December 11th, 2019 (1441ربيع الثاني14)

جماعت اسلامی کا روشن ستارہ

حافظ محمد ادریس

پروفیسر غفور احمدؒ بھی اللہ کو پیارے ہوگئے۔ ان جیسی شخصیات پوری ملت کا سرمایہ اور اپنے دور ہی کے لیے نہیں، آنے والی نسلوں کے لیے بھی روشنی کا منبع ہوتی ہیں۔ پروفیسر صاحب نے پچّاسی سال عمر پائی، اور جب سے ہم نے ان کو دیکھا انھیں ہرلمحہ اللہ کی اطاعت اور خلقِ خدا کی خدمت و خیر خواہی میں مصروف پایا۔ پروفیسر صاحب سے غائبانہ تعارف روزنامہ ’’تسنیم‘‘لاہور کے ذریعے اُس وقت ہوا تھا جب میں اسکول کی ابتدائی کلاسوں میں پڑھتا تھا۔ 1958ء میں کراچی کے بلدیاتی انتخابات ہوئے جن کے نتائج تسنیم اخبار نے چھاپے۔ یاد پڑتا ہے کہ یہ انتخابات کئی مرحلوں میں بتدریج مکمل ہوئے تھے، اس میں جماعت اسلامی کے لوگوں کی کامیابی کی خبر ہمارے گھر میں بڑی خوشخبری کے مترادف تھی۔ مجھے یاد ہے کہ ان کونسلرز میں پروفیسر غفور احمد صاحب کا بھی نام تھا۔ دیگر کئی نام بھی لوحِ حافظہ پر موجود ہیں۔
بھولی بسری یادیں:
یہ واقعہ کافی پرانا ہے مگر دو وجوہات سے ذہن میں محفوظ ہے۔ ایک تو یہ کہ میرے تایا جی، حافظ غلام محی الدین مرحوم و مغفور نے مجلس میں یہ خبر پڑھ کر سنائی۔ ساتھ ہی متفکر انداز میں کہا کہ ایک جانب تو یہ عظیم کامیابی ہمارے لیے بڑی خوشی کی بات ہے مگر دوسری جانب یہ خدشات بھی ہیں کہ حکمرانوں کو پاکستان کے دارالحکومت (اُس زمانے میں کراچی ہی دارالحکومت تھا) میں جماعت اسلامی کی یہ کامیابی ہضم نہیں ہوسکے گی۔ معلوم نہیں شرپسند قوتیں کیا کیا سازشیں کریں گی۔ پھر عملاً ایسا ہی ہوا۔ کچھ عرصہ بعد ملک میں مارشل لا لگ گیا۔ ایوب خان نے سیاست اور سیاسی جماعتوں کی بساط ہی لپیٹ کر رکھ دی۔ اسی مجلس میں پروفیسر صاحب کا نام ’’غفور احمد‘‘بھی زیرِ بحث آیا کہ یہ عبدالغفور احمد ہونا چاہیے۔ مجھے کچھ زیادہ شعور نہیں تھا کہ نام کے متعلق یہ تبصرہ کیوں ہوا ہے، لیکن بزرگوں کے تبادلہ خیال کا یہ پہلو بھی یادوں میں محفوظ ہے۔ بعد کے ادوار میں پروفیسر غفور صاحب کے نام کو دونوں طرح سے بولا، لکھا اور پڑھا جاتا تھا۔ غفور احمد بھی اور عبدالغفور احمد بھی، مگر ان کا پیدائشی نام غفور احمد ہی تھا۔
خاندان:
پروفیسر صاحب نے بانس بریلی (یوپی، بھارت) کے ایک متوسط گھرانے میں آنکھ کھولی۔ آپ سے چھوٹے آپ کے ایک بھائی تھے اور دو بہنیں تھیں۔ پروفیسر صاحب کی رحلت کے موقع پر آپ کے بھائی حبیب احمد اور ایک ہمشیرہ زندہ ہیں جبکہ ایک بہن وفات پاچکی ہیں۔ پروفیسر صاحب نے بریلی، آگرہ اور لکھنؤ میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ پروفیسر صاحب جماعت اسلامی کے ایک اور عظیم راہ نما اور سابق امیر جماعت کراچی جناب حکیم صادق حسین مرحوم کے بہنوئی تھے۔ پروفیسر صاحب کی شادی محترمہ صدیقہ صاحبہ سے 1948ء میں ہوئی۔ میاں بیوی مثالی جوڑا تھے۔ ان کو اللہ نے تین بیٹے اور چھ بیٹیاںعطا فرمائیں۔ ماشاء اللہ سبھی اپنے گھروں میں آباد ہیں۔ بڑے بیٹے طارق فوزی اور چھوٹے شعیب اعزاز کراچی میں مقیم ہیں، جبکہ منجھلے بیٹے خالد شجاع کینیڈا میں رہتے ہیں۔ پروفیسر صاحب کی صاحبزادیاں عفت اقبال، عشرت اقرار، رخشندہ رشید، فرخندہ شہاب، فوقیت پرویز اور عظمیٰ محمد، سبھی کراچی میں مقیم ہیں۔
