September 17th, 2019 (1441محرم17)

ادلب پر ممکنہ جملہ، نئے انسانی بحران کا خطرہ!

 

ظفرمحی الدین

شام میں 7برس سے جاری خوف ناک خانہ جنگی، دہشت گردی اور بیرونی مسلح مداخلت نے دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے زیادہ تباہی مچائی اور سب سےزیادہ جانی و مالی نقصانات سامنے آئے۔ اس سب کے باوجود یہ مسئلہ تاحال اپنی جگہ برقرار ہے۔ گزشتہ دنوں شام کے شمال مغربی شہر ادلب کے مسئلے پر (جسے مزاحمت کاروں کا آخری گڑھ بھی کہا جا رہا ہے) تہران میں روس کے صدر پیوٹن، ترک صدر رجب طیب اِردوان اور ایران کے صدرحسن روحانی نےملاقات کی۔ اس اجلاس میں ادلب (جہاں 30لاکھ سے زاید شہری محصور ہیں) کی صورت حال پر غور کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ شام روس اور ایران اس شہر پر حملے کی تیاری کررہے ہیں۔ یہ بھی بتایاجاتاہے کہ مذکورہ اجلاس سے چند گھنٹے قبل روس کے بم بار طیاروں نے وہا ں بم باری کی اور دوسری خبر یہ ہے کہ وہاںمیزائل مارے گئے۔
ترکی کے لیے ادلب کا مسئلہ بہت تشویش ناک ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ادلب ترکی کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ 30لاکھ سے زاید شہری یہاںمحصور ہیں۔ اس کےعلاوہ ترکی کے حمایت یافتہ جنگی دھڑے بھی یہاں موجود ہیں۔ اگر ادلب پر حملہ ہوتا ہےتو لازماً لاکھوں شہری ترکی کی سرحد پر جمع ہوں گے جبکہ 20لاکھ سے زاید پناہ گزین ترکی کے سرحدی علاقوں میں پہلے ہی موجود ہیں۔
ایران کا مسئلہ واضح ہے،کیوں کہ اس تمام خانہ جنگی اور بغاوت میں ایران نے شام کے صدر بشارالاسد کا ساتھ دیا۔ حکومت کی حمایت کی اور اپنے جنگجوؤں کی مدد سے صدر اسد کی حکومت کو بہت اہم سہارا فراہم کیا۔ روس کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ شام میں بعث پارٹی کے آخری حمایت یافتہ رہنما اور روس کے حامی صدر بشارالاسدکی حکومت کو ہر صورت میں قائم رکھنا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ روس کا بحیرہ روم میں آخری بحری اڈہ شام میں ہے۔ اس حوالے سے روس، شام میں صدر اسد کی بھرپور حمایت کرتا رہاہے اور آج بھی کررہا ہے۔ یہاں روس نے اپنے جدید لڑاکا بم بار طیارے، میزائل اور میزائل ڈیفنس سسٹم بھی استعمال کیا، جس سے داعش کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ یہ شہر اب مزاحمت کاروں سمیت ترکی کے حمایت یافتہ دھڑوں اور دیگر چھوٹی مزاحمتی تنظیموں کا آخری ٹھکانہ بن چکا ہے۔ ایسے میں ایران اور روس فوری طور پر ادلب پر حملے کرکے باغیوںکا خاتمہ کرناچاہتے ہیں،لیکن ترکی حملے کا مخالف ہے۔ اقوام متحدہ کے مبصرین بھی حملے کی شدت سے مخالفت کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حملہ ہوا تو وہ لاکھوں محصورین جو پہلے ہی مختلف مسائل اور بھوک کا شکار ہیں،بہت زیادہ متاثر ہوں گے۔ یہ ایک بڑا اور نیا انسانی المیہ ثابت ہوگا۔ دوسری جانب شام میںامر یکا کے ایلچی نے خبردارکیا ہے کہ شامی حکومت باغیوںکے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنا چاہتی ہے۔ امریکی مبصر جم جینر کا بھی دعویٰ ہے کہ شامی حکومت کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ ساتھ ہی فرانس نے بھی دھمکی دی ہے کہ اگر شامی حکومت نے ادلب پر حملے میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تو اسے شدید ردعمل کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ دوسری جانب عالمی تحقیقاتی ٹیم شامی علاقے دوما میں بشار فورسز کی بمباری میں ممنوع ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق بھی کر چکی ہے۔ واضح رہے کہ دوما میںکیمیائی حملے کی وجہ سے بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی تھیں اور خواتین و بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے تھے۔ جس کے جواب میں امریکا،برطانیہ اور فرانس کے لڑاکا طیاروں نےشام پر حملےکیےتھے تاہم شامی حکومت اور روس کیمیائی حملوں کے الزامات مسترد کرتے رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔
اِن حالات میں صدر ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ اگر روس اور ایران ادلب پر حملے کرتے ہیں تو یہ بڑا انسانی المیہ ہوگا جس کے ذمےداریہ دونوں ممالک ہو ں گے۔مگر روس کا دعویٰ ہے کہ ادلب اس وقت مزاحمت کاروں کا بہت بڑا گڑھ بن چکا ہے اور شہر کو ان سے آزاد کرانے کے لیے عسکری کارروائی کی تیاریاں کی جا رہی ہی۔روس کے صدر پیوٹن کا اصرارہے کہ مزاحمت کاروں کا خاتمہ ضروری ہے جو 7سال سے ہر بار سیاسی حل کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتے رہے ہیں،اس لیے انہیں مزید برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ مزید برآں ادلب شام کا ایک اہم شہر ہے کیوں کہ تمام اہم اوربڑی شاہ راہیں یہاں سے گزرتی ہیں جو کئی بڑے شہروں کو آپس میں ملاتی ہیں۔
