December 10th, 2019 (1441ربيع الثاني12)

سیاست کا ستارہ، شفقت کا استعارہ

رخشندہ راشد بنت
گزشتہ6 برس جی ہاں 6 برس سے انگلیوں میں قلم کو تھامے بیٹھی ہوں کہ حافظہ میں محفوظ خیالات اور دل میں گھر کیے موجزن جذبات کو سینہ قرطاس پہ منتقل کرسکوں۔ مگر نہ قلم میں اتنی طاقت کہ جس نے قلم میرے ہاتھ میں تھمایا تھا اس کے اوصاف تحریر کرسکے اور نہ انگلیوں میں اتنی سکت کہ جس ہستی نے میری انگلی پکڑ کر زندگی کی شاہراہ پر چلنا سکھایا تھا اس کی یادوں کو سطروں میں ڈھالنے کے لیے جنبش کرسکیں۔
گزشتہ 6 سال سے میں اپنے آنسوئوں کو قطرہ قطرہ اور حوصلے کو لمحہ لمحہ جمع کر رہی ہوں کہ اس عظیم المرتبت مردِ قلندر جسے عالم پروفیسر عبدالغفور احمد کے نام سے جانتا ہے‘ کچھ تحریر کرسکوں۔ پروفیسر عبدالغفور احمد پہ اگر میں کچھ لکھنے میں کامیاب ہو بھی گئی تو وہ مقدار اور معیار میں اس سے بہت کم ہوگا جو ان پہ لکھا جا چکا ہے۔ 1970ء میں پاکستان کی سیاست پہ مولانا مفتی محمود‘ خان عبدالولی خان‘ مولانا شاہ احمد نورانی‘ نواب زادہ نصراللہ خان‘ محترم شیرباز مزاری اور پروفیسر عبدالغفور احمد جیسی قد آور شخصیات ابھر کر سامنے آئیں۔ یہ وہ شخصیات تھیں جن کا آج بھی کوئی ثانی نہیں‘ جن کے سیاسی قد کے سامنے آج کی سیاست کے شہ سوار بونے نظر آتے ہیں۔
1970ء میں سامنے آنے والے مذکورہ سیاست دان اپنے عزم اور حوصلے کے سبب قرونِ اولیٰ کے باسی لگتے ہیں۔ ان کے سیاسی نظریات میں شدید اختلافات کے باوجود ان کے باہمی تعلقات مثالی تھے۔ شرافت‘ لحاظ‘ مروت‘ رواداری ان کی ذات کے بنیادی ستون تھے۔ درج بالا اکابرین سیاست میں محترم پروفیسر عبدالغفور احمد صاحب کو ممتاز مقام حاصل تھا۔ آپ کا کٹر سے کٹر سیاسی مخالف بھی آپ کی اصول پسندی‘ ایمان داری‘ شرافت اور پاک بازی کا معترف تھا اور آپ کی دل سے عزت کرتا تھا۔ دراصل پروفیسر صاحب عزم اور ارادے کے جتنے مضبوط تھے گفت و شنید میں اتنے ہی نرم‘ اپنے مؤقف کو پوری شدت سے پیش کرتے مگر اظہار میں تشدد سے پرہیز کرتے اسی لیے قومی اسمبلی سے سینیٹ تک‘ پاکستان قومی اتحاد کی تحریک سے اسلامی جمہوری اتحاد کی سرگرمیوں تک‘ سیاسی مذاکرات سے ملکی معاملات تک ہر قدم پہ سرخرو ہوئے اور ہر مقام پر عزت کمائی اور یہی عزت ان کی زندگی بھر کی کمائی تھی۔
