June 17th, 2019 (1440شوال14)

دہشت گردی کا مذہب

 

بابا الف 

پندرہ مارچ 2019، نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد، نمازی اور سجدہ ریز مسلمان۔ لیکن قاتل کا ہدف مسلمانوں سے سوا بھی کچھ تھا۔ نمازیوں کے پیکر میں یہ اسلام تھا برینٹن ٹیرنٹ نے جسے نشانہ بنایا۔ اسلام کی بنیاد پر استوار طرز زندگی، عبادت اور رسم ورواج کے خلاف وحشیانہ نفرت کا اظہار۔ برینٹن کے عزائم خفیہ نہ تھے، اس کی رائفل پر تحریر تھے۔ جہاں ایک حوالہ ویانا 1863درج تھا۔ اُس برس 12ستمبر سلمان ذی شان کی ترک افواج نے ویانا کا محاصرہ کیا تھا اور ایک عظیم جنگ ہوئی تھی۔ ایک حوالہ مالٹا 1565 تھا: یہ اس واقعے کی طرف اشارہ ہے جب خلافت عثمانیہ نے پہلی مرتبہ یورپی ملک مالٹا کا محاصرہ کیا تھا۔ ایک حوالہ الیگزینڈر بیسونیٹ تھا۔ یہ وہ درندہ تھا جس نے 29جنوری 2017 کو کینیڈا میں ایک مسجد پر حملہ کرکے 6مسلمانوں کو شہید کیا تھا۔ ایک حوالہ انٹونیو بریگڈن تھا۔ وینس کا وہ فوجی افسر جس نے ناک، کان اور دوسرے اعضا کاٹ کر ترک قیدیوں کو قتل کیا تھا۔ بعد ازاں ترک فوجیوں نے بھی اسے اسی طرح قتل کیا تھا۔ ایک حوالہ چارلس مارٹیل تھا۔ وہ فوجی رہنما جس نے اسپین میں قائم خلافت بنو امیہ کو 732-33 میں شکست دی تھی۔ ایک حوالہ نمبر 14 تھا جو سفید فام انتہا پسندوں کا منترا یا نعرہ ہے۔ ان الفاظ کا مطلب ان لوگوں کو خراج تحسین پیش کرنا تھا جنہوں نے ماضی بعید میں مسلمانوں سے جنگیں لڑیں، انہیں شکست دی، مسلمانوں کے خلاف تشدد کو فروغ دیا، تارکین وطن کو اغوا کیا، انہیں ہلاک کیا۔ دہشت گردی کی یہ وحشیانہ کارروائی کسی ایک شخص کی نفرت کا اظہار نہیں تھا۔ چاریا چار سے زائد دہشت گردوں کا کئی ماہ سے سوچا سمجھا منصوبہ تھا۔ واردات سے پہلے انٹرنیٹ پر برینٹن نے جو پیغام دیا اس میں اس نے کہا تھا کہ یہ واردات اس لیے کی ہے کہ وہ یورپ میں مسلمانوں کی آمد سے خائف ہے اور نہیں چاہتا کہ ایک بار پھر یورپ مسلمانوں کی تہذیبی یلغار کے سامنے ڈھیر ہوجائے۔ برینٹن کو مسلمانوں کی طویل تاریخ بالخصوص اسپین پر طویل اقتدارکا علم ہی نہیں صدمہ بھی تھا۔
وہ یورپ کی اسلامائزیشن سے خائف تھا۔ ’’مسلمان یورپ کو اپنا زیر نگین نہ بنا لیں‘‘۔ یہ وہ خوف ہے کئی عشروں سے یورپ کے میڈیا، دانشوروں اور قائدین نے جسے تناور درخت بنادیا ہے۔ ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اور بان نے کہا تھا ’’اسلام، مسلمان اور مہاجرین کی صورت یورپ کے لیے خطرہ بنتا جارہا ہے۔ مسلم مہاجرین کو نہ روکا گیا تو وہ یورپ کی ثقافتی شناخت کو تبدیل کردیں گے‘‘۔ صدر ٹرمپ بارہا اہل برطانیہ کو خبردار کرچکے ہیں کہ برطانیہ کی ثقافت مسلمانوں کی وجہ سے خطرے میں ہے۔ ایک خبر کے مطابق امریکا میں 74ایسے گروپ کام کررہے ہیں جن کا مقصد لوگوں میں مسلمانوں کا خوف اور نفرت پیدا کرنا ہے۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے ان گروپوں کو 206ملین ڈالر دیے گئے ہیں۔ مغربی میڈیا اہتمام سے ایسے مضامین شائع کرتا رہتا ہے جن میں مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ مسلمان دہشت گرد ہوں یا نہ ہوں لیکن ہر دہشت گرد لازمی طورپر مسلمان ہوتا ہے۔ امریکا میں گزشتہ برسوں میں دہشت گردی کے واقعات میں صرف 6فی صدمسلمان ملوث تھے لیکن امریکی میڈیا نے اپنے پروگراموں کا 86فی صد وقت ان 6فی صد مسلمانوں کی مذمت پر فوکس رکھا جب کہ ان 94فی صد واقعات کو صرف 14فی صد کوریج دی گئی جن میں غیر مسلم ملوث تھے۔
مسلمانوں کے لیے نفرت، امیگریشن مخالف جذبات، تحریر وتقریر جس میں مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز اور نفرت انگیز جملے کہنے کی کھلی آزادی کو مغرب میں ایک موقع پر نہیں متعدد مواقع پر قانونی دھارے میں شامل کیا گیا۔ کئی کیسز میں شیطان صفت گروہوں کو مرکزی دھارے کا حصہ بنایا گیا۔ ’’آلٹ رائٹ‘‘ جیسے گروہوں کو خفیہ کہا جاتا ہے لیکن کیا مغرب میں پر تشدد کلچر کو فروغ دینے والے یہ گروہ حقیقت میں خفیہ ہیں جن کے محرکین کو سوشل میڈیا ویب سائٹس جیسے ذرائع حاصل ہیں جن میں فیس بک بھی شامل ہے۔ جسے برنٹن ٹرنیٹ نے اپنے سفاک حملے کے لیے براہ راست استعمال کیا۔ مرکزی مغربی نشریاتی اداروں تک ان محرکین کو رسائی حاصل ہے۔ آسٹریلیا کی 48فی صدآبادی اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کرتی ہے۔ نیوزی لینڈ کی 51فی صد آبادی اسلام کو تشدد کا دین اور مسلمانوں کو وحشی سمجھتی ہے۔ فرانس ریناڈ کیمو کے ’’غیر معمولی تبدیلی‘‘ کے نعرے کی زد پر ہے۔ اس نعرے کا مطلب یہ ہے کہ عرب، بربر اور دیگر علاقوں سے مسلمان فرانس آکر یورپی کلچر اور یورپی شناخت کو اسلام سے بدل رہے ہیں۔ یورپی میڈیا میں مسلمانوں کے لیے ’’فوک ڈیول‘‘ جیسی اصطلاحات کا استعمال عام ہے۔ پورے یورپ اور امریکا میں اسٹاپ اسلامائزیشن کے نام سے تنظیمیں قائم ہیں۔ اسلام اور غیر یورپی اقوام سے متعلق برپا یہ وہ جہات ہیں جن سے متاثر ہونے کے بعد برینٹن ٹرنیٹ نے جو کچھ کیا وہ اس کے لیے ضروری اور لازم بن گیا تھا۔ صدر ٹرمپ کی فکر اور ان کی کامیابی نے افریقی، ایشیائی اقوام اور مسلمانوں سے نفرت کو جنون بنادیا ہے۔ مغرب کے سیاسی نظام اور تاریخ میں سرگرم ’’سفید فام برتری‘‘ کا نظریہ اسلام فوبیا اور نسل پرستی کی مختلف صورتوں سے مل کر کن قیامتوں کو جنم دے گا ابھی اہل یورپ کو اس کا اندازہ نہیں۔
