July 16th, 2020 (1441ذو القعدة25)

شامی پناہ گزین، مشرق وسطیٰ اور عالمی ضمیر

 

عبدالغفار عزیز

جاں نثار صحابی حضرت خباب بن الأرتّ نے رات کے پچھلے پہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بے تابانہ دُعائیں دیکھیں تو تڑپ کر پوچھ ہی لیا: ’’یا رسولؐ اللہ! آج تو لگتا ہے خصوصی دُعا ہوئی ہے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ ہمیں اس طرح (کسی عذاب) سے ہلاک نہ فرمائے کہ جیسے گذشتہ قومیں ہلاک کی گئیں۔ اللہ نے میری دُعا قبول فرمالی۔ میں نے دُعا کی کہ ہم پر ہمارے دشمن کو غالب نہ رہنے دے۔ اللہ نے میری یہ دُعا قبول فرمالی۔ پھر میں نے اپنے رب سے دُعا کی کہ ہمیں باہم دشمن گروہوں میں نہ تقسیم کردے مگر میری یہ دُعا قبول نہ کی گئی‘‘۔ رب ذو الجلال کا فیصلہ تھا کہ اس نے ہمیں باہم اختلافات کے ذریعے آزمانا ہے اور اسے معلوم تھا کہ ہم نے اس آزمایش میں ناکامی کا راستہ اختیار کرنا ہے۔ اس نے اپنے حبیب کو بھی اس کی اطلاع دے دی۔ یہ حدیث اور ایک دوسرے موقعے پر ارشاد کیا گیا یہ فرمان کہ ’’عنقریب تم لوگوں پر اقوام عالم یوں جھپٹیں گی جیسے بھوکے کسی دسترخوان کی طرف لپکتے ہیں‘‘ کو دیکھیں تو عالمِ اسلام کا حالیہ نقشہ واضح طور پر سامنے آجاتا ہے۔

ایک طرف گذشتہ ۱۵ سال سے جاری ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے نام پر مکمل تباہ کاری ہے۔ امریکی سرپرستی میں عالمی فوج کشی تمام قانونی و اخلاقی پابندیوں سے بے نیاز ہے۔ اس ضمن میں گوانتا نامو، ابو غریب اور ڈاکٹر عافیہ کی مثال ہی کافی ہے۔ دوسری طرف تقریباً ہرمسلمان ملک میں فتنوں کا وہ طوفان ہے کہ ایک بند باندھیں ۱۰۰ بند ٹوٹتے ہیں۔ دین، عبادت اور جہاد جیسے مقدس الفاظ کو دہشت اور خوں ریزی کی مہیب علامت بنادیا گیا ہے۔ مسلک اور فرقہ بندی اصلِ دین قرار دی جارہی ہے۔ کتنے ایسے مسلمان ملک ہیں کہ جن کے شہری، شیعہ یا سنی کو صہیونی درندوں سے زیادہ بڑا دشمن قرار دیتے ہیں۔ کتنے ایسے ملک ہیں کہ جہاں سفاک جنرل سیسی، درندہ صفت بشار الاسد اور قاتل حسینہ واجد جیسے ننگِ انسانیت حکمران اپنے ہی شہریوں کو پیوند خاک کررہے ہیں۔

تین سالہ معصوم شامی بچے عیلان عبد اللہ کی سمندر میں تیرتی تصویر تو صرف ایک استعارہ ہے۔ ۱۵ مارچ ۲۰۱۱ کے بعد سے پورا شام خون کے سمندر میں ڈوبا ہوا ہے۔ عیلان عبداللہ کی تصویر شائع ہونے کے بعد یورپ کی طرف بھاگتے تباہ حال شامی مہاجرین کا بھی ایک مختصر سا گوشہ ہی عالمی ذرائع ابلاغ کی زینت بن سکا ہے، وگرنہ اس وقت ایک کروڑ ۲۰لاکھ سے زائد شامی عوام مختلف مہاجرین کیمپوں میں موت سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

