December 10th, 2019 (1441ربيع الثاني12)

ایسے ہوتے ہیں اہل ایمان!

اطہرعلی ہاشمی 

ابھی تو ہم سید ذاکر علی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے الفاظ تلاش ہی کررہے تھے کہ ایک اور بڑا نقصان ہوگیا۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ ذاتی نقصان ہے اور ہم ہی کیا لاکھوں لوگ یہی سمجھتے ہوں گے کہ کوئی اپنا بہت قریبی‘ بہت ہی عزیز اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔
مولانا حسرت موہانی ایک بڑی شخصیت تھے لیکن ساری عمر درویشی میں گزاری۔ ان کے بارے میں معروف ادیب شوکت تھانوی نے جو مضمون لکھا اس کا عنوان تھا ’’ایسے ہوتے ہیں حسرت موہانی‘‘۔عجیب بات ہے کہ ہم نے جب پہلی بار پروفیسر غفور احمد کو دیکھا تو کچھ ایسے ہی تاثرات ہمارے بھی تھے۔ اس زمانے میں پروفیسر غفور احمد کا طوطی بول رہا تھا۔ قومی اسمبلی میں ذوالفقار علی بھٹو کا جواب وہ ہی تھے۔ جب آئین ساز اسمبلی میں 1973ء کا آئین تشکیل پارہا تھا اور صدر بھٹو صاحب ایک ایسا آئین چاہتے تھے جس میں ان کو تمام آمرانہ اختیارات حاصل ہوں‘ ایسے اختیارات جن کے حوالے سے وزیراعظم نواز شریف پر اب تک تنقید کی جارہی ہے کہ وہ امیر المومنین بننا چاہتے تھے‘ ایسا ہی کچھ بھٹو صاحب بھی چاہتے تھے، لیکن پروفیسر غفور احمد جیسی آہنی دیوار اُن کی راہ میں رکاوٹ تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو مخالفت کرنے والوں کو ڈنڈا ڈولی کرکے ایوان سے باہر پھنکوادیا کرتے تھے لیکن پروفیسر غفور احمد کے خلاف ایسی کارروائی کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ یہ اس مردِ درویش کا دبدبہ تھا۔سچ ہی تو کہا ہے علامہ اقبال نے:
خدا کے پاک بندوں کو محکومت میں‘ غلامی میں
زرہ کوئی اگر محفوظ رکھتی ہے تو استغنیٰ
پروفیسر غفور احمد ساری عمر یہ زرہ زیب تن کیے رہے۔ غلام تو وہ صرف اپنے رب کے تھے مگر چند ماہ حکومت میں بھی رہے اور پوری شانِ استغنیٰ کے ساتھ۔ سیاست میں حزب اختلاف میں رہے مگر سب سے نمایاں۔ اس کے باوجود خود کو کبھی نمایاں نہیں کیا۔ جو بھی ملتا یہی سمجھتاکہ ارے یہ توہمارے جیسے ہی ہیں۔ وہ خواجہ الطاف حسین حالی کے اس شعر کی مجسم تفسیر تھے:
ہم نے ہر ادنیٰ کو اعلیٰ کردیا
خاکساری اپنی کام آئی بہت
وہ ہر ایک کی بات اس توجہ سے سنتے تھے کہ سامنے والے کو غلط فہمی ہوجاتی تھی۔ نفیس کا لفظ ان کے لیے کم پڑتا ہے۔
1977ء میں عام انتخابات ہورہے تھے۔ پروفیسر غفور احمد اسلام آباد سے بھی کھڑے ہورہے تھے۔ اس بات کے قوی امکانات تھے کہ بھٹو صاحب کے تیار کردہ ماحول میں اسلام آباد سے پروفیسر غفور احمد کی کامیابی ممکن نہیں ہوگی۔ وہ پاکستان قومی اتحاد کے امیدوار تھے۔ ان کے حلقے میں اسلام آباد کے اطراف کے کئی گاؤں ‘ دیہات بھی شامل تھے جہاں کے لوگ پروفیسر غفور سے پوری طرح واقف نہیں تھے۔ پھر وہ روٹی‘ کپڑا ‘ مکان کے نعرے کے اسیر بھی تھے۔ یہ نعرہ اب تک نعرے سے آگے نہیں بڑھا بلکہ گزشتہ پانچ برس میں لوگ بڑی تیزی سے روٹی‘ کپڑے سے محروم ہوئے ہیں۔
