن ذہنیت کے فروغ کو روکنے کے لیے ان وسائل کو بروئے کار لانا چاہیے تھا۔ اس بار تو او آئی سی کے اجلاس میں کچھ غیر متوقع اور ماضی سے مختلف ہونے کی امید تھی مگر اس بار بھی پہاڑ کھودا تو تشویش اور مذمت کا مرا ہوا چوہا ہی برآمد ہوا۔ ایسے ہی وقتوں کے بارے میں مرزا غالب نے کہا ہوگا ۔
تھی خبر گرم کہ غالب کے اُڑیں گے پُرزے
دیکھنے ہم بھی گئے پہ تماشا نہ ہوا