یہاں اس بات کا اعتراف و اظہار ضرور کرنا چاہیے کہ بعض یورپی ممالک مثلاً جرمنی، کسی حد تک فرانس اور قدرے تردد کے بعد برطانیہ نے ان مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھولنے کا اور اربوں ڈالر کے بجٹ کا ’اعلان‘ کیا ہے۔ لٹے پٹے مہاجرین سیکڑوں کلومیٹر کی مسافت طے کرنے کے بعد ان ممالک میں پہنچے تو لباس و غذا کے سٹال لگاکر ان کا استقبال کیا گیا اور اُمید کی جارہی ہے کہ یہ مہاجرین مستقبل میں بھی وہاں بہتر مواقع حاصل کرسکیں گے۔ لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ان چند ہزار مہاجرین کو پناہ ملنا یا نہ ملنا ہی اصل مسئلہ ہے؟ تین سالہ عیلان کی تیرتی لاش سے پہلے اسی بحیرہ روم میں ۲۸۰۰ شامی مہاجرین ڈوب چکے ہیں، ان میں سیکڑوں بچے اور خواتین بھی شامل تھے۔ عالمی برادری اور اس کا فعال میڈیا کیوں اندھا بنارہا؟ ہمارے اپنے بعض وہ عزیز کالم نگار جو جرمنی کی چانسلر کے لیے ’خالہ میرکل! شکریہ‘ کی تختیاں سجا رہے ہیں، ترکی میں پناگزیں ۲۰ لاکھ سے زائد، لبنان اور اُردن میں ۲۵ لاکھ سے زائد اور سعودی عرب میں ۲۵ لاکھ اور خود شام کے اندر بے گھر ۸۰ لاکھ سے زائد شامی مہاجرین کے بارے میں ایک بھی حرف ہمدردی کیوں تحریر نہیں کرپائے؟ ترکی نے ان مہاجرین سے حسن سلوک کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ تمام سرکاری انتظامات کے علاوہ اس نے اعلان کیا ہے کہ جو شہری ان مہاجرین کو اپنے گھروں میں پناہ دیں گے، ان کے لیے بجلی پانی کے بلوں اور ٹیکس میں تخفیف کی جائے گی۔ سعودی عرب جہاں ۱۰ لاکھ سے زائد یمنی مہاجرین بھی آچکے ہیں اور جہاں اقامتی ویزوں کا حصول ایک کٹھن مرحلہ ہوتا ہے، وہاں ان شامی و یمنی مہاجرین کوویزوں کی تجدید اور کفیل کی بندش سے مستثنیٰ کردیا گیا ہے۔ لیکن کبھی ان کا ذکر خیر تک نہیں کیا جاتا بلکہ انھیں مسلسل مخالفانہ مہم کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔

ترکی یا سعودی عرب کا قصیدہ کہنا مقصود نہیں، لیکن عرض یہ کرنا ہے کہ جب شامی پناہ گزینوں کا ذکر ہو تو صرف یورپی ممالک کے گیت نہ گائے جائیں ان مسلمان ملکوں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیجیے جو اس ضمن میں کوئی بھی ادنیٰ کوشش کررہے ہیں۔ اس حقیقت کا ذکر بھی کیا جائے کہ ہنگری، آسٹریا، سلوواکیا اور یونان سمیت متعدد یورپی ریاستوں میں ان مہاجرین کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا جارہا ہے۔ ہنگری نے ان لٹے پٹے مہاجرین کا راستہ روکنے کے لیے طویل آہنی باڑ قائم کرکے وہاں خونخوار کتے چھوڑ دیے ہیں۔ اسی طرح آسٹریا کی موٹروے پر شامی مہاجرین کی لاشوں سے بھرا ہوا ایک پورا کنٹینر دریافت ہوا اور ان ’انسانیت دوست‘ یورپی ممالک کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ سلوواکیا نے بأمر مجبوری مہاجرین کی محدود تعداد وصول کرنے کا اعلان کیا بھی تو کہا ’’وہ صرف مسیحی مہاجرین کو آنے کی اجازت دیں گے‘‘۔ واشنگٹن پوسٹ سمیت مغربی پریس میں شائع ہونے اور مختصر عوامی احتجاج کے باوجود عملاً یہ پالیسی جاری ہے۔ یہ منظر بھی بیان کرنا چاہیے کہ کس طرح ہنگری کی ایک خاتون صحافی ان ہانپتے کانپتے مہاجرین کو ’دولتیاں‘ رسید کررہی تھی۔ جب کیمروں کی زد میں آگئی تو اس کے ادارے نے اسے برطرف کردیا، لیکن اگلے ہی روز برطانیہ میں ایک دوسرے ادارے نے ملازمت دے کر اس کی حوصلہ افزائی کی۔