ہم اُن دنوں اسلام آباد یونیورسٹی میں تھے جو بعد میں قائداعظم یونیورسٹی بنی۔ جمعیت طلبہ کے ساتھی پروفیسر غفور احمد کے کارکن تھے۔ رائے دہندگان کے نام‘ پتے لے کر ان کی رہنمائی کے لیے پرچیاں بناتے اور گھر گھر پہنچاتے تھے۔ اس ٹیم کے سربراہ راؤ محمد اختر تھے۔ پروفیسر غفور احمد کراچی میں اپنی مصروفیات کی وجہ سے اسلام آباد پر بھرپور توجہ نہ دے سکے۔ تاہم انہوں نے آکر طوفانی دورے کیے۔ اسلام آباد میں جگہ جگہ خطاب کرنے کے علاوہ ایک بڑا جلوس لے کر بھارہ کہو تک گئے۔ ہم بھی شاملِ باجا تھے۔ راستے میں لوگوں نے پرجوش استقبال بھی کیا۔ یہی نہیں بلکہ پیر صاحب گولڑہ شریف نے پروفیسر غفور احمد کی حمایت کا اعلان کیا اور ان کی صدارت میں ایک جلسہ بھی ہوا۔ پیرصاحب کے مرید اُن کی ہدایت سے باہر نہیں ہوتے۔ لیکن پروفیسر غفور احمد کو ووٹ دینے کے معاملے میں صورت حال یہ رہی کہ ان کے دل تو پروفیسر غفور اور اپنے پیر کے ساتھ تھے مگر ووٹ پیپلزپارٹی کے لیے تھے۔
اسلام آباد کی بلند مارکیٹ اب تو خوب گنجان آباد ہوگئی ہے۔ پورے شہر کی آبادی بڑھی ہے۔1977ء میں ایسا نہیں تھا۔ وہاں پر وفیسر غفور احمد کا ایک جلسہ رکھا گیا اور ہم نے پروفیسر صاحب کا نیا روپ دیکھا۔ ایسے روپ کا تذکرہ حیدرآباد کے جناب مشتاق احمد خان نے بھی کیا ہے۔ اس جلسہ میں بھی پروفیسر غفور احمد نے آستینیں سونت کر بھٹو صاحب کے انداز میں خطاب کیا جس پر سامعین لوٹ پوٹ ہوگئے۔
اسلامی جمعیت طلبہ کے نوجوان ہی پروفیسر غفور احمد کے لیے چاکنگ بھی کرتے تھے۔ زیرو پوائنٹ پر راولپنڈی سے آنے والی سڑک کے اختتام پر دونوں طرف ترچھی دیواریں بنی ہوئی تھیں۔ ان پر چڑھ کر پروفیسر غفور احمد کا نام بڑا بڑا لکھنے کا شرف ہمیں ہی حاصل ہوا۔ اُس وقت ہمارا خط ذرا بہتر تھا۔ رات کا وقت تھا اور پولیس بھی موجو دتھی لیکن کسی نے کچھ تعرض نہیں کیا۔ ایسا لگا جیسے پولیس کے اہلکار بھی تبدیلی کے متمنی تھے جو آتے آتے رہ گئی اور جنرل ضیاء الحق آگئے۔
اُن دنوں پورے اسلام آباد میں بڑی گہما گہمی تھی۔ آبپارہ اس کا مرکز تھا۔ ایک طرف سے یہ نعرے لگتے تھے:’’نوستارے بھٹو مارے‘‘ اور دوسری طرف سے ’’گنجے کے سر پر ہل چلے گا‘ گنجا سر کے بل چلے گا‘‘۔ یاد رہے کہ پاکستان قومی اتحاد میں 9جماعتیں شامل تھیں۔
