December 14th, 2019 (1441ربيع الثاني16)

نبی اکرمؐ کی خانگی زندگی

تحریر: سید ابو الا علیٰ مودودیؒ

ٰٓیاََیُّھَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ ج تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِکَ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ oقَدْ فَرَضَ اللّٰہُ لَکُمْ تَحِلَّۃَ اَیْمَانِکُمْ ج وَاللّٰہُ مَوْلٰکُمْ جوَھُوَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ o(التحریم ۶۶:۱۔۲) اے نبیؐ! تم کیوں اُس چیز کو حرام کرتے ہو جو اللہ نے تمھارے لیے حلال کی ہے؟ (کیا اِس لیے کہ) تم اپنی بیویوں کی خوش نودی چاہتے ہو؟ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اللہ نے تم لوگوں کے لیے اپنی قَسموں کی پابندی سے نکلنے کا طریقہ مقرر کر دیا ہے۔ اللہ تمھارا مولیٰ ہے، اوروہی علیم و حکیم ہے۔
اِس سورت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خانگی زندگی کے سلسلے میں حضوؐر کی اَزواجِ مطہرات کے متعلق تین واقعات پر تبصرہ کیا ہے اور ان کے بارے میں احکام اور ہدایات دی ہیں۔ یہ تین واقعات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آئے تھے۔ اَزواجِ مطہراتؓ سے کچھ قصور سرزد ہوئے تھے جن پر اللہ تعالیٰ نے گرفت فرمائی۔ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک لغزش تھی جس پر اللہ تعالیٰ نے گرفت فرمائی اور اس سلسلے میں احکام دیے۔
واقعۂ تحریم
اُوپر آغاز میں جو دو آیتیں درج کی گئی ہیں، اُن میں پہلا واقعہ یہ بیان ہو رہا ہے، فرمایا گیا:
آیاََیُّھَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ ج اے نبیؐ! تم اپنے لیے اُس چیز کو کیوں حرام کرتے ہو جس کو اللہ نے تمھارے لیے حلال کیا ہے؟
اس سلسلے میں احادیث میں جو تفصیل آئی ہے وہ یہ ہے کہ اُم المومنین حضرت زینبؓ کے ہاں کہیں سے شہد آیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد بہت پسند تھا، اور آپؐ شہد بڑی رغبت سے استعمال فرماتے تھے۔ چنانچہ آپؐ روزانہ عصر کے بعد حضرت زینبؓ کے ہاں تشریف لے جانے لگے۔ اس چیز پر دوسری ازواجِ مطہراتؓ کو کچھ رشک ہوا کہ اب حضوؐر روز زینبؓ کے ہاں جانے لگے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائیں تو ہم آپؐ سے کہیں گے آپؐ کے منہ سے مَغافیر کی ُ بو آتی ہے۔ مَغافیر ایک خاص قسم کے پھول تھے جو مدینہ کے اطراف میں پائے جاتے تھے جن سے شہد کی مکھیاں رس چوستی تھیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ شہد کی مکھی جس علاقے میں ہوتی ہے وہ اُسی علاقے کے پھولوں سے رس حاصل کرتی ہے، اور جس چیز سے بھی وہ رس حاصل کرتی ہے اُس کی بو یا مہک بھی اس کے شہد میں آجاتی ہے۔ اس وجہ سے ازواجِ مطہراتؓ نے آپس میں یہ طے کیا کہ ہم نبی اکرمؐ سے کہیں گے کہ آپؐ کے منہ سے مَغافیر کی بو آتی ہے۔
یہ بات معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منہ کی بُو سے طبعاً سخت نفرت تھی۔ اس لیے آپؐ اپنا دہنِ مبارک اتنا صاف رکھتے تھے کہ وہ خوشبودار محسوس ہوتا تھا۔ یہ بھی ایک فطری بات ہے کہ ایک پاکیزہ مزاج آدمی کبھی اِس بات کو پسند نہیں کرتا کہ دوسرے لوگوں کو اس سے یہ شکایت ہو کہ اُس کے منہ سے یا کپڑوں سے یا جسم سے بو آتی ہے۔ پھر نبیؐ کا معاملہ تو بہت خاص ہے۔ نبی تو کبھی اس بات کو پسند نہیں کرسکتا کہ اس کے متعلق کوئی شخص یہ شکایت کرے کہ اس کے پاس سے بو آتی ہے۔ نبی کا کام تو لوگوں کو بھلائی کی طرف بلانا ہوتا ہے۔ اس لیے ایک داعی کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کے اندر کوئی ایسا عیب نہ ہو جس کی وجہ سے لوگ اس سے نفرت کریں، لوگوں کو اس کی کسی بات سے کراہت محسوس ہو، بلکہ اس کی ذات کو ہرلحاظ سے پُرکشش اور جاذبِ نظر ہونا چاہیے۔ لوگ اس کے قرب سے سکون حاصل کریں، بجاے اس کے کہ اس سے کراہت محسوس کریں۔ اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ نہایت صاف ستھرے رہتے تھے۔ دن میں کئی کئی مرتبہ مسواک کرتے۔ رات کو سوتے وقت بھی مسواک کرتے تھے۔ سو کر جب بھی اُٹھتے تھے مسواک کرتے تھے تاکہ منہ سے بو نہ آئے۔ ہمیشہ عطر استعمال فرماتے تھے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپؐ کے کپڑوں سے عطر کی خوشبو نہ آئے۔ اس لیے جب ازواجِ مطہرات نے وہ بات کہی تو حضوؐر کو شک پیدا ہوا کہ کہیں واقعی میرے منہ سے بو تو نہیں آتی۔ چنانچہ آپؐ نے قَسم کھا لی کہ اب میں یہ شہد استعمال نہیں کروں گا۔ آپؐ کے اس عزم پر اللہ تعالیٰ نے گرفت فرمائی کہ آپ اُس چیز کو اپنے اُوپر کیوں حرام کرتے ہیں جس کو اللہ نے آپؐ کے لیے حلال کیا ہے؟