پروفیسر صاحب جماعت اسلامی کا روشن ستارا اور جماعت کی قیادت میں ایک نہایت بیش قیمت ہیرا تھے۔ ان کے خاندان میں یوں تو ان کے سبھی بچے بچیاں جماعت کے ساتھ کم یا زیادہ وابستہ ہیں مگر ان سب میں سے ان کے ایک پوتے عزیزم حسن حماد فوزی ہی تحریک کی اگلی صفوں میں آئے۔ وہ کراچی میں اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کے ناظم رہے اور اب جماعت میں سرگرمِ عمل ہیں۔ اللہ اس عزیز کو ثابت قدمی سے اپنے عظیم دادا جان کے نقوشِ پا پہ چلتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ مرحوم کے تعلق داروں میں جو ان کی فکر سے یکسر مختلف سوچ اور عمل کے حامل ہیں، ان کی تلافی ہوسکے۔
زندگی کے مراحل، ایک جھلک:
پروفیسر صاحب نے اپنے بچپن سے لے کر بڑھاپے تک ایک منظم، مربوط اور بھرپور زندگی گزاری۔ آپ کی زندگی کی ایک جھلک ذیل میں بطورِ خلاصہ دی جارہی ہے:
1۔تاریخ اور جائے پیدائش 1جون1927ء بریلی یوپی، ہندوستان۔ پاکستان ہجرت 1949ء (کراچی)
2۔ تعلیم(الف) ابتدائی تعلیم سے انٹر تک بریلی1944ء، (ب) بی کام آگرہ یونیورسٹی 1946ء، (ج) ایم کام لکھنؤ یونیورسٹی 1948ء۔
3۔ شادی خانہ آبادی 1948ء میں۔ رفیقہ حیات: صدیقہ غفور
4۔ملازمت (الف)لیکچرراسلامیہ کالج، لکھنؤ 1948ء۔ 1949ء۔ (ب) لیکچرر اردو کالج 1955ء تا 1956ء … 1958ء تا 1961ء۔ (ج) دیگر تعلیمی مناصب:
i۔فیلوشپ، انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل اکائونٹنٹس
ii۔فیلوشپ انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکائونٹنٹس
iii۔ فیلو شپ، جناح انسٹی ٹیوٹ آف انڈسٹریل اکائونٹنٹس
5۔ جماعت اسلامی میں خدمات:
i۔ رکنیت جماعت 1950ء ، کراچی
ii۔امیر جماعت اسلامی کراچی، فروری1972ء تا اکتوبر 1977ء
iii۔ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان،1978ء تا 2012ء
6۔ سیاسی خدمات:
i۔ منتخب کونسلر و سیکرٹری بلدیہ کراچی 1958ء
ii۔منتخب رکن قومی اسمبلی 1970ء و 1977ء
iii۔رکن دستور ساز کمیٹی 1973ء
iv۔ سیکرٹری جنرل متحدہ جمہوری محاذ (یو ڈی ایف)1973ء
v۔ سیکرٹری جنرل پاکستان قومی اتحاد(پی این اے)1977ء
vi۔وفاقی وزیر صنعت و پیداوار 1978ء
vii۔سیکرٹری جنرل اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) 1988ء
viii۔ممبر سینیٹ آف پاکستان 2002ء تا 2005ء
بالمشافہ ملاقات:
پروفیسر صاحب کو بالمشافہ 1968ء میں دیکھا۔ اس زمانے میں جماعت اسلامی کراچی کا دفتر آرام باغ میں تھا۔ چودھری غلام محمد مرحوم کراچی کے امیر اور برادرِ گرامی قدر سید منورحسن قیم تھے۔ دفتری عملے میں سے رجب علی صاحب اور محمد مسلم صاحب سے تعارف تھا۔ مختلف بزرگوں کو دفتر میں دیکھا تو ان احباب سے ان کے بارے میں پوچھا۔ اسی زمانے میں حکیم صادق حسین، حکیم اقبال حسین، پروفیسر غفور احمد اور صابرحسین شرفی صاحب کو قدرے دور سے دیکھا تھا۔ دور سے ان معنوں میں کہ ان کا تعارف تو مجھ سے ہوگیا، اُس وقت میرا تعارف اُن سے نہ ہوسکا، میں لاہور جمعیت کا ناظم تھا اور مرکزی شوریٰ کا رکن بھی، مگر یہ کوئی ایسا اعزاز نہیں تھا کہ ان قائدین سے متعارف ہوتا۔ البتہ بڑی خوشی کی بات یہ تھی کہ چودھری غلام محمد مرحوم نے کمال شفقت و محبت سے مجھ سے میرے تعارف اور ذمہ داری کے بارے میں استفسار فرمایا۔ کیا پیاری شخصیات تھیں۔ اللہ ان سب کو غریق رحمت فرمائے۔
