August 23rd, 2019 (1440ذو الحجة21)

اسرائیلی مظالم، عالم اسلام کی بے حسی

 

فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی مظالم اب نئی بات نہیں رہی ہے اور پوری دنیا نے اسے ایک معمول سمجھ لیا ہے تاہم گزشتہ کئی دن سے اسرائیلی مظالم میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے ۔ جمعہ کو فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی فوج نے 45 فضائی حملے کیے ۔ ان حملوں کے نتیجے میں فلسطینی آبادی پر رات بھر بمباری کی جاتی رہی جس کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے ۔ اسرائیل نے فلسطینی مسلمانوں پر زندگی تنگ کردی ہے۔ آئے دن ان کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جاتا ہے اور نوجوان لڑکوں اورلڑکیوں کو داخل زنداں کردیا جاتا ہے جہاں ان پربدترین تشدد کیا جاتا ہے ۔ اسرائیل کے اس تشدد سے یروشلم میں بیت المقدس بھی محفوظ نہیں ہے ۔ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بیت المقدس میں مسلمانوں کی آمد کو روکا جاتا ہے ، وہاں پر عبادت کرنے والے مسلمانوں پر اسرائیلی پولیس اور یہودی شہری مل کر تشدد کرتے ہیں اور احتجاج کرنے پر مسلمانوں کو گرفتار کرلیا جاتا ہے ۔ ایسے واقعات پر پہلے دنیا بھر میں احتجاج ہوتا تھا تو اسرائیل کو کچھ خوف محسوس ہوتا تھا اور ان کی رفتار میں کچھ کمی آجاتی تھی ۔ اب یہ سب کچھ بلا روک ٹوک ہورہا ہے اور دنیا نے اسے ایک معمول کے طورپر تسلیم کر لیا ہے ۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ مسلم ممالک بھی اس بارے میں مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں ۔ عرب ممالک میں اب اسرائیلی وزراء اور ثقافتی وفودکی آزادانہ آمدورفت ہونے لگی ہے ۔ اسرائیلی کھلاڑی عرب دنیا میں ہونے والے کھیلوں کے مقابلوں میں شرکت کرنے لگے ہیں ۔ عرب دنیامیں اسرائیل کو دی جانے والی اس گرمجوشی نے اسے اور شیر کردیا ہے اور فلسطینیوں پر مظالم کئی درجے بڑھ گئے ہیں ۔ پاکستان میں بھی اسرائیل نواز طبقہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی آوازیں بلند کرنے لگا ہے مگر انہیں فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم نظر نہیں آتے ۔ پاکستان کے حکمراں خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں ۔ لے دے کر ترکی اور ملائیشیا ہی صرف ایسے دو ممالک بچے ہیں جنہوں نے اسرائیل کے خلاف اصولی موقف اختیار کیا ہوا ہے ۔ ہم مسلم رہنماؤں اور حکمرانوں سے اپیل کریں گے کہ وہ فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کی روک تھام کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔ اس بارے میں لگے بندھے مذمتی بیانات سے بھی بڑھ کر کچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس سلسلے میں پاکستان کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔ پاکستانی حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی خاموشی توڑیں اور اسرائیل کے خلاف ایک موثر بلاک بنانے کی تدبیر کریں ۔ یہ سمجھ لینا چاہیے کہ قبلہ اول صرف فلسطینیوں کا معاملہ نہیں بلکہ یہ پورے عالم اسلام کا معاملہ ہے ۔ جتنے فلسطینی قبلہ اول کے محافظ ہیں ، پاکستانیوں پر بھی اتنی ہی ذمہ داری عاید ہوتی ہے ۔ اگر اس وقت مسلم دنیا سوتی رہی تو اسرائیل اور اس کے سرپرست ایک ایک کرکے سارے اسلامی ممالک کو فلسطین میں تبدیل کردیں گے ۔ افغانستان ، عراق ، شام اور لیبیا کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔ اب بھی وقت نہیں گزرا ہے ، پاکستان ہی بیدار ہوجائے اور مسلم دنیا کو بیدار کرنے میں اپنا کردار ادا کرے ۔                                                                                                                                                                                                                                                                          بشکریہ جسارت