November 19th, 2019 (1441ربيع الأول22)

دوستی کا امتحان

 

انسپکٹر احمد عدنان طارق

ایک تھا گیدڑ جس کا بہترین دوست ایک تیتر تھا۔ وہ نہ صرف بہت ہی پکے دوست تھے بلکہ انہوں نے وعدہ کر رکھا تھا کہ وہ اپنی دوستی ساری عمر نبھائیں گے۔ لیکن گیدڑ کی فطرت میں حسد کوٹ کوٹ کر بھرا ہواتھا۔ ایک دن اس نے اپنے دوست تیتر کو کہا:
،،میں تم سے جتنی دوستی نبھاتا ہوں تم اس سے آدھی دوستی بھی نہیں نبھاتے حالانکہ تم ہر وقت گفتگو کرتے ہوئے میری دوستی کا دم بھرتے ہو۔ ایک اچھے دوست میں یہ خوبی ہونی چاہیے کہ وہ دوست کو ہنسا سکے، رلا سکے۔ اسے کبھی کبھی اچھا کھلا دے یا کبھی کسی خطرے میں دوست کی جان بچائے۔ لیکن تم نے کبھی ان خصوصیات میں سے کسی ایک کا بھی استعمال نہیں کیا۔
تیتر نے حیرانی سے دوست کا طعنہ سنا اور کہنے لگا۔،، واقعی اب تک میں نے ایسا نہیں کیا؟ اب تم نے طعنہ دیا ہے تو میرے پیچھے آؤ اور میں آزما کر دیکھتا ہوں کہ تمہیں ہنسا سکتا ہوں یا نہیں۔ اگر میں تمہیں ہنسا نہ سکا تو بے شک تم مجھے کھا لینا،، یہ کہہ کر تیتر آگے آگے اڑنے لگا تبھی راستے پر اس نے دو مسافروں کو چلتے دیکھا ایک آگے تھا اور دوسرا اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔
وہ دونوں بری طرح تھکے لگ رہے تھے اور چال سے ہی لگتا تھا کہ ان کے پاؤں دکھ رہے تھے۔ ایک نے اپنے کندھے پر ایک ڈنڈا سا اٹھا رکھا تھا جس کی اوپری سمت میں ڈنڈے کے ساتھ ایک گٹھڑی بندھی ہوئی تھی اور دوسرا جوتے اپنے ہاتھوں میں پکڑ ے چل رہا تھا۔ تب تیتر اڑتے اڑتے مسافر کے ڈنڈے پر بیٹھ گیا۔ تیتر کا وزن ہی کتنا ہوتا ہے۔ ڈنڈے والے مسافر کو اس کے بیٹھنے کا بالکل ہی پتہ نہیں چلا ۔ دوسرے شخص نے دیکھا کہ ایک تیتر اس کے اتنے قریب بیٹھا ہوا ہے تو اس نے سوچا میں اسے آسانی سے شکار کرسکتا ہوں اور رات کے کھانے میں اسے کھائیں گے۔
اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا جوتا تیتر کے دے مارا لیکن تیتر فوراً اڑ گیا اور جوتا ڈنڈے والے مسافر کے سر پر لگا۔ جس سے اس کی پگڑی زمین پر گر گئی۔ جوتا لگنے سے وہ غصے سے پیچھے مڑا اور کہنے لگا۔ تم کیا کررہے ہو تم نے مجھے جوتا کیوں مارا ہے؟ تو پچھلے نے جواب دیا ناراض مت ہو میں نے جوتا تمھیں نہیں مارا بلکہ اس تیتر کو مارا تھا جو تمہارے ڈنڈے پر بیٹھا ہوا تھا۔ یہ سن کر پہلا شخص غصے سے پاگل ہو کر بولا میرے ڈنڈے پر تیتر بیٹھا ہوا تھا، تم کیا سمجھتے ہو کیا میں پاگل ہوں؟
