October 16th, 2019 (1441صفر16)

پاپولزم، فار رائٹ یا مغرب کی انتہا پسندی 

 

وقاص احمد 
بالکل اسی طرح جس طرح مستشرقین اسلام، جہاد یا رسول اللہ ؐ کی حیاتِ طیبہ اور جدوجہد کے معاملے سب کچھ سمجھ میں آجانے کے باوجود مختلف انداز میں کبھی کھلی اور کبھی دبی علمی منافقت کا اظہار کرتے ہیں اسی طرح مغربی میڈیا پر چھائے ہوئے اکثر مغربی سفید فام دانشور اور صحافی اپنے معاشروں میں ابھرنے والی انتہا پسندی، ظلم و درندگی کو خاص طور پر سفید فام نسل پرستوں میں پَھل پھْول کر تناور درخت بن جانے والے انتہا پسند نظریات کو یا تو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر صریحاً علمی منافقت سے کام لیتے ہوئے اْس کے لیے خوش نما، پر فریب اور دجالی اصطلاحات متعین کردیتے ہیں۔ حالاں کہ امریکا، کینیڈا اور یورپ میں نفرت میں ڈوبے حملوں اور قتل و غارت میں چار گناہ اضافہ ہوچکا ہے۔ مغربی دانشور انتہائی چالاکی سے وہ اصطلاحات وضح کرتے ہیں جن سے مسلمان معاشروں میں نظریاتی خلیجیں وسیع در وسیع کی جا سکیں۔ یہ اصطلاحات مغرب سے مرعوب مسلمان دانشوروں کے دماغ میں اس انداز میں ٹھونسی جاتی ہیں جن سے وہ مسلم معاشروں میں نفرت کو پروان چڑھا سکیں تاکہ بغض کی آگ میں لوگ ایک دوسرے کا موقف سننے کے بھی روادار نہ ہوسکیں۔
مسلمانوں کے لیے دہشت گرد، انتہا پسند، فنڈا منٹلسٹ کی اصطلاحات کے پیچھے اگر کوئی نظریہ یا فلسفہ ہے جو ہم پاکستانی بہت اچھی طرح سے سمجھتے ہیں تو پھر اگر مغرب ہی کے علمی پیمانے میں اگر ویسا ہی نظریہ و فلسفہ یورپ، امریکا، آسٹریلیا کے سفید فام نسل پرستوں، کیتھولک اور پروٹسٹنٹ عیسائیوں یا یہودیوں، صیہونیوں، ہندووں اور بدھوں میں نظر آئے تو دیانت کا تقاضا کیا یہ نہیں ہے کہ ان کے لیے انہیں اصطلاحات کا استعمال کیا جائے اور پھر اس کی مذمت، اس کے خلاف اقدامات اسی بھرپور انداز میں ہوں جس طرح ان واقعات میں ہوتے ہیں جن میں مبینہ طور پر مسلمانوں کا نام آتا ہے۔ لیکن جیسے ماضی میں بعض مغربی فلاسفہ سولہویں تا اٹھاریں صدی عیسوی میں یورپ کے نام نہاد بااخلاق، باوقار اور عزت دار حکمرانوں کے افریقا، جنوبی ایشیا، مشرق بعید، کریبین جزائر، شمالی اور جنوبی امریکا پر چڑھ دوڑنے اور فقیدالمثال قتل عام اور ظلم کو نت نئے فلسفے اور توجیہات سے دبانے کی کوشش کرتے تھے اسی طرح بیسویں صدی میں پروان چڑھنے والی سفید فام نسل پرستی کے جاہلانہ اور فرسودہ نظریات کی مذمت اور بیخ کنی کے بجائے یہ لوگ اسے پاپولزم (Populism) اور فار رائٹ (Far Right) کے القابات دیتے ہیں اور یہی مغرب کی پرانی منافقت ہے۔ پاپولزم کی پر فریب اصطلاح کے پیچھے یہ لوگ مسلمان، غیرِ سفید فام نسل مخالف جذبات اور انتہا پسندی کو پروان چڑھاتے ہیں اور اس زہریلے شجر کی آبیاری کرتے ہیں۔
منافقت اور ملمع سازی کی انتہا دیکھیں کہ بنگلا دیش میں دہشت گردی کے واقعے میں جب ایک دہشت گرد نے صرف اس بات کا ذکر کیا کہ وہ لاکھوں کروڑوں لوگوں کی طرح معروف اور انتہائی قابل احترام ڈاکٹر ذاکر نائیک کو سنتا رہا ہے تو بھارتی نام نہاد جمہوری اور سیکولر حکومت اور میڈیا نے ذاکر نائیک اور ان کے ادارے کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ جبکہ آج جب نیوزی لینڈ میں انسانیت کا خون کرنے والا انسان نما حیوان اس بات کا اعلان کر رہا ہے کہ وہ اور اس جیسے ہزاروں لوگ ایک انتہا پسند نظریے کی پیروی کر ہے ہیں اور یہ کہ وہ ہنگری، پولینڈ، جرمنی، فرانس میں زور پکڑنے والی مہاجرین، تارکین وطن اور مسلم مخالف انتہا پسندی کو نہ صرف پسند کرتا ہے بلکہ یہ سب لوگ ایک نیٹ ورک کا حصہ ہیں تو کیا دنیا بھر کے ادارے، سیکورٹی ایجنسیاں، اقوام متحدہ اور حکومتیں اس حوالے سے حرکت میں آئیں گی؟۔ کیا اس پر اسی نفرت، تشویش اور سرعت سے کام ہوگا جیسے ان دوسرے واقعات میں ہوتا ہے جس میں کوئی مسلمان ملوث ہو۔ کیا اب ایسے لوگوں کے لیے عالمی سطح پر انٹیلی جنس شیئرنگ ہوگی؟۔ کیا ایسے انسانیت دشمن لوگوں کا ریکارڈ رکھا جائے گا اور پروفائیلنگ (Profiling) ہوگی؟۔ سفید فام نسلی برتری اور مسلمان مخالف انتہا پسند تحاریک، سیاسی پارٹیوں اور ان کے دہشت گرد ونگ کے خلاف دنیا بھر کی صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں اور اداروں خاص طور پر مسلم ممالک کو متحد ہوکر اس بڑھتے ہوئے خطرے کو صبح شام موضوع بحث لاتے رہنا ہوگا اور مغرب کو اس کی منافقت یاد دلاتے ہوئے اس کی مذمت سخت ترین الفاظ میں کرتے رہنا ہوگا۔