بظاہر یہ ایک بڑی معمولی سی بات ہے کہ کوئی شخص ایک چیز کو پسند نہ کرے اور یہ طے کرے کہ آیندہ وہ اسے استعمال نہیں کرے گا، لیکن عام آدمی کی بات الگ ہے، اور اللہ کے رسولؐ کی بات الگ ہے۔ اللہ کا رسول اگر کسی چیز کو چھوڑ دے اور فیصلہ کرلے کہ اب مجھے اس کو استعمال نہیں کرنا ہے تو وہ چیز صرف اللہ کے رسول ہی کے لیے نہیں، پوری اُمت کے لیے حرام ہوجائے گی۔ پوری اُمت اس کا استعمال ترک کردے گی۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حلال و حرام کے اختیارات کاملاً اپنے ہاتھ میں رکھے ہیں۔ اپنے رسول کی طرف بھی منتقل نہیں کیے ہیں۔ رسول کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ بطورِ خود کسی چیز کو حرام یا حلال کردے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس بات پر گرفت فرمائی کہ یہ کام آپ نے اپنے اختیار سے باہر جاکر کیا ہے۔ کوئی عام آدمی یہ کام کرتا تو کوئی بات نہیں تھی۔ لیکن آپؐ نے یہ کیا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قانونِ الٰہی میں ترمیم ہوجائے گی۔ جو چیز قانونِ الٰہی میں حلال ہے وہ آپؐ کی وجہ سے حرام ہوجائے گی۔ کم از کم اس سے اُمت کے اندر یہ خیال ضرور پھیل جائے گا کہ اورکچھ نہیں تو یہ چیز مکروہ ضرور ہے۔ اِسی وجہ سے حضوؐر نے اسے ترک فرمایا ہے۔
اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم کیوں اُس چیز کو حرام کرتے ہو جس کو اللہ نے حلال کیا ہے؟ پھر فرمایا: کیا تم اپنی بیویوں کی خوشی چاہتے ہو؟ اب اس میں اشارہ بیویوں کے قصور کی طرف بھی ہے کہ اُنھوں نے اپنے ایک ذاتی جذبے کی بنا پر، جو حضوؐرکی ایک دوسری بیوی سے رشک کا جذبہ تھا، اللہ کے رسولؐ کے دل میں ایک ایسی بات بٹھائی جس کی وجہ سے انھوں نے ایک حلال چیز کو اپنے اُوپر حرام کرلیا۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِکَ ط ،’’تم اپنی بیویوں کی خوشی چاہتے ہو؟‘‘ پھر فرمایا: وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ، ’’اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے‘‘۔
اس موقع پر اس ارشاد کے دو معنی ہیں: ایک یہ کہ تم نے کوئی ایسا گناہ نہیں کیا ہے جس پر کوئی سزا ہو۔ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔ اس نے تمھاری اس لغزش سے درگزر فرمایا ہے۔ دوسرے اس سے خود بخود یہ معنی نکلتے ہیں کہ تمھیں بیویوں کی خوشی چاہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ جس ہستی کی مغفرت اور رحمت تمھیں درکار ہے وہ تو اللہ ہے۔ تمھارے لیے بیویوں کی خوش نودی اہمیت نہیں رکھتی بلکہ صرف اللہ کی خوش نودی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ تم اللہ ہی کی مغفرت اور رحمت کے اُمیدوار ہو۔
اس کے بعد فرمایا کہ: قَدْ فَرَضَ اللّٰہُ لَکُمْ تَحِلَّۃَ اَیْمَانِکُمْج ،’’ اللہ نے تم لوگوں کے لیے اپنی قسموں کی پابندی سے نکلنے کا طریقہ مقرر کردیا ہے‘‘۔ اللہ نے تمھارے لیے فرض کیا ، یا یہ طریقہ مقرر کیا ہے (دونوں معنی مراد ہیں)۔ ایک یہ کہ ایک آدمی اگر اپنی قسم کی پابندی سے نکلنا چاہے تو اس کے لیے قرآنِ مجید میں طریقہ بیان کیا جاچکا ہے کہ وہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔
دوسرے معنی اس آیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر فرض کردیا ہے کہ تم ایسی قسموں کو توڑ دو اور کفارہ ادا کرو۔ اس سے یہ مسئلہ نکلتا ہے کہ اگر آدمی کسی ناجائز کام کی قسم کھا بیٹھے تو اس کا فرض ہے کہ وہ اس قسم کو توڑ دے کیونکہ اس کی پابندی کرنا غلط کام ہے۔ اگر اس نے جائز کام کی قسم کھائی ہو تو وہ اس کی پابندی کرے لیکن اگر کسی ناجائز کام کی قسم کھا لی ہو تو اس کے لیے لازم ہے کہ اس کو توڑے اور اس کا کفارہ ادا کرے۔
بعض احادیث میں آیا ہے کہ غلط قسم کا توڑنا ہی اس کا کفارہ ہے لیکن بعض دوسری احادیث میں ہے کہ قسم کو توڑ دیا جائے اور اس کا کفارہ بھی ادا کیا جائے۔ فقہا عموماً اسی بات کے قائل ہیں۔پھر فرمایا: وَاللّٰہُ مَوْلٰکُمْ ج وَھُوَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ، ’’اللہ تمھارا مولا ہے اور وہی علیم و حکیم ہے‘‘۔