انتخابات والے دن ہمیں ایک کیمپ کا انچارج بنادیا گیا۔ایک واقعہ اب تک دل پر نقش ہے۔ جماعت اسلامی کے ایک صاحب سے ہم نے کہا کہ فلاں صاحب نہیں آئے‘ آپ ان کی جگہ ووٹ ڈال دیں۔ وہ بگڑ گئے کہ ہم تو ایسی دھاندلی کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں‘ ہم خود یہ کام کیسے کرسکتے ہیں! ہم شرمندہ تو ہوئے مگراس کے قائل ہوگئے کہ جماعت والے ہیں تو ایماندار اور اصول کے پکے۔ دوسری طرف ایسے مناظر تھے کہ مجسٹریٹ صاحب کی موجودگی میں تھانیدار صاحب خود ٹھپے لگارہے تھے۔ ملک بھر میں کھل کر دھاندلی کی گئی۔ اب ایک شور مچارکھا ہے کہ 1990ء کے انتخابات چوری کیے گئے۔ اُس وقت تو کھلم کھلا ڈاکا ڈالا گیا اور پھر اس کے خلاف بے مثال تحریک چلی جس کے ثمرات جنرل ضیاء الحق نے سمیٹ لیے۔
نئے انتخابات کے لیے پروفیسر غفور احمد کی قیادت میں پاکستان قومی اتحاد کے مذاکرات بھٹو اور ان کی ٹیم سے ہورہے تھے۔ بھٹو صاحب عین مذاکرات کے درمیان ملک سے باہر چلے گئے‘ یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ انہیں حالات کی کوئی پروا نہیں۔ اور پروفیسر صاحب کے بقول ’’اور پھر لائن کٹ گئی‘‘ پروفیسر غفور احمد صاحب کی ایک بڑی خوبی مذاکرات کرنا اور اپنی بات منوانا تھا۔ وہ ہر ایک کو اپنے دھیمے انداز اور پُرزور دلائل سے قائل کرلیا کرتے تھے۔ وہ بعد میں اسلامی جمہوری اتحاد کے جنرل سیکرٹری بھی بنے جس کے صدر میاں نواز شریف تھے اور یہ میاں صاحب کا کمال تھا کہ انہوں نے کبھی جنرل سیکرٹری کو ملاقات کا شرف نہیں بخشا۔ اللہ بخشے‘ پروفیسر غفور احمد کی رائے میاں نواز شریف کے بارے میں یہ تھی کہ میاں صاحب کسی انتہائی سنجیدہ موضوع پر بھی 10 منٹ سے زیادہ بات نہیں کرسکتے۔ لیکن یہ بات تو پرانی ہوئی۔ اب تو میاں صاحب گھنٹوں چہکتے ہیں بشرطیکہ سامنے مجمع ہو۔
پروفیسر غفور احمد کی ایک اور خوبی یہ دیکھی کہ انہیں کوئی بھی اپنی تقریب میں مدعو کرتا تو بلاتکلف چلے آتے خواہ تقریب کے شرکاء کی تعداد کتنی ہی کم ہو۔ وہ چھوٹے چھوٹے جملوں میں بڑی بڑی باتیں کرتے تھے۔ ابھی شاید یہ احساس نہ ہو کہ ہم کتنے بڑے آدمی سے محروم ہوگئے۔ شاید زندگی میں بھی ان کو وہ مقام نہیں ملا جو ملنا چاہیے تھا۔ شاید اس کی وجہ بھی ان کا انکسار تھا۔ سروربارہ بنکوی پروفیسر غفور احمد سے ملے تھے یا نہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ
شعر انھی کے لیے کہا تھا:
جن سے مل کر زندگی سے عشق ہوجائے وہ لوگ
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں‘ مگر ایسے بھی ہیں
سچی بات تو یہ ہے کہ ہم بھی ان کے بارے میں لکھ کر اپنا قد اونچا کررہے ہیں۔ لیکن ان کے بارے میں کئی اچھے قلم کار لکھ چکے اور لکھیں گے۔ وہ ایک ایسے شخص تھے جو نہ صرف ہر طبقہ میں مقبول تھے بلکہ مخالفین میں بھی احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ ایک ٹی وی پروگرام میں ایم کیو ایم کے رہنما نے ضیاء الحق کا ساتھ دینے پر طنز کیاتو
پروفیسر غفور احمد نے بڑے رسان سے کہا کہ ہم نے تو یہ خطا صرف 9 مہینے کی تھی‘ آپ تو 3 سال سے جنرل پرویز کے ساتھ ہیں اور اعتراض کرنے والا اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔
پروفیسر غفو ر احمد کو جسارت سے خاص لگاؤ تھا۔ ایک زمانے میں وہ بورڈ آف ڈائرکٹرز کے سربراہ کی حیثیت سے جسارت کے معاملات میں دلچسپی بھی لیتے تھے اور مجھے یاد ہے کہ ایک بار انہوں نے سب کارکنوں اور ذمہ داران سے باری باری انٹرویو بھی کیا اور شکایتیں سنیں۔ جسارت کے موجودہ کارکنوں کو یہ بات معلوم نہیں ہوگی کہ جب جسارت مالی مشکلات کا شکار ہوا(اور یہ کب نہیں ہوا) ملازمین کی تنخواہ دینے کے لیے پیسے بھی نہیں تھے تو پروفیسر غفور احمد نے اپنا مکان رہن رکھ کر پیسوں کا انتظام کیا۔ جسارت کے کارکنوں کو اس کی کانوں کان خبر نہیں ہوئی اور مرحوم نے کبھی خود اس کا تذکرہ کیا نہ احسان جتایا۔ حق مغفرت کرے‘ بڑی خوبیاں تھیں مرنے والے میں۔ ایک بار جسارت میں ایک مذاکرہ میں انہیں بلایا گیا۔ باتیں تو بہت سی ہوئیں لیکن ہمیںیہ بات سب سے اچھی لگی کہ انہوں نے جسارت کی خدمات کو دل کھول کر سراہا اور اس کی بہت تعریف کی۔ شاید پہلی بار ایک بڑے شخص کے منہ سے جسارت کی تعریف سنی تھی دل بڑھ گیا۔ ورنہ تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے اس اخبار میں خوبی کوئی نہیں‘ خرابیاں ہی خرابیاں ہیں۔ کبھی کہیں سے کلمہ تحسین سننے کو نہیں ملا البتہ تنقید و اعتراضات بہت۔ ایسے میں پروفیسر غفور احمد جیسی عبقری شخصیت کے منہ سے تعریف سن کر دل بڑا ہوگیا ویسے وہ اس مقولے پر عمل پیر ارہے کہ ’’دل بدست آور کہ حج اکبر است‘‘۔ اور ساری عمر جیسے میدان عرفات ہی میں گزار دی۔
شوکت تھانوی نے مولانا حسرت موہانی کی سادگی کے حوالے سے حیرت کا اظہار کیا تھا کہ ’’ایسے ہوتے ہیں حسرت موہانی‘‘ اور اجمل سراج پروفیسر غفور کے حوالے سے کہتے ہیں:
دیکھ کر اُن کو دل یہ کہتا تھا
اہلِ ایمان ایسے ہوتے ہیں
سچی بات تو یہ ہے کہ وہ ایسے مرد درویش تھے کہ کسی خانقاہ میں تو نہیں بیٹھے مگر سنت رسول کے مطابق دنیا میں رہ کر دنیا سے بے نیاز رہے‘ ایسے جیسے کوئی مسافر کسی سرائے میں ہو۔ او ریہ مسافر رخصت ہوا۔ہم جس کے جلسے میں شریک ہوتے تھے۔ اس کے جنازے میں شریک تھے۔ جنازے کے شرکاء4 کی تعداد بتارہی تھی کہ اللہ کا یہ مقبول بندہ اللہ کے بندوں میں بھی مقبول تھا۔ بقول سید منور حسن کہ شرکاء اپنے رب کے حضور ایک جرگہ لے کر آئے ہیں کہ اپنے بندے غفور احمد کے درجات کو بلند کراور کوتاہیوں سے صرف نظر کر۔ مرنا تو برحق ہے اور ’’سو جائیں گے اک روز زمیں اوڑھ کے ہم بھی‘‘ ہم تو ایسے تماشائی ہیں جس کا انتظامات میں کوئی دخل نہیں مگر پروفیسر غفور احمد بزم کے حال پر کڑھتے اور اس کی اصلاح کی عمر بھر کوشش کرتے رہے۔ جماعت اسلامی پاکستان میاں طفیل محمد کے بعد ایک اور مرددرویش سے محروم ہوگئی۔
جو خدا کے غیور بندے ہوں۔ وہ مسلمان ایسے ہوتے ہیں۔ واقعی ایسے ہی۔