November 14th, 2019 (1441ربيع الأول16)

شام‘‘ کے قاتل۔۔۔ مسلم اور غیر مسلم حکمران

 

ملک الطاف حسین

ہم اُس وقت کا ذِکر نہیں کررہے کہ جب ایک شخص نواسہ رسولؐ سیّدنا حسینؓ کا سرمبارک ایک تھال میں اُٹھائے دمشق کی جامع مسجد بنو اُمیہ کی اگلی صف کے سامنے سے تیز قدموں کے ساتھ گزرتا ہوا محراب کے قریب جاکھڑا ہوا کہ جہاں یزید منبر پر براجمان تھا۔ یزید نے اپنے دشمن کے چہرے پر نگاہ ڈالی اور زبان سے کچھ بڑبڑایا۔ مسجد میں تمام لوگ جو صاف لباس پہنے اور عطر لگائے بیٹھے تھے، خاموش رہے تاہم ایک روایت میں ایک بزرگ شخص کا ذکر ملتا ہے جو بمشکل کھڑا ہوا اور پھر کانپتے ہاتھوں کے ساتھ سیدنا حسینؓ کے سر مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بلند آواز یزید سے مخاطب ہوا۔ ’’اے بدبخت مجھے قسم ہے رب کعبہ کی میں نے اِن ہونٹوں پر رسول اللہؐ کو بوسے دیتے ہوئے دیکھا تھا کہ جہاں تو چھڑی پھیر رہا ہے‘‘ اس کے بعد یزید نے حکم دیا کہ سیدنا حسینؓ کے سر کو کسی نامعلوم مقام پر دفن کردیا جائے۔
یزید کے پاس اقتدار تھا اور وہ خلیفہ کہلاتا تھا، سیدنا حسینؓ کے پاس کوئی اقتدار نہیں تھا اور وہ خلیفہ ہونے کے دعوے دار یا اُمیدوار بھی نہیں تھے، سیدنا حسینؓ اور ان کے تمام ساتھی شہید ہوگئے۔ زندہ بچ جانے والے اہل بیت کو بھی قیدی بنالیا گیا۔ گوکہ سیدنا حسینؓ کے براہ راست قاتل تو یزید، ابن زیاد، ثمر اور اُس کے فوجی تھے مگر مسجد بنو اُمیہ کے اندر بیٹھے وہ باوضو نمازی بھی سیدنا حسینؓ کے قاتلوں میں یوں شامل ہوگئے کہ جب حسینؓ کا سر مبارک مسجد میں پہنچا تو اِن کو بزرگ صحابیؓ کی طرح محض یہ گواہی دینی تھی کہ یزید تو ظالم اور قاتل ہے تو مسلمانوں کا خلیفہ ہونے کے لائق نہیں۔ یزید خلافت کے تخت پر بیٹھ کر بھی ہار گیا اور سیدنا حسینؓ نیزے پر چڑھ کر بھی جیت گئے۔ جنگ اور جہاد میں یہی فرق ہوتا ہے، یزید کی قبر مٹ گئی اور سیدنا حسینؓ کے روضہ اطہر کی زیارت مسلمانوں کی زندگی کی خواہش بن گئی۔ مسجد بنو اُمیہ میں بیٹھے نمازیوں سے (سوائے ایک کے) ضرور یہ سوال پوچھا جائے گا کہ تم نے کوئی قتل تو نہیں کیا تھا، تم نے کسی کا پانی بھی بند نہیں کیا تھا، تم پر کوئی دوسرا الزام بھی نہیں ہے، تمہیں تو صرف سیدنا حسینؓ کے خون آلود سر کو گواہ کرکے یہ اعلان کرنا تھا کہ سیدنا حسینؓ ہی سراپا حق ہیں اور یزید تو اور تیری خلافت باطل ہے، بس اتنی گواہی دینی تھی وہ بھی نہ دے سکے اور اب جنت لینے آگئے ہو؟؟۔