ذاتی تعارف:
پروفیسر غفور صاحب سے براہِ راست ذاتی تعارف 1972ء میں ہوا۔ 5-A ذیلدار پارک اچھرہ لاہور میں سردیوں کی ایک دوپہر کو اسلام آباد سے تشریف لائے۔ مجھے صاحبزادہ محمد ابراہیم صاحب کے ساتھ ان سے ملنے کا شرف حاصل ہوا اور باہمی تعارف بھی ہوا۔ پروفیسر صاحب ان دنوں اسلام آباد میں قومی اسمبلی کا اجلاس اٹینڈ کرکے آئے تھے۔ مرکز جماعت میں کم و بیش تمام مرکزی ذمہ داران موجود تھے۔ پروفیسر صاحب نے مولانا کو ان کے کمرے میں جاکر اسمبلی کے حالات و واقعات کی بریفنگ دی۔ پروفیسر صاحب جماعت کے چار رکنی پارلیمانی گروپ کے لیڈر تھے۔ مجھے یاد ہے کہ پروفیسر صاحب مولانا سے ملاقات کے بعد باہر نکلے تو میں نے آگے بڑھ کر ان کا استقبال کیا اور اپنا نام بتایا تو میرا ہاتھ چھوڑنے سے پہلے اپنی دائمی مسکراہٹ اور شیرینی کے ساتھ مجھ سے پوچھا: ’’اچھا تو آپ آج کل کیا کررہے ہیں؟‘‘ میں نے عرض کیا: ’’کوئی خاص کام تو نہیں کررہا، البتہ گجرات میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام چھپنے والے ایک ہفت روزہ رسالے ’’الحدید‘‘ کی نگرانی کررہا ہوں۔‘‘ پھر پوچھا: ’’آپ نے کس مضمون میں ایم۔ اے کیا ہے؟‘‘ عرض کیا ’’میں نے عربی اور علومِ اسلامیہ میں ماسٹر کیا ہے۔‘‘ فرمانے لگے: ’’پی۔ ایچ۔ ڈی کرلو۔‘‘ میں نے کہا: ’’ارادہ تو ہے مگر پی۔ ایچ۔ ڈی کرنے کے بعد کیا فرق پڑے گا سوائے اس کے کہ نام کے ساتھ ڈاکٹر لگ جائے گا۔‘‘
بزرگوں کے چٹکلے:
مرکز جماعت میں اُس زمانے میں جو بزرگ ذمہ داریاں ادا کررہے تھے، ہر ایک اپنی اپنی ذات میں انجمن اور منفرد شخصیت کا حامل تھا۔ شیخ فقیر حسین صاحب بڑے بذلہ سنج اور نکتہ طراز تھے۔ قبل اس کے کہ پروفیسر صاحب مجھے کوئی جواب دیتے، شیخ صاحب نے جو پاس ہی کھڑے ہوئے تھے، فرمایا: ’’فائدہ تو بہت ہوگا، پروفیسر صاحب کو دیکھیے، چند سال کالج میں پڑھایا اور اب پروفیسری مستقل طور پر ان کے نام کا حصہ ہے۔ آپ بھی مستقل ڈاکٹر صاحب بن جائیں گے‘‘۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ شیخ صاحب محترم پروفیسر صاحب سے اتنے بے تکلف ہیں۔ بعد کے ادوار میں کئی مواقع پر یہ عقدے مزید کھلتے چلے گئے۔ بہرحال اس موقع پر سید صدیق الحسن گیلانی صاحب اور خود پروفیسر صاحب کھلکھلا کر ہنسے۔ پروفیسر صاحب نے مجھ سے فرمایا: ’’تمھارے متعلق میں نے کچھ خبریں پڑھی تھیں، جب تم جمعیت میں تھے۔‘‘ میں نے عرض کیا: ’’جمعیت کے دور میں مَیں کراچی میں آپ سے ملا تھا مگر اُس وقت کوئی تعارف نہیں ہوسکا تھا۔‘‘ فرمایا: ’’کیوں تعارف نہیں کروایا تھا؟، تعارف تو کروانا چاہیے تھا۔‘‘ پروفیسر صاحب کے ہر فقرے اور لفظ میں عظمت کی جھلک تھی کہ ایک بڑا آدمی معمولی کارکنانِ جماعت کے ساتھ کس قدر محبت و اپنائیت کا اظہار کررہا تھا۔