اس مقام پر اللہ کی دو صفتوں کا ذکر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حلال و حرام کی جو صورتیں مقرر کی ہیں وہ علم اور حکمت کی بنا پر کی ہیں۔ جس چیز کو حلال کیا ہے علم کی بنا پر کیا ہے، جس چیز کو حرام کیا ہے علم کی بنا پر حرام ہے۔ اس کی تحلیل اور تحریم دونوں کے اندر اس کی حکمت کام کر رہی ہے کیونکہ اس کا ہرفعل علم اور حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس لیے اس کے مقرر کیے ہوئے حلال و حرام میں تغیر و تبدل کرنے کا حق کسی کو نہیں ہے۔ اگر کسی قسم کا تغیر و تبدل ہوگا تو وہ علم اور حکمت کے خلاف ہوگا۔
افشاے راز
یہ پہلا واقعہ تھا۔ اس کے بعد دوسرا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا:
وَاِِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِِلٰی بَعْضِ اَزْوَاجِہٖ حَدِیْثًا فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِہٖ وَاَظْہَرَہُ اللّٰہُ عَلَیْہِ عَرَّفَ بَعْضَہُ وَاَعْرَضَ عَنْم بَعْضٍ فَلَمَّا نَبَّاَھَا بِہٖ قَالَتْ مَنْ اَنْبَاَکَ ہٰذَاط قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ (۶۶:۳) اور یہ معاملہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ نبیؐ نے ایک بات اپنی ایک بیوی سے راز میں کہی تھی۔ پھر جب اُس بیوی نے (کسی اور پر) وہ راز ظاہر کر دیا، اور اللہ نے نبیؐ کو اس (افشاے راز) کی اِطلاع دے دی تو نبیؐ نے اس پر کسی حد تک (اُس بیوی کو) خبردار کیا اور کسی حد تک اُس سے درگزر کیا۔ پھر جب نبیؐ نے اسے (افشاے راز کی) یہ بات بتائی تو اس نے پوچھا: آپ کو اِس کی کس نے خبر دی؟ نبیؐ نے کہا: ’’مجھے اُس نے خبر دی ہے جو سب کچھ جانتا ہے اور خوب باخبر ہے‘‘۔
اس واقعے میں بہت سے پہلو ہیں جن کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔
پہلی بات غور طلب یہ ہے کہ قرآنِ مجید میں اس بات کا ذکر کس غرض سے کیا گیا ہے۔ غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ایک بیوی کو اللہ تعالیٰ نے اپنے شوہر کا رازداں بنایا ہے، جیساکہ قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایاگیا: ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّھُنَّ(البقرہ ۲:۱۸۷)، ’’یعنی تمھارا اور تمھاری بیویوں کا وہ تعلق ہے جو جسم اور لباس کا ہوتا ہے‘‘۔ سامنے کی بات ہے کہ لباس سے جسم چھپا ہوا نہیں ہوتا اور جسم سے لباس چھپا ہوا نہیں ہوتا۔ بیوی کا یہ کام ہے کہ اگر اس کا شوہر اس سے راز میں کوئی بات کہے تو اسے چاہیے کہ وہ اس راز کو اپنے تک رکھے، دوسروں کے سامنے اس کو افشا کرنا کسی طرح درست نہیں ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کا مقام عام لوگوں کی بیویوں کے مقام سے بلندتر ہے۔ یہ بھی معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام تک کسی کی رسائی نہیں ہے۔ پھر اُمت میں بھی جو لوگ کسی ذمہ داری کے منصب پر ہوں، ان کی بیویوں کا کام عام بیویوں کی بدولت بدرجۂ اَولیٰ یہ ہے کہ اُن کے شوہروں کے ذریعے سے جو باتیں اُن کے علم میں آئیں وہ دوسروں کے سامنے اُن کو نہ کھولتی پھریں، کیوں کہ جس شخص کا منصب جتنا زیادہ ذمہ داری کا ہو اگر اس کے گھر سے راز افشا ہونے لگیں اور وہ غیرمتعلق لوگوں تک پہنچ جائیں تو اس حرکت کی وجہ سے پوری قوم کی قوم نقصان اُٹھا سکتی ہے، ہلاکت کے خطرے میں پڑسکتی ہے۔ دنیا میں بہت سے بگاڑ اس وجہ سے پیدا ہوئے کہ عورتوں کے علم میں جو راز اُن کے ذمہ دار شوہروں کی طرف سے پہنچے تھے انھوں نے ان کو عام لوگوں میں پھیلا دیا اور بات دشمنوں کے ہاتھ لگ گئی۔ چنانچہ پوری قوم پر اس کی وجہ سے تباہی آئی۔ اس طرح کے واقعات دنیا میں رُونما ہوتے رہے ہیں۔
تیسرا پہلو ازواجِ مطہراتؓ کو اس بات کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ تم اپنے منصب اور مقام کو سمجھو اور دیکھو کہ تم کس ہستی کی بیوی ہو۔ کتنے عظیم الشان منصب کے حامل انسان کی تم رفیقۂ زندگی ہو۔ ایسے عظیم الشان منصب کے حامل انسان کی بیویوں کا یہ کام نہیں ہے کہ اگر ان کے علم میں نبیؐ کی طرف سے کوئی راز کی بات آئے، تو وہ اسے دنیا کے سامنے پھیلا دیں۔ اس وجہ سے اس واقعے پر گرفت کی گئی اور قرآنِ مجید میں اس کا ذکر کیا گیا۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہ بات اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی کہ آپؐ کی بیوی نے وہ راز کھول دیا ہے جس کی حفاظت اس کی ذمہ داری تھی، تو اس کا ذکر قرآن مجید میں کہیں نہیں ہے کہ وہ راز کی بات کیا تھی۔ قرآنِ مجید میں کوئی آیت ایسی نہیں آئی ہے جس میں یہ کہا گیا ہو کہ ’’اے نبیؐ!تمھاری بیوی نے یہ راز کھول دیا ہے‘‘۔ قرآنِ مجید میں اس بات کو کھول دینے پر ان کے قصور کے اُوپر تو گرفت کی گئی لیکن یہ کہیں نہیں بتایا گیا ہے کہ ’’اے نبیؐ! تمھاری بیوی نے یہ بات کھول دی ہے‘‘۔ یہ آیت اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآنِ مجید کے علاوہ بھی وحی آتی تھی۔ جو لوگ یہ لغو بات کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآنِ مجید کے علاوہ اور کوئی وحی نہیں آتی تھی، وہ اس بات کاکیا جواب دیں گے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِہٖ ، ’’جب رسولؐ نے اپنی بیوی کو خبردار کیا کہ تم نے یہ راز فاش کردیا ہے‘‘، اور قَالَتْ مَنْ اَنْبَاَکَ ہٰذَا ،’’اُس نے پوچھا کہ آپ کو کس نے بتایا ہے کہ میں نے یہ کام کیا ہے؟‘‘ قرآن کہتا ہے:قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ ،آپؐ نے فرمایا کہ مجھے علیم و خبیر نے اس کی خبر دی ہے‘‘۔
اب وہ خبر کب دی گئی___ اس کا کوئی ذکر قرآنِ مجید میں نہیں ہے۔ صرف خبر دینے پر جو گرفت کی گئی ہے اُسی کا ذکر قرآنِ مجید میں ہے، جب کہ ظاہر ہے کہ وہ خبر بہرحال وحی کے ذریعے سے دی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہی نے آکر یہ کہا ہوگا کہ تمھاری بیوی سے یہ قصور سرزد ہوا ہے۔ چنانچہ اس پر قرآنِ مجید میں گرفت کی گئی۔ یہ اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ حضوؐر پر قرآن کے علاوہ بھی وحی آتی تھی۔ اس کے علاوہ بھی قرآنِ مجید میں بہت سی مثالیں موجود ہیں لیکن یہ آیت اس معاملے میں نہایت صریح ہے۔
اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی دیکھیے کہ قرآنِ مجید میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں آیا کہ آخر وہ راز کی بات کیا تھی۔ معلوم ہوا کہ قرآنِ مجید میں غیرضروری تفصیلات بیان نہیں کی جاتیں۔ اگر اس بات کا ذکر کرنا اُمت کے لیے مفید ہوتا تو ضرور کردیا جاتا۔ لیکن دراصل اُمت کو یہ بتانا مقصود تھا کہ جو شخص ذمہ داری کے جتنے بڑے منصب پر ہو اُس کی بیوی کو اتنا ہی زیادہ رازدار اور ذمہ دار ہونا چاہیے۔ یہ بتانا بھی مقصود تھا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسولؐ کو وہ خبریں اور معلومات بھی دی جاتی ہیں جو عام انسانوں کو نہیں دی جاتیں اور جن کے جاننے کا کوئی ذریعہ عام انسانوں کے پاس نہیں ہوتا۔
اس راز کی بات کے ضمن میں مختلف محدثین اور مفسرین نے یہ قیاس کیا ہے کہ فلاں بات ہوگی یا فلاں بات ہوسکتی ہے۔ لیکن میرے خیال میں جس راز کا ذکر کرنا اللہ تعالیٰ نے پسند نہیں کیا ہے اس کو ٹٹولنا بھی ایک قصور ہے، ایک خطا ہے۔ اس وجہ سے کہ ازواجِ مطہراتؓ پر جب اس معاملے میں گرفت کی گئی کہ انھوں نے وہ بات عام کردی جو نہیں کرنی چاہیے تھی تو اب آپ اُسی راز کی بات کو تلاش کرنے اور ٹٹولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جب کسی خاص حکمت کے تحت اس بات کو نہیں کھولا، تو اس کو کھول دینے کے بعد اس پر گرفت کرنا بے معنی ہوجاتا (واللّٰہ اعلم بالصواب)۔ بہرحال کوئی ایسی بات ہوگی جو اُمت کی فلاح سے تعلق رکھتی ہوگی۔ اِسی طرح یہ بات بھی ظاہر ہے کہ نعوذ باللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ذاتی راز تو ایسا نہیں تھا جو اُنھوں نے چپکے سے اپنی بیوی سے کہا ہو۔ اگر نعوذباللہ رسولؐ اللہ کا کوئی چھپا ہوا عیب ہوتا تو پہلے تو بیویوں ہی کا ایمان ختم ہوجاتا۔
پھر آپ یہ بھی دیکھیے کہ اگر کوئی شخص عیب دار ہو تو اس کی بیوی اس کا ساتھ تو دے سکتی ہے لیکن اس کی معتقد نہیں ہوسکتی۔ اس لیے کسی کو یہ شبہہ نہ ہو کہ نعوذ باللہ وہ راز کی بات کوئی عیب کی بات تھی جو آپؐ نے چھپا کر اپنی بیوی سے بیان کی تھی۔ ہرگز نہیں! بلکہ وہ یقیناًاُمت کے مفاد و مصلحت کا کوئی اہم معاملہ تھا جس کا ذکر کسی مصلحت سے آپؐ نے اپنی کسی بیوی سے کیا ہوگا لیکن اس نے اس کو دوسروں پر ظاہر کر دیا جو مناسب نہ تھا۔
اس کے ساتھ کچھ اور مسائل بھی ہیں جن کا ذکر میں اس بحث کے خاتمے پر کروں گا۔
اُمھات المومنینؓ کے رویّے پر توجہ
اب اس کے بعد تیسرا واقعہ ہے۔ فرمایا گیا:
اِِنْ تَتُوْبَآ اِِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا ج وَاِِنْ تَظٰہَرَا عَلَیْہِ فَاِِنَّ اللّٰہَ ھُوَ مَوْلٰہُ وَجِبْرِیْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ ج وَالْمَلآءِکَۃُ بَعْدَ ذٰلِکَ ظَہِیْرٌ oعَسٰی رَبُّہٗٓ اِِنْ طَلَّقَکُنَّ اَنْ یُّبْدِلَہٗٓ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْکُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓءِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓءِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّاَبْکَارًا o (۶۶:۴۔۵)،اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرتی ہو (تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے ) کیونکہ تمھارے دل سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں، اور اگر نبیؐ کے مقابلے میں تم نے باہم جتھہ بندی کی تو جان رکھو کہ اللہ اُس کا مولیٰ ہے اور اُس کے بعد جبریل ؑ اور تمام صالح اہلِ ایمان اور سب ملائکہ اس کے ساتھی اور مددگار ہیں۔ بعید نہیں کہ اگر نبیؐ تم سب بیویوں کو طلاق دے دے تو اللہ اُسے ایسی بیویاں تمھارے بدلے میں عطافرما دے جو تم سے بہتر ہوں، سچی مسلمان، باایمان، اطاعت گزار، توبہ گزار، عبادت گزار، اور روزہ دار، خواہ شوہر دیدہ ہوں یا باکرہ۔
پہلے یہاں خاص طور پر دو بیویوں کے اُوپر گرفت کی گئی ہے اور پھر آگے چل کر تمام ازواج کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل قصور تو دو بیویوں کا تھا لیکن باقی بھی کسی نہ کسی حد تک اس میں شریک تھیں، اس لیے ان کو بھی ان آیات میں مخاطب کیاگیا۔
احادیث سے اس معاملے کی تفصیل یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ زمانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے انتہائی معاشی تنگی کا تھا اور آپؐ کے مالی حالات اس وقت انتہائی خراب تھے۔ جو سرمایہ تھا وہ زیادہ ترمکہ معظمہ میں کارِ دعوت میں خرچ ہوچکا تھا اور جو کچھ موجود تھا وہ چھوڑ چھاڑ کر صرف تن کے کپڑوں میں مدینہ تشریف لے آئے تھے۔ پھر مدینہ طیبہ تشریف لانے کے بعد آپؐ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ دین کے کام میں صرف ہورہا تھا۔ اتنی فرصت نہیں تھی کہ اپنا کوئی کاروبار کر کے اپنی آمدن کا کوئی ذریعہ پیدا فرماتے، اور اس کے ساتھ نبی کا یہ مقام بھی نہیں ہے کہ وہ کسی سے مانگے۔ اس وجہ سے اس زمانے میں حضوؐر کے اُوپر ایسی تنگی کا وقت تھا کہ کئی کئی روز تک آپؐ کے گھر میں چولھا نہیں سلگتا تھا۔ یہ حالات ازواجِ مطہراتؓ خود بیان کرتی ہیں۔ مزید برآں صورتِ حال یہ تھی کہ جن دینی مصلحتوں کی خاطر آپ نے پے درپے کئی شادیاں کیں، وہ بھی اُمت ہی کی ضروریات کی وجہ سے کیں۔ کوئی اپنی ذاتی خواہش اس کی محرک نہیں تھی۔
ظاہر بات ہے کہ ذاتی خواہش ۵۵برس کی عمر میں کہاں ہوسکتی ہے۔ جس شخص نے ۲۵سال کی عمر میں ۴۰برس کی عورت سے شادی کی ہو، اور جب تک وہ زندہ رہیں تب تک وہی تنہا آپؐ کی بیوی تھیں۔ ایسے شخص کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ ۵۵برس کی عمر میں جاکر اس کے اندر شادی کرنے کی خواہش جاگ اُٹھی ہو، اور وہ بھی اس مفلسی کی حالت میں۔ لہٰذا یہ بات کسی طرح قابلِ تصور نہیں ہوسکتی۔ یہ تو فقط اُمت ہی کے بعض مصالح کا تقاضا تھا جس کی خاطر آپؐ نے متعدد شادیاں کیں۔
حال یہ تھا کہ مدینہ منورہ آکر کوئی پختہ عمارت بننے کی نوبت نہیں آئی تھی جن میں ازواجِ مطہراتؓ قیام پذیر ہوتیں۔ جس وقت تک مسجد نبویؐ کی توسیع کی ضرورت پیش نہیں آئی اُس وقت تک ازواجِ مطہراتؓ کے بالکل سادہ سے حجرے مسجد نبویؐ کی دیوار کے ساتھ متصلاً بنائے گئے تھے۔ بعد کے دور میں لوگ جاجاکر دیکھا کرتے تھے کہ آج ہم کن محلّات میں رہتے ہیں، اور جس ہستی کی بدولت یہ دولت ہمیں نصیب ہوئی ہے وہ ہستی خود کہاں رہتی تھی اور ازواجِ مطہرات کیسے زندگی بسر کرتی تھیں۔ ایک مدت تک یہی صورتِ حال رہی۔ اس صورتِ حال میں ازواجِ مطہراتؓ آپؐ کی رفاقت میں تھیں۔
