September 30th, 2020 (1442صفر12)

مجاہد بہادر قاضیؒ

لیاقت بلوچ

قاضی حسین احمد ؒ ایک سچے مردِ مجاہد تھے اور ان کی داستان ایمان افروز اور اپنے عہد کا روشن استعارہ ہے۔ قاضی صاحب ؒ، مولانا مودودیؒ کی فکر، اقبال شناسی، قرآن اور محمدؐ سے گہرے عشق اور اعلائے کلمۃ اللہ کی شمشیر بے نیام اور عہد ساز شخصیت تھے۔ جب پاکستان اور اس کے پڑوس افغانستان میں عالمی استعماری قوتوں کے تسلط کے قیام کی سازشیں اور اقدام ہونے لگے تو قاضی حسین احمدؒ اہل پاکستان اور عالمِ اسلام کو احیائے دین، غیرتِ ایمانی، جرات و تدبر کے ساتھ ولولہ تازہ دینے کے لیے میدان میں مردانہ وار نکلے اور افغانستان، کشمیر، سعودی عرب، ایران، عراق، فلسطین، سوڈان، وسطی ایشیاء کی ریاستوں، بنگلا دیش، ملائیشیا، ترکی میں بہت ہی گہرے اثرات پیدا کیے۔ استعماری قوتوں سے آزادی کی تحریک اور اتحادِ اُمت کا گہرا اور دور رس فِکر و عمل کا حسین امتزاج پیدا کیا۔ قاضی حسین احمدؒ کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اقامتِ دین کی علمی، فکری، انقلابی تحریک کو عامۃ الناس میں مسلسل محنت کے ساتھ متعارف کرایا، مظلوم کی مدد کو پہنچنا، نوجوانوں کو عزم و جذبہ دینے، خیر کا جوکام ذہن میں سما جاتا اسے کر گزرنا، ہر فرد سے محبت، پیار اور حسین پُرجوش مسکراہٹ سے دل موہ لینا، اللہ کی طرف سے انہیں خاص رحمت اور تائید حاصل تھی۔ قاضیؒ حسین احمد کے اصولوں، اسلوبِ فکر اور عمل کے میدان میں کینوس اتنا وسیع تھا کہ پاکستان اور امت کے ہر مسئلہ بالخصوص اسلام، انسان اور مسلم دشمن ہر قوت کے شیطانی عمل پر ضرب لگائی، مضبوط آواز بلندکی، خوف و مصلحت نامی شے ان میںجیسے تھی ہی نہیں، جو حق سمجھا اور جانا بے دھڑک اور اللہ پر کامل توکل کے ساتھ کہہ دینا ہی اُن کا کردار تھا۔
قاضی حسین احمد ؒ نے اسلامی تحریک کے ہر فرد پر اپنی شخصیت، اخلاص اور محنت سے گہرے اور انمٹ نقش چھوڑے، اُن کی رحلت ایک عظیم صدمہ تھا، ہرانسان نے دنیا سے جانا توہے ہی لیکن موت کے بعد بھی جانے والے کے نیک اعمال کے ناتے اُن سے تعلق ختم نہیں ہوتا اور وہ اسے مسلسل فائدہ پہنچاتے ہیں۔ ان اعمال میںسے ایک نیک اولاد ہے۔ قاضی حسین احمد مرحوم کو اللہ نے دو بیٹیاں اور دو بیٹے عطا کیے جو نیک اور صالح اولاد ہے۔ قاضیؒ صاحب نے صرف چار بچے پیچھے نہیں چھوڑے بلکہ بے شمار روحانی بیٹے، بیٹیاں چھوڑے ہیں، جو اُن سے محبت کرتے ہیں اور ان کے لیے مغفرت اور درجات کی بلندی کی دعا کرنے والے اور اُن کے نقشِ قدم پر چلنے والے ہیں۔ لہٰذا جب تک یہ سب اُن کے نقشِ قدم پر چلتے رہیں گے تو اسی صورت میں قاضی حسین احمد ہمارے درمیان زندہ رہیںگے۔ اللہ تعالیٰ اُن سے راضی ہو اور انہیں جنت میں تمام خوشیاں عنایت فرمائے۔ مجاہد اور بہادر قاضیؒ کے ساتھ مصر سے اخوان المسلمون، ترکی سے رفاہ، افغانستان سے حزب اسلامی اور جمعیت اسلامی، ملائیشیا سے پاس پارٹی کی قیادت کا بہت ہی گہرا تعلق تھا۔ اس تعلق کا مقصد یہ تھا کہ اسلامی تحریکیں متحد ہوں، دینِ اسلام کے لیے کام کرنے والی تحریکیں ایک سمت میں چلیں جس پر سب ایمان رکھتے ہیں، آفاقی اور عالمگیر، بین الاقوامی عظیم الشان دین حامل ہیں۔ اسلامی تحریکوں میں شورائی نظام مستحکم کرنا عدم برداشت اور تشدد کو بطور وسیلہ مسترد کرنا، قاضی ؒ صاحب کا یہی جذبہ تھا کہ پاکستان میں نفاذ شریعت کے لیے دینی جماعتوں اور قیادت کو متحد کیا، ملک میں فرقہ واریت عروج پر پہنچادی گئی تھی، مساجد اور مدارس، مزارات، خانقاہیں، امام بارگاہیں سب غیر محفوظ ہوگئے تھے۔ تو اتحاد و وحدت کے جذبہ سے ملی یکجہتی کونسل کی صورت میں تمام مسالک کی قیادت کو متحد کردیا اور انتخابی پارلیمانی محاذ پر بھی دینی جماعتوں کو متحدہ مجلس عمل کے اتحاد کی صورت میں اکٹھا کرنے کا عظیم الشان کام سرانجام دیا۔ قاضیؒ صاحب کی زندگی سعادت و جدوجہد سے بھرپور تھی، انہوں نے اپنے اخلاق، کردار اور حسنِ سلوک سے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا، کروڑوں دلوں میں جگہ بنائی اسی لیے اُن کا یوں دنیا سے رخصت ہوجانا بہت غمگین کرنے والا تھا اس صدمہ کو ہرایک نے اپنا غم اور صدمہ محسوس کیا۔
نگہ بلند، سخن دل نواز،جاں پُرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِکارواں کے لیے
قاضی حسین احمدؒ ایک عظیم رہنما، مربی اور ہمارے امیر تھے، ہر پارٹی اور رہنما، ہر مکتبِ فکر کا شاعر ودانشور اُنہیں عزت وتکریم کا مقام دیتا تھا۔ اسلامی نظام کے لیے انتھک کوششوں، جرات و بہادری، بے باکی، بلاخوف کام نے انہیں بڑا مقام دیا۔ قاضیؒ صاحب بڑے باہمت انسان تھے مجھے اُن کے ساتھ جماعت اسلامی کی قیادت میں جہاد افغانستان، جہاد کشمیر، شریعت محاذ، ملی یکجہتی کونسل، متحدہ مجلس عمل پاکستان، پاکستان اسلامی فرنٹ، اے پی ڈی ایم، پارلیمنٹ کی جدوجہد، کاروانِ دعوت و محبت، جماعت اسلامی کے اجتماعاتِ عام، ٹرین مارچ،دھرنوں، لانگ مارچ اور ان گنت محاذوں پر کام کرنے کا اللہ تعالیٰ نے موقع عطا کیا۔ میرے اور میرے خاندان سے اُن کی خصوصی محبت تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اعتماد و محبت دیتے اور ہر فرد میں کام کا عزم وحوصلہ، ولولہ اور جذبہ پیدا ہوجاتا تھا۔ وہ خود بھی انتھک تھے، جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا اور آگے بڑھتے رہنا، مایوسی کوقریب نہ پھٹکنے دینا، رضائے الٰہی کے لیے دن رات کام کرنا ہی اُن کی زندگی کا مرکز و محورتھا۔ وہ ہر دباؤ اورمشکل کا ایمانِ کامل کے ساتھ مجاہدانہ مقابلہ کرتے۔