پیار بھری شخصیت:
مرکزِ جماعت میں ملاقات کا وہ دن اور آخری لمحات، پروفیسر صاحب کے ساتھ اس تعلق، محبت اور عقیدت میں ہمیشہ اضافہ ہی ہوا۔ 1974ء میں مَیں لاہور سے کراچی اور کراچی سے جدہ روانہ ہوا۔ پھر وہاں سے عازمِ نیروبی ہوا۔ اُن دنوں نیروبی اور جدہ سے براہِ راست لاہور کی پروازیں نہیں ہوا کرتی تھیں۔ کراچی ہی کے راستے جانا اور آنا ہوتا تھا۔ کراچی میں قیام ہوتا تو سید منورحسن میرے میزبان ہوتے جو اُس زمانے میں تنہا نعمت اللہ خان صاحب کے مکان کے ایک حصے میں مقیم تھے۔ اس زمانے میں غفور صاحب کراچی جماعت کے امیر تھے۔ ان سے مزید ملاقاتیں جاری رہیں۔ ہر مرتبہ یہ احساس ہوا کہ وہ بے انتہا محبت کرنے والے بزرگ اور مربی ہیں۔ ان سے محبت خودبخود دل میں پیدا ہوتی اور ہر لمحے اس میں اضافہ ہی ہوتا تھا۔ یہ میرا ذاتی تجربہ اور وجدان ہے۔ وہ علامہ اقبال کے اس شعر کا مصداق تھے ۔
نرم دمِ گفتگو گرم دمِ جستجو
رزم ہو کہ بزم ہو ، پاک دل و پاک باز
کلیدی کردار:
اسی زمانے میں 1973ء کے دستور کا ابتدائی خاکہ حکومت کی طرف سے قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا۔ پروفیسر صاحب اس دستوری دستاویز پر بحث میں حصہ لینے اور دستوری امور کو حتمی شکل دینے کے لیے خود بھی تیاری کررہے تھے اور مختلف ماہرینِ قانون و دستور سے بھی ملاقاتیں کررہے تھے۔ وہ ہر وقت رواں دواں رہنے اور کبھی ہتھیار نہ ڈالنے والے انتھک مجاہد تھے۔ 1973ء کے دستور میں جتنی اچھی چیزیں نظر آتی ہیں انھیں شامل کروانے میں جماعت اسلامی اور حزب اختلاف کی دیگر دینی اور سیاسی جماعتوں کا بھی بلاشبہ بڑا اہم کردار ہے، مگر بنیادی مسودے میں ترمیمات اور حتمی آئین میں دفعات کی فقرے بندی پروفیسر صاحب کی قابلیت و مہارت کی مرہونِ منت تھی۔ وہ دستوری کمیٹی کے اہم اور متحرک ترین رکن تھے۔ میں تو کہتا ہوں کہ اس متفقہ دستور کی تدوین میں پروفیسر صاحب مرحوم و مغفور کا کلیدی کردار ہے۔ 1973ء کے دستور کا جب بھی حوالہ دیا جائے، میرے ذہن میں پروفیسر صاحب کا نام گونجنے لگتا ہے۔
نام و نمود سے پرہیز :
پروفیسر صاحب میں بڑی خوبیاں تھیں۔ وہ مرنجاں مرنج تھے، اپنی بے پناہ صلاحیتوں، شہرت، مقبولیت اور قابلیت کے باوجود ان کے اندر انکسار کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ خوراک اتنی کم تھی کہ بعض اوقات تعجب ہوتا تھا کہ اس قدر بھاگ دوڑ کرنے اور فعّالیت کے ساتھ بلا تاخیر ہر اجلاس اور پروگرام میں پہنچنے والے یہ قائد اتنی کم خوراک کے ساتھ کیسے اتنی بھاگ دوڑ کرتے ہیں! بہرحال اپنی آخری بیماری سے قبل وہ ہر لحاظ سے توانا اور فِٹ تھے۔ ان کے اندر بے پناہ قوتِ ارادی تھی۔ نام و نمود اور نمائش سے ہمیشہ مجتنب رہے۔ پنجاب کے دور دراز اضلاع میں بھی ان کے ساتھ جانے کا اتفاق ہوا، بار کونسلوں اور پریس کانفرنسوں سے خطاب کرتے تو ان کا تعارف کرواتے ہوئے جب مقامی احباب تعریف و تحسین کے الفاظ استعمال کرتے تو وہ انھیں منع کردیتے اور فرماتے کہ پروگرام شروع کرائو۔