فطری طور پر ایک عورت چاہتی ہے کہ اس کے پاس زیور ہو، سامانِ آرایش ہو، عمدہ کپڑے ہوں۔ آخرکار مدینہ طیبہ ہی میں کھاتے پیتے لوگ بھی موجود تھے۔ وہ ان کی بیویوں کو بھی دیکھتی تھیں۔ وہ قوم کے سردار کی بیویاں ہوتے ہوئے اپنی حالت کو بھی دیکھتی تھیں۔ وہ دیکھتی تھیں کہ ایک طرف اُن کے واجب الاحترام شوہر کاحکم لوگوں پر چل رہا ہے اور ساری کی ساری قوم اُن کی مطیعِ فرمان ہے، اور اس قوم میں ایسے ایسے کھاتے پیتے لوگ ہیں کہ ان کی بیویاں اچھے سے اچھے کپڑے پہنتی ہیں، اور دوسری طرف قوم کے سردار کی بیویوں کا حال یہ تھا کہ اپنے کپڑوں کو پیوند لگائے بیٹھی ہیں۔ اس لیے ان کے اندر اپنی محرومی کا احساس اُبھرنا کوئی تعجب کی بات نہیں تھی۔ ان کا بے صبر ہوجانا عین فطری امر تھا۔ ان حالات میں وہ حضوؐر سے نفقے کا مطالبہ کرتی تھیں اور آپؐ کو تنگ کرتی تھیں۔لیکن یہی بات اللہ کے رسولؐ کے لیے فطری طور پر پریشانی اور اذیت کا باعث بنتی تھی اور اس کا بار آپؐ کی طبیعت پر پڑتا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے پیشِ نظر آیات میں ازواجِ مطہرات کے اس رویّے پر گرفت فرمائی۔
اس معاملے کا ذکر سورۂ احزاب میں بھی کیا گیا ہے۔ وہاں بھی ازواجِ مطہراتؓ کو مخاطب کرکے کہا گیا تھا کہ اگر تم کو دنیا چاہیے تو نبیؐ تم کو طلاق دے کر آزاد کردیتا ہے، لیکن اگر تم نبیؐ کا ساتھ دینا چاہتی ہو تو صبر سے کام لو اور جو مقام تم کو حاصل ہے اس مقام کے تقاضوں کو سمجھو!
یہ تھا ازواجِ مطہرات کا وہ قصور جس کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے یہ کہنے کا اختیار دیا گیا کہ چاہو تو نبیؐ کی رفاقت کا فیصلہ کرو اور جو کچھ تم کو دیا جاتا ہے اسے قبول کرو، ورنہ چاہو تو تمھیں طلاق دے کر آزاد کردیا جائے۔ دوسرا قصور (جو اُوپر مذکور ہوا) خاص طور پر دو ازواجِ مطہراتؓ کا تھا۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خواتین حضرت حفصہؓ اور حضرت عائشہؓ تھیں۔
احادیث میں یہ بات آتی ہے کہ حضرت حفصہؓ اور حضرت عائشہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں کچھ زیادہ جَری ہوگئی تھیں۔ بعض اوقات گفتگو کا نامناسب انداز اختیار کربیٹھتی تھیں۔ چنانچہ یہ واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے اپنی بیٹی حضرت حفصہؓ کو اس طرزِعمل پر بُری طرح ڈانٹا۔ پھر یہ بھی ہوا کہ اَزواجِ مطہراتؓ کے اس رویّے سے پریشان ہوکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِیلا کرلیا۔ اِیلاء سے مراد تعلقات قائم نہ رکھنے کی قَسم کھالینا ہے جس کے اَحکام سورۂ بقرہ میں آئے ہیں۔ (تفہیم القرآن، ج۱، ص ۱۷۱۔۱۷۳)
پہلے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت حفصہؓ اور حضرت عائشہؓ کو سختی سے ڈانٹا کہ اگر تم توبہ کرو تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے کیونکہ تمھارے دل راہِ راست سے ہٹ گئے ہیں۔ یعنی اس میں شک نہیں کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہو، وہ تمھارے ساتھ محبت کرتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم رسولؐ کے مقابلے میں گستاخ ہوجاؤ۔ یہاں تک فرمایا کہ صرف یہ نہیں کہ تمھاری زبانیں خراب ہوگئی ہیں بلکہ فرمایا کہ تمھارے دل خراب ہوگئے ہیں۔ تمھارے دلوں میں یہ خرابی پیدا ہوگئی ہے کہ تم رسولؐ کے مقابلے میں جرأت کرتی ہو۔ ارشاد فرمایا گیا: وَاِِنْ تَظٰہَرَا عَلَیْہِ فَاِِنَّ اللّٰہَ ھُوَ مَوْلٰہُ وَجِبْرِیْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمَلآءِکَۃُ بَعْدَ ذٰلِکَ ظَہِیْرٌ o(۶۶:۴)،یعنی اگر تم دونوں نے رسولؐ کے مقابلے میں باہم جتھہ بندی کی تو یہ سمجھ لو کہ رسولؐ کا مولیٰ اللہ ہے، تمام مومنین رسولؐ کے ساتھ ہیں اور سارے فرشتے رسولؐ کے ساتھ ہیں۔ تم مقابلہ صرف رسولؐ کا نہیں کرو گی بلکہ تمھارا مقابلہ ساری کائنات کے ساتھ ہوگا۔ جس ہستی کے ساتھ اللہ، سارے مومنین اور سارے فرشتے ہیں، کیا تم اس کے ساتھ مقابلہ کرو گی؟
اس کے بعد تمام ازواجِ مطہراتؓ سے خطاب کر کے فرمایا: عَسٰی رَبُّہٗٓ اِِنْ طَلَّقَکُنَّ اَنْ یُّبْدِلَہٗٓ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْکُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓءِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓءِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّاَبْکَارًاo (۶۶:۵)، ’’بعید نہیں کہ اگر نبیؐ تم سب بیویوں کو طلاق دے دے تو اللہ اُسے ایسی بیویاں تمھارے بدلے میں عطافرما دے جو تم سے بہتر ہوں، سچی مسلمان، باایمان،اطاعت گزار، توبہ گزار، عبادت گزار، اور روزہ دار، خواہ شوہر دیدہ ہوں یا باکرہ‘‘۔ دیکھیے اُوپر تثنیہ کا صیغہ تھا جس میں دو ازواج مخاطب تھیں لیکن یہاں منکن جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے جس میں سب ازواجِ مطہراتؓ شامل ہوجاتی ہیں۔ ان کو مخاطب کر کے کہا گیا کہ اگر ہمارا رسولؐ تم کو طلاق دے دے تو بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ اُس کو تم سے بہتر بیویاں دے دے۔ وہ بہتر بیویاں کیسی ہوں گی؟
پہلی بات فرمائی کہ وہ مسلمات اور مومنات ہوں گی۔ جب مسلم کا لفظ مومن کے علاوہ استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے مراد عملاً اطاعت کرنے والے شخص کے ہوتے ہیں۔ یہاں اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ سچے دل سے ایمان لانے والی اور سچے دل سے اطاعت کرنے والی ہوں گی۔ وہ ایمان کے تقاضوں کو صحیح معنوں میں پورا کرنے والی ہوں گی۔
اس کے بعد فرمایا: وہ قٰنِتٰتٍہوں گی، یعنی اطاعت گزار ہوں گی۔ اس کے ایک معنی یہ ہیں کہ وہ اللہ کی اطاعت گزار ہوں گی اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ اپنے شوہر کی اطاعت کرنے والی ہوں گی۔
پھر فرمایا: وہ تٰٓءِبٰتٍ ہوں گی۔تائب کے معنی ایسے شخص کے ہیں کہ جب کبھی اس سے قصور سرزد ہوجائے، کوئی لغزش ہوجائے تو وہ اس پر نادم ہونے والا اور اس پر اپنے رب سے معافی مانگنے والا ہوتا ہے۔ گویا ان بیویوں کی یہ صفت ہوگی کہ وہ توبہ کرنے والی ہوں گی۔
مزید فرمایا: وہ عٰبِدٰتٍ ہوں گی، یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت گزار ہوں گی۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کا عبادت گزار ہوتا ہے اسی میں تائب ہونے کی صفت ہوتی ہے۔ وہ ہروقت اللہ کے حضور توبہ کرنے والا ہوتا ہے۔ اسی کی یہ صفت ہوتی ہے کہ وہ ایمان کے تقاضے پورے کرنے والا ہوتا ہے۔ اس کا ایمان زندہ و بیدار ہوتا ہے۔ پھر فرمایا: وہ سٰٓءِحٰتٍ ہوں گی۔
مفسرین نے سٰٓءِحٰتٍ کے دو معنی بیان کیے ہیں۔ ایک معنی ہیں روزہ رکھنے والی اور دوسرے معنی ہیں کہ وہ رسولؐ کے ساتھ ساتھ زندگی کا عرصہ طے کرنے والی ہوں۔ یعنی وہ رسولؐ کا مکمل ساتھ دینے والی ہوں گی۔ رسولؐ جن حالات میں بھی ہوں گے وہ انھی حالات میں اس کے ساتھ رہنے پر راضی ہوں گی۔ وہ انھی حالات کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنے والی ہوں گی۔
ان کی مزید صفت یہ بیان کی گئی کہ: ثَیِّبٰتٍ وَّاَبْکَارًا، یعنی شادی شدہ بھی اور باکرہ بھی۔
ان بیویوں کی یہ ساری صفات بیان کرتے ہوئے یہ فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولؐ کو ہرقسم کی عورتیں دینے پر قادر ہے۔
توھین صحابہؓ: چند غور طلب پھلو
اب مَیں ان تین واقعات کے متعلق مختصر طور پر چند باتیں کہنا چاہتا ہوں:
قرآنِ مجید میں جن ہستیوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ اُمہات المومنین ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہیں۔ ان کا مقام صحابۂ کرامؓ سے بھی بڑا ہے۔ کیوں کہ صحابہ میں سے کسی کو بھی اُمت کا باپ نہیں کہا گیا، جب کہ اَزواجِ مطہراتؓ کو اُمت کی مائیں قرار دیا گیا۔ کیا اِن واقعات کا یہاں ذکر کرنے سے اللہ تعالیٰ کا یہ منشا ہوسکتا ہے، اور کیا ہم اس بات کا تصور کرسکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ ازواجِ مطہرات کا کوئی مقام اور احترام اُمت کے دلوں میں نہ رہے۔ وہی خدا جو اُن کو اُمہات المومنین قرار دے رہا ہے، وہی خدا ان کے احترام کا حکم دے رہا ہے۔ وہی خدا یہاں اُن کے قصور بیان کر رہا ہے اور مسلسل ایک ہی سلسلۂ کلام میں ان کے تین قصور بیان کرتا ہے تو کیا اس کا مدعا یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ خود یہ چاہتا ہے کہ ان کا احترام اہلِ ایمان کے دلوں میں نہ رہے۔ پھر ظاہر بات ہے کہ اگر ازواجِ مطہرات ہی کا احترام لوگوں کے دلوں سے اُٹھ جائے تو صحابۂ کرامؓ کا کیا احترام باقی رہ سکتا ہے؟
پھر یہ بات بھی معلوم ہے کہ قرآنِ مجید میں صحابۂ کرامؓ کی بعض لغزشوں پر بھی کئی جگہ گرفت کی گئی ہے، مثلاً سورۂ جمعہ کی آخری آیت یہ ہے:
وَاِِذَا رَاَوْا تِجَارَۃً اَوْ لَہْوَا نِ انْفَضُّوْٓا اِِلَیْھَا وَتَرَکُوْکَ قَآءِمًاط (الجمعہ۶۲:۱۱) ، جب اُنھوں نے دیکھا کہ لہوولعب ہورہا ہے، تجارتی قافلہ آرہا ہے اور لوگ کاروبار کررہے ہیں تو وہ تمھیں اپنی جگہ کھڑا چھوڑ کر اس کی طرف چلے گئے۔
