August 9th, 2020 (1441ذو الحجة19)

رمضان، رحمتوں کا سرچشمہ

 

مولانا محمد فاروق خاں

  انسان کی فطری صلاحیتوں کے اُبھرنے اور نشوونما پانے کے لیے تعلیم و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر عام طور پر ذہنوں پر مادی اور افادی پہلو کا اس قدر غلبہ ہوتا ہے کہ انسان کے لیے  یہ حددرجہ مشکل ہوتا ہے کہ وہ چیزوں کو ان کی فطری پاکیزگی میں دیکھ سکے اور زندگی کی اہم قدروں اور بیش قیمت حقیقتوں کو سمجھ سکے۔ اس کش مکشِ زندگی میں روزہ ایک مقدس عبادت اور ہماری روحانی اور اخلاقی تربیت کے ایک بہترین ذریعے کے طور پر ہمارے سامنے آتا ہے۔روزے کا اصل مقصد طہارتِ روح اور تقویٰ ہے۔ چنانچہ قرآنِ مجید میں ارشاد ہوا ہے: يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَـمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۝۱۸۳ (البقرہ۲:۱۸۳) اے ایمان لانے والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ حاصل کرو۔   ٭روزہ اور ضبطِ نفس جب تک انسان میں ضبط ِ نفس نہ ہو، اس کے اندر تقویٰ کی کیفیت پیدا نہیں ہوسکتی۔ خواہشات سے مغلوب انسان کو نہ خدا کی عظمت کا احساس ہوتا ہے اور نہ وہ زندگی کی اعلیٰ حقیقتوں اور ضرورتوں کو محسوس کرپاتا ہے۔ غالب حیوانگی اور نفسانی خواہشات اسے یہ موقع ہی نہیں دیتیں کہ وہ اپنی فطرت کے حقیقی تقاضوں کی طرف توجہ دے سکے؟روزہ اس بات کا عملی مظاہرہ پیش کرتا ہے کہ اکل و شرب اور نفسانی خواہشات کی تکمیل کے علاوہ بھی کوئی چیز ہے، جو ہماری توجہ کی طالب ہے۔ روزہ بندے کو اللہ کی طرف اور زندگی کی ان اعلیٰ حقیقتوں کی طرف متوجہ کرتا ہے، جو انسانی زندگی کا اصل سرمایہ ہیں۔ وہ بندے کو اس اعلیٰ مقام پرپہنچاتا ہے، جہاں بندہ اپنے ربّ سے بے حد قریب ہوجاتا ہے، جہاں تاریکیاں چھٹ جاتی ہیں اور نفسانی حجابات اُٹھ جاتے ہیں۔ اس حقیقت کے پیش نظر اس قول میں بھی ایک سبق ہے کہ: کَمْ مِنْ مُّفْطِرٍ صَائِمٌ وَکَمْ مِّنْ صَائِمٍ مُّفْطِرٌ، ’’کتنے ہی لوگ روزے سے نہیں ہوتے اس کے باوجود کہ حقیقت کے اعتبار سے وہ صائم ہوتے ہیں، اور کتنے ہی لوگ روزہ رکھتے ہوئے بھی درحقیقت روزہ دار نہیں ہوتے‘‘۔ روزہ بظاہر اس چیز کا نام ہے کہ انسان سحر کے وقت سے لے کر سورج غروب ہونے تک کھانے پینے اورجنسی خواہش کی تکمیل سے رُکا رہے۔ لیکن اپنی روح کے لحاظ سے روزہ جس چیز کا نام ہے، وہ یہ ہے کہ انسان کو اپنی خواہشات پر قابو ہو، اور اسے تقویٰ کی زندگی حاصل ہو۔ بسااوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان بظاہر تو روزے سے ہوتا ہے، لیکن حقیقت میںاس کا روزہ نہیں ہوتا، نہ اس کی نگاہیں عفیف ہوتی ہیں اور نہ اس کی زندگی پاکیزگی اور خداترسی کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ روزے کے لیے قرآن کریم نے جو لفظ استعمال کیا ہے وہ ’صوم‘ ہے۔ صوم کے لغوی معنی  احتراز و اجتناب، اور خاموشی کے ہیں۔ امام راغب اصفہانی فرماتے ہیں:  ’صوم‘ کے اصل معنی کسی کام سے رُک جانے کے ہیں، خواہ اس کا تعلق کھانے پینے سے ہو یا بات چیت کرنے اور چلنے پھرنے سے ہو۔ اسی وجہ سے گھوڑا چلنے پھرنے یا چارہ کھانے سے رُک جائے تو اسے صائم کہتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے: خیل صام، اخری غیر صائمۃ (بعض گھوڑے نہیں کھا رہے تھے اور بعض چارہ کھا رہے تھے)۔    تھمی ہوئی ہوا اور دوپہر کے وقت کو بھی صوم کہتے ہیں، اس تصور کے ساتھ کہ اس وقت سورج وسط ِ آسمان میں رُک جاتا ہے۔ معلوم ہوا کہ درحقیقت کسی چیز سے رُک جانے کی کیفیت کا نام ’صوم‘ ہے۔ روزہ حقیقت میں اسی شخص کا ہے جو روزے کی حالت میں تو کھانے پینے سے باز رہے، لیکن پھر گناہوں کے ارتکاب اور ناپسندیدہ طرزِعمل کو ہمیشہ کے لیے ترک کردے۔ روزہ اپنے آپ کواللہ کے لیے ہرچیز سے فارغ کرلینے اور کامل طور پر اللہ ہی کی طرف متوجہ ہونے کا نام ہے۔ اس پہلو سے روزے کو اعتکاف سے بڑی مناسبت ہے۔ اسی لیے اعتکاف کے ساتھ روزہ رکھنا ضروری ہے، بلکہ قدیم شریعت میں تو روزے کی حالت میں بات چیت سے بھی احتراز کیا جاتا تھا۔ چنانچہ قرآن میں آتا ہے کہ: حضرت مسیح ؑ کی پیدایش کے موقعے پر حضرت مریم ؑ بے حد پریشان ہوئیں اور انھوں نے یہاں تک کہا کہ کاش! میں اس سے پہلے مرجاتی اور لوگ مجھے بالکل بھول جاتے۔ اس وقت انھیں تسلی دیتے ہوئے کہا گیا تھا: فَاِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا۝۰ۙ فَقُوْلِيْٓ اِنِّىْ نَذَرْتُ لِلرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُكَلِّمَ الْيَوْمَ اِنْسِـيًّا۝۲۶ۚ  (مریم ۱۹:۲۶)پھر اگر تو کسی آدمی کو دیکھے تو (اشارے سے) کہہ دینا: میں نے رحمٰن کے لیے روزے کی نذر مانی ہے ، میں آج کسی آدمی سے نہ بولوں گی۔ روزے میں انسان کو فرشتوں سے بڑی حد تک مشابہت حاصل ہوتی ہے۔ فرشتے کھانے پینے کی ساری ضرورتوں سے مستغنی ہیں۔ ان کی غذا اللہ کی حمدوتسبیح ہے۔ روزے کی حالت میں مومن بندہ بھی خواہشاتِ نفس اور کھانے پینے سے کنارہ کش ہوکر اللہ کی بندگی اور عبادت میں مصروف نظر آتا ہے۔ روزہ رکھ کر بندہ اپنے نفس کی خواہشات پر قابو پاتا ہے۔ اس شخص سے جو اپنے نفس کو زیر نہ کرسکے آپ اس بات کی توقع نہیں کرسکتے کہ وہ حق کی حمایت اور باطل کے استیصال کے لیے جان توڑ کوشش کرسکتا ہے۔ جہاد کے لیے صبر اور عزیمت دونوں درکار ہیں۔ صبر اور عزیمت روزے کی خصوصیات میں سے ہیں ۔ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کے مہینے کو ’صبر کا مہینہ‘ کہا ہے۔رمضان کے مہینے میں مسلسل صبر، ضبط اور اللہ کی اطاعت کی مشق کرائی جاتی ہے۔ عام حالات میں آدمی کو دوسروں کی تکلیف اور بھوک پیاس کا احساس نہیں ہوپاتا۔ روزے میں بھوک پیاس کا عملی تجربہ آدمی کے اندر فطری طور پر یہ احساس اُبھارتا ہے کہ وہ ناداروں اور ضرورت مندوں کے ساتھ ہمدردی سے پیش آئے اور انھیں ان کی پریشان حالی میں نہ چھوڑے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینے کو ’مواسات کا مہینہ‘ یعنی ہمدردی و غم خواری کا مہینہ کہتے تھے اور اس مہینے میں آپؐ انتہا درجہ فیاض ہوتے تھے۔ روزہ سراپا عاجز ی و خاکساری کا اظہار بھی ہے۔ اسی لیے گناہوں اور غلطیوں کے کفّارے میں روزے کو بڑادخل ہے۔ چنانچہ شریعت میں کفّارے کے طور پر روزہ رکھنے کا حکم آتا ہے۔ روزہ نہ صرف یہ کہ گناہ کے اثرات کو دل سے مٹاتا ہے بلکہ دُعا کی قبولیت اور اللہ کی رحمت کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ قدیم صحیفوں میں بھی روزے کی اس خصوصیت کا ذکر ملتا ہے: خداوند کا روز (ایام اللہ) عظیم اور خوف ناک ہے۔ کون اس کو برداشت کرسکتا ہے؟ لیکن خداوند فرماتا ہے: اب بھی پورے دل سے روزہ رکھ کر اور گریہ و زاری اور ماتم کرتے ہوئے میری طرف رجوع لائو اورکپڑوں کو نہیں بلکہ دلوں کو چاک کر کے اپنے خداوند کی طرف متوجہ ہو، کیوں کہ وہ رحیم اور مہربان، قہر میں دھیما اور شفقت میں غنی ہے اور عذاب نازل کرنے سے باز رہتا ہے۔(یوایل ۲:۱۱-۱۳) روزہ مقدس ترین عبادت ہے۔ روزہ اللہ پاک کی بڑائی اور عظمت کا مظہر اور اظہارِ تشکر کا ذریعہ ہے۔ روزے کے ذیل میں قرآنِ مجید میں جہاں لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (تاکہ تقویٰ حاصل کرو) فرمایا گیا ہے، وہیں یہ بھی ارشاد ہوا: وَلِتُكَبِّرُوا اللہَ عَلٰي مَا ھَدٰىكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ۝۱۸۵ (البقرہ ۲:۱۸۵) اور تاکہ اس ہدایت پر جو تمھیں بخشی گئی ہے اللہ کی بڑائی کرو اور تاکہ تم (اس کا) شکر کرو۔ بنی نوع انسان پر یوں تو اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات ہیں، لیکن اس کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے ہمیں قرآن جیسی نعمت سے نوازا۔قرآن نے انسان کو ابدی زندگی کا راستہ دکھایا۔ انسان کو اخلاق کے اس بلند مرتبے سے آشنا کیا، جس کا عام حالات میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ روزہ رکھ کر بندہ اللہ کی اس عظیم عطا اور بخشش پر خوشی اور شکرگزاری کا اظہار کرتا ہے کہ انسان اللہ کا بندہ اور اس کا پروردہ ہے۔ وہی اس کا آقا و معبود ہے۔ انسان کے لیے خوشی اور مسرت کا بہترین ذریعہ وہی ہے، جس سے اس تعلق اور رشتے کا اظہار ہوتا ہے جو رشتہ اور تعلق اس کا اپنے خدا سے ہے  ع     ہم اس کے ہیں ہمارا پوچھنا کیا؟ یہ اظہارِ تعلق فطری طور پر خدا کے احسانات کا اعتراف بھی ہوگا، جو شکر کی اصل بنیاد ہے۔ رمضان کا مہینہ خاص طور پر روزے کے لیے اس لیے منتخب فرمایا گیا کہ یہی وہ مبارک مہینہ ہے، جس میں قرآن نازل ہونا شروع ہوا۔ نزولِ قرآن کے مقاصد اور روزے میں بڑی مناسبت پائی جاتی ہے۔ قرآن جن مقاصد کے تحت نازل ہوا ہے، ان کے حصول میں روزہ معاون ثابت ہوتا ہے۔ رمضان میں ایک ساتھ مل کر روزہ رکھنے سے نیکی اور روحانیت کی فضا پیدا ہوتی ہے، جس کا دلوں پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ کم ہمت اور کمزور ارادے کے انسان کے لیے بھی نیکی اور تقویٰ کی راہ پر چلنا آسان ہوجاتا ہے۔ کامیاب وہی ہے، جس پر یہ حقیقت آشکار ہوگئی کہ اس کی ذمہ داری صرف روزے کے ظاہری آداب و شرائط کی نگہداشت تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا یہ فرض بھی ہے کہ وہ روزے کے اصل مقصد سے غافل نہ ہو۔ روزے کا اصل مقصد اور اس کی غرض و غایت صرف روزے کے زمانے تک مطلوب نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق انسان کے پورے عرصۂ حیات سے ہے۔ قدیم صحیفوں میں بھی ایسے روزوں کو بے وقعت قرار دیا گیا ہے، جس کا تقویٰ، اخلاص اور اعلیٰ اخلاق سے کوئی تعلق نہ ہو۔ ذیل کے فقرے کس قدر مؤثر ہیں: تم اس طرح کا روزہ نہیں رکھتے ہو کہ تمھاری آواز عالمِ بالا پر سنی جائے۔ کیا یہ وہ روزہ ہے جو مجھ کو پسند ہے؟ کیا وہ روزہ جو مَیں چاہتا ہوں یہ نہیں کہ ظلم کی زنجیریں توڑیں اور جوئے کے بندھن کھولیں اور مظلوموں کو آزاد کریں، بلکہ ہر ایک جوئے کو توڑ ڈالیں۔ کیا یہ نہیں کہ تو اپنی روٹی بھوکوں کو کھلائے اور مسکینوں کو جو آوارہ ہیں اپنے گھر میں لائے، اور جب کسی کو ننگا دیکھے تو اسے پہنائے اور تو اپنے ہم جلیس سے روپوشی نہ کرے؟… اور اگر تو اپنے دل کو بھوکے کی طرف مائل کرے اور آزردہ دل کو آسودہ کرے، تو تیرا نُور تاریکی میں چمکے گا اور تیری تیرگی دوپہر کی مانند روشن ہوجائے گی۔ (یسعیاہ:۵۸) اگر روزے سے واقعتاً فائدہ اُٹھایا جائے تو وہ فرد کو اس مقام پر کھڑا کردیتا ہے کہ اسے ہمہ وقت اپنی ذمہ داری کا احساس رہتا ہے۔ اس کے شب و روز کبھی بے خوف اور بے پروائی کے ساتھ بسر نہیں ہوتے۔ وہ ہمیشہ گناہوں سے اجتناب کرے گا، اور اپنے مقصد ِ زندگی کو پیش نظر رکھے گا۔   ٭روزے کی حقیقت حضرت سلمان فارسیؓ کہتے ہیں کہ شعبان کی آخری تاریخ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطاب فرمایا: اے لوگو! تم پر ایک بڑی عظمت والا بابرکت مہینہ سایہ فگن ہورہا ہے ۔ اس میں ایک رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس مہینے کے روزے کو اللہ نے فرض قرار دیا ہے اور اس کی راتوں میں (اللہ کی بارگاہ میں) کھڑا ہونے کو نفل مقرر کیا ہے۔ جو شخص اس مہینے میں کوئی نیک نفل کام اللہ کی رضا اور قرب حاصل کرنے کے لیے کرے گا، تو وہ ایسا ہوگا جیسے اس مہینے کے سوا دوسرے مہینے میں کسی نے فرض ادا کیا ہو۔ اور جواس مہینے میں فرض ادا کرے گا، وہ ایسا ہوگا جیسے اس مہینے میں کسی نے ۷۰ فرض ادا کیے۔ اور یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنّت ہے اور یہ ہمدردی و غم خواری کا مہینہ ہے۔ اور وہ مہینہ ہے جس میں ایمان والوں کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ جس کسی نے اس میں کسی روزہ دار کو افطار کرایا، تو اس کے لیے گناہوں کی مغفرت اور (جہنم کی) آگ سے آزادی کا سبب ہوگا، اور اسے اس روزہ دار کے برابر ثواب دیا جائے گا، بغیر اس کے کہ اس روزہ دار کے ثواب میں کوئی کمی کی جائے۔ آپؐ سے عرض کیا گیا: یارسولؐ اللہ! ہم میں ہر ایک کو سامان میسر نہیں ہوتا کہ جس سے وہ روزہ دار کو افطار کراسکے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ یہ ثواب اس شخص کو بھی عطا فرمائے گا جو دودھ کی تھوڑی سی لسّی یا کھجور پر یا پانی ہی کے ایک گھونٹ پر کسی روزہ دار کو افطار کرا دے اور کوئی کسی روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھانا کھلا دے۔ اللہ اسے میرے حوض سے ایسا سیراب کرے گا کہ اس کو پیاس ہی نہیں لگے گی، یہاں تک کہ وہ جنّت میں داخل ہوجائے گا۔ یہ (رمضان) وہ مہینہ ہے جس کا ابتدائی حصہ رحمت، درمیانی حصہ مغفرت اور آخری حصہ (دوزخ کی) آگ سے آزادی ہے۔ اور جو شخص اس مہینے میں اپنے مملوک (غلام یا خادم) کے کام میں تخفیف کردے گا، اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا، اور اسے (دوزخ کی) آگ سے آزادی دے دے گا۔(بیہقی) عظمت اور برکت والے مہینے سے مراد رمضان کا مبارک مہینہ ہے۔ رمضان کی فضیلت اور خصوصیت کے سلسلے میں کئی باتیں آپؐ نے ارشادفرمائیں۔ آپؐ نے شب قدر کے بارے میں فرمایا کہ ’’وہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے‘‘۔ قرآن اسی مبارک رات سے اُترنا شروع ہوا ہے۔ اس رات کی بڑی اہمیت ہے۔ یہ وہ رات ہے جس میں ان باتوں کا فیصلہ ہوتا ہے، جو علم و حکمت پر مبنی ہوتی ہیں اور جن میں دنیا کی فلاح اور بھلائی ہوتی ہے۔ دنیا کے معاملات کا فیصلہ اسی رات میں ہوتا ہے۔ وہ رات جس میں قرآن اترنا شروع ہوا ہے، وہ کوئی معمولی رات نہیں ہوسکتی۔ یہ رات تو ہزاروں مہینوں سے بہتر ہے۔ کبھی ہزار مہینوں میں بھی انسانوں کی فلاح کے لیے وہ کام نہیں ہوا جو اس ایک رات میں ہوا۔ اس رات کو فرشتے اور روح الامین اپنے رب کے حکم سے اُترتے ہیں۔(دیکھیے: سورۃ القدر، سورۃ الدخان، ۳-۵) رمضان میں دن کو روزہ رکھنا فرض ہے اور رات کو تراویح پڑھنا اور زیادہ سے زیادہ نماز میں خدا کے حضور کھڑا ہونا فرض تو نہیں ہے بلکہ یہ عمل اللہ کو بے حد پسند ہے۔رمضان کا مہینہ روزے کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ اس مہینے میں تمام مسلمان مل کر روزہ رکھتے ہیں۔ اس طرح انفرادی عبادت ایک اجتماعی عبادت بن جاتی ہے۔ لوگوں کے الگ الگ روزہ رکھنے سے جو روحانی و اخلاقی فائدے ہوسکتے تھے، سب کے مل کر روزہ رکھنے سے وہ فائدے بے حد و حساب بڑھ جاتے ہیں۔ رمضان کا یہ مہینہ پوری فضا کو نیکی اور پرہیزگاری کی روح سے بھردیتا ہے۔ فرد کو روزہ رکھ کر گناہ کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ لوگوں میں نیکی کی رغبت بڑھ جاتی ہے اور ان کے دلوں میں یہ خواہش اُبھرتی ہے کہ وہ غریبوں اور محتاجوں کے کام آئیں اور نیک کاموں میں حصہ لیں۔ نیکیوں کی تاثیر اور برکت بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے اللہ کے یہاں ان کے اجر میں بھی بے انتہا اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس مہینے میں انسان بھوک پیاس کی تکلیف اُٹھا کر اپنی خواہشات پر قابو پانے اور اپنے کو خدائی احکام کا پابند بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنے اندر ایسی صلاحیت اور قوت پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، جس سے وہ اللہ کے راستے میں صبرواستقامت کے ساتھ آگے بڑھ سکے اور ان تکالیف و مصائب کا جو اسے راہِ حق میں پیش آئیں، پامردی کے ساتھ مقابلہ کرسکے۔ روزے میں اپنے دوسرے بھائیوں کے لیے ہمدردی کا جذبہ شدت کے ساتھ پیدا ہونا چاہیے۔ بھوک پیاس میں مبتلا ہوکر آدمی اس بات کو اچھی طرح محسوس کرسکتا ہے کہ مفلسی اور تنگ دستی میں آدمی پر کیا کچھ گزرتی ہے۔ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے میں بے انتہا رحیم و شفیق ہوجاتے تھے۔ پھر کوئی سائل دروازے سے خالی نہیں جاتا تھا۔ ظاہری اور روحانی ہرطرح کی برکات اس مہینے میں حاصل ہوتی ہیں۔ یہ مہینہ نیکیوں کی بہار لے کر آتا ہے۔ اہلِ ایمان اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ اللہ کی اطاعت اور بندگی میں لگ جاتے ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں پر اللہ کی خاص رحمت اور عنایت ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ رمضان کا ابتدائی حصہ گزرنے کے بعد اہلِ ایمان اور اللہ کے اطاعت گزار بندوں کی حالت ایسی ہوجاتی ہے کہ اللہ ان کی پچھلی غلطیوں اور گناہوں سے درگزر فرمائے اور ان کی خطائوں کو معاف کردے۔ اس مہینے کے آخری حصے تک پہنچتے پہنچتے اس مبارک مہینے سے فائدہ اُٹھانے والوں کی زندگیوں میں اتنی پاکیزگی آجاتی ہے اور اس درجے کا تقویٰ ان کے اندر پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے نجات یافتہ قرار دیے جانے کے مستحق ہوجاتے ہیں۔   حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  ابنِ آدم کے ہرعمل کا ثواب ۱۰ گنا سے ۷۰۰سو گنا تک بڑھایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: روزہ اس سے مستثنا ہے کیوں کہ وہ میرے لیے ہے اور مَیں ہی اس کا (جتنا چاہوں گا) بدلہ دوں گا۔ انسان اپنی شہوتِ نفس اور اپنا کھانا میری ہی خاطرچھوڑ دیتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو مسرتیں ہیں:  ایک مسرت افطار کے وقت اور دوسری اپنے ربّ کی ملاقات کے وقت۔ اور روزہ دار کے منہ کی بُو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے۔ اور روزہ ڈھال ہے۔جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ نہ فحش باتیں کرے اور نہ شوروشغب اور دنگا فساد کرے اور اگر اسے کوئی گالی دے یا اس سے لڑے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں۔(بخاری، مسلم) اس حدیث میں کئی اہم اور بنیادی باتیں بیان فرمائی گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے نیک اعمال کا اجر ان کی نیتوں اور خلوص کے اعتبار سے ۱۰گنا سے ۷۰۰ گنا تک دیتا ہے، لیکن روزے کا معاملہ اس عام قانون سے مختلف ہے۔ روزہ خاص اللہ کے لیے ہوتا ہے۔ دوسری عبادتیں اور نیکیاں کسی نہ کسی ظاہری صورت میں کی جاتی ہیں۔ اس لیے دوسرے لوگوں سے چھپانا بے حد مشکل ہوتا ہے۔ لیکن روزہ ایسا خاموش اور غیرمرئی عمل ہے، جس کو روزہ دار اور اللہ کے سوا دوسرا کوئی نہیں جان سکتا۔ اس لیے اللہ اس کا اجر بھی بے حدوحساب عطا فرمائے گا۔ اس کے علاوہ رمضان میں نیکی اور تقویٰ کا عام ماحول میسر آجاتا ہے، جس میں خیر اور عمل صالح کے پھلنے پھولنے کا خوب موقع ملتا ہے۔ انسان جتنی زیادہ نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ اس مہینے میں عمل کرے گا اور جتنا زیادہ رمضان کی برکتوں سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرے گا، اور سال کے باقی گیارہ مہینوں میں رمضان کے اثرات کو باقی رکھے گا، اتنا ہی زیادہ اس کے نیک اعمال پھلتے پھولتے رہیں گے، جس کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ یہ خصوصیت عام حالات میں دیگر اعمال کو حاصل نہیں ہے۔ روزے دار کے لیے دو مسرتیں ہیں۔ ایک مسرت اور خوشی اسے دنیا ہی میں افطار کے وقت حاصل ہوتی ہے۔ دن بھر بھوکا پیاس رہنے کے بعد جب وہ شام کو افطار کرتا ہے تو اسے جو لذت اور راحت حاصل ہوتی ہے، وہ عام حالات میں کبھی حاصل نہیں ہوسکتی۔اس کی بھوک پیاس بھی دُور ہوجاتی ہے اور اسے یہ روحانی خوشی بھی حاصل ہوتی ہے کہ اس کو اللہ کے حکم کی تعمیل کی توفیق ملی۔ روزِ محشر میں خدا سے ملاقات کی جو خوشی حاصل ہوگی اس کا تو کہنا ہی کیا۔ روزے کی حالت میں منہ کی بُو خراب ہوجاتی ہے لیکن اللہ کی نگاہ میں وہ مشک کی خوشبو سے کہیں زیادہ قابلِ قدر ہے۔ اس لیے کہ اس کے پیچھے خدا کے حکم کی تعمیل اور اس کی رضا کی طلب کے سوا کوئی اور جذبہ کام نہیں کر رہا تھا۔ روزے کی حیثیت ڈھال کی ہوتی ہے۔ جس طرح ڈھال کے ذریعے آدمی دشمن کے وار سے اپنے کو بچاتا ہے اسی طرح روزہ شیطان اور نفس کے حملوں سے بچنے کے لیے ڈھال ہے۔ روزے کے آداب کا آدمی اگر لحاظ رکھے تو وہ روزے کی وجہ سے بہت سے گناہوں سے محفوظ رہ سکتا ہے اور آخرت میں آتشِ دوزخ سے نجات پاسکتا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  جو شخص رمضان کے روزے ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھے اس کے سب پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے اور (اسی طرح) جو رمضان میں ایمان اور احتساب کے ساتھ (راتوں میں) کھڑا ہوگا، اس کے بھی سب پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ اور (اسی طرح) جو شب قدر میں ایمان اور احتساب کے ساتھ قیام کرے گا، اس کے بھی سب پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔(بخاری، مسلم) ’ایمان‘ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اور آخرت کا جو عقیدہ اسلام نے دیا ہے، وہ اس کے ذہن میں تازہ رہے اور احتساب کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کی رضا کا طالب ہو۔ ہروقت اپنے خیالات اور اعمال پر نظر رکھے کہ کہیں وہ اللہ کی رضا کے خلاف تو نہیں جا رہا ہے۔ اس کے اعمال و افکار کے پیچھے کوئی غلط قسم کا جذبہ ہرگز نہ ہو۔ ایمان اور احتساب کے ساتھ روزہ رکھنے سے اللہ اس کے پچھلے گناہوں کو بخش دے گا۔ اس لیے کہ وہ کبھی خدا کا نافرمان تھا بھی، تو اب وہ نافرمانی سے باز آگیا اور خدا کی طرف رجوع کرلیا۔ آخرت میں آسودگی اور چین و راحت تو اس شخص کے لیے ہے، جس کو آخرت کی فکر نے دنیا میں آسودہ ہونے کا موقع نہ دیا۔ غافل شخص اپنے دل کو تاریکی سے بچا نہیں سکتا۔ دل کی تاریکی سب سے بڑی محرومی ہے۔ روزہ آدمی کو اس بات کا سبق دیتا ہے کہ وہ شکم پروری کو حیات کا اصل مقصود نہ سمجھے، زندگی کی قدروقیمت اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: مَا مَلأَ آدَمِیٌّ وِعَآءً  شَرًّا مِّنْ بَطْنِ بِحَسْبِ ابْنِ اٰدَمَ اُکُلَاتٌ یُقْصِمْنَ صُلْبَہٗ فَاَنْ کَانَ لَا مَحَالَۃَ فَثُلُثٌ طَعَامَ وَثُلْثٌ شَرَابٌ وَثُلْثٌ  لِّنَفْسِہٖ  (ترمذی، ابن ماجہ)’’آدمی نے کوئی برتن پیٹ سے بدتر نہیں بھرا (جب کہ پیٹ کو اس طرح بھرا جائے کہ آدمی محض چرنے چگنے والا جانور بن کر رہ جائے اور دین کے تقاضوں کو سمجھنے سے قاصر ہی رہے)۔ آدمی کے لیے چند لقمے کافی ہیں، جو اس کی کمر کو سیدھی رکھ سکیں اور اگر پیٹ بھرنا ضروری ہو تو پیٹ کے تین حصے کرے۔ ایک حصہ کھانے کے لیے، ایک پینے کے لیے اور ایک حصہ اپنے لیے (یعنی سانس وغیرہ لینے کے لیے)۔ ٭ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہرچیز کی زکوٰۃ ہوتی ہے اور جسم کی زکوٰۃ روزہ ہے‘‘۔ (ابن ماجہ) ٭ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جس شخص نے (روزے کی حالت میں) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کو اس کی کچھ ضرورت نہیں کہ وہ (روزہ رکھ کر) اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔ (بخاری) گویا روزے میں بھوکا پیاسا رہنا بذاتِ خود مطلوب نہیں بلکہ روزے کا اصل مقصد یہ ہے کہ اس کے ذریعے سے انسان کے اندر تقویٰ پیدا ہو، اور وہ خدا ترسی کی زندگی بسر کرسکے۔ ٭ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں، جنھیں اپنے روزے سے بھوک پیاس کے سوا کچھ پلے نہیں پڑتا، اور کتنے ہی (راتوں کو نماز میں) کھڑے ہونے والے ایسے ہیں کہ انھیں اپنے قیام سے  رت جگے کے سوا کچھ پلے نہیں پڑتا۔(دارمی) مطلب یہ ہے کہ جب کسی نے روزے اور قیام کے اصل مقصد کو سمجھا ہی نہیں اور نہ اسے حاصل کرنے کی کوشش کی تو پھر اس کی اُمید کیسے کی جاسکتی ہے کہ روزے اور قیام سے اسے کوئی فائدہ پہنچے گا۔ ٭ قبیلۂ بنی سلیم کے ایک (صحابی) شخص کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے یا اپنے ہاتھ پر شمار کر کے فرمایا: ’’تسبیح نصف میزان کو بھر دیتی ہے، اور الحمدللہ اسے پورے طور پر پُر کردیتا ہے، اور تکبیر جو کچھ آسمان اور زمین کے بیچ ہے سب کو بھر دیتا ہے، اور روزہ نصف صبر اور پاکیزگی آدھا ایمان ہے۔ (ترمذی) ’تسبیح‘ سے مراد ہے سبحان اللہ کہنا۔ اللہ کی عظمت و برتری کا اظہار ایسا عمل ہے، جو نصف میزانِ عمل کو بھر دینے کے لیے کافی ہے بشرطیکہ یہ اظہار سچے دل سے ہوا ہو۔ سچے دل سے اللہ کی عظمت کا اقرار آدمی کی زندگی کو بدل سکتا ہے، پھر اس کی میزان نیکیوں سے کیوں نہ بھرے گی؟ ’الحمدللہ‘ یعنی اللہ کی حمدوستایش۔ جو زندگی اللہ کی تسبیح اور حمدوستایش سے عبارت ہو ، وہی زندگی ایسی زندگی ہے جسے کامل زندگی کہا جاسکتا ہے۔ اس لیے تسبیح و تحمید کے سبب میزان عمل کا پُر ہوجانا فطری سی بات ہے۔ ’تکبیر‘ سے مراد ہے ’اللہ اکبر‘کہنا۔ جن کو حقیقی سماعت حاصل ہے انھیں کائنات میں ہرطرف، زمین میں بھی اور خلائوں اور ستاروں میں بھی تکبیر ہی کی گونج سنائی دیتی ہے۔ زمین و آسمان کا ہر ذرّہ اللہ کی کبریائی اور بڑائی کی داستان سنا رہا ہے۔ جب کوئی اللہ کی بڑائی کا ترانہ گاتا ہے تو زمین و آسمان کا ہر ذرّہ اس کی ’سنگت‘ کرتا ہے ۔  ’روزہ نصف صبر ہے‘ مومن کی پوری زندگی کو ہم ’صبر‘ سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ مومن ایک ضابطۂ حیات کا پابند ہوتا ہے۔ اس کا اصل مطمح نظر آخرت کی کامیابی ہے۔ وہ دنیا میں اس لیے زندہ رہتا ہے کہ اللہ کی راہ میں سرگرمِ سفر ہو۔ اس کے لیے عظیم صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ صبر کے بغیر نہ تو آدمی اللہ کی راہ میں ایک قدم چل سکتا ہے اور نہ اس کے بغیر اس کے کردار اور سیرت کی تعمیر ہوسکتی ہے۔ اس حدیث میں روزے کو ’نصف صبر‘ کہا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے روزہ رکھ لیا، اس نے صبروثبات کی تربیت حاصل کرلی۔ اب ضرورت ہے کہ وہ اس سے اپنی پوری زندگی میں فائدہ اُٹھائے اور اپنی زندگی کو صبر کے سانچے میں ڈھالے۔ جس دن اس کی زندگی صبر کے سانچے میں ڈھل گئی، اس دن ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس نے اپنے صبرکو کامل کرلیا۔ اس وقت نصف صبر نہیں اسے پورا صبر حاصل ہوگا۔ ’پاکیزگی آدھا ایمان ہے‘۔ اگر آدمی کا ظاہر اور باطن دونوںہی پاک ہوں تو اسے ایمانِ کامل حاصل ہوگیا۔ ٭ حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ دو روزہ داروں نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو آپؐ نے فرمایا: تم دونوں دوبارہ وضو کر کے نماز پڑھو اور اپنا روزہ پورا کرکے دوسرے دن قضا روزہ رکھو۔ انھوں نے کہا: کیوں؟ یارسولؐ اللہ! فرمایا: تم نے فلاں شخص کی غیبت کی ہے۔ (بیہقی) اس سے معلوم ہوا کہ نماز روزے کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے، جب کہ آدمی ہر طرح کی بُرائیوں سے اپنے کو بچائے۔ یہاں تک کہ نہ تو کسی شخص کی غیبت کرے اور نہ کسی دوسرے گناہ میں مبتلا ہو۔ ٭ حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تھے۔ آپؐ نے ایک شخص کو دیکھا، جس کے پاس لوگ جمع تھے اور اس پر سایہ کر رکھا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: اسے کیا ہوا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ روزہ دار ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’یہ نیکی نہیں ہے کہ سفر میں تم روزہ رکھو‘۔ ایک روایت میں ہے: ’سفر میں روزہ رکھنا نیکی نہیں ہے‘۔(بخاری، مسلم) مطلب یہ ہے کہ سفر میں تمھارے لیے روزہ رکھنا ناقابلِ برداشت ہے، تو سفر میں روزہ کیوں رکھتے ہو؟ روزے کا مقصد اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنا ہرگز نہیں ہے، بلکہ روزے کو اللہ تعالیٰ نے اس لیے فرض کیا ہے کہ بندے اس کے ذریعے سے پاکیزگی اور تقویٰ کی دولت سے ہمکنار ہوں۔  حضرت جابرؓ کا بیان ہے کہ فتح مکہ کے سال جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی طرف نکلے تو آپؐ نے اور آپؐ کے ساتھ دوسرے لوگوں نے بھی روزہ رکھا۔جب آپؐ کراع العمیم پر پہنچے تو آپؐ کو اطلاع ملی کہ لوگوں پر روزہ رکھنا دشوار ہورہا ہے اور وہ آپؐ کے عمل کو دیکھ رہے ہیں۔ آپؐ نے عصر کے بعد پانی کا ایک پیالہ منگوا کر پیا۔ لوگ آپؐ کی طرف دیکھ رہے تھے کہ بعض لوگوں نے روزہ توڑ دیا اور بعض لوگ اسی طرح روزہ رکھے رہے۔ پھر آپؐ کو اطلاع ملی کہ کچھ لوگ (سخت تکلیف کے باوجود) روزے سے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: یہی لوگ نافرمان ہیں۔ (مسلم، ترمذی) ایک حدیث میں جس کے راوی حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک فرمایا: صَائِمُ رَمْضَانَ فِی السَّفَرِ کَالْمُفْطِرِ فِی الْحَضَرِ (ابن ماجہ)’’سفر میں رمضان کا روزہ رکھنا ایسا ہی ہے، جیساکہ گھر پر رمضان کا روزہ نہ رکھنا‘‘ ۔ مطلب یہ ہے کہ آدمی کے اندر اگر اس کی طاقت نہیں ہے کہ وہ سفر میں روزہ رکھ سکے پھر بھی وہ روزہ رکھتا ہے تو درحقیقت وہ روزہ نہیں رکھتا بلکہ شریعت کو اپنے لیے مصیبت ٹھیراتا اور اللہ کی نافرمانی کا ارتکاب کرتا ہے۔ وہ دین کی فطری راہ سے ہٹا ہوا ہے۔  اسی دشواری اور مشکل کے پیش نظر حضوؐر فرماتے ہیں: ’روزے میں وصال سے بچو‘۔ ’وصال‘ سے مراد یہ ہے کہ اس طرح دن رات مسلسل روزہ رکھا جائے کہ درمیان میں نہ سحری کھائی جائے اور نہ افطار کیا جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا نے خاص قوت عطا فرمائی تھی۔ اس لیے آپؐ روزے میں وصال بھی فرما لیتے تھے، لیکن دوسروں کو آپؐ نے اس کی اجازت نہیں دی کہ وہ روزے میں وصال کریں۔ ( بخاری ، مسلم) ٭ حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص رمضان کا ایک روزہ اللہ کی دی ہوئی رخصت کے بغیر نہ رکھے تو ساری عمر یا سارے زمانے کے روزے بھی اسے پورا نہ کرسکیں گے۔( ابوداؤد) بیماری یا سفر کی حالت میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے۔ لیکن اگر کوئی بلاعُذر کسی دن روزہ نہیں رکھتا تو حقیقت میں اس کی تلافی ممکن نہیں۔ وہ اس روزے کے بدلے میں تمام عمر یا قیامت تک روزہ رکھے، پھر بھی یہ روزے بغیر اجازت رمضان کے چھوڑے ہوئے کسی روزے کا بدل نہیں ہوسکتے۔   ٭ روزہ کے فطری احکام حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ جب تک افطار کرنے میں جلدی کرتے رہیں گے حالت ِ خیر میں رہیں گے۔( بخاری ، مسلم) فرمایا: مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ وَاَخَّرُوا السَّحُوْرَ ( مسنداحمد)، یعنی لوگ اس وقت تک حالت ِ خیر میں رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کریں گے اور سحری کھانے میں تاخیر کریں گے۔ فرمایا: قَالَ اللہُ عَزَّوَجَلَّ  اَحَبُّ  عِبَادِیٔٓ اِلَیَّ  اَعْجَلُھُمْ فِطْرًا ( ترمذی)’’اللہ عزوجل فرماتا ہے:میرا سب سے محبوب بندہ وہ ہے جو افطار کرنے میں سب سے زیادہ جلدی کرتا ہے‘‘۔  فرمایا: لَا یَزَالُ الدِّیْنُ  ظَاہِرًا  مَا عَجَّلَ النَّاسُ الْفِطْرَ لِاَنَّ  الْیَھُوْدَ وَالنَّصٰرٰی یُؤَخِّرُوْنَ ( ابوداؤد)’’دین اس وقت تک غالب رہے گا جب تک کہ افطار میں لوگ عجلت سے کام لیتے رہیں گے کیونکہ یہود و نصاریٰ افطار میں تاخیر سے کام لیتے ہیں‘‘۔ افطار میں جلدی کرنا اور سحری میں تاخیر کرنا اس بات کی علامت ہے کہ لوگوں کی نگاہیں دین کی روح اور اصل مقصد سے ہٹی ہوئی نہیں ہیں بلکہ وہ حقیقت سے آشنا ہیں۔ ان کے یہاں جس چیز کی اصل اہمیت ہے، وہ احکام کی روح اور ان کے مقاصد ہیں۔ انسان کی نگاہ جب دین کی اصل اور غایت سے بے گانہ ہوجاتی ہے، تو لازماً اس کا نتیجہ اس صورت میں ظاہر ہوتا ہے کہ وہ احکام میں ظاہر کے لحاظ سے بے جا احتیاط اور غلو میں پڑ جاتا ہے۔ اس کا یہ غلو اور احتیاط ایک بڑی بیماری کا پتا دیتی ہے۔ وہ یہ کہ اس کی نگاہ میں جس چیز کو اصل اہمیت حاصل ہونی چاہیے تھی، اس سے وہ غافل ہوگیا ہے۔ جس کام کو جس طرح انجام دینے کا حکم دیا گیا ہے، اسے اسی طرح انجام دینا چاہیے۔ اپنی راے اور اپنے ذوق کا پابند ہونے کے بجاے خود کو اللہ کے حکم کا پابند بنانا چاہیے۔ یہی تقویٰ اور بندگی کا اصل تقاضا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غلبۂ دین کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ  اہلِ ایمان دوسری قوموں کے مقابلے میں اپنی خصوصیت اور امتیاز کو باقی رکھیں۔ ٭ بنی عبداللہ بن کعب بن مالک قبیلے کے ایک شخص جن کا نام انس بن مالکؓ ہے، روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے مسافر کے لیے نصف نماز کر دی ہے اور اسے روزہ نہ رکھنے کی اجازت دی ہے۔ اسی طرح اس عورت کو اجازت دی ہے جو بچے کو دودھ پلاتی ہو یا حاملہ ہو، جب کہ اسے اپنے حمل یا بچے پر کسی قسم کی تکلیف کا خوف ہو‘‘۔(اصحاب السنن) سفر میں مسافر کے لیے یہ آسانی پیدا کی گئی ہے کہ وہ پوری نماز پڑھنے کے بجاے قصر کرے۔ چار رکعت کی نماز ہے تو دو رکعت ادا کرے۔ اسی طرح اگر رمضان کا مہینہ ہے تو سفر کی حالت میں اسے یہ اجازت حاصل ہے کہ وہ روزہ نہ رکھے۔ جتنے دن کے روزے چھوٹ گئے ہوں، سفر کے بعد انھیں پورا کرلے۔ عورت اگر حاملہ ہے اور روزہ رکھنے سے کسی ضرر کا خوف ہے تو وہ بھی روزہ نہ رکھے۔ بعد میں چھوڑے ہوئے روزوں کو پورا کرلے۔ اسی طرح اگر بچہ دودھ پی رہا ہے اور ماں کے روزہ رکھنے سے اس بات کا اندیشہ ہے بچے کو تکلیف ہوگی، تو وہ اس وقت روزہ نہ رکھے۔ یہ حدیث بھی اس کا بیّن ثبوت ہے کہ دین میں انسانی مصالح اور ضروریات کا حددرجہ لحاظ رکھا گیا ہے۔ ٭ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کسی روزہ دار نے بھول کر کھاپی لیا تووہ اپنا روزہ (توڑنے کے بجاے) پورا کرے، کیوں کہ اسے اللہ نے کھلایا پلایا (اس نے قصداً روزہ نہیں توڑا)۔( بخاری ، مسلم ، ابوداؤد،  ترمذی) مطلب یہ ہے کہ اللہ تو روزہ دار کے تقویٰ اور اس کی نیتوں کو دیکھتا ہے۔ چونکہ اس شخص نے جان بوجھ کر نہیں بلکہ بھول کر کھایا پیا ہے، اس لیے اس کے اس کھانے پینے سے اس کے تقویٰ اور حکمِ خداوندی کے احترام میں کوئی فرق نہیں آیا۔ حقیقت کی نگاہ میں کھانے پینے کے باوجود وہ صائم ہے۔ ٭ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روزہ اسی دن ہے جس دن تم روزہ رکھو، اور افطار اسی دن میں ہے، جس دن تم افطار کرو، قربانی اسی دن ہے جس دن تم قربانی کرو۔(ابوداؤد، ترمذی) یعنی روزے کا آغاز اور اختتام اور قربانی کے دن کا تعین اجتماعی فیصلے کے تحت ہوگا۔ جب قمری مہینے کے لحاظ سے روزے اور قربانی کا وقت آجائے تو آدمی روزہ رکھے اور قربانی کرے۔ اس کی توجہ خاص طور سے اس طرف رہنی چاہیے کہ اس کے اعمال میں زیادہ سے زیادہ تقویٰ کی روح پیدا ہو۔ اس لیے کہ اللہ کے یہاں اصل اہمیت اس کی نہیں ہے کہ کسی نے روزہ کب رکھا، افطار کب کیا اور قربانی کس دن کی، بلکہ اس کے یہاں اہمیت روزہ اور قربانی وغیرہ اعمال و عبادات کی ہے اور ان اعمال میں بھی اس کی نگاہ خاص طور سے اس روح اور جذبے پر ہوتی ہے، جو ان اعمال و عبادات کے پیچھے کام کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ قربانی ہی کیا ہے جس کے پیچھے فدائیت، جانثاری اور کامل حوالگی کا جذبہ کام نہ کر رہا ہو۔ اور وہ روزہ ہی کیا ہے جودنیا میں آدمی کو ان چیزوں سے بے پروا نہ کردے جو حقیقتاً مطلوب نہیں ہیں۔  ٭ حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا: ’’تم رمضان سے پہلے ایک یا دو روزے نہ رکھو لیکن جس شخص کا روزہ رکھنا معمول ہو وہ روزہ رکھ لے‘‘۔(ابوداؤد) مثلاً کسی کا پیر یا جمعرات کو روزہ رکھنے کا معمول ہو اور اتفاق سے رمضان سے ٹھیک پہلے یہی دن پڑتا ہو تو وہ روزہ رکھ لے۔ دوسرے لوگ رمضان سے متصل روزے نہ رکھیں۔ یہ حکم اس لیے دیا گیا تاکہ رمضان کے روزوں کی اہمیت اور امتیاز مشتبہ نہ ہو۔   ٭اعتکاف حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرماتے تھے یہاں تک کہ اللہ نے آپؐ کو اُٹھا لیا۔ پھر آپؐ کے بعد آپؐ کی اَزواج (اہتمام سے) اعتکاف کرتی رہیں۔( بخاری ، مسلم ) رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا شوقِ عبادت حددرجہ بڑھ جاتا تھا۔ رمضان کے آخری ایام میں تو خاص طور سے آپؐ اللہ کی عبادت میں مشغول ہوتے تھے۔ رمضان کے آخری دس دن بالکل اللہ کے لیے فارغ کرلیتے اور مسجد میں معتکف ہوجاتے تھے۔ اعتکاف کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی ہر طرف سے یکسو ہوکر اللہ سے لَو لگائے اور اس کے آستانے پر (یعنی مسجد میں) پڑ جائے اور اسی کی یاد اور عبادت میں مشغول ہوجائے۔ معتکف ہوکر بندہ اس حقیقت کا اظہار کرتا ہے کہ اس کا حقیقی تعلق اپنے ربّ کے سوا کسی اور سے نہیں ہے۔ اس کی جلوت اور خلوت دونوں، اللہ ہی کے لیے ہیں۔ وہ ہرحالت میں اللہ ہی کی رضا کا طالب ہوتا ہے۔ اعتکاف کی روح درحقیقت یہی ہے کہ بندہ اپنے کو خدا کے لیے فارغ کر دینے پر قادر ہوسکے۔ روزے اور اعتکاف میں مقصد اور عمل دونوں لحاظ سے انتہا درجے کی مناسبت اور اتحاد پایا جاتا ہے۔ اسی لیے روزے کو اعتکاف کا لازمی جزو قرار دیا گیا ہے اور رمضان کو اعتکاف کا بہترین زمانہ سمجھا گیا ہے۔ روزے کی خصوصیت کو مزید تقویت بخشنے کے لیے قدیم شریعت میں خاموش رہنے کو بھی جزو صوم بنایا گیا تھا اور اس طرح کا روزہ بھی مشروع ہوا تھا جس میں آدمی خدا کے سوا کسی سے گفتگو نہیں کرسکتا تھا۔ اعتکاف کا بہترین زمانہ رمضان کا ہے اور اس میں بھی خاص طور سے رمضان کا آخری عشرہ۔ یہی وجہ ہے کہ اعتکاف کے لیے اسی کو خاص طور سے منتخب فرمایا گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہرسال رمضان میں اعتکاف فرماتے تھے۔ ایک سال کسی وجہ سے اعتکاف نہ کرسکے تو دوسرے سال آپؐ نے دو عشروں کا اعتکاف فرمایا۔ ٭ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حالت ِ اعتکاف میں بیمار کے پاس سے گزرتے تو جس طرح گزر رہے ہوتے گزرتے، ٹھیرتے نہیں تھے۔اس کی بیمارپُرسی فرماتے۔ ابن عیسیٰ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حالت ِ اعتکاف میں بیمارپُرسی فرماتے تھے۔(ابوداؤد) حالت ِ اعتکاف میں ہونے کی وجہ سے آپؐ ٹھیر کر توعیادت نہیں فرماتے تھے، البتہ گزرتے ہوئے بیمار کی خیریت معلوم کرلیتے۔ اسی طرح اہلِ ایمان کا فرض ہے کہ وہ دنیا سے اپنے دل کو اس طرح وابستہ نہ کریں کہ اسی کے ہوکر رہ جائیں۔ دنیا کی ان ذمہ داریوں کو جو ان پر ڈالی گئی ہیں، پورا ضرور کریں لیکن ان کا رُخ ہمیشہ آخرت کی جانب رہے۔ وہ اسی کی طرف ہمیشہ عازمِ سفر رہیں۔ ٭ حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حال یہ تھا کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو زیادہ سے زیادہ شب بیداری فرماتےاور اپنی بیویوں کو جگاتے (تاکہ وہ بھی زیادہ سے زیادہ اللہ کی عبادت کریں) اور آپؐ تہبند کَس لیتے‘‘۔( بخاری ، مسلم) رمضان کے آخری عشرہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ سے زیادہ رات میں بیدار ہوکر اللہ کی عبادت کرتے۔’تہبند کَس لیتے‘ یہ محاورہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپؐ پورے ذوق و شوق کے ساتھ عبادت کے لیے مستعد ہوجاتے تھے اور عبادت میں لگ جاتے تھے۔   ٭شب قدر حضرت سالمؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا:تم میں سے کچھ لوگوں نے اوّل سات تاریخوں میں شب قدر دیکھی ہے اور تم میں سے کچھ لوگوں نے آخر کی سات تاریخوں میں اسے دیکھا ہے ۔ پس تم آخر کی دس تاریخوں میں اسے تلاش کرو۔( مسلم ) یعنی اگر تم شروع کی سات تاریخوں میں شب ِ قدر تلاش نہ کرسکو تو اب رمضان کی آخر کی دس تاریخوں میں اسے تلاش کرو، یعنی ان راتوں میں زیادہ سے زیادہ اللہ کی عبادت کرو اور شب ِ قدر کی برکتوں سے فیض یاب ہونے کی کوشش کرو۔ رمضان کی ان مخصوص تاریخوں میں شب ِ قدر ہونے کا زیادہ امکان ہے۔ کچھ اہلِ ایمان نے ان راتوں میں شب ِ قدر دیکھی بھی ہے۔ اس سے بھی معلوم ہوتاہے کہ ان تاریخوں میں شب ِ قدر ہونے کا زیادہ امکان ہے۔ شب ِ قدر وہ مخصوص رات ہے، جسے خدا نے خاص فضیلت عطا کی ہے۔ یہی وہ رات ہے جس میں قرآنِ مجید نازل ہوا، جو خیروبرکت کا سرچشمہ ہے۔ جو کام ہزاروں مہینوں میں نہ ہوا، وہ اس ایک رات میں انجام پایا۔ اس رات کی فضیلت کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ اس میں قرآن نازل ہوا تھا، بلکہ قرآن اس رات میں اس لیے نازل کیا گیا کہ یہ افضل رات تھی۔ نزولِ قرآن سے اس رات کی فضیلت ظاہر ہوئی۔ جس رات کو خدا کی عنایت و رحمت سے خاص نسبت حاصل ہو، وہ رات کبھی خیروبرکت سے خالی نہیں ہوسکتی۔ خدا کی رحمت ہرتحدید سے مبرا ہے۔ جو چیز بھی اس سے مَس ہو اور اسے اس سے کوئی نسبت حاصل ہو تو یہ نسبت دائمی قدر کی حامل ہوگی۔ یہ کوئی عارضی چیز ہرگز نہ ہوگی۔  شب قدر کےعلاوہ دوسرے دنوں میں بھی اس کا موقع رکھا گیا ہے کہ خدا اپنے بندوں کے ساتھ خصوصی معاملہ فرمائے اور بندہ اپنے رب کی خصوصی توجہ اور عنایت کا جویا ہوسکے۔ چنانچہ حدیث میں ہے: اِنَّ فِی اللَّیْلِ لَسَاعَۃً لَایُوَافِقُھَا رَجُلٌ مُّسْلِمٌ یَسْئَلُ اللہَ  خَیْرًا  مِّنْ اَمْرِ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ اِلَّا  اَعْطَاہُ  ذٰلِکَ  کُلُّ  لَیْلَۃٍ ( مسلم  ، رواہ جابرؓ)رات میں ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ اس وقت ایک مسلم شخص اللہ سے دنیا و آخرت کی جو بھلائی بھی چاہے    اللہ اس کو عطا فرمائے گا اور یہ ہر رات میں ہوتی ہے۔