کوزے میں دریا:
پروفیسروں اور دانشوروںسے گفتگو ہو یا وکلا و صحافیوں کے سامنے اظہارِ خیال، جلسہ عام ہویا احتجاجی مظاہرہ، پروفیسر صاحب دس پندرہ منٹ میں اپنا پورا مافی الضمیر بیان کر دیتے اور متعلقہ موضوع پر کوئی تشنگی نہ رہنے دیتے۔ صحافیوں کے ہر سوال کا جواب بھی ان کی طرف سے نپاتلا اور نہایت جامع ہوتا تھا۔ شوریٰ کے اجلاسوں میں خاموشی کے ساتھ بیٹھتے اور اپنی باری پر اپنی رائے کا اظہار یوں کرتے کہ کوزے میں دریا بند کردینے کا محاورہ مجسم صورت میں حقیقت کا روپ دھارتا نظر آتا۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپنی رکنیت کے دوران انھوں نے جس بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اس کا ہر شخص معترف ہے۔ ان کی تقاریر میں کوئی شورو ہنگامہ نہیں ہوا کرتا تھا بلکہ اپنی عظیم شخصیت اور مرتبے کے عین مطابق وہ پُرمغز نکات اٹھاتے اور ہر مؤقف مضبوط استدلال کے ساتھ پیش کرتے۔ 1973ء کے دستور کی منظوری کے دور میں ڈاکٹر نذیر احمد تو شہید ہوچکے تھے اور جماعت کے صرف تین ارکان اسمبلی میں رہ گئے تھے، مگر اللہ کے فضل سے جماعت کا وزن اسمبلی کے اندر اور باہر ہر جگہ مسلّم تھا۔ ان ارکان میں پروفیسر صاحب کے علاوہ محمود اعظم فاروقی صاحب (کراچی) اور صاحبزادہ صفی اللہ صاحب تھے جو دیر سے منتخب ہوئے تھے۔
بزرگ صحافی:
پیپلزپارٹی کو 1970ء والی اسمبلی کے اندر، بچے کھچے پاکستان میں بہت بڑی اکثریت حاصل تھی اور ان کے بیشتر ارکان انتہائی زبان دراز بلکہ منہ پھٹ تھے۔ اس کے باوجود اسمبلی کا ریکارڈ گواہ ہے کہ پروفیسر صاحب کی گفتگو کے دوران ایوان میں پُروقار ماحول پیدا ہوجاتا تھا۔ سبھی ان کی بات غور سے سنتے اور ان کا احترام کرتے تھے۔ اس زمانے میں ملک کے مشہور اور بزرگ صحافی مصطفی صادق مرحوم اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے اجلاس کی جھلکیاں دیکھ کر آئے تو 5-A ذیلدار پارک میں مولانا مودودیؒ سے ملاقات کے لیے حاضر ہوئے۔ انھوں نے مولانا سے کہا: ’’مولانا ایوان میں بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو ملیں مگر سچی بات یہ ہے کہ اگر کسی رکن کی کسی بات میں وزن اور تاثیر تھی تو یہ وہی ارکان تھے جو جماعت کی تربیت گاہوں سے ہوکر نکلے۔‘‘ پروفیسر غفور صاحب اور محمود اعظم فاروقی صاحب کابالخصوص تذکرہ کرنے کے بعد مصطفی صادق نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ جماعت کو چھوڑ کر چلے گئے مگر پیپلز پارٹی کے دو ارکان اسمبلی رائو خورشید علی خان اور کوثر نیازی بھی جب بات کرتے تو محسوس ہوتا کہ انھیں بات کرنے کا ڈھنگ اور سلیقہ آتا ہے۔
مذہب اور مسلک:
پروفیسر صاحب اپنے احباب سے ہر موضوع پر بے تکلفی سے بات چیت کیا کرتے تھے۔ میرے ساتھ ایک مرتبہ ننکانہ صاحب کے دورے پر تھے۔ وہاں ہم لوگ سکھوں کا گوردوارہ دیکھنے کے لیے بھی چلے گئے۔ ایک نوجوان لڑکی مرکزی مسند پر بیٹھی گرنتھ صاحب کا مطالعہ کر رہی تھی۔ وہ اپنی ’’مقدس کتاب‘‘ میں یوں منہمک اور کھوئی ہوئی تھی کہ لوگوں کی آمد پر ذرہ بھر بھی اپنی توجہ اوراق سے اِدھر اُدھر نہ ہونے دی۔ پروفیسر صاحب نے فرمایا: ’’یہ مذہب انسان کے لیے امرت دھارا ہے۔ خواہ وہ حق ہو یا باطل، اپنے پیروکاروں میں ایسی وارفتگی پیداکردیتا ہے کہ مذہب بیزار اور سیکولر عناصراسے سمجھ ہی نہیں سکتے۔ اس سفر میں بار کونسل میں آپ سے سوال ہوا کہ جماعت اسلامی کے اندر محض اہلِ حدیث اور دیوبندی ہی کیوں آتے ہیں؟ آپ نے مسکراتے ہوئے اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں فرمایا ’’تمھیں یہ کس نے کہا کہ صرف اہلِ حدیث اور دیوبندی ہی جماعت میں آتے ہیں؟ مجھے دیکھو، میں اصلی بریلوی ہوں۔‘‘ ان کا اشارہ اپنے مولد بریلی کی طرف تھا۔ ہم سب لوگ اس جواب سے بہت محظوظ ہوئے۔
نوجوان قیادت ؟:
پروفیسر صاحب کی بے تکلفی کا ایک اور واقعہ بھی یاد آرہا ہے۔ ایک بار فرمایا: عوامی جذبات کا بھی اپنا ہی رنگ اور اسلوب ہوتا ہے۔ اس کا پسِ منظر یہ تھا کہ کراچی میں جماعت کی امارت کے منصب پر پروفیسر صاحب سے قبل جناب صادق حسین مرحوم فائز تھے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے، دونوں کا آپس میں قریبی خاندانی تعلق بھی تھا۔ صادق حسین صاحب کی جگہ پروفیسر صاحب کا تقرر ہوا تو کئی کارکنان نے نعرے لگائے ’’خوش آمدید، نوجوان قیادت خوش آمدید۔‘‘ پروفیسر صاحب مسکراتے ہوئے خود یہ واقعہ سنا کر فرمانے لگے کہ حقیقت میں صادق حسین صاحب مجھ سے عمر میں چھوٹے تھے مگر یار لوگوں کااپنا ہی انداز اور ڈھب ہوتا ہے۔ انھوں نے ایک مرتبہ بیان فرمایا کہ میں اپنے دفتر سے مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے گیا۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد دیکھا تو میرے جوتے غائب تھے۔ میں ننگے پائوں ہی دفتر کی طرف چل پڑا۔ راستے میں کئی لوگ مجھے ملے مگر کسی نے بھی میرے پائوں کی طرف نہیں دیکھا، نہ کہا کہ تم ننگے پائوں کیوں جارہے ہو۔ اس واقعہ میں بھی پروفیسر صاحب کی مومنانہ سادگی اور درویشی کی جھلک نظر آتی ہے۔
قدرِ مشترک:
برسبیل تذکرہ ہماری منصورہ کی مسجد میں بہت زیادہ نمازی ہوتے ہیں اور اکثر و بیشتر آس پاس کی بستیوں سے آنے والے ’’ضرورت مند‘‘ حسب ضرورت و پسند بے چارے نمازیوں کے جوتے پہن کر غائب ہوجاتے ہیں۔ اپنی اس مسجد میں بھی پروفیسر صاحب اور یہ راقم کافی مرتبہ اس حادثے سے متاثر ہوئے۔ میں نے ایک دن پروفیسر صاحب کو اپنی آپ بیتی سنائی کہ میرے بچگان میں سے بعض کے جوتے یکے بعد دیگرے اٹھائے گئے تو میں نے انھیں لعن طعن کی کہ ہر روز تمھارے ہی جوتے گم ہونے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد تو خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ میرے جوتے بھی غائب ہونے لگے اور کئی مرتبہ خطبہ جمعہ سے فارغ ہوا تو معلوم ہوا کہ پاپوش ندارد۔ پروفیسر صاحب نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ بھائی میں نے تو کبھی کسی کو ڈانٹا بھی نہیں نہ کبھی لعن طعن کی ہے، اس کے باوجود میرے جوتے غائب ہوجاتے ہیں۔
’’جیتے رہو‘‘!