شام میں سرگرم غیرملکی قوتوں میںسے ترکی زیادہ تشویش میں مبتلا ہے۔ اول یہ کہ اس کے حامی ادلب میں موجود ہیں، دوم یہ کہ لاکھوں افراد حملہ ہونے کی صورت میں ترکی کی طرف رخ کریں گے،سوم یہ کہ شامی کُرد موجودہ صورت حال میں اپنی پالیسی تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں جس کا اثرترکی میں موجود کُرد گروہوں پر بھی پڑسکتا ہے۔ واضح رہے کہ کُردوں کی بڑی تعداد ترکی کے سرحدی علاقوں میں موجود ہے اور ترکی کی ہر حکومت انہیں قابو میں رکھنے کے لیے کسی بھی سخت اقدام سے گریز نہیں کرتی۔ اس کے علاوہ بشار الاسد کی حکومت کا استحکام ترکی کے لیے زیادہ مفید ثابت نہیں ہو سکتا۔ اس کے باوجود ترکی شام میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے تاکہ علاقائی کشیدگی ختم ہوسکے جو اس خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ اس حوالے سے حال ہی میں ترکی کے وزیر خارجہ نے روس اور ایران کی ادلب کے حوالے سےپالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 2016ء میں آستانہ میں ہونے والی امن کانفرنس میں جو نکات طے ہوئے تھے ان کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ ترکی کا اصولی موقف یہ ہے (جسے سب نے تسلیم کیاتھا) کہ مزاحمت کاروں اور شامی اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کا راستہ کھلا رکھا جائےاور ا نہیں غیرمسلح کرکے محفوظ راستہ فراہم کیا جائے۔ وہ چاہتا ہے کہ اب جب ادلب میں تمام شامی مزاحمت کار جمع ہیں تو ان سے بات چیت کر کے ہتھیار لے لیے جائیںاورانہیں محفو ظ کوریڈ ور فراہم کردیا جائے تاکہ ہزاروں جانوںکا نقصان نہ ہو اور ایک بڑا المیہ رونما ہونے سے روکا جاسکے۔ مگر روس اور ایران کا موقف ہے کہ اس طرح کی قیام امن کی کوششیں ماضی میںبھی ہوتی رہی ہیں، لیکن وہ لاحاصل رہیں، اس لیے اس موقع پر مزاحمت کاروں کو چھوڑ دینا مزید نقصان دہ ہوسکتا ہے ۔
شام میں موجودکُرد گروہوں میں سے بیشتر نے شامی حکومت کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔ ان گروہوں کا کہنا ہے کہ شامی کُرد اس تمام جنگ صورت حال میں کوئی واضح پالیسی وضع نہیں کرسکے، تاہم آئندہ شامی جمہوری حکومت کےساتھ تعاون کرنے پر راضی ہیں۔ بتایا جاتاہے کہ بیشترلڑاکا کُرد ادلب میں شامی حکومت کے فوجیوں کاساتھ دے رہے ہیں۔ (ترک حکام بھی یہی دعویٰ کر چکے ہیں کہ شامی کرد ادلب پر حملے کی صورت میں بشار فورسز کا ساتھ دیں گے) دوسری جانب شامی کُرد رہنما الدار خلیلی نے کہاہے کہ ہم شامی حکومت کے سامنے کچھ مطالبات رکھنا چاہتے ہیں تاکہ ہمیں یہاںکچھ رعایات مل سکیں، ہم جمہوریت کا ساتھ دیں گے اور پرامن شام کی حمایت کریں گے۔ کُرد رہنما کا خیال ہے کہ شام کے بحران کا حل جمہوری حکومت کے قیام میں مضمر ہے۔ دوسری جانب فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شامی کردوں میں پھوٹ پڑ چکی ہے اور بعض کُرددھڑے ادلب میں شامی فوجیوںکے خلاف لڑرہے ہیں اور مزاحمت کاروں کی حمایت کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جولائی میں کُردرہنمائوں اور شامی حکومت کے درمیان آئندہ تعاون کے مسئلےپرکام یاب مذاکرات ہو چکے ہیں ۔ اس حوالے سے شامی حکومت نے حال ہی میں باغی کُردگروہوں کو خبردار کیا کہ اگر وہ کسی علاقے پر قبضہ کریں گے تو ان کے خلاف طاقت استعمال کی جائے گی۔
اُدھر امریکا، برطانیہ اور فرانس کی جانب سے دھمکی دی گئی ہے کہ اگرانہیں ادلب میں کسی فوجی کارروائی کی اطلاع ملی تو شام پر بہ راہ راست حملہ کردیا جائے گا۔ اس دھمکی کے جواب میں اقوام متحدہ میںشامی سفیر نے ایک بیان میں امریکا، فرانس اور برطانیہ کی دھمکی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شام پوری دنیا کی طرف سے دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے، مگر مغربی طاقتیں شام کو سیاسی بلیک میلنگ سے جھکانا چاہتی ہیں۔ شام جدوجہد جاری رکھے گا اور دہشت گردوں کے خلاف آخری دم تک جنگ جاری رہے گی۔
تناؤ کے اس ماحول میںبرطانیہ کی انسانی حقوق کی تنظیم نے شامی حکومت پر الزام عاید کیاہےکہ وہ روس کےساتھ مل کر ادلب میں بم باری کررہی ہے۔ سفارت کاروں اور مبصرین کا اصرار ہے کہ شام، روس، ترکی اور ایران اس مسئلے کا حل تلاش کریں اور فوجی کارروائیوں سے گریز کیا جائے۔