وہ زمانہ طلب علمی سے ہی متحرک، خوش اخلاق اور زندہ دِل انسان تھے۔ جماعت اسلامی کی قیادت کرتے ہوئے انہوں نے پورے ملک میں باہمی میل جول کو فروغ دیا، کوئی جماعت سے تعلق رکھتا تھا یا نہیں اُن کا سب سے تعلق تھا۔ غیر آئینی، غیر قانونی، غیر جمہوری کوئی بھی اقدام ہوتا اُن میں مزاحمت کی لہر پیدا ہوجاتی اور آگے بڑھ کر آواز بلندکرتے، وہ نڈر اور دلیر لیڈر تھے، مشکل سے مشکل لمحہ میں بھی گھبراتے نہیں تھے، بات صاف اور کھری کردینے کے عادی تھے۔ اسی لیے کوئی مسلم ہے یاغیر مسلم، پکا نظریاتی ہے یا کٹر مخالف، ظالم کے ہاتھوں کوئی مظلوم ہے، کہیں بھی افتاد پڑتی قاضی صاحب وہاں موجود ہوتے تھے۔ قاضی صاحبؒ کے تحرک، جذبہ عوامیت نے جماعت اسلامی کو سیاسی قوت بنایا، فرقہ واریت کے خاتمہ کے اور باہمی رواداری، برداشت اور عزت و احترام کے رشتوں کو مضبوط بنانے اور اُمت کے مسائل کے حل کے لیے جدوجہد اور اتحاد کے لیے کام کی بنیاد پر ہی وہ پورے عالمِ اسلام میں مقبول ہوئے۔ سعودی عرب اور ایران میں اُن کے لیے یکساں پزیرائی تھی۔ قاضی حسین احمد ؒ اتحاد اُمت کے سچے نقیب داعی تھے اُن کی کمی ہمیشہ محسوس کی جاتی رہے گی۔ انہوں نے دعوت و جہاد، اسلام کی سربلندی، امت کو درپیش مسائل کے حل کے لیے عظیم کوششیں کیں، وہ صحیح معنوں میں ملتِ اسلامیہ کے بہی خواہ تھے۔ قاضیؒ صاحب ہمارے دلوں میں زندہ ہیں، اِس لیے کہ زندہ وہی رہتا ہے جو دلوں میں رہتا ہے۔
ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق
جماعت اسلامی کے علمی و فکری رہنما، دانش ور، اسلامی حیثیت پر اتھارٹی اور قاضیؒ صاحب کے دستِ راست اور پارلیمنٹ کے رفیق کار پروفیسرخورشید احمد صاحب (اللہ تعالیٰ انہیں صحت عطا کرے) نے کیا خوب تجزیہ کیا ہے کہ قاضی حسین احمدؒ حق گوئی پر یقین رکھنے والے، اللہ کے احکامات کے پابند اور رسول اللہؐ کے عاشق تھے۔ پُرسوز اورحُب الٰہی میں اُن کی آنکھیںپر نم ہوجاتی تھیں، اسلامی تحریک کے بااعتماد و جری اور مخلص خادم و رہنما تھے۔ کلمہ حق کو بلند کرنے والے انتھک مجاہد اور پاکستان کے حقیقی پاسبان تھے۔ اللہ کے دین کے جس پیغام اور مشن کو طالب علمی کی زندگی میں دل کی گہرائیوں میں بسا لیا تھا اسے پورے شعور کے ساتھ قبول کیا اپنی جوانی اور بڑھاپے کی تمام تر توانائیاں اس کی خدمت میں صرف کردیں، اس دعوت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا۔ اِس کی خاطر ہر مشکل کو بخوشی انگیز کیا اور ہر وادی کی آبلہ پائی کی، ہر خطرے کو خوش آمدید کہا، ہر قربانی کے لیے اپنے آپ کو بہ رضا و رغبت پیش کیا اور پورے خلوص، مکمل دیانت اور ناقابلِ یقین، استقامت کے ساتھ زندگی کے آخری لمحے تک اِس کی خدمت میں لگے رہے بلاشبہ وہ اُن نفوس قدسیہ میں سے ہیں جن کے بارے میں درودیوار گواہی دے رہے ہیں۔