پروفیسر صاحب مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاسوں میں میرے ساتھ والی نشست پر تشریف فرما ہوتے تھے۔ کبھی کبھار سیاسی موضوعات پر کسی قرار داد کا متن منظوری سے پہلے پڑھ رہے ہوتے تو مجھ سے کسی لفظ کے بارے میں پوچھتے۔ میں عرض کرتا کہ آپ تو اہلِ زبان ہیں۔ فرماتے کہ نہیں آپ بھی زبان کو جانتے ہیں۔ میں کئی مرتبہ پروفیسر صاحب کو ملتے ہوئے ادب و احترام سے ان کے گٹھنے چھوتا تو گٹھنے پیچھے کرکے میرے شانوں پر ہاتھ رکھ کر دعا دیتے کہ ’’جیتے رہو۔‘‘ مرحوم کے یہ الفاظ ’’جیتے رہو‘‘ اتنے پیار بھرے لہجے اور محبت کے انداز میں سماعت نواز ہوتے تھے کہ ان کی بازگشت اب تک سنائی دیتی ہے۔ 26 دسمبر کو اپنے اس عظیم محسن کو بستر پر جامد و ساکت دیکھا تو آنکھیں تر ہوگئیں۔ وہ پیار بھری دعا شدت سے یاد آئی۔
بڑا دل، بڑا گھر:
پروفیسر صاحب ہندوستان سے 1948ء میں ہجرت کرکے پاکستان آئے۔ ان کا قیام کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں تھا۔ بعد میں مرحوم نے فیڈرل بی ایریا میں ایک بڑا گھر جو 1200گز کے رقبے پر تھا، بنالیا۔ یہاں جماعت اسلامی کراچی کا اجتماعِ ارکان بھی ہوجایا کرتا تھا اور دیگر پروگرام بھی بطریق احسن منعقد ہوجاتے تھے، ان کے گھر کے سامنے بہت کھلی اور پُر سکون سڑک بھی تھی اور قریب کچھ فاصلے پر پارک بھی تھا۔ مولانا جان محمد عباسی مرحوم کی یاد میں جو جلسہ منعقد ہوا، وہ ان کے گھر پر ہی ہوا تھا۔ اس گھر میں جماعت کے تمام اکابر آتے رہے اور قیام کرتے رہے۔ یہاں دیگر جماعتوں کے راہ نما بھی آیا کرتے تھے۔ کئی اتحاد بھی یہاں وجود میں آئے۔ ڈاکٹر نذیر احمد شہید نے بھی رکن اسمبلی منتخب ہونے کے بعد کراچی کا دورہ کیا تو دو ہفتے اس گھر میں قیام فرمایا۔ بعد میں غفور صاحب چھوٹے مکان میں منتقل ہو گئے۔
حق کے راہی:
پروفیسر صاحب پورے ملک میں اپنوں اور بیگانوں سبھی کے نزدیک مقبول و محترم تھے۔ ان کی شخصیت ایسی تھی کہ ان سے لوگ بے ساختہ متاثر ہوتے اور ادب واحترام کا مظاہرہ کرتے تھے۔ کراچی جیسے محبتوں کے مرکز کی بد قسمتی دیکھیے کہ جب یہاں نفرتوں کے لاوے ابلے اور لسانی بنیادوں پر فتنہ پردازوں نے کراچی کو حکومتی سرپرستی میں یرغمال بنایا تو کیا کیا حادثے رونما ہوئے۔ یہ فرشتہ صفت راہ نما (جو خود اردو بولنے والے تھے) بھی بدزبان اور بد قماش لونڈوں کے ہاتھوں ’’ٹھاہ ٹھاہ‘‘ کے نازیبا نعرے سننے پر مجبور ہوئے۔ ایک مرتبہ خود بیان فرمایا کہ میں جب گھر سے مسجد کی جانب نکلتا ہوں یا واپس آرہا ہوتا ہوں تو وہی نوجوان جو کبھی جھک کر مجھے سلام کیا کرتے تھے میرا نام بگاڑ کر ٹھاہ ٹھاہ کا ورد کرتے ہیں۔ پروفیسر صاحب اس منظر میں بھی مسکراتے ہوئے گزر جاتے تھے۔ ظالموں نے تو اللہ کے نبیوں کو اور خود ختم المرسلین کو بھی نہ بخشا تھا۔ اہلِ حق کو ان منزلوں سے گزرنا ہی پڑتا ہے۔ آج وہ عظیم راہ نما جنت کے باغوں میں بھی اللہ کی رحمت سے مسکرا رہا ہوگا اور اس کی توہین کرنے والے سرحد کے اس پار جائیں گے تو خدا معلوم کیا انجام ہوگا۔ اللہ سب پر رحم فرمائے اور سب کو ہدایت دے۔ کراچی کو شیاطین کی نظرِ بد نے محبت کے زمزموں کی جگہ نفرتوں کے الائو میں بدل دیا ہے!!