پروفیسر سیموئیل ہنٹگٹن نے 1993 میں تہذیبوں کے تصادم کا جو نظریہ پیش کیا تھا تو یہ تاریخ عالم کو ایک نئی سمت عطا کرنے کی کوشش تھی جس میں یہ اشارہ واضح تھا کہ عالم اسلام اور مغرب کے تعلقات اب اس نہج پر قائم نہیں رہیں گے جیسے سوویت یونین کے زوال سے قبل تھے۔ وہ نفرتیں جنہیں فراموش کردیا گیا تھا یا جو ماضی کے نہاں خانوں میں خوابیدہ تھیں، نائن الیون کے بعد انہیں ہیجان اور معرکہ آرائی عطا کردی گئی۔ ’’اسلامی دہشت گردی‘‘ کی پرفریب اصطلاح کو دنیا بھر میں پھیلا کر اور مسلمانوں کا بے دردی سے قتل عام کرکے مغرب کے حکمرانوں، دانشوروں، اخبارات، میڈیا، لیڈروں، ادیبوں، شاعروں اور تھنک ٹینکوں نے اپنا کلیجہ ٹھنڈا کیا۔ پرفریب اصطلاحات کا ایک جال ہے جو دنیا بھر میں مغربی میڈیا نے پھیلادیا ہے جیسا کہ ’’دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا‘‘۔ یہ فقرہ بجائے خود تحقیق طلب ہے۔ کون کہتا ہے دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ دہشت گردی کا مذہب ہے۔ دہشت گردی مغربی اصطلاح ہے اور مغرب ہی دہشت گردی کا مذہب ہے۔ وہ جسے اسلامی دہشت گردی کہا جاتا ہے اس دہشت گردی کو اور اس کے کرداروں کو تخلیق کرنا والا بھی امریکا اور یورپ ہے۔ استعمار اور سرمایہ دارانہ نظام جو مغرب میں رائج ہے اور جس کی جہتوں کو وسیع سے وسیع تر کرنے میں مغرب مصروف ہے وہ دہشت گردی کا مذہب ہے۔ صدر بش نے جب کروسیڈ کہا تھا وہ عیسایت اور اس کی پشت پر موجود یہودیت دہشت گردی کا مذہب ہے۔ امریکا نے دنیا بھر میں حکومتوں کے تختے الٹے، کروڑوں لوگوں کو قتل کیا۔ امریکا اور اس کی اقتصادی اور فوجی طاقت یہ دہشت گردی کا مذہب ہے۔ امریکا اور مغرب کا مکر وفریب اور سازشیں یہ دہشت گردی کا مذہب ہیں۔
نیوزی لینڈ میں ہونے والی دہشت گردی سے دنیا بھر کے عوام رنجیدہ اور سوگ میں ڈوبے ہوئے ہیں ان کے جذبات بجا اور حقیقی ہیں لیکن مغربی حکمرانوں، سیاست دانوں، دانشوروں اور صحافیوں کے جو غم میں ڈوبے ہوئے چہرے اور بیانات سامنے آرہے ہیں ان سے دھوکا نہ کھائیں۔ مشرقی وسطیٰ کی مسلمان ریاستوں، افغانستان، عراق، ایران، کشمیر، فلسطین اور دنیا بھر میں جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ ہورہا ہے اس میں یہ سب شامل ہیں۔ یہ ایک طرف اخلاقیات کے امام بنتے ہیں، اخلاقیات کا درس دیتے ہیں اور دوسری طرف دنیا بھر میں مسلمانوں پر وحشیانہ بمباری کرتے ہیں، چڑھائی کرتے ہیں، قتل کرتے ہیں، تختے الٹتے ہیں۔ مسلمانوں کو مفلس اور لاچار کرتے ہیں۔ دہشت گردی کا وہی مذہب ہے جو ان کا مذہب ہے۔