’’ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کردکھایا، اِن میں سے کوئی اپنی نذر پوری کرچکا اور کوئی وقت کا منتظر ہے۔ انہوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ (الاحزاب)
اسی کشمکش میں گزریں میری زندگی کی راتیں
کبھی سوز و ساز رومی کبھی پیچ و تاب رازی
قاضی حسین احمدؒ کی شخصیت کو بین الاقوامیت، علامہ اقبال اور مولانا سید مودودیؒ کی فکر سے ملی، اور یہ کسی بھی اسلامی تحریک کے رہنما کے شایان شان ہے۔ قاضیؒ صاحب ملک کے واحددینی، سیاسی رہنما تھے جو اقبال ؒ کے اردو، فارسی کلام پر گہری نظر رکھتے تھے اور اِن کا برمحل، بر موقع اور بہت خوبصورت استعمال کرتے تھے۔ حقیقتاً اور مزاجاً قاضیؒ صاحب وسیع المشرب انسان تھے۔ اُن کی شخصیت میں قوس و قزح کے سارے رنگ یکجا ہوگئے تھے۔ وہ مبلغ، مفکر، خطیب اور ادیب کی حیثیت سے اپنے پیچھے رہ جانے والوں اور غلبہ دین کی جدوجہد کرنے والوں کو عملی پیغام دے کر گئے ہیں کہ اقامتِ دین کے لیے کارکنان ہمیشہ باعمل اور پر عزم رہیں، جہدِ مسلسل کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں، علما و مشائخ ہمیشہ محبت، امن، برداشت، وحدت اور اتحادِ امت کا پیغام عام کریں۔ دردِ مشترک اور قدرِ مشترک کو اصول بنائیں، سیاسی قیادت ہمیشہ سچائی، اصول اور عدل وانصاف اور آئین و جمہوریت کی راہ اپنائے۔ اصولوں پر سمجھوتا نہ کریں، عالم اسلامی کی قیادت امت کے درد کو پہچانے، اور امت کی شیرازہ بندی کرے یہی اُمت کی ترقی اور سربلندی کا ذریعہ ہے۔ قاضی صاحب کی شخصیت جماعت اسلامی کے لیے ہی بڑا اثاثہ نہیں تھی بلکہ وہ قوم کا سرمایہ تھے، تحریک کے کارکن اپنی جہد مسلسل سے اُن کے صدقہ جاریہ کو جاری و ساری رکھیں۔
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اوائل شباب میں شعر بھی کہتے تھے۔ اُن کے کلام کے چند اشعار تو ایسے ہیں جیسے قاضی ؒ کے لیے کہے گئے ہوں۔
ارباب محبت کا ڈھنگ سب سے نرالا ہے
اِک آن میں دیوانہ، ایک آن میں فرزانہ
اِک قطرہ سے عالم میں طوفان بپا کردے
اِک جرعہ سے پید اکر میخانہ کا میخانہ
آتش ہے نہاں تجھ میں، پھر شمع کی کیا حاجت
خود شعلہ تاباں بن، اے سوزش پروانہ
قاضی حسین احمد ؒ مجاہد بہادر قاضی تھے، شعلہ تاباں تھے، عزیزان جاں تھے۔ حقیقت تویہ ہے کہ ایسی چنگاری بھی اپنی خاکستر میں تھی۔
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