دوسری اور بنیادی بات یہ کہ شامی مہاجرین کا مسئلہ گمبھیر اور الم ناک ہونے کے باوجود اصل مسئلہ نہیں ہے۔ نہ آیندہ دو سال کے دوران ہی ایک لاکھ ۲۰ ہزار مہاجرین کو یورپ میں پناہ دینے کے اعلان سے یورپ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوسکتا ہے۔ اصل مسئلہ شامی درندے بشار الاسد سے وہاں کے عوام کو نجات دلانا ہے، ۱۹۷۰ء سے جس کا خاندان شام میں اپنے ہر مخالف سے حقِ حیات سلب کررہا ہے۔ امریکی سرپرستی میں یورپی ممالک بھی شامی عوام کے حق میں زبانی جمع خرچ تو خوب کررہے ہیں، لیکن بشار اور جنرل سیسی جیسے قاتلوں کو عوام پر مسلسل مسلط رکھنے میں بھی سہیم ہیں۔ ایک مثال سے ان ملکوں کے زبانی جمع خرچ کا اندازہ لگا لیجیے۔ امریکا نے بشار الاسد سے عوام کو نجات دلانے کے لیے انھیں فوجی تربیت دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ ۱۵ ہزار معتدل فکر رکھنے والے نوجوانوں کو تربیت اور اسلحہ دیا جائے گا۔ گذشتہ ۸ ماہ میں ان ۱۵ ہزار میں سے صرف ۵۴؍افراد کو تربیت دی گئی اور اس پر ۲۳ ملین امریکی ڈالر یعنی ۲ ارب ۴۰ کروڑ روپے خرچ دکھائے گئے۔ ان تربیت یافتہ افراد کے سربراہ عمار الواوی نے ڈیلی ٹیلی گراف کو خصوصی انٹرویو میں یہ اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ اگر اسی رفتار اور اس حساب سے تربیت دی گئی تو ۱۵ہزار افراد کے لیے ۳۸ سال کا عرصہ اور اربوں ڈالر درکار ہوں گے۔الواوی نے یہ شکوہ بھی کیا کہ امریکی ذمہ داران نے ہمیں دشمن کے سامنے تنہا چھوڑ دیا۔ اطلاع دینے کے باوجود کوئی امریکی جہاز ہماری مدد کو نہ آیا اور ہمارے پانچ ساتھی مارے گئے، باقیوں کو فرار ہوکر پناہ لینا پڑی۔ اخراجات اور عملی اقدام کی بعینہ یہی صورت داعش کے خلاف اعلان جنگ کی بھی ہے۔ عربی محاورے کے مطابق جَعجَعَۃ وَ لاَ طَحِین، ’’چکی کا شور بہت ہے، آٹا چٹکی بھی نہیں‘‘۔