خدمت ِاقدس میںحاضریاں:
پروفیسر صاحب سے ان کی بیماری کے دوران پانچ چھ مرتبہ ملنے کے لیے ان کے گھر حاضر ہوا۔ یہ بیماری کافی طویل تھی۔ وہ اس دوران تقریباً چار یا پانچ سال لاہور کا سفر بھی نہ کرسکے۔ بطور نائب امیر و رکن مرکزی شوریٰ کسی اجلاس میں شرکت بھی نہ ہوسکی۔ ان کا حلف بھی کراچی کی شوریٰ کے اجلاس ہی میں ہوسکا۔ دراصل 2008ء میں اپنی اہلیہ محترمہ کی وفات کے بعد وہ مسلسل کمزور ہوتے چلے گئے۔ میں جب بھی کراچی جاتا، پروفیسر صاحب کی خدمت میں ضرور حاضری دیتا۔ آخری ملاقات 25 نومبر کو یعنی ان کی وفات سے ایک ماہ قبل ہوئی۔ اس ملاقات میں وہ ایک لفظ بھی نہ بول سکے۔ میں نے ٹانگیں دبانا چاہیں تو ہاتھ کے اشارے سے سختی سے منع کردیا۔ اس سے قبل جب بھی عیادت کے لیے حاضر ہوا تو بہت خوش ہوئے اور منصورہ کے رفقا کا نام لے لے کر ان کا حال احوال پوچھتے رہے۔ اِس مرتبہ کوئی بات نہ ہوسکی۔ برادرم شعیب نے بتایا کہ اباجی ان دنوں بہت نڈھال ہوگئے ہیں اور اگر سوال جواب یا ان کے سامنے زیادہ بات چیت بھی کی جائے تو ناگواری کا اظہار کرتے ہیں۔
اس ملاقات کے بعد آخری مرتبہ 26 دسمبر کو اپنے اس عظیم راہ نما کی محض زیارت ہی ہوسکی۔ زخمی دل اور نم آلود آنکھوں کے ساتھ جب ان کے گھر جا کر برادرم لیاقت بلوچ، فرید پراچہ اور نظمِ کراچی کے ذمہ داران کے ساتھ ان کے کمرے میں داخل ہواتو اسی مقام پر ان کی چارپائی تھی جہاں اس سے قبل وہ بستر پردراز ہوا کرتے تھے۔ اس سے پچھلی ملاقات میں کم از کم انھوں نے ہاتھ تو ملایا تھا اور آنکھیں کھول کر دیکھا بھی تھا۔ اِس مرتبہ ان سے نہ ہاتھ ملانے کا شرف حاصل ہوا نہ ان کی پیار بھری نگاہیں اٹھ سکیں۔ یہ حسرت ہی رہی۔ اب آخرت میں ہی ملاقات ہوگی۔ اللہ کے اس نیک بندے سے تعلق اور محبت خالصتاً لوجہ اللہ تھی۔ اللہ کا یہ عظیم بندہ دنیوی زندگی میں بھی طے شدہ پروگراموں میں کبھی تاخیر کا روادار نہ ہوا، اس آخری سفر پر تو ہر ایک اپنے طے شدہ لمحے پر لازماً روانہ ہوجاتا ہے۔ آہ! وہ سب کو اداس چھوڑ کر خوشیوں اور نعمتوں کے مسکن کی طرف پرواز کرچکے تھے۔ ایک عظیم انسان تھا جو پوری قوم کا سرمایہ تھا، جس کی تمام طبقات میں عزت اور قدر تھی اور جس کے بارے میں شاعر نے کہا تھا:
وہ بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا