August 9th, 2020 (1441ذو الحجة19)

رمضان کو غنیمت جانیے

 

 

خباب مروان الحمد/ترجمہ: محمد سفیرالاسلام
اس ماہِ مبارک کی آمد کا احساس کتنا خوب صورت ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اس ماہ کا آغاز ملّتِ اسلامیہ کے لیے نیکی اور خیر و برکت کا آغاز ہے۔ سلف صالحین اس مہینے کے آنے پر خوشیاں مناتے تھے، وہ خود کو اس کے استقبال اور اس کی برکات سے بھرپور انداز میں استفادے کے لیے تیار کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں: ’’ہم ماہ (رمضان) کو جو تمام خیر کا منبع ہے، خوش آمدید کہتے ہیں۔ اس کے دن میں روزہ رکھتے ہیں اور اس کی رات کو قیام کرتے ہیں۔ اس مہینے میں رات دن اللہ کی راہ میں انفاق کرتے ہیں‘‘۔ معلّٰی بن فضل سلف صالحین کے حوالے سے رمضان کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ سلف چھے مہینے تک اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیا کرتے تھے کہ وہ رمضان کا مہینہ پالیں، اور اگلے چھے ماہ وہ یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرما لے۔ ذرا سوچیے وہ کیا لوگ تھے جو اس ماہِ مبارک کو پانے اور اس کی قبولیت کے لیے چھے چھے ماہ تک اللہ تعالیٰ سے دعائیں کیا کرتے تھے۔ اس سے اندازہ لگایئے یہ ماہ کتنی بڑی غنیمت ہے۔
سلف صالحین کی روش تو یہ تھی، جب کہ ہمارے زمانے میں لوگ رمضان کے قیمتی لمحات کو لغویات کی نذر کردیتے ہیں۔ بعض کھانے پینے میں، بعض نیند اور سونے میں، اور بعض ٹیلی ویژن پر مختلف پروگراموں سے دل بہلا کر اس ماہ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ درحقیقت جو لوگ اس ماہ کے فضائل کی حقیقت سے آگاہ نہیں وہ ان دنوں کے فوائد اور راتوں کے منافع کو نہیں جانتے۔ دوسری طرف ایک وہ بندۂ مومن ہے جو عملِ صالح کے لیے جدوجہد کرتا ہے، آگے بڑھنے کا متمنی ہوتا ہے۔ وہ رمضان کا استقبال بھی اسی طرح نیکیوں میں آگے بڑھنے اور منکرات سے بچنے سے کرتا ہے۔ وہ غنیمت کے ان لمحات کو خیر و بھلائی سمیٹنے اور رب العالمین کا قرب حاصل کرنے کے لیے بھرپور انداز میں استعمال کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ دردناک عذاب سے بھی خوف زدہ ہوتا ہے۔ جو نیکیوں میں آگے بڑھ جانے والا ہے، وہ یہ بات یقینی طور پر جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود نیکی کی راہ میں سبقت پر ابھارا ہے۔ گویا وہ چاہتا ہے کہ اس کے بندے نیکی اور بھلائی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی کوششیں کریں۔ ’’پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو۔‘‘(البقرہ2:148)