November 13th, 2019 (1441ربيع الأول16)

سنکیانگ کے حراستی مراکز میں موت کے سائے

 

 

چین کے سنکیانگ میں مسلمانوں کے لیے بنائے گئے حراستی مراکز اویغور مسلمانوں کے لیے موت کے مراکز میں تبدیل ہوتے جارہے ہیں ۔ تازہ ترین اطلاع کے مطابق اس میں قید چینی شاعر اور لوک گلوکار عبدالرحیم حیات شدید تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے ایسے ہی ایک حراستی مرکز میں جان کی بازی ہار گئے ۔ عبدالرحیم حیات کو بغاوت اور دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں آٹھ برس قید کی سزا دی گئی تھی تاہم وہ چینی حکومت کے بہیمانہ تشدد کے نتیجے میں دو برس میں ہی زندگی کی قید سے آزاد ہوگئے۔ چین کے علاقے سنکیانگ میں حکومت نے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا ہے۔ مرد وزن اور بالغ و نابالغ کی تخصیص کے بغیر لاکھوں اویغور مسلمانوں کو ان حراستی مراکز میں قید کردیا گیا ہے جہاں ان پر گاہے گاہے تشدد بھی کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں حرام کھانے اور پینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ چین میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ بھی کیا جارہا ہے اس کی مثال میانمار ہی سے ملتی ہے۔ میانمار میں بھی چینی حکومت کی حمایت یافتہ حکومت نے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا ہوا ہے اور انہیں حراستی مراکز میں غیر انسانی ماحول میں رکھا جاتا ہے۔ پاکستان اور چین کی حکومتیں دوستی کے رشتے میں بندھی ہوئی ہیں اس لیے یہ پاکستان کی حکومت کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ چینی حکومت پر اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرے اور چینی مسلمانوں پر ہونے والی زیادتیوں کے خاتمے کو یقینی بنائے۔ اس اہم مسئلے پر اب تک صرف اور صرف ترک حکومت نے آواز بلند کی ہے۔ پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ اس ضمن میں وہ ترک حکومت سے بھی رابطہ کرے تاکہ ایک موثر آواز بلند کی جاسکے۔ اس ضمن میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں خصوصی طور پر مذہبی جماعتوں کی بھی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ چینی سفارت خانوں سے رابطہ کرکے پاکستانی عوام کی آواز چینی حکومت تک پہنچانے کا بندوبست کریں۔ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ صرف چین کا مسئلہ نہیں ہے۔ مقبوضہ کشمیر، میانمار، فلسطین ہر جگہ مسلمان ہی ابتلا کا شکار ہیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اس پر امت مسلمہ بھی خاموش ہے۔ کہیں سے اکا دکا آواز بلند ہوتی ہے اور کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوجاتی ہے۔ روہنگیا مسلمان اس کی مثال ہیں کہ ان پر میانمار حکومت کی زیادتیاں اور ظلم جاری ہیں مگر ایک ناتواں سے واویلے کے بعد سب لوگ خاموش ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ایسے مسائل کے مستقل حل کے لیے اسلامی کانفرنس کی تنظیم میں مستقل ڈیسک قائم کی جائے اور اس ضمن میں تمام مسلم ممالک کو متحرک کیا جائے۔ جب تک مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوجائیں، اس وقت تک خاموش نہ بیٹھا جائے۔ ہماری چینی حکومت سے بھی درخواست ہے کہ اس سلسلے میں وہ پاکستانی قوم کے اضطراب کو سمجھے۔ اب تک چینی حکومت اور قوم کا پاکستان میں ایک اچھا تاثر ہے جو سنکیانگ کے مسلمانوں کے لیے قائم حراستی مراکز سے مجروح ہورہا ہے۔ بہتر ہے کہ چینی حکومت معاملے کی سنگینی کو سمجھے اور اویغور مسلمانوں کو بھی وہی حقوق دے جو چین کے دیگر حصوں میں آباد دوسرے شہریوں کو حاصل ہیں۔

                                                                                                                                                                                       بشکریہ جسارت