یہ واقعہ مدنی زندگی کے آغاز میں پیش آیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز کے لیے خطبہ دے رہے ہیں۔ اس خطبے کے دوران میں مسجد کے باہر سے ڈھول تاشوں کی آواز آتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تجارت ہورہی ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ اس بات کا ذکر قرآنِ مجید میں سورۂ جمعہ میں کیا گیا ہے۔ کیا قرآن میں یہ واقعہ بیان کرنے سے اللہ تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ قیامت تک لوگوں کے دلوں میں صحابہ کرام کا احترام اُٹھ جائے کیونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ یہاں ان جانے والوں کی تعداد بیان نہیں کی گئی لیکن ان کے لیے جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید سارے صحابہ اُٹھ کر چلے گئے ہوں گے۔
یہ تو احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف ۱۲کی تعداد باقی رہ گئی تھی لیکن قرآن مجید سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کچھ لوگ ٹھیر بھی گئے تھے۔ اب سوچیے کہ کیا اللہ تعالیٰ کا منشا ان ساری چیزوں کا ذکر کرنے سے یہ ہے کہ اِن ہستیوں کا کوئی احترام لوگوں کے دلوں میں باقی نہ رہے؟
دراصل قرآنِ مجید میں ان چیزوں کا ذکر کرنے کی غرض یہ ہے کہ لوگ ان بزرگوں کو خدا یا خدا کی اولاد قرار نہ دے لیں، جیساکہ پچھلے انبیا ؑ کی اُمتوں نے اپنے انبیا کو خدا کی اولاد قرار دیا یہاں تک کہ اس سے بھی آگے بڑھ کر بنی اسرائیل نے خود اپنے آپ کو Children of God(خدا کی اولاد) قرار دے لیا۔ لیکن صحابہ کرامؓ نہ خدا تھے نہ وہ خدا یا خدا کی اولاد، نہ خداؤں کی قسم کی کوئی مخلوق تھے۔ وہ انسان تھے، ان کی تربیت اللہ تعالیٰ نے کی اور اللہ کے رسولؐ نے ان کا تزکیہ فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی اعلیٰ درجے کی خدمات کے بارے میں خودفرمایا: رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ، ’’اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوگئے‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اعلیٰ درجے کی خدمات کی خود قرآن مجید میں تعریف کی ہے لیکن ان کے مقام اور مرتبے کی بلندی کے باوجود اُن سے جو قصور سرزد ہوئے اُن پر گرفت کی گئی، اور جیسا قصور تھا ویسی ہی سخت گرفت فرمائی گئی۔
جنگِ اُحد میں جن لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہاڑی ٹیلے پر تیرانداز بناکر بٹھایا تھا تاکہ اس جانب سے دشمن حملہ نہ کرنے پائے، اُن لوگوں نے جب دیکھا کہ کفار کو شکست ہوگئی ہے اور مالِ غنیمت لُٹ رہا ہے تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہدایت کے باوجود کہ اگر تم دیکھو کہ پرندے ہماری بوٹیاں نوچ کر لے جارہے ہیں تب بھی تم اپنی جگہ سے نہ ہلنا،مگر وہ اس صریح ہدایت کے باوجود اس حکم کو نظرانداز کرگئے اور کفار کو شکست ہوتے دیکھ کر مالِ غنیمت لُوٹنے میں لگ گئے۔ اسی وقت کفار نے اُحد کے پیچھے سے حملہ کر کے جنگ کی صورتِ حال یک لخت بدل ڈالی۔
قرآنِ مجید میں اس واقعے پر سخت گرفت کی گئی ہے اور ان کو بتایا گیا کہ انھوں نے کیا غلطی کی ہے۔ توصحابۂ کرامؓ انسان تھے، ان سے بشری تقاضے سے قصور سرزد ہوئے اور جو قصور سرزد ہوا، قرآنِ مجید میں ان کا ذکر کر کے ان پر گرفت کی گئی ہے لیکن اس کے باوجود قرآن کا منشا یہ نہیں ہے اور نہ ہوسکتا ہے کہ ان کی ان غلطیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے لوگوں کے دلوں سے ان کا احترام اُٹھ جائے۔
اس تفصیل سے اُصولی بات یہ سامنے آئی کہ صحابۂ کرامؓ کا اُتنا ہی احترام کیا جائے گا جتنا اللہ تعالیٰ خود چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اَزواجِ مطہراتؓ کے قصوروں پر گرفت فرمائی ہے اور مسلسل ان کے تین قصور گنوائے گئے، اور اس کے باوجود وہ اَزواجِ مطہراتؓ ہیں ،اُمہات المومنینؓ ہیں اور ہمارے لیے حددرجہ واجب الاحترام ہیں۔ ان کے قصوروں کا ذکر کرنے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ ہم اُن کی توہین کر رہے ہیں۔ ایسے واقعات کا ذکر کرنے سے دراصل یہ سمجھانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دین بے لاگ ہے۔ غلطی ہے تو غلطی ہے، صحیح ہے تو صحیح ہے___ اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی لاگ لپیٹ نہیں ہے۔ اگر واقعتا کسی سے کوئی قصور ہوا ہے تو آپ خواہ اس کی کچھ بھی تاویلیں کریں کہ یہ قصور نہیں تھا۔ جب اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں کوئی کام غلط ہے، تو غلط ہے، اور صحیح ہے تو صحیح ہے۔