یہ صرف ایک تجزیہ ہی نہیں، سامنے دکھائی دینے والی اور خود ان کی اپنی دستاویزات سے ثابت حقیقت ہے کہ وہ بشار جیسے درندوں کو بھی باقی رکھنا چاہتے ہیں اور مخصوص مسلح تنظیموں کو بھی۔ ان دونوں کے خلاف جنگ کے نام پر پورے خطے کو مسلسل خوں ریزی میں مبتلا کرکے اس کے شکار مسلمان ملکوں کا خون نچوڑنا چاہتے ہیں۔ شام کوایران کا اور یمن کو سعودی عرب کا افغانستان بنانے کی باتیں علانیہ کی جارہی ہیں۔ امریکی نیشنل سیکورٹی کونسل کی منکشف ہوجانے والی دستاویزات کے مطابق اس عمل کو ’بھڑوں کے چھتے‘ کا نام دیا گیا ہے۔ جس میں خونی ڈکٹیٹر شپ کے علاوہ خطے میں ایسے شدت پسند گروہ پیدا کرنا اور باقی رکھنا شامل ہے، جو اسلامی اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے اپنے علاوہ سب کو مرتد قرار دیں۔ ان کا خون بہاتے رہیں اور پڑوس میں واقع اسرائیل محفوظ رہے۔ اسی حکمت عملی کی تصدیق صہیونی وزیر دفاع موشے یعلون اور اسرائیل کے ملٹری انٹیلی جنس کے سابق سربراہ عاموس یدلین نے بھی محدود افراد کے ایک سیمی نار میں کی ہے، جو صہیونی اخبارات میں شائع ہوگئی کہ ’’داعش اسرائیل کے لیے کوئی براہِ راست یا حقیقی خطرہ نہیں۔ اس کی عسکری قوت حماس کی قوت سے آدھی بھی نہیں ہے‘‘۔

زمینی حقائق اور دستاویزی ثبوتوں کے باوجود ہمیں اصل شکوہ امریکا، یورپ یا صہیونی دشمن سے نہیں ہونا چاہیے۔ وہ ہماری ہی کمزوریوں، حماقتوں اور جرائم کو اپنی مرضی کا رُخ دیتے اور انھیں اپنے مفادات کے تابع بناتے ہیں۔ شام، عراق اور مصر میں جتنا خون خود مسلمانوں نے ایک دوسرے کا بہایا اور بہا رہے ہیں اس کا عشر عشیر بھی ان کے دشمنوں نے نہیں بہایا۔ شام میں گذشتہ ساڑھے چار برس کے دوران میں ۳ لاکھ سے زائد بے گناہ عوام موت کے گھاٹ اُتار دیے گئے اور یہ سلسلہ اب بھی تیزی سے جاری ہے۔ چند ہفتے قبل دمشق کے پڑوس میں واقع ’دوما‘ پر بشار کے ایک ہی حملے کے نتیجے میں ۳۰۰ افراد شہید ہوگئے۔ الغوطۃ الشرقیۃ پر حملے سے ایک ہی روز ۴۰۰ افراد شہید ہوگئے جن میں ۸۳ بچے اور ۲۰ خواتین بھی شامل تھے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں ایک ہی روز قتل کردیے جانے والوں کے اعداد و شمار جمع کیے جائیں تو گاہے یہ تعداد ہزار سے تجاوز ہوجاتی ہے۔

روسی ریچھ اب اس معرکے میں براہِ راست اتر آیا ہے۔ اس نے نہ صرف بشار الاسد کو بے پناہ اسلحہ دیا ہے بلکہ اپنے اعلیٰ عسکری مہارت رکھنے والی افراد بھی شام بھیجے ہیں۔ ستمبر کے پہلے ہفتے میں بشار افواج کو ’ابوالظہور‘ فوجی ائیرپورٹ پر بڑی ہزیمت اُٹھانا پڑی تو اس پر قبضہ کرنے والوں نے وہاں سے نہ صرف شامی فوجی افسر بلکہ روس اور ایران کے ماہرین بھی گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا۔ خود روسی خبررساں ایجنسی ’گازیٹا رو‘ کے مطابق روسی فوجیوں کو دھوکے سے شام بھیجا گیا ہے۔ ایجنسی کی تحقیق کے مطابق ۱۷؍ اگست کو ان فوجیوں کے لیے احکام جاری ہوئے کہ وہ فوجی بندرگاہ ’نوورو سیسک‘ پہنچیں، وہا ں سے انھیں ایک انتہائی خفیہ کارروائی کے لیے بھیجا جانا ہے۔ وہ اسے یوکرائن جانے کا خفیہ حکم سمجھتے رہے، بعد میں ان پر عقدہ کھلا کہ انھیں شام بھیجا جارہا ہے۔ اب ایسے فوجی جنھیں شام بھیجنے پر قائل کرنا بھی ممکن نہیں تھا اور جو اپنے افسروں سے سوال پوچھ رہے ہیں کہ ’’ہم بشار کی خاطر جانیں کیوں دیں؟‘‘ شام میں بھلا کیا کارنامہ انجام دے سکیں گے؟ لیکن روسی صدر پوٹین اس وقت روس کو پھر سے بڑی عالمی قوت ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ شرق اوسط میں شام اب اس کا آخری ٹھکانا ہے۔ اسے بشار کی پشت پر کھڑا رکھنے میں ایران کا بھی واضح اور بھرپور کردار ہے۔ ایسے وقت میں کہ جب شام میں بشار الاسد صرف ۲۰ فی صد علاقے میں محصور رہ گیا ہے روس کا یہ اقدام اس کے لیے مفید ہوسکے گا یا نہیں؟ لیکن یہ امر طے شدہ ہے کہ شام اور عوام کی مزید تباہی اور ہلاکتیں ہوں گی۔