جھوٹی کہانی مت بناؤ پہلے جوتا مار کر تم نے میری پگڑی زمین پر گرائی اور اب بزدلوں کی طرح جھوٹ بول رہے ہو۔ ٹھہرو میں تمہیں اس حرکت کا مزہ چکھاتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ پچھلے پر ٹوٹ پڑا اور اس کی اچھی خاصی پٹائی کردی۔ وہ دونوں اتنی شدت سے لڑے کہ لڑائی کے بعد انہیں کم ہی نظر آ رہا تھا۔ ان کی ناک سے خون بہہ رہا تھا اور انہوں نے ایک دوسرے کے کپڑے بھی تار تار کردیے تھے۔ گیدڑ یہ تماشا دیکھ کر ہنس ہنس کر دہرا ہو رہا تھا۔ تو تیتر نے اسے قہقہے لگاتے دیکھا اور پوچھا اب بتاؤ کیا تم مطمئن ہو تو گیدڑ نے جواب دیا واقعی تم نے مجھے بے اختیار ہنسنے پر مجبور کردیا ہے۔ لیکن مجھے امید نہیں کہ تم مجھے اسی طرح رلا بھی سکوگے۔ لوگوں کو ہنسانا بہت آسان ہے لیکن انہیں رلانا بہت مشکل۔ تیتر نے کہا۔ چلیں یہ بھی دیکھتے ہیں۔ یہ دیکھو ایک شکاری اپنے کتوں کے ہمراہ سڑک پر چلا آرہا ہے۔ تم اس برگد کے خالی تنے میں چھپ جاؤ اور مجھے دیکھو۔ اگرمیں تمہیں آنسوؤں سے نہ رلاسکا تو سمجھنا کہ میں تمہارا دوست نہیں ہوں۔ گیدڑ نے وہی کیا جو اسے تیتر نے کہا تھا وہ برگد کے خالی تنے میں چھپ گیا اور تیتر کو دیکھنے لگا۔ جو جھاڑیوں کے اوپر آڑنے لگا۔ اسے شکاری کے کتوں نے اڑتا دیکھ لیا تھا۔ پھراُڑتا اُڑتا وہ شکاری کے کتوں کے پیچھے لگائے ہوئے اس برگد کے نزدیک آگیا جہاں اس کا دوست چھپا ہوا تھا۔ ظاہر ہے قریب آنے پرکتوں کو گیدڑ کی فوراً خوشبو آگئی۔ انہوں نے بھونک بھونک کراتنا شور مچایا کہ شکاری ان کواتنا بھونکتے دیکھ کر ادھر ہی آگیا۔
اس نے گیدڑ کو دُم سے کھینچ کر باہر نکال لیا۔ پھر کتے اس پر پل پڑے اور اسے بھنبھوڑنا شروع کردیا۔ انہوں نے گیدڑ کو تب چھوڑا جب وہ سمجھے کہ وہ مرچکا ہے۔ لیکن گیدڑ زخمی تھا مگر زندہ تھا وہ صرف کتوں پر ظاہر کررہا تھا کہ وہ مرچک اہے۔ اس نے کتوں کے جانے کے بعد آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ تیتر اس کے پاس بیٹھا ہوا ہے تیتر نے پوچھا کی اتم روئے تھے۔ اوہ ایسے نہیں پوچھنا چاہیے چلو یہ بتاؤ کہ کیا میں نے تمہیں آنسوؤں سے رلایا ہے؟ تو بے چارے گیدڑ نے کراہتے ہوئے کہا خاموش رہو۔ میں آدھا تو خوف سے ہی مرگیا تھا۔ یہ کہہ کروہ لیٹ گیا اور اپنے زخم چاٹنے لگا۔ کچھ ہی دیر بعد اسے بھوک لگی۔ اس نے تیتر سے کہا۔ اب تمہیں تمہاری دوستی ثابت کرنی ہوگی۔ اگر تم اس وقت اچھا سا کھانا کھلاؤ تو میں مان لوں گا کہ تم واقعی میرے دوست ہو۔ تیتر نے کہا بالکل ٹھیک ہے مجھے منظور ہے۔ اب میری طرف دھیان رکھنا اور جب کھانے کا بندوبست ہوجائے تو اپنی مدد آپ کرنا۔ اسی لمحے انہوں نے چند عورتوں کو آتے دیکھا۔ جو کھیتوں میں کام کرتے اپنے بھائیوں یا شوہروں کو کھانا کھلانے آرہی تھیں۔ تیتر نے انہیں دیکھ کر پھر اڑنا شروع کردیا کبھی ایک شاخ پراور کبھی دوسری شاخ پر۔ اس کے منہ سے کراہنے کی ایسی آوازیں نکل رہی تھیں جیسے وہ زخمی ہو۔ ایک عورت اس کو دیکھ کر چلائی کیا شاندار تیتر ہے ہم اسے آسانی سے پکڑ سکتی ہیں۔ اسی وقت گیدڑ کا داؤ لگ گیا اوراس نے عورتوں کے کھانوں میں سے سب سے بہترین کھانا اٹھایا اور بھاگ گیا۔ تیتر نے اسے پوچھا کیا اب تم میری دوستی سے مطمئن ہو۔ تو گیدڑ بولا میں اس بات کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ تم نے مجھے خوب ہنسایا۔ اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ پھر تم نے مجھے خوب رلایا۔ لیکن ابھی سب سے بڑا دوستی کا امتحان بقایا ہے۔ ابھی تم نے کسی موقع پر میری جان نہیں بچائی تو تیتر نے افسردہ لہجے میں اسے کہا۔ شاید تم صحیح کہتے ہو۔ میں بہت چھوٹا اورکمزور ہوں۔ لیکن اب دیر ہورہی ہے اب ہمیں گھر چلنا چاہیے اگر دریا کے اوپر سے چل کر گئے تو راستہ بہت لمبا ہے آؤ دریا یہیں سے عبور کرتے ہیں۔ ایک مگرمچھ میرا دوست ہے وہ ہمیں دریا عبور کروا دے گا۔ لہٰذا وہ دریا کنارے گئے اور مگرمچھ نے مہربانی کرتے ہوئے انہیں دریا پار کروانے کی ہامی بھرلی۔ وہ اس کی چوڑی کمر پر بیٹھ گئے اور وہ دریا میں تیرنے لگا۔ جب وہ دریا کے درمیان میں پہنچا تو تیتر نے سرگوشی کی مجھے لگتا ہے مگرمچھ ہمیں دھوکہ دینے والا ہے تمہارے لیے کتنی بڑی مشکل ہوگی اگر وہ تمہیں دریا میں گرا دے۔ گیدڑ کا رنگ پیلا پڑ گیا لیکن پھر بھی وہ ہمت کرتے ہوئے بولا یہ تمہارے لیے بڑی مشکل ہوگی۔ تیتر نے اسے کہا ہرگز نہیں میں اڑسکتا ہوں۔ لیکن تم اڑ نہیں سکتے۔ گیدڑ خوف سے کانپنے لگا اور پھرمگرمچھ نے اچانک کہا مجھے بھوک لگ رہی ہے میں تو اچھا سا کھانا کھاؤں گا تو گیدڑ کے ہاتھ مگرمچھ کی کمر پر مظبوطی سے جمے نہ رہ سکے۔ وہ ڈر کر تھر تھر کانپ رہا تھا تو تیتر نے کہا مگرمچھ صاحب ہمیں دھوکہ دینے کی کوشش نہ کرو میں تو اڑ جاؤں گا۔ لیکن میرا دوست گیدڑ ایسے معاملوں میں ہمیشہ احتیاط برتتا ہے۔ وہ آج بھی اپنی زندگی اپنے گھر میں ایک الماری میں احتیاط سے بند کر کے رکھ آیا ہے۔ جب اس نے کسی خطرناک سفر پر جانا ہوتا ہے وہ ایسا ہی کرتا ہے. تو مگرمچھ نے حیران ہوکر پوچھا کیا واقعی ایسا ہے۔ تیتر نے جواب دیا کیوں نہیں! تم اسے کھانے یا چیرنے پھاڑنے کی کوشش کرکے دیکھ لو۔ لیکن اسے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ صرف تم ہی تھک جاؤگے۔ حیران پریشان مگرمچھ بولا۔حد ہوگئی ہے کتنی عجیب بات ہے! وہ یہ ساری بات سن کر اتنا حیران تھا کہ اس نے گیدڑ کو مارنے کی کوشش نہیں کی اور اسے بحفاظت خشکی پر چھوڑ دیا تو تیتر نے اسے پوچھا۔ میرا خیال ہے کہ اب تمہیں مطمئن ہو جانا چاہیے۔ جواب میں گیدڑ نے کہا نہ صرف تم نے مجھے ہنسنے پر مجبور کیا بلکہ رونے پر بھی مجبور کیا تم نے مجھے بہترین کھانا کھلایا اور تم نے میری جان بچائی۔ تم دراصل میری سوچ سے بھی زیادہ چالاک ہو۔ تم اتنے چالاک ہو کہ تم سے دوستی رکھنا خطرے سے خالی نہیں ۔ لہٰذا مجھے تم سے دوستی نہیں رکھنی۔ یہ کہہ کر گیدڑ مڑا اور تیتر کی طرف پیٹھ کرکے نامعلوم منزل کی طرف چل دیا اور پھر کبھی تیتر کو نہیں ملا.