میں نے اوپر جو کچھ لکھا وہ میری ذاتی تحریر نہیں بلکہ پروفیسر محترم پر لکھی جانے والی تحریروں کا خلاصہ تھا۔ میرے دل میں تو ان کے حوالے سے خوش گوار یادوں اور حیرت انگیز تجربوں کا ایک جہاں آباد ہے کیوں کہ میرے لیے پروفیسر عبدالغفور احمد عزت کے نگہبان‘ محبت کے ترجمان‘ شفقت کے سائبان اور نسب کی شان تھے۔ جی ہاں آپ کے پروفیسر صاحب میرے ابا جی تھے جن کے لیے ’’تھے‘‘ لکھے ہوئے ہاتھ لرزتے ہیں اور آنکھیں برستی ہیں۔ آنکھوں کی رم جھم میں دل کا ترنم شامل ہوتے ہی میرے کانوں میں رس گھولتی آواز آتی ہے ’’کیسی ہو؟ ٹھیک ہو؟‘‘ یہ آواز میرے ابا جی کی ہے۔ میرے ابا جی جو کبھی ’’تھے‘‘ ہو ہی نہیں سکتے وہ تو ہمیشہ میرے ساتھ رہتے ہیں۔ ابرِ کرم بن کے‘ خوشبو‘ روشنی‘ توانائی‘ ہمت‘ حوصلہ‘ محبت‘ برداشت‘ رحم‘ صبر‘ شکر… ابا جی کا ہر انداز بھرپور‘ ہر رنگ مکمل۔
شعور کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی میرا ابا جی سے پہلا تعارف ایک مختصر مگر جامع جملہ سے ہوا ’’کیسی ہو ٹھیک ہو نا؟‘‘ لہجے کی مٹھاس نے اس جملہ کو میرے لیے اتنا اہم بنا دیا تھا کہ ابا جی کے گھر میں داخل ہوتے ہی میں کسی نہ کسی بہانے ان کے سامنے آجاتی اور ’’جملہ‘‘ کی دولت دامن میں سمیٹ کے واپس ہو جاتی۔ یہ جملہ آج بھی میرا سب سے قیمتی سرمایا ہے۔ زندگی کے گورکھ دھندے میں کوئی الجھن ہو‘ پریشانی ہو‘ دکھ ہو‘ تکلیف ہو‘ یہ جملہ تریاق کا کام کرتا ہے۔ یہ جملہ سوال بھی ہے اور جواب بھی۔ ابا جی کا درد مند دل پوچھتا ہے ’’کیسی ہو؟‘‘ اور ان کی باہمت شفقت حوصلہ دیتی ہے کہ میں ہر حال میں کہوں ’’ٹھیک ہوں۔‘‘
میں نے ہوش سنبھالا تو ابا جی جماعت کی تنظیمی ذمے داریاں سنبھال چکے تھے اس لیے اکثر میرے سو کے اٹھنے سے پہلے اپنی ذمے داریاں نبھانے گھر سے تشریف لے جا چکے ہوتے اور اپنی ذمے داریاں احسن طریقے سے نبھا کے جب گھر لوٹتے تو میں سو چکی ہوتی اس لیے ملاقات کم کم ہوتی مگر جب بھی ہوتی مکمل ہوتی۔ مکمل ملاقات کے لیے دورانیہ اہم نہیں ہوتا روّیہ اہم ہوتا ہے۔ میرے لیے وہ دن بہت اہم ہوتا تھا جب ہمارے گھر پر جماعت کا کوئی اجلاس ہوتا کیوں کہ اس دن ابا جی سے ملاقات وقت کی قید سے آزاد ہوتی۔ انہی اجلاسوں میں مجھے پتا چلا کہ میں اپنے ابا جی کی چہیتی بیٹی ہوں۔ ابا جی کمالِ شفت سے مجھے اجلاس میں بلاتے اور بہت فخر سے حاضرین محفل سے میرا تعارف کراتے کہ ’’یہ میری بیٹی رخشندہ ہے۔‘‘ اجلاس کی ابتد امیری تلاوت کلامِ الٰہی اور نعت رسولؐ مقبول سے ہوتی۔ اس دوران میں ساتویں آسمان پہ محو پرواز رہتی۔ بہت ڈوب کے تلاوت کرتی اور بہت لہک کے نعت پیش کرتی۔ امیر جماعت حضرت مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ صاحب بطور خاص مجھے دعائیں دیتے اور انعام بھی۔ وہ دعائیں آج بھی میرا حصار کیے ہوئے ہیں اور وہ انعام آج بھی میرے رزق میں برکت کا موجب ہے۔ بچپنا لڑکپن میں تبدیل ہوا تو میری تعلیم ابا جی کی توجہ کا محور ہوگئی۔ اسکول میں داخلے سے امتحان کے نتیجے تک ابا جی کو سرگرم عمل پایا۔ بظاہر گھر سے باہر اپنی تنظیمی اور سیاسی مصروفیات میں بے پناہ مصروف رہنے والے ابا جی اپنے گھر اور خاندان سے کتنے باخبر اور جڑے ہوئے تھے‘ اس کا اندازہ مجھے وقت کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا۔ ابا جی ایک مثالی شوہر‘ شفیق باپ‘ ذمے دار بھائی اور درد مند انسان تھے۔
