September 17th, 2019 (1441محرم17)

ٹرمپ کی ہرزہ سرائی یا حقائق

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کی حفاظت امریکی فوج کر رہی ہے اور شاہ سلمان کے بغیر دو ہفتے بھی حکومت میں نہیں رہ سکتے۔ امریکا نے ہاتھ اٹھالیا تو ان کے اقتدار کا خاتمہ ہوجائے گا۔ ٹرمپ نے سعودی عرب کے لیے اپنی خدمات کا معاوضہ بھی طلب کیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ ایسا نہ ہوا تو خدمات واپس لے لی جائیں گی یعنی شاہ سلمان کی حکومت ختم ہوجائے گی اور سعودی عرب غیر محفوظ بھی ہوجائے گا۔ ٹرمپ کے ان دعوؤں کا جواب تو سعودی حکومت ہی دے گی لیکن اپنے شاہ کی توہین پر سعودی حکام ابھی تک خاموش ہیں تاہم سعودی عوام سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے خلاف پھٹ پڑے۔ امریکی صدر کے اس توہین آمیز بیان میں حقیقت کتنی ہے یہ الگ موضوع ہے لیکن اس سے ان تمام مسلم مماالک اور حکمرانوں کی آنکھیں کھل جانی چاہییں جنہوں نے امریکا کو اپنا ’’حافظ و ناصر‘‘ بنا رکھا ہے اور رب العالمین کے بجاے نصاریٰ پر بھروسا کیا ہوا ہے۔ امریکا کو آنکھیں پھیرتے ہوے ذرا دیر نہیں لگتی۔ ٹرمپ نے جو کچھ کہا ہے اس پر غم و غصہ بجا اور عالم اسلام کی قیادت کرنے والے ملک کی ایسی توہین یقیناًتکلیف دہ ہے لیکن امریکی صدر کو ایسی باتیں کرنے کا موقع بھی تو حکمران ہی فراہم کرتے ہیں۔ عراق، ایران کی جنگ ہو یا عراق اور سعودی عرب کی جنگ، مسلم ممالک نے اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے خلاف امریکا سے مدد طلب کی جس نے اس کی خوب خوب قیمت بھی وصول کی اور بقول ایک سعودی صحافی کے سعودی عرب اب تک اس مدد کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ امریکا نے سعودی عرب کے تحفظ کے لیے اہم تنصیاب اور ہوائی اڈوں پر اینٹی بیلسٹک میزائل نصب کر رکھے تھے اور اپنی فوج بھی سعودی عرب میں تعینات کر رکھی ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ اس کی قیمت بھی وصول کرتا ہے۔ اب اگر ٹرمپ کہتاہے کہ امریکی فوج ہی سعودی عرب کی حفاظت کررہی ہے تو ایسا غلط بھی نہیں۔ امریکی فوج کابل حکومت کی حفاظت کر رہی ہے اوراگر وہ نکل گئی تو کابل حکومت دو ہفتے سے پہلے ہی ختم ہوجائے گی۔ پاکستانی حکمران بھی عرصے تک اسی غلط فہمی میں مبتلا رہے اور اب بھی ہیں کہ امریکا نے آنکھیں پھیرلیں تو ان کی حکومت نہیں چل سکے گی، ملک چلانے کے لیے کہیں سے ادھار بھی نہیں ملے گا۔اس افسوسناک صورتحال کا اہم پہلو یہ ہے کہ عالم اسلام متحد نہیں ہے اور مسلم مالک آپس ہی میں بر سر پیکار ہیں۔ جس کی وجہ سے امریکا کو ا پنے ہتھیار فروخت کرنے اور دونوں طرف سے معاوضہ وصول کرنے کی آزادی ہے۔ اگر تمام مسلم ممالک متحد ہوجائیں تو کسی کو یہ ہرزہ سرائی کرنے کی جرأت نہ ہو کہ اصل محافظ وہ ہے۔ عراق اور سعودی عرب کی جنگ کے دوران میں امریکا میں ایسی قمیصیں بازار میں آئیں جن پر امریکی صدر بش کی تصویر تھی اور ن پر لکھا ہوا تھا ’’تین مقدس مساجد کا متولی (کسٹوڈین) یہ خادم الحرمین شریفین پر طنز تھا کہ امریکی صدر صرف حرمین کا محافظ نہیں بلکہ وہ قبلہ اول بیت المقدس کا محافظ بھی ہے۔ اس پر عالم اسلام کو چونک جانا چاہیے تھا لیکن خاموش رہ کر اس دعوے کی توثیق کردی گئی چنانچہ امریکی پشت پناہی سے قبلہ اول پر اسرائیل کا تسلط ہے اور امریکا ودیگر ممالک مقبوضہ بیت امقدس کو اسرائیل کا دارالحکوم بنانے جارہے ہیں۔ اﷲتعالیٰ نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ آپس مں تفرقہ ڈالوگے تو تمہاری ہوا اُکھڑ جائے گی۔ چنانچہ یہی ہورہاہے۔ مسلمان ہر جگہ ذلیل و خوار ہیں۔ امریکا ہی کی پشت پناہی اور اس کی ہدایت پر عرب و عجم جنگ عرصے سے برپا ہے۔ امریکا چاہتاہے کہ تمام مسلم ممالک ایران پر پابندیوں میں اس کا ساتھ دیں۔ عرب اتحاد کے نام پر یمن پر حملے ہورہے ہیں حالانکہ یمن بھی عرب ملک ہے۔ ملک شام پر روس و امریکا کے ساتھ ایران اور چند دیگر ممالک بھی ٹوٹے پڑ رہے ہیں۔ امریکا ایران سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ شام سے نکل جائے لیکن خود 17 سال سے افغانستان میں جما ہوا ہے۔ اس کا پروردہ بدمعاش اسرائیل، فلسطین کو ہڑپ کرتا جارہاہے۔ امریکا کا نیا دوست بھارت 70 برس سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی خون سے ہولی کھیل رہا ہے اور لاکھوں فوجی اس متنازع مسلم وادی میں بٹھا رکھے ہیں۔ کتنے مسلم ممالک ہیں جو فلسطین اور کشمیر کے معاملے میں انصاف کا ساتھ دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ سے آس رکھنے والوں کو اب تک اس ادارے کی بے بسی اور مسلم مسائل سے لا تعلقی کا احساس نہیں ہوا۔ اقوام متحدہ کی جنرل کونسل محض تقریری مقابلوں کا فورم ہے جہاں ہر ایک کو اپنی بھڑاس نکالنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ مسلم ممالک نے قدم قدم پر یہ ثابت کیا ہے کہ ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات، کئی عرب ممالک برطانیہ کی غلامی سے نکل کر امریکا کی غلامی میں چلے گئے اور غلامی کسی کی بھی ہو حمیت اور عزت نفس کو کھاجاتی ہے۔ مسلمان بظاہر تو اﷲ کے بندے اور غلام ہیں لیکن غلامی کا قلادہ کسی اور کا گلے میں ڈال رکھا ہے۔ پھر یہ سب تو ہوگا جو امریکی صدر کہہ رہا ہے کہ سعودی عرب اور سعودی حکمران کا محافظ امریکی صدر اور اس کی فوج ہے چنانچہ اس کی قیمت بھی ادا کی جائے ورنہ سب ختم ہوجائے گا۔ سعودی عرب امریکا کو معاوضہ تو برسوں سے ادا کررہاہے لیکن اب شاید معاوضے میں اضافہ در کار ہے۔ ٹرمپ نے سعودی عرب پر اپنے اثر و رسوخ کی بات کی ہے اور وہ غلط بھی نہیں ہے۔ سعودی عرب میں اصلاحات کے نام پر جو کچھ ہورہاہے وہ امریکی اثرات ہی کا نتیجہ ہے۔ سعودی عرب کا اسلامی تشخص مجروح ہونے پر دیندار مسلمانوں کو تشویش ہونا لازمی ہے۔ٹرمپ کے اس بیان پر پاکستانی حکمرانوں کو بھی کان ہوجانا چاہییں جو خود بھی امریکا کے سہارے حکومت کرتے رہے ہیں اور امریکا اپنے مفاد میں پاک فوج کو کبھی سوویت یونین سے لڑانے اور کبھی افغان مسلمانوں کو مارنے کے لیے امداد کے نام پر اخراجات دیتا رہا ہے۔ عسکری قیادت بھی کبھی اس بات پر خوش ہوتی تھی کہ امریکا ہمارے دشمنوں کو مار کر ہماری مدد کررہاہے ۔ اب ٹرمپ کہتا ہے کہ پاکستان نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا اور جتنا معاوضہ دیا گیا اس کے مطابق مزدوروں نے کام نہیں کیا۔ ہوشیار ہوجائیں۔ ٹرمپ کسی بھی وقت پاکستان کے بارے میں بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ پاکستان کی حفاظت تو ہم کرتے ہیں ورنہ بھارت کو چڑھا لائیں گے، بھارتی وزیراعظم اور بھارتی فوج کا سربراہ اٹھتے بیٹھتے پاکستان پر حملہ کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ بھارتی حکمران بھی امریکی کھونٹے پر اچھل رہے ہیں۔  
بشکریہ جسارت