October 20th, 2019 (1441صفر21)

مرسی اور کٹھ پتلیاں

 

غزالہ عزیز

حافظہ ڈاکٹر محمد مرسی کمرہ عدالت میں انتقال کر گئے۔
اخوان المسلمون سے تعلق رکھنے والے محمد مرسی 2012ء کے انتخابات جیت کر حکومت میں آئے تھے۔ وہ مصر کے پہلے منتخب صدر تھے۔ جن کا تختہ ایک سال بعد ہی یعنی 3 جولائی 2013ء میں مصر کی فوج نے الٹ دیا تھا۔ اور صدر مرسی سمیت اہم وزراء اور اخوان المسلمون کے رہنمائوں کو گرفتار کر لیا تھا۔ عدالتوں میں ان سب کے خلاف جاسوسی اور دیگر جھوٹے الزامات کے تحت مقدمات قائم کر دیے تھے۔ اگست 2013ء تک مرسی کو معزول کرنے کے خلاف اخوان المسلمون اور اس کی اتحادی جماعتوں نے سخت احتجاج کیا تھا۔ قاہرہ اور دیگر شہروں میں تقریباً ڈیڑھ ماہ تک دھرنے دیے گئے۔ رابعہ اور نادہا چوکوں پر ان احتجاجی دھرنوں میں سیسی کے حکم پر ہزاروں لوگوں کو قتل کیا گیا اور ہزاروں کو گرفتار کیا گیا لیکن پھر بھی جولائی 2018ء میں مصر کی عدالت نے اخوان المسلمون کے ہی 75 رہنمائوں کو رابعہ دھرنے کے کیس میں سزائے موت سنائی تھی، حالانکہ مصری فوجی حکومت نے سیسی کی صدارت میں 14 اگست 2013ء میں خود ہی قاہرہ کے میدانوں کو بے گناہ مصریوں کے خون سے سرخ کر دیا تھا۔ السیسی نے اخوان المسلمون کے لیے قید خانوں اور پھانسی گھاٹوں کے در کھول دیے۔ اپنی حکمرانی کے لیے نام نہاد انتخابات کا ڈرامہ رچایا۔ اور پھر مدت اقتدار کو طول دینے کے لیے ریفرنڈم کیا ،اپریل 2019ء میں تین روزہ عوامی ریفرنڈم کیا گیا، جس کا مقصد آئین میں ترامیم کی عوامی تائید حاصل کرنا تھا۔ اس ریفرنڈم میں کامیابی کیسے حاصل کی گئی یہ ایک الگ سوال ہے، لیکن اس کامیابی کے ساتھ ہی السیسی کے صدارتی اختیارات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا۔
اب تک مصر میں کس بھی صدر کو چار چار سال کی دو آئینی مدتوں کے لیے منتخب کیا جا سکتا تھا لیکن اس ریفرنڈم کے نتیجے میں چھ سالہ صدارتی مدت کے لیے کسی بھی رہنما کو تین بار سر براہ مملکت منتخب کیا جا سکے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس ریفرنڈم کی صورت میں السیسی نے 2030ء تک اپنے صدر رہنے کا انتظام کر لیا ہے۔ لیکن اصل میں ان کی مدت حکمرانی کتنی ہو گی یہ تو رب ہی جانتا ہے۔
مصر میں 1952ء سے لے کر آج تک ستر سالوں میں فوجی حکمرانوں ناصر، سادات، مبارک، اور السیسی کا سلسلہ مطلق العنان حکمرانی کرتا رہا۔ مصری عوام انہیں فرعون کے نام سے یاد کرنے لگے ہیں یہ حکمران ہر جمہوری تبدیلی کا گلہ گھونٹتے رہے ہیں۔
نئی صدی کے آغاز پر مصری عوام نے ایک بار پھر تبدیلی کی خواہش کی تھی 2011ء میں یہ خواہش ’’عرب اسیرنگ‘‘ کی صورت میں اپنے عروج کو پہنچی۔ اگرچہ عرب اسپرنگ کا انجام عرب خطہ کے لیے ایک بھیانک خواب کی طرح ظہور پزیر ہوا۔
محض ایک سال کے اندر اس خواہش کو دفنا دیا گیا حافظ قرآن منتخب صدر کو گرفتار کرکے جیل میں پھینک دیا گیا پھر جس طرح السیسی صدر منتخب ہوئے اور آئینی اصلاحات کے نام پر ریفرنڈم کے ذریعے السیسی نے اپنے اقتدار کو عشروں کی طوالت دینے کا پروگرام طے کیا۔ وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مصری میں تبدیلی اور انقلاب کا کوئی گزر اور ذکر نہیں ہو سکتا۔ بلکہ صدر مرسی نے جو اصلاحات متعارف کروای تھیں انہیں دوبارہ مہر بند ڈبوں میں بند کر دیا گیا۔
مصر کے فوجی حکمرانوں کی پشت پر ہمیشہ امریکہ رہا ہے۔ امریکی حکومت مصری فوج کو 1.3 بلین ڈالر کی مالی امداد فراہم کرتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 1979ء میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے بعد مصر اپنے ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا تھا جو امریکہ سے بڑے پیمانے پر مالی امداد حاصل کرتے ہیں۔