میں نے اپنے بچپن سے امی کی آخری عمر تک یہ دیکھا کہ ابا جی جب کراچی میں ہوتے تو کبھی گھر سے باہر کھانا نہیں کھاتے تھے۔ تینوں وقت صرف اور صرف امی کے ہاتھ کا کھانا کھاتے۔ امی بطور خاص ابا جی کے لیے کھانے کا اہتمام کرتیں جس میں اشیا سے زیادہ ایک بیوی کی محبت قابل دید ہوتی۔ ابا جی بہت سادہ اور کم کھانا کھاتے تھے۔ مجھے یاد نہیں کہ ابا جی نے کبھی ناشتے میں دو سلائس اور ایک کپ چائے کے علاوہ کچھ اور کھایا ہو۔ دوپہر کو صرف موسم کا کوئی پھل اور تھوڑا سا میٹھا‘ شام کو صرف چائے یا کبھی کبھی دو بسکٹ لیتے البتہ رات کا کھانا کھانے کی طرح کھاتے۔ سادہ شوربہ یا دال کے ساتھ دو چپاتی۔ امی ہم بچوں کے لیے بڑی سی روٹی بناتی تھیں جب کہ ابا جی کے لیے دو پھلکے۔ ان پھلکوں کا وزن ہماری ایک روٹی سے بھی کم ہوتا۔ امی جس ذمے داری اور انہماک سے ابا جی کے کھانے اور ان کے کپڑوں کا خیال رکھتی ان میں چھپی وابستگی کا اندازہ مجھے صرف اس وقت ہوا جب میں خود کسی کی بیوی بن گئی اور یہ بھی پتا چلا کہ بیوی میں اتنی اپنائیت اور اتنا خلوص صرف اسی صورت میں پیدا ہوتا جب شوہر بیوی کی قدر کرتا ہو۔ اس تذکرے کے ساتھ مجھے اپنی شادی کا وقت بھی یاد آگیا کیوں کہ اس دوران مجھے پتا چلا کہ میں اپنے ابا جی کی سب سے لاڈلی بیٹی ہوں۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ انٹر پاس کرتے ہی میرے رشتے آنا شروع ہوگئے مگر امی کسی بھی رشتے کو سنجیدگی سے نہیں لیتی تھیں بلکہ ٹال دیتیں جب کہ میری دونوں بڑی بہنوں کے رشتے امی نے بغیر وقت لیے خود ہی پسند کرکے ابا جی کی رسمی منطوری کے بعد طے کر دیے تھے۔ میرے معاملے میں اتنی تاخیر کی وجہ میری سمجھ میں اس وقت آئی جب میری موجودہ ساس ہمارے گھر اپنے صاحبزادہ کا رشتے لے کر آئیں۔ امِی نے ان سے ایک جملہ کہا اور وہ جملہ میرے لیے زندگی کا سب سے بہترین سرمایہ ہے۔ امی نے ان سے کہا ’’رخشندہ اپنے ابا جی کی بیٹی ہے اس کے رشتے کا فیصلہ میں نہیں وہ کریں گے۔‘‘