شام ہی نہیں عراق بھی خوف ناک تباہی کے بعد اب ایک نئے آتش فشاں کے دھانے پر آن کھڑا ہوا ہے۔ سابق وزیراعظم نوری المالکی اور اس کے وزرا نے نہ صرف ملکی تباہی اور مسلکی منافرت کا ایجنڈا خوف ناک انداز سے آگے بڑھایا، بلکہ لوٹ مار اور کرپشن کے بھی نئے ریکارڈ قائم کیے۔ اس کے باوجود پہلے کئی ماہ تک اسے دوبارہ وزیراعظم بنوانے کی کوشش کی گئی، اس میں ناکامی کے بعد اسے نائب وزیراعظم بنوادیا گیا۔ لیکن اب خود وزیراعظم حیدر العبادی اور ان کی حامی شیعہ جماعتیں اس کی کرپشن کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ گذشتہ اڑھائی ماہ سے ہر جمعے کے روز بہت بڑی تعداد میں عراقی عوام اس کے خلاف مظاہرے کرتے اور کرپٹ ٹولے کو سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ وزیراعظم حیدر العبادی نے مالکی کو ہٹاکر اس کے خلاف عدالتی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ اس ضمن میں بغداد میں ہونے والا ایک قومی اجلاس بالخصوص نزاع کا باعث بنا ہوا ہے۔ اس میں ساری مرکزی عراقی شیعہ قیادت جمع ہوئی اور ان کے ساتھ عراق میں موجود ایرانی جنرل قاسم سلیمانی صاحب بھی علانیہ شریک ہوئے۔ عراقی سیاست کا رخ طے کرنے کے لیے ہونے والے اجلاس میں اہم ایرانی جنرل کی شرکت کی تصاویر نے عراق میں ایرانی نفوذ کے مخالف عناصر کو بھرپور لوازمہ فراہم کیا۔ اگلے ہی ہفتے کربلا میں نماز جمعہ کے بعد ہونے والے بڑے اجتماع میں عراق کے اعلیٰ ترین شیعہ مرجع آیت اللہ سیستانی کے نمایندے عبدالہادی کربلائی نے ان کا پیغام سناتے ہوئے ’کرپشن کے خلاف جنگ‘ میں عراقی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا۔

