July 16th, 2020 (1441ذو القعدة25)

امریکی حملہ اور عالم اسلام کی تقسیم

 

اداریہ

امریکا کی طرف سے تباہ حال ملک شام پر میزائلوں کی بارش کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا لیکن اس اجلاس میں امریکا نے شام پر مزید حملوں کی دھمکی دی ہے اور ہفتہ کے دن اس پر عمل بھی ہوگیا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ روس اور امریکا ایک دوسرے پرالزام تراشی بھی کررہے ہیں اور شام کی تباہی میں حصہ دار بھی ہیں۔ صرف یہی نہیں مسلم دنیا اور دیگر ممالک بھی دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔ ایک بار پھر سرد جنگ سے پہلے کا ماحول بنتا نظر آرہا ہے جب دنیا دو بڑی طاقتوں سوویت یونین اور امریکا کے درمیان تقسیم ہوگئی تھی۔ 1989ء میں سوویت یونین کو افغان مجاہدین کے ہاتھوں بدترین شکست ہوئی جس کے بعد وہ توڑ پھوڑ کا شکار ہوگیا اور اس کا دنیا کی دو بڑی طاقتوں میں سے ایک ہونے کا دعویٰ دم توڑ گیا۔ سوویت یونین کو اس مقام تک پہنچانے میں پاکستان نے بھی امریکا کی مدد کی لیکن امریکا نے کبھی اس تعاون کا ادارک نہیں کیا۔ پھر خود وہ بھی افغانستان،عراق اور لیبیا پر ٹوٹ پڑا اور ان ممالک کوتباہ کرکے رکھ دیا۔ اس کی یاد دہانی سلامتی کونسل کے مذکورہ ہنگامی اجلاس میں بھی کرائی گئی اور روسی نائب سفیر ولادیمیر سفرونکوف نے شام پر امریکی حملے کے نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ذرا عراق کی طرف دیکھو، لیبیا پر نظر ڈالو جہاں امریکا اور مغرب کی مداخلت کے نتیجے میں برسوں سے صرف تباہی کے ڈیرے ہیں۔ روسی نمائندے کا کہنا تھا کہ اب ایسا ہی حشر شام کا ہوگا اور امریکا کی فوجی کاروائی کا رد عمل بڑا سخت ہوگا۔ چین نے بھی انتباہ کیا کہ امریکی حملے سے علاقے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔ لیکن اگلے ہی دن امریکی اتحاد نے شام کے دوسرے شہر پر بمباری کردی۔ سعودی عرب، ترکی، برطانیہ، فرانس اور اسرائیل نے امریکی حملے کی حمایت کی ہے۔ ایران اس حملے پر خفا ہے۔ پنٹاگون کا دعویٰ ہے کہ اس نے حملے سے پہلے روس کو اطلاع کردی تھی۔ برطانوی وزیر دفاع کو شکوہ ہے کہ ہمیں تو شریک ہی نہیں کیا گیا جب کہ برطانیہ افغانستان اور عراق پر حملوں میں امریکا کے شانہ بشانہ تھا، یہاں تک کہ برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیر کو خود برطانوی شہریوں نے امریکی پوڈل(چھوٹی نسل کا کتا) قرار دے دیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پوڈل کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ دوسری طرف امریکی حملے کے باوجود بشار اور روسی فضائیہ نے بھی جمعہ کو شام کے شہرخان شیخون پر بمباری کردی جس سے متعدد شہری شہید ہوئے۔ امریکا نے اپنے حملے کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ کیمیائی حملوں کے لیے استعمال ہونے والے فضائی اڈے تباہ کیے ہیں اور۹۹ طیارے تباہ کردیے۔ اور اس طرح امریکا کے بقول شہریوں پر کیمیائی حملے کی صلاحیت میں کمی ہوگئی،امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے اپنے جنگجو پیشروؤں کی پیروی کا یہ پہلا قدم ہے اور فرمایا ہے کہ شام پر حملے کا حکم ملکی مفاد میں دیا۔ لیکن شام میں جو کچھ بھی ہورہا ہے اس کا امریکی مفاد سے کیا تعلق۔ ایسے ہی حملے افغانستان اور عراق پر کیے گئے۔ ٹرمپ نے حملے کے بعد کہا ہے کہ’’پھول جیسے بچوں کو المناک موت دینے کا بدلہ لے لیا‘‘۔ یہ کہتے ہوئے امریکی صدر کو ذرا شرم نہیں آئی کہ خود امریکا افغانستان،عراق اور لیبیا میں ہزاروں پھول جیسے بچوں کو المناک موت سے دوچار کرچکا ہے۔ اور اس کا پروردہ اسرائیل فلسطینی بچوں کے ساتھ کیا کرہا ہے۔ کیا وہ بچے پھول جیسے نہیں تھے؟ صاف نظر آرہا ہے کہ شام کو تباہ کرنے میں روس اور امریکا دونوں برابر کے شریک ہیں۔ لیکن افسوس تو ان مسلم ممالک پر ہے جو امریکی حملے کی تائید کررہے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ کل ان کی باری بھی آسکتی ہے۔ عرب ممالک میں عراق کے بعد شام مضبوط سمجھا جاتا تھا۔شام کی تباہی اسرائیل کو خوشنودی کا باعث ہوگی جس نے شامی علاقے گولان پر کئی عشروں سے قبضہ کررکھا ہے۔ امریکی حملے پر اسرائیل کا خوش ہونا اور حمایت کرنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن حامیوں کی صف میں ترکی اور سعودی عرب کی شمولیت مسلم دنیا کی مزید تقسیم کا باعث بنے گی جس کا فائدہ امریکا ہی اٹھائے گا۔ حکومت پاکستان نے شامی عوام پر کیمیائی حملے کی مذمت تو کی ہے لیکن امریکی حملے کے بارے میں ابھی کوئی واضح بات نہیں کی۔ اور ہوگی بھی تو کھل کر امریکی حملے کی مخالفت نہیں کی جائے گی۔ بس یہی کہا جائے گا کہ شام کے مسئلے کا حل مذاکرات سے نکالا جائے۔ لیکن یہ کام کون کرے گا۔ عالم اسلام تو بری طرح تقسیم ہے چنانچہ حل امریکا اور روس ہی نکالیں گے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بشارالاسد کے مظالم کا شکار شامی عوام نے امریکی حملے پر جشن منایا ہے۔ بشار کے مظالم اپنی جگہ لیکن شام کے عوام عراق اور لیبیا کا حشر ضرور نظر میں رکھیں۔