ابا جی گھر اور بچوں کے معاملے میں تمام فیصلوں کا کلی اختیار امی کو دیا ہوا تھا۔ دونوں بڑی بہنوں اور بھائیوں کے رشتے امی نے خود ہی پسند کر کے اور ابا جی کی رسمی منظوری کے بعد طے کر دیے تھے جب کہ میرے رشتے کا انتخاب ابا جی کو کرنا تھا۔ یہ اختیار ابا جی نے غیر اعلانیہ امی کو دینے کے بجائے اپنے پاس رکھا تھا اور میں نے دیکھا کہ میرے بعد بھی ایک بھائی اور تینوں چھوٹی بہنوں کے رشتے امی نے اپنی پسند سے خود ہی طے کیے تھے۔ میں اپنے اباجی کی اتنی لاڈلی تھی‘ آج بھی یہ تصور کرکے میں ہوائوں میں اڑنے لگتی ہوں۔ میرے شوہر اکثر مجھے چھیڑتے ہیں کہ تم اپنے ابا جی کی لاڈلی نہیں تھیں اگر واقعی چہیتی ہوتی تو کبھی میرے پلے نہیں باندھتے۔ الحمدللہ میں ابا جی کی تمام اولاد میں سب سے زیادہ مطمئن اور خوش حال ہوں۔ جس وقت میری شادی ہوئی ابا جی وفاقی وزیر تھے۔ شادی سے ایک دن پہلے کراچی تشریف لائے اور ولیمے کے اگلے دن واپس اسلام آباد چلے گئے۔ شادی جنوری میں ہوئی تھی‘ سردی‘ ہار پھول اور روایتی دلہن کی تھکن کے سبب مجھے شادی کے اگلے دن نزلہ اور کھانسی کے ساتھ بخار ہو گیا۔ ابا جی کو پتا چلا تو بے چین ہوگئے۔ روز اسلام آباد سے فون کرکے میری خیریت معلوم کرتے۔ ان کا روز فون کرنا مجھے احساس دلاتا کہ میرے ابا جی کتنے شفییق باپ اور میں کتنی خوش نصیب بیٹی ہوں۔
ابا جی شفیق ہی نہیں بہت ذمے دار باپ بھی تھے۔ بہت سے واقعات میں اس دعوے کی دلیل کے طور پر میں بیان کر سکتی ہوں مگر یہاں میں صرف دو واقعات کا تذکرہ کروں گی۔ عام خیال ہے کہ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے قدامت پسند ہوتے ہیں جب کہ میرا تجربہ ہے کہ اہلِ جماعت روشن خیال اور ترقی پسند ہوتے ہیں بشرطیکہ روشن خیالی کا مطلب بے راہ روی اور ترقی پسندی کے معنی مادر در آزادی نہ ہو۔ یہ نومبر 1967 کی بات ہے۔ کراچی میں پاکستان ٹیلی ویژن کی نشریات کا آغاز ہوا تھا۔ اہلِ وطن کے وسائل محدود اور خواہشات بے لگام نہیں ہوئی تھیں۔ پورے محلے میں ایک دو گھروں میں ہی ٹی وی سیٹ ہوتے تھے۔ اہل محلہ کے دل بڑے اور نخرے کم تھے۔ محلے کے بزرگ اور بچے سانجھے ہوتے تھے۔ جس گھر میں ٹی وی سیٹ ہوتا شام چھ بجے سے رات نو بجے تک پورا محلہ اُس گھر میں سمٹ آتا۔ بڑوں میں لحاظ اور بچوں میں تمیز باقی تھا۔ پرانی روایتی اور خاندانی رواداری قائم تھیں۔ ابا جی ایک ٹی وی سیٹ کا کاروبار کرنے والے ادارے رضوی برادرز میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے اس کے باوجود ہمارے گھر میں ٹی وی سیٹ نہیں تھا۔ عام خیال تھا کہ ٹی وی فروخت کرنے والے ادارے میں کام کرنے کے باوجود گھر میں ٹی وی نہ ہونے کی وجہ روایتی قدامت پسندی ہے جب کہ اس کی اصل وجہ ابا جی کی آمدنی سے زیادہ ان کی ذمے داریاں تھیں۔ ابا جی اپنے گھر کے علاوہ پورے خاندان کی خاموشی سے حسب ضرورت کفالت کرتے تھے۔ بات کہاں سے کہاں چلی گئی۔ ہاں تو میں تذکرہ کر رہی تھی گھر میں ٹی وی سیٹ کا۔ ہمارے گھر ٹی وی نہیں تھا اس لیے ہم بہن بھائی بھی محلے کے دوسرے بچوں کی طرح پڑوس کی خالہ کے گھر ٹی وی دیکھنے چلے جاتے تھے مگر صرف چھ سے سات بجے تک۔ ایک دن اتفاق سے ابا جی کسی وجہ سے گھر پر ہی تھے۔ ہم بہن بھائی پڑوس کی خالہ کے ہاں جاتے وقت امی کو بتا گئے کہ ہم ٹی وی دیکھنے جارہے ہیں۔ غالباً ابا جی نے یہ جملہ سن لیا ہوگا کیوں کہ اگلے دن شام چھ بجے ہم پڑوس کی خالہ کے گھر نہیں گئے بلکہ پڑوس کے بہت سارے بچے ہمارے نئے ٹی وی سیٹ کے سامنے بیٹھے تھے۔ ابا جی کو گوارہ نہیں ہوا کہ ان کی اولاد کسی اور کے گھر جا کر اپنے شوق پورے کرے۔
ابا جی کی شفقت اور ذمے داری کا ایک اور دل چسپ واقعہ میری سب سے چھوٹی بہن عظمیٰ سے وابستہ ہے۔ جب میری سب سے بڑی بہن شادی کے بعد میکے رہنے آئیں تو ان کے پرس میں لپ اسٹک تھی۔ عظمیٰ غالباً تین یا چار سال کی ہوگی‘ اس نے عفت باجی سے لپ اسٹک لی اور اپنے لگا لی۔ پھر اس کو شوق ہوا کہ لپ اسٹک لگا کے دیکھا جائے کہ کیسی لگی ہوں۔ ہمارے گھر میں کوئی سنگھار میز نہیں تھی۔ آئینہ صرف اور صرف باتھ روم میں بیسن کے اوپر لگا ہوتا تھا۔ وہاں تک وہ پہنچ نہیں سکتی تھی۔ اب بے چاری بچی کیا کرتی اس کو یاد آیا کہ ابا جی کے کمرے کی الماری کے ایک پٹ میں اندر کی طرف قد آدم آئینہ لگا ہوا ہے لہٰذا وہ ابا جی کے کمرے میں گئی اور اپنے آپ کو دیکھنے لگی۔ ابھی وہ لپ اسٹک لگے اپنے ہونٹوں کو اچھی طرح دیکھ بھی نہیں پائی تھی کہ گیٹ کھلا وہ سمجھی ابا جی آگئے‘ اس نے جلدی سے الماری میں لٹکی ہوئی ابا جی کی شیروانی سے اپنے ہونٹ صاف کیے اور گھر کے اندر بھاگ کے آگئی۔ اگر وہ لپ اسٹک صاف کیے بغیر بھی آجاتی تو کیا تھا مگر بچہ تو بچہ ہی ہوتا ہے اور اسے کہتے ہیں بچپنا۔ اگلے دن ابا جی نے اپنی شیروانی پہ جب سرخ نشان دیکھے تو سمجھ گئے کہ کیا ہوا ہے کیوں کہ وہ اس دن عظمیٰ کو اپنے کمرے سے بھاگ کے جاتے ہوئے دیکھ چکے تھے اور انہوں نے اپنی الماری کا دروازہ بھی کھلا ہوا پایا۔ ایک شفیق باپ کو اپنی ننھی سی بیٹی پہ بہت پیار آیا اور ایک ذمے دار باپ اگلے دن اپنی بیٹیوں کے لیے سنگھار میز لے آیا۔
میں اپنے ابا جی کی کیا کیا بات کروں… میرا ایک ایک آنسو ان کی محبت کی داستان سنا رہا ہے۔ ابا جی آپ نے ہماری تربیت اس طرح کی کہ ہمارے دل میں نہ کوئی خواہش رہی نہ تمنا۔ اگر دل کو کچھ خاص ہوا تو صرف اور صرف اطمینان اور ہر حالت میں رب کا شکر ادا کرنا۔ اس وقت بھی میں اپنے رب کا شکر ادا کرنا چاہتی ہوں کہ اس نے مجھے آپ کی بیٹی بنایا۔ میں آپ کی شفقت کا قرض کبھی ادا نہیں کر پائوں گی۔