واشنگٹن میں ’نئے مشرق وسطیٰ‘ کے موضوع پر ہونے والی ایک حالیہ کانفرنس میں سی آئی اے کے سربراہ نے کہا تھا ’’عراق اور شام کے عوام اب خود کو اپنے ملک کے نام سے نہیں اپنے قبیلے، مسلک اور علاقے کی بنیاد پر متعارف کرواتے ہیں۔ ان کامزید کہنا تھا ’’میرا خیال ہے کہ آیندہ دو یا تین عشروں میں شرق اوسط کا نقشہ اس کے حالیہ نقشے سے یکسر مختلف ہوگا‘‘۔ نئے شرق اوسط کے پرانے امریکی نقشوں میں خطے کی تقسیم نو ہی نہیں، ان نئی ریاستوں کو باہم متحارب رکھنا بھی شامل ہے۔ گویا عراق میں ایک نئی شیعہ ریاست بنانا ہی مطلوب نہیں، فارسی شیعہ ریاست سے عرب شیعہ ریاست کا تصادم مقصود ہے۔ اللہ کرے کہ عراق میں جاری حالیہ سیاسی کش مکش تقسیم در تقسیم کے اس بیرونی خواب کی تکمیل کا ذریعہ نہ بنے۔ وگرنہ حالات کا دھارا اس قدر ہولناک ہے کہ ہر آنے والے دن اسی مسلکی جنگ پر تیل چھڑک رہا ہے۔ عراق اور شام سے باہر خلیجی ریاستوں میں بھی آئے روز ایسے واقعات ہوتے ہیں کہ جن کا انجام کسی صورت مثبت نہیں ہوسکتا۔ کبھی کویت سے ’حزب اللہ کے مسلح خفیہ سیل‘ کا انکشاف ہوتا ہے۔ کبھی بحرین سے اتنی مقدار میں اسلحہ پکڑا جاتا ہے کہ وزیرداخلہ کے بقول اس سے پورا دارالحکومت تباہ ہوجاتا۔ مساجد اور امام بارگاہوں پر حملے جاری ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سوشل میڈیا اور یورپ سے چلنے والے ٹی وی چینلوں کے ذریعے صحابہ کرامؓ، امہات المومنینؓ اور اہل بیت کے بارے میں وہ غلیظ زبان استعمال کی جارہی ہے کہ کوئی حلیم سے حلیم مسلمان بھی سن کر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔

مصر اور یمن کی صورت حال ایک الگ مفصل جائزے کی محتاج ہے لیکن وہاں بھی موت کا بھوت مسلسل تباہی پھیلا رہا ہے۔ مصر میں اپنے عوام کو بلاتردد قتل کرنے کی خوگر مصری فوج نے گذشتہ دنوں میکسیکو کے ۱۲ سیاح قتل کردیے تو مغرب میں کچھ احتجاج ہوا۔ میکسیکو کی وزیر خارجہ نے قاہرہ جاکر جنرل سیسی سے تاوان طلب کیا تو اسے بھی زبانی معذرت کرتے ہوئے بتایا گیا کہ فوج نے ان شہریوں کو دہشت گرد سمجھ کر غلطی سے ماردیا۔ اب دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی بحران چل رہا ہے وگرنہ مصر میں ۴۰ ہزار سے زائد بے گناہ جن کی اکثریت اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل ہے اور جن میں سے ۲۸۹ افراد اب تک جیلوں کے اندر تشدد اور بیماریوں سے موت کی وادی میں اُتر چکے ہیں، کے حقوق کے بارے میں کسی مغربی یا مشرقی ملک کو ادنیٰ سروکار نہیں ہے۔

یمن میں البتہ کچھ مثبت پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ پورے ملک پر قابض ہوجانے والے باغی حوثی قبائل کو کئی محاذوں پر واضح شکست کا سامنا ہے۔ یمن کا دوسرا بڑا شہر عدن ان سے مکمل طور پر خالی کروالیا گیا ہے اور تحریک اسلامی یمن کے ایک فعال نوجوان کو اس کا عبوری اختیار سونپا گیا ہے۔ اب دارالحکومت صنعاء کو ان باغیوں سے واگزار کروانے کی کارروائی جاری ہے۔ کاش! یہ باغی پورے ملک پر قبضہ نہ کرتے۔ کاش! سابق ڈکٹیٹر علی عبد اللہ صالح ۳۳ سالہ اقتدار پر اکتفاکرتے ہوئے، یمنی عوام سے انتقام لینے کی آگ نہ بھڑکاتا۔ اور کاش! ایران جیسا اہم برادر ملک ان باغیوں کی مدد نہ کرتا۔ لیکن اب تو وہاں پانی سر سے گزر چکا۔ اللہ کرے کہ یمن سمیت تمام ملکوں میں نفرت، انتقام اور تعصب کے بجاے امن، حکمت اور انصاف کا علم اُٹھانے والے آگے بڑھ سکیں۔

