June 19th, 2019 (1440شوال15)

المیہ شام کا نہیں امن کا ہے(حصہ دوم)

 

 مظفر اعجاز 

بلاشبہ شام لہو لہو ہے۔ لیکن ہمارا زور صرف ہورہا ہے امت مسلمہ کے غلام حکرمانوں پر تندوتیز حملوں پر۔۔۔ ٹھیک ہے یہ ایسے ہی ہیں لیکن بڑاسوال یہ ہے کہ امریکا‘ برطانیہ‘ فرانس‘ روس اور دیگر ممالک کا شام میں کیا کام۔ روس اور امریکا دور دراز کا سفر کرکے کیا لینے آئے ہیں۔ امریکا نے عراق میں کون سا کارنامہ کردیا تھا۔ افغانستان میں کیا گل کھلائے تھے۔ ہاں سعودی عرب‘ ایران اور دیگر مسلم ممالک بھی وہاں کس کی جنگ لڑرہے ہیں۔ سب کو وہاں سے نکلنا چاہیے۔ جتنی القاعدہ‘ داعش وغیرہ ہے وہ سب ان ہی ممالک کی پیدا کردہ ہے۔ یہ جائیں گے تو ان کے بغیر یہ از خود مرجائیں گے۔ چند دنوں میں غائب ہوجائیں گے۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ امت مسلمہ کے مسائل اور ان پر مظالم کی خبر امت مسلمہ کے ذرائع سے کیوں نہیں اٹھتی۔ پھر یہ معاملات دب کیوں جاتے ہیں۔ اسرائیل مستقل فساد ہے اور بھارت مستقل عذاب ہے۔ امریکا مستقل سازشیں کررہا ہے۔ مغرب مکاری کررہا ہے، بظاہر مہذب اور اندرون تاریک تر۔۔۔ جمہوریت کے علم بردار مگر آمریتوں کے پشتیبان۔ ہم کبھی ایک کی طرف دوڑتے ہیں کبھی دوسرے کی طرف، ابھی چین سے ہنی مون چل رہا ہے جب تک سمجھ میں آئے گا سب کچھ چنیا چکا ہوگا۔
اس بات پر غور کی ضرورت ہے کہ مسلمان ذرائع ابلاغ کو امریکا میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کا علم نہیں ہوتا۔ ہوجائے تو ترجیح نہیں ہوتی۔۔۔ کیوں کہ ہمارے ذرائع ابلاغ پر بھی پیسا مغرب یا یہودی کا لگ رہا ہے اور پاکستان میں تو بھارتی پیسا بھی بہت ہے۔ پاکستان کے میڈیا پر تحریک پاکستان اور نظریہ پاکستان کے خلاف ڈرامے چل رہے ہیں بلکہ فلمیں بھی بن رہی ہیں، ان فلموں ڈراموں کے پیچھے بھارتی پیسا اور دماغ ہی تو ہے۔ تو پھر امت مسلمہ کیا کررہی ہے صرف سوشل میڈیا کا سہارا لیا ہوا ہے۔ کام کرنے کے بڑے بڑے میدان ہیں۔
ذرا چند خبریں دیکھ لیں پھر اندازہ ہوجائے گا کہ عالمی میڈیا پر کیا چل رہا ہے اور حقائق کیا ہیں۔ ایک ہی دن کی خبریں ہیں۔ شام میں حملہ 6 بچے جاں بحق‘ افغانستان میں راکٹ حملہ 7 بچے جاں بحق۔ لیکن سارا مغرب میڈیا شام کے چھ بچوں کی خبر بار بار معصوم بچوں کا خون آلود تصاویر کے ساتھ دکھا رہا ہے۔ ایک اور خبر ہے غوطہ کو تین حصوں میں تقسیم کرکے شامی مسلمانوں پر حملے۔۔۔ یہ خبر بڑی کرکے دکھائی جارہی ہے لیکن دوسری خبر بہت چھوٹی۔ بلکہ کہیں کہیں تو ہے بھی نہیں۔ یعنی موصل سے 11 ہزار افرادکو غائب کردیا گیا۔ اس خبر کو دبا دیا گیا۔ میانمر کی فوج روہنگیا مسلمانوں کی زمینوں پر تعینات کردی گئی۔۔۔کیوں۔۔۔ اس کی خبر بھی کہیں کہیں نظر آئے گی۔ سب سے بڑھ کر اسرائیلی حکومت نے 15مئی سے القدس کو مغربی کنارے سے کاٹنے کا منصوبہ بنالیا ہے اس پر ابھی خاموشی ہے۔ یہ خبر بھی چھوٹی چھوٹی لگائی گئی ہے۔ پاکستانی اخبارات بھی مغربی پروپیگنڈے کے مطابق خبروں کا معیار مقرر کرتے ہیں۔ چوں کہ مغرب میں رجحان فلاں خبر کا ہے عالمی میڈیا میں یہ خبریں چل رہی ہیں تو ہمارے میڈیا میں بھی ایسا ہی ہوگا۔ یہ عالمی میڈیا کیا ہے۔ اے ایف پی رائٹرز‘ بی بی سی‘ وائس آف امریکا وغیرہ۔ لیکن ا ن کے ذرائع کیا ہیں۔۔۔ وہی۔۔۔ جو ہمارے ہیں وہ بھی پاکستان کی خبریں پاکستانی اخبار نویسوں سے لیتے ہیں لیکن نمک مرچ ان خبر ایجنسیوں کے صدر دفاتر میں لگتا ہے۔ جن خبروں کا ہم نے ذکر کیا وہ آج کل چھوٹی کیوں ہیں۔ سنگینی سب کی یکساں ہے۔ سب میں مسلمانوں کا نقصان ہے۔ لیکن مغربی ذرائع ابھی شام پر توجہ دے رہے ہیں۔ جس دن انہیں ضرورت ہوگی میانمر کو بڑا کردیں گے اور ہم میانمر کا المیہ کے عنوان سے سیمینار کررہے ہوں گے۔ پھر جب کسی روز عراق کو اُجاگر کرنا چاہیں گے اور ہمارا میڈیا بھی بتا رہا ہوگا کہ عراق میں اتنے لوگ مرگئے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ افغانستان‘ عراق‘ شام‘ یمن‘ فلسطین‘ پاکستان‘ لیبیا‘ سوڈان اور جہاں جہاں غیر ملکی افواج یا غیر مسلم افواج کارروائیاں کررہی ہیں وہاں ان کی آمد اور کارروائیوں سے قبل خون نہیں بہتا تھا سارا خون غیرملکی اور خصوصاً امریکی مداخلت کے بعد بہا ہے لیکن مغربی میڈیا دس بارہ برس بعد ہمیں بتاتا ہے کہ افغانستان میں طالبان خونریزی کررہے ہیں۔ عراق میں القاعدہ اور اب داعش خون بہا رہی ہے۔ اور شام میں بیک وقت دونوں خونریزی کے ذمے دار ہیں۔ لیکن آج جبکہ شام لہو لہو ہے امریکا‘ روس‘ برطانیہ‘ فرانس اور مغرب کے ممالک کا وہاں کیا کام ہے۔ خونریزی تو آج ہورہی ہے۔ کل ان کے بوئے ہوئے بیچ برگ و بار لائیں گے امریکا حسب معمول فساد کے بیج چھوڑ کر جائے گا اور مغربی میڈیا القاعدہ، داعش اور اسلامی تنظیموں کو برا بھلا کہے گا اور ہم بھی۔ تو ہماری درخواست ہے کہ حق اور باطل میں تمیز کریں۔ ظالم کو پہچانیں۔ امریکا‘ اسرائیل بھی اور مغرب کی عیاری اور مکاری کو سمجھیں۔ جب قرآن نے کہہ دیا کہ یہ کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہوسکتے۔ تو پھر ان سے ہوشیار کیوں نہیں رہتے۔ اپنی آنکھیں کیوں نہیں کھولتے۔ کیا ہمارے ذرائع وہاں نہیں جہاں سے خبریں مغربی ذرائع ابلاغ سے رہے ہیں۔