اگر ایسا ہی سوال آج کے اہل شام کے قاتل بشار الاسد کی حمایت کرنے والے مسلم حکمرانوں سے پوچھ لیا گیا تو وہ کیا جواب دیں گے۔ بالخصوص ایران کی مذہبی، سیاسی اور فوجی قیادت جو شام کے مسلمانوں کے قاتل بشار الاسد کی بھرپور امداد اور حمایت کررہی ہے، قیامت کے روز جب حلب اور غوطہ سمیت شام کے شہریوں کے قتل کا مقدمہ پیش ہوگا کہ جن کے جسم کیمیائی ہتھیاروں سے پگھل گئے، جن کو گولیوں سے چھلنی کردیا گیا، جن کے زخمیوں کو بے سہارا چھوڑ دیا گیا، جن کے شہر، دیہات اور گھر بمباری سے کھنڈر بنادیے گئے، جہاں مسجدوں کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی، تو جواب کیا ہوگا؟؟۔ سیدنا حسینؓ سے محبت کا دعویٰ اور کربلا کا ماتم کرنے والوں کو آج شام کے مظلوم مسلمانوں کے قتل عام پر رحم کیوں نہیں آرہا، عون و محمد کی شہادت پر آنسو بہانے والوں کو شامی مسلمان بچوں کے زخموں، چیخوں اور لاشوں کو دیکھ کر ترس کیوں نہیں آرہا، علم عباس کی پھٹی ہوئی مشک اور کٹے ہوئے بازو یاد دِلانے والوں کو غوطہ کے مسلمانوں کی بھوک، پیاس اور بہتے ہوئے خون کو دیکھ کر افسوس کیوں نہیں ہورہا، کربلا کے جلتے خیموں پر سینہ کوبی کرنے والوں کو غوطہ کے جلتے گھروں کو دیکھ کر دُکھ کیوں نہیں ہورہا؟؟۔ تو کیا اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت جو حسینؓ اور اہل بیت سے محبت کا دم بھرتی ہے کے لیے بشارالاسد کی شخصی آمریت کی حفاظت اور اس آمریت کے خلاف جو لوگ جدوجہد کررہے ہیں اُن پر بمباری اور ٹینک چڑھا دینا شریعت اسلامی کی پیروی اور شہادت حسینؓ کی منشا کے مطابق سمجھتی ہے۔ بشار الاسد جیسے ظالم، ڈکٹیٹر اور قاتل شخص کی حکومت کو بچانا اس لیے ضروری ہے کہ وہ ایران کا حامی ہے، کیا ایرانیوں نے سیدنا حسینؓ کی شہادت کے فلسفے اور پیغام کا مطلب یوں سمجھا ہے کہ کل کے یزید پر لعنت اور آج کے یزید کی حمایت۔ روسی ٹینکوں اور ایرانی سنگینوں کے ذریعے شامی عوام کو مجبور کرکے بشارالاسد کی بیعت پر مجبور کرنا سیدنا حسینؓ کا درس ہے یا یزید، ابن زیاد اور ثمرکی تاریخ ہے اور مزید یہ کہ اگر کل کلاں سعودی عرب بھی امریکی فوجوں کے ساتھ مل کر ایران پر اسی طرح سے حملہ کردے جیسا کہ آج ایران نے روسی فوجوں کے ساتھ مل کر شام پر کر رکھا ہے تو اس پر ایرانی قیادت کا موقف اور ردعمل کیا ہوگا۔
مارچ 2011ء میں شام کے مختلف علاقوں میں بشار الاسد کی جابر اور ظالم حکومت کے خلاف عوامی مظاہروں کا آغاز ہوا۔ مظاہرین سیاسی اصلاحات چاہتے تھے لیکن جواب میں حکومتی فورسز نے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال شروع کردیا تاہم قریب تھا کہ ’’اسدی ملوکیت‘‘ کا خاتمہ ہوجاتا اور یوں ظالم حافظ الاسد کے بعد ان کا قاتل بیٹا بشار الاسد اپنے منطقی انجام کو پہنچ جاتا مگر اس دوران ایران، حزب اللہ اور روسی فوجوں نے آگے بڑھ کر ’’اسدی آمریت‘‘ کو بچالیا۔ سعودی عرب جو شام کا پڑوسی ملک ہے اُس کا موقف ہے کہ بشار الاسد شامی عوام کا جائز نمائندہ حکمران نہیں فاشٹ اور قاتل حکمران ہے جس کا اقتدار ختم ہونا چاہیے، تاہم اس کے لیے او آئی سی اور عرب لیگ کو متحرک کرنے کے بجائے امریکی فوجوں کو شہے دے کر شام کی سرزمین پر اُتار دینا بھی بہت بڑی غلطی ہے جب کہ ترکی کے ٹینک بھی شام کے اندر کردوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، ترکی کی یہ کارروائی بھی ایک آزاد ملک کے اندر مداخلت اور جارحیت ہے۔
مسلم اور غیر مسلم افواج بھوکے بھیڑیوں کی طرح ’’شام‘‘ کے مسلمان عوام پر حملہ آور ہیں۔ روس اور امریکا کی گود میں بیٹھے مسلم حکمرانوں کو اس بات پر قطعاً کوئی شرمندگی نہیں کہ جن بچوں، عورتوں اور بزرگوں کو قتل کیا جارہا ہے وہ سب کلمہ پڑھنے والے ہمارے بہن، بھائی اور بچے ہیں جن کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کا قرآن پاک میں سختی سے حکم دیا گیا ہے۔ ہم سب سمجھ رہے ہیں اور دنیا بھی سمجھ لے کہ روس اور امریکا افغانستان میں اپنی شکست کا بدلہ شام میں لے رہے ہیں، نظریہ یہی ہے کہ مسلمان جہاں پر بھی ہے اسے مارو جتنا مار سکتے ہو۔ ایران اور سعودی عرب سمیت جو مسلم ممالک شام کے اندر ملٹری آپریشنوں میں ملوث ہیں ان کی ترجیحات کس قدر مختلف اور دلائل میں وزن ہو تب بھی ایک شامی شہری کی زندگی اور بچے کا آنسو اُن پر بھاری ہے۔ اور یہ بات بھی عالم اسلام سمجھ رہا ہے کہ سعودی بادشاہت اور شامی آمریت کے درمیان ٹکراؤ ہے، لہٰذا مسلمان عوام یہ سمجھتے ہیں کہ اہل شام کے قتل میں مسلم اور غیر مسلم حکمران برابر کے شریک ہیں۔ اقوام متحدہ کا ادارہ بھی شام پر بیرونی حملہ آور قوتوں کو روکنے اور شامی شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے میں بُری طرح ناکام رہا ہے۔ اسی ادارے کی ساری قوت ’’ویٹو پاور‘‘ میں ہے جو صرف پانچ ممالک کو حاصل ہے، ان میں سے کوئی ایک ملک ہاتھ اُٹھاتا ہے تو 196 ممالک کی قرار داد رد ہوجاتی ہے جیسا کہ شام میں جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق روس کررہا ہے۔
بہرحال دنیا جان لے اور ہم بھی جان رہے ہیں کہ ’’انصاف‘‘ کہیں پر بھی نہیں ہے، بالخصوص مسلمان عوام الناس سے اپیل ہے کہ وہ یزید کے درباریوں کی طرح خاموش رہنے کا گناہ کرنے کے بجائے حق و سچ کی گواہی دینے کے لیے سامنے آئیں۔ پیارے نبی پاکؐ نے خانہ کعبہ کو دیکھ کر ایک مرتبہ فرمایا تھا جس کا مفہوم کچھ اس طرح سے ہے کہ ’’تو مجھے جان سے زیادہ عزیز ہے مگر مجھے قسم ہے تیرے ربّ کی کہ ایک مسلمان کی جان تجھ سے بھی زیادہ محترم اور عزیز ہے‘‘۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمیں مظلوم کا ساتھ اور حق کی گواہی دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