اب ایک جانب یہ سب قتل و غارت اور ڈکٹیٹر شپ کی لعنت ہے اور دوسری جانب اُمت کے قبلۂ اول کے خلاف کھلی صہیونی جارحیت عروج پر ہے۔ صہیونی ریاست اب مسجد اقصیٰ پر قبضے کی جانب ایک اور خوف ناک قدم اُٹھا چکی ہے۔ یہ حرم اقصیٰ کو تقسیم کرنے اور وہاں یہودی عبادت گاہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنے کا مکمل منصوبہ ہے۔ مسجد اقصیٰ کو اوقات اور جگہ کے اعتبار سے تقسیم کرنے کے اس عمل میں جمعے کے روز فلسطینی مسلمانوں کو محدود تعداد میں مسجد اقصیٰ جانے کی اجازت ہے، جب کہ ہفتے کا روز مکمل طور پر یہودیوں کے لیے کھلا ہوگا۔ اس کے علاوہ روزانہ صبح ۷ بجے سے ۱۱بجے تک بھی حرم اقصیٰ مسلمانوں کے لیے ممنوعہ اور یہودیوں کے لیے کھلا ہوگا۔ مسلمانوں کے لیے صرف مسجد کے اندر کا علاقہ مخصوص ہوگا، جب کہ حرم کا باقی پورا علاقہ یہودیوں کے لیے ہوگا۔

محصور و مقہور فلسطینی مردوزن مسجد اقصیٰ میں اوقات و اماکن کی اس تقسیم کو روکنے کے لیے گذشتہ کئی ماہ سے مسجد کے اندر معتکف ہوکر بیٹھے ہیں۔ ان معتکفین کو صہیونی قابضین نے دہشت گرد قرار دے دیا ہے اور اب ان ’دہشت گردوں سے مقابلے‘ کے لیے ’صہیونی سورما‘ ان پر حملہ آور ہوتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش پا سے مزین مسجد اقصیٰ میں توڑ پھوڑ کرتے ہیں۔ ۱۹۶۹ء میں مسجد اقصیٰ میں آتشزدگی کی ناپاک جسارت ہوئی تھی، تو پوری مسلم دنیا میں کہرام مچ گیا تھا۔ او آئی سی کی تنظیم اسی موقعے پر وجود میں آئی تھی۔ لیکن آج ہم ڈکٹیٹرشپ، اس کے مکار سرپرستوں، خوارج کے وحشی وارثوں اور اپنے ہی بھائیوں کے خون سے ہولی کھیلے جانے کے نتیجے میں چرکے سہہ رہے ہیں۔ مسلم دنیا کو معلوم ہی نہیں کہ مسجد اقصیٰ پر کیا بیت گئی۔ آج اگر اُمید ہے تو دشمن کے بارے میں یکسو ان سچے مجاہدین سے ہے، جو اقصیٰ اور اس کے گردونواح میں برسرِ پیکار ہیں۔ ڈھارس ہے تو آغاز میں بیان کی گئی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبول ہوجانے والی اس دُعا سے ہے کہ ’’پروردگار ہمارے دشمنوں کو ہم پر حاوی نہ رہنے دے‘‘۔

ناجائز صہیونی ریاست نے بھی بہرحال معدوم ہوناہے۔ شیخ احمد یاسین کا یہ الہامی جملہ اہل فلسطین کو ہمیشہ فعال رکھتا ہے کہ ’’میں ۲۰۲۷ کے بعد دنیا کے نقشے پر اسرائیل نام کی ریاست کا وجود نہیں دیکھتا۔ اللہ نے اپنے اس شہید بندے کی بات کی لاج رکھ لی تو یہ نہ صرف فلسطین بلکہ اس کے پڑوسی ممالک بالخصوص شام، عراق اور مصر میں بھی جوہری تبدیلی کی پیامبر ہوگی۔