September 23rd, 2019 (1441محرم23)

طالبان، امریکا مذاکرات کا مستقبل

 

طالبان نے قطرمیں امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات منسوخ کردیے ہیں ۔ یہ مذاکرات بدھ کودوحہ میں ہونے تھے اوران میں شرکت کے لیے امریکا اورطالبان دونوں کے وفود دوحہ میں موجود تھے تاہم آخری لمحات میں امریکا کی جانب سے کیے جانے والے بیجا اصرار کے باعث طالبان رہنماؤں نے مذاکرات کو بے فائدہ قراردے کرمنسوخ کردیا ۔ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کا ایجنڈا افغانستان میں جنگ بندی اورامریکا کی افغانستان سے جزوی واپسی کے بعد کی صورتحال پر غورتھا۔ اس سے قبل یہی مذاکرات سعودی عرب میں ہونا تھے مگروہ بھی طالبان نے منسوخ کردیے تھے ۔ طالبان کا موقف ہے کہ افغانستان میں اگرکوئی فیصلہ کن قوت ہے تو وہ امریکا ہے جبکہ افغان حکومت کی حیثیت کٹھ پتلی کی سی ہے ۔ اسی لیے طالبان رہنماؤں نے کہا تھا کہ وہ حتمی مذاکرات صرف اورصرف امریکا کے ساتھ کریں گےاوران مذاکرات میں کوئی تیسرا فریق موجود نہیں ہوگا جبکہ آخری لمحات میں امریکی وفد کا ناجائزاصرارتھا کہ اس میں افغان حکومت کے نمائندوں کی موجودگی ضروری ہے ۔ امریکا اورافغان حکومت کے ساتھ طالبان کے یہ مذاکرات نہ تو پہلے ہیں اورنہ آخری ۔ 2009 سے طالبان مذاکرات کی میزپرہیں ۔ دوحہ میں امریکا کی سینٹرل کمانڈ برائے ایشیا کا ہیڈ آفس ہے جس کے باعث یہاں پرطالبان نے بھی اپنا سیاسی دفتر قائم کیا ہوا ہے ۔ دوحہ میں طالبان کا دفتریہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ وہ افغانستان میں حتمی امن کے لیے امریکا کی اہمیت جانتے ہیں ۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان اورسعودی عرب سہولت کارکا کردارادا کرتے رہے ہیں ۔ ان مذاکرات کی کامیابی کے لیے پاکستان امریکی فرمائش پرکئی اہم طالبان رہنماؤں کورہا بھی کرچکا ہے جن میں ملا برادر بھی شامل ہیں ۔ان رہنماؤں کی گرفتاری بھی امریکی فرمائش پرہی عمل میں آئی تھی ۔ جب سے چین کی سرحد افغانستان سے متصل ہوئی ہے،وہ بھی اس مذاکراتی عمل کا حصہ بن چکا ہے ۔حال ہی میں روس دوبارہ سے افغانستا ن میں سرگرم ہوچکا ہے اورابھی کچھ عرصہ پہلے ہی اس نے طالبان کے ساتھ ایک امن کانفرنس منعقد کی تھی ۔ اس وقت افغانستان کی صورتحال یہ ہے کہ اس کا اکثریتی علاقہ طالبان کے قبضے میں ہے اورافغان حکومت کی رٹ کابل میں بھی باقی نہیں رہ گئی ہے ۔ نومبر میں شروع ہونے والے طالبان کے ساتھ امریکی مذاکرات کا اونٹ ابھی تک کسی کروٹ نہیں بیٹھ سکا ہے ۔ چند روز قبل ان ہی مذاکرات کا دور ابو ظبی میں ہوا تھا جس میں چین اورپاکستان بھی شامل تھے ۔ طالبان کی جانب سے مذاکرات کی منسوخی کے بعد امریکی فرستادہ زلمے خلیل زاد نے اس خطے کا دو ہفتے پرمشتمل ہنگامی دورہ شروع کردیا ہے جس میں وہ افغانستان کے علاوہ پاکستان ، چین اور بھارت کا بھی دورہ کریں گے ۔ اس دورے کا ماحصل کیا ہوگا ؟ یہ تودو ہفتے بعد ہی سامنے آسکے گا تاہم یہ بات واضح ہے کہ طالبان کا موقف اصولی ہے اورامریکا کا اصرار بیجا ۔اصل سوال یہ ہے کہ آخرامریکا چاہتا کیا ہے ؟ امریکا نے بلا کسی وجہ کے افغانستان پرحملہ کیا ، یہاں پراپنی فوجیں داخل کیں اوراس پورے خطے کو عدم استحکام کا شکارکردیا ۔ اب تووہ بالکل تنہا رہ گیا ہے اور نام کے لیے موجود اتحادیوں کی ڈیڑھ دو سو کی نفری بھی واپس جاچکی ہے ۔ امریکا کئی مرتبہ افغانستان سے واپسی کا اعلان کرچکا ہے جومحض اعلان تک ہی محدود ہے۔ کراچی کی بندرگاہ سے افغانستان جانے والے روزدرجنوں ٹرالروں پر مشتمل قافلے یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ امریکا کا افغانستان سے واپسی کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔ اگرامریکا واپس جارہا ہوتا تو فوجی سازو سامان افغانستان جانے کے بجائے وہاں سے واپس آرہا ہوتا ۔ طالبان کے ساتھ امریکی مذاکرات کا واضح مطلب یہ ہے کہ امریکا نے یہ تسلیم کرلیا ہے کہ طالبان ہی افغانستان میں فیصلہ کن قوت ہیں ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو گزشتہ 17 برسوں میں امریکا طالبان کا وجود ہی ختم کرچکا ہوتا ۔ اگر امریکا طالبان کے ساتھ مذاکرات میں سنجیدہ ہے تواسے افغانستان میں امن کے لیے طالبان کو کیک میں سے ان کا بڑا حصہ دینا ہوگا ۔ مذاکرات کا کہیں سے یہ مطلب نہیں ہے کہ طالبان پرزورڈال کریکطرفہ شرائط منوائی جائیں اورافغانستان میں ایک کٹھ پتلی حکومت کی جگہ دوسری کٹھ پتلی حکومت قائم کردی جائے ۔ اس وقت طالبان کو مذاکرات کی نہ تو کوئی جلدی ہےاور نہ ضرورت ۔ یہ امریکا کی اپنی ضرورت ہے ۔ دوسری صورت میں افغانستان امریکا کا معاشی قبرستان بن چکا ہے اورامریکا کی مشکلات میں مزید اضافہ ہی ہوگا ۔ بہتر ہے کہ امریکا وقت گزارنے کے بجائے مذاکرات میں سنجیدگی اختیارکرے اوراپنے ٹیکس گزاروں سے حاصل کردہ رقم کو جنگ کی آگ میں مزید جھونکنے سے پرہیزکرے ۔ 

                                                                                                                                                                                                        بشکریہ جسارت