مصر میں فوج کی طرف سے منتخب جمہوری صدر ڈاکٹر مرسی کو اقتدار سے ہٹانے پر امریکہ نے نہ تو تنقید کی اور نہ ہی فوج کے اس عمل کے لیے بغاوت کی ترکیب استعمال کی۔ اول و آخر امریکہ نہ جمہوریت کا حامی ہے اور آمریت کا… اس کا وزن وہاں پڑتا ہے جہاں اس کے مفادات ہوتے ہیں۔
عرب خطہ میں 2011ء میں ہونے میں پے در پے واقعات کو عرب بہار کی اصطلاح دی گئی۔ کیا یہ واقعی بہار تھی؟ یقینا یہ ایسی بہار تھی جس نے عرب ممالک میں سرخ خون کے گلابوں کی فصل اگا دی۔ تیونس سے لے کر یمن تک عوام تبدیلی کی خواہش لیے یکجا تھے۔ ایک طرف عوام کی بڑی تعداد تھی جو اسلام کے بنیادی اصولوں کا نفاد چاہتی تھی اور دوسری طرف آمریت کے پروردہ تھے جو ریاست کے معاملات میں سیکولر نظریات کا ہر قیمت پر دفاع چاہتے تھے… اور جن کا اپنا تحفظ ان کی کامیابی میں پوشیدہ تھا۔ اسلام کے چہرے کو بڑی منصوبہ بندی کے ساتھ القاعدہ طالبان اور آخر میں داعش کی شکل میں یوٹریٹ کیا گیا۔ داعش نے تو حد کر دی، گردن اڑانا اور بے رحمی کے ساتھ اپنے مخالفین کی لاشوں پر ناچنا اور خواتین کے ساتھ ظلم!… دنیا کو دکھایا گیا کہ اسلام پسند اقتدار میں آکر کیا کچھ کرسکتے ہیں۔
بڑی دیدہ دیرہ اور عرق ریزی کے ساتھ ایک کے بعد ایک مسلم ملک کو کھنڈر بنایا جاتا رہا۔ افغانستان، عراق ،لیبیا ،یمن ،تیونس اور شام اس خانہ خراب بہار کی نذر کر دیے گئے۔ وہ عراق جس پر امریکہ اور برطانیہ نے کیمائی ہتیاروں کا جھوٹا الزام لگا کر حملہ کیا جب کہ اقوام متحدہ بھی الگ موقف رکھتی تھی تو جھوٹ کا پول کھل گیا تو کسی کا کچھ نہیں بگڑا سوائے عراق کے جہاں کے خزانے تیل سونا اور عجائب خانے لوٹ کر خالی کر دیے گئے۔ اور اسے تباہ و برباد کر دیا گیا۔
وہی کیمیائی ہتھیار شام میں بشارالاسد نے اپنے نہتے عوام کے خلاف استعمال کیے… شواہد اور ثبوتوں کی موجودگی کے باوجود بشارالاسد کی حکومت کے خلاف کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا بلکہ دنیا کے امن کے ٹھکیدار اس کے تحفظ کے لیے حامی اور مخالف بن کر اقدامات اٹھاتے رہے۔
مسلمان ملکوں میں تباہی کے پیچھے جتنا ہاتھ غیروں کا ہے اس سے کہیں زیادہ اپنوں کا ہے۔ جہاں صاحبانِ اقتدار کے حلقوں کو اسلامی انقلاب سے خوف تھا اور ہے… یہ خوف انہیں اسلام مخالف قوتوں سے شیر و شکر ہونے پر مطمئن رکھتا ہے حالانکہ شاہ ایران سے لے کر صدام اور قزافی تک یہ سامنے کی بات ہے کہ ان سے وفا کی امید عبث ہے جہاں اور جب انہیں پرانے آلہ کار زنگ آلود لگے وہ انہی پیوند خاک کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔
مصر کے صدر دین و دنیا کے لحاظ سے انتہائی تعلیم یافتہ تھے، منتخب صدر تھے۔ لیکن انہیں معزول کیا گیا۔ قید تنہائی میں چھ سال تک رکھا گیا۔ ان چھ سالوں کے دوران صرف چار بار ان کو گھر والوں ڈاکٹر اور وکیل سے ملایا گیا ان کے حامیوں کا خون بے دریغ بہایا گیا۔ پھانسی گھاٹ کی سزائی سنائیں گئیں۔ لیکن جمہوریت اور انسانی حقوق کے علمبردار ممالک اور اقوام متحدہ سمیت کسی کے سر پر جوں تک نہ رینگی۔ خیر غیر سے کیا گلہ اسلامی ممالک میں بھی سوائے ترکی اور قطر کے کسی کے سربراہ نے مرسی کے لیے تعزیتی پیغام نہیں دیا… خود ہمارے وزیراعظم اور صدر منہ میں گھنگھیناں ڈال کر بیٹھ رہے… کاش کٹھ پتلیاں اپنے انجام کا ہی سوچ لیں… لیکن کٹھ پتلیاں سوچ سمجھ رکھتی ہی کہاں ہیں؟؟