February 20th, 2020 (1441جمادى الثانية25)

جماعت اسلامی کی خواتین اراکینِ پارلیمینٹ اوردعوت وتبلیغ

اگرچہ قانون ساز اداروں میں پہنچنے کے بعد جماعت اسلامی کیاراکینِ پارلیمینٹ کا بنیادی ہدف قانون سازی رہا،لیکن بحیثیت داعی اسلام کا پیغام پھیلانےاوراپنی اقدار و روایات کو پارلیمینٹ میں قائم رکھنے کی جدوجہد بھی ان کی سرگرمیوں کا حصہ رہی،اس ضمن میں چند خصوصی کام یہ رہے۔

ارکان اسمبلی میں ترجمہ قرآن پاک کی تقسیم:

اس ضمن میں اس بات کی پلاننگ کی گئی کہ تمام خواتین ارکان اسمبلی کو ترجمہ قرآن بمع حواشی ہدیے کے طورپردیاجائے۔قومی اسمبلی  میں پارلیمنٹ سیشن کے دوران اسپیکر کی اجازت سے جب خواتین کو قرآن پاک دیے جانے لگے تومرد  اراکین کی جانب سے مطالبہ سامنے آیاکہ ہمیں بھی یہ تحفہ دیا جائے،اس پر تمام ارکانِ اسمبلی کو قرآن پاک ہدیے میں دیے گئے تمام صوبائی اسمبلیوں میں بھی اس کام کو انجام دیا گیا۔

ترجمان القرآن کا اجراء:

خواتین ارکان اسمبلی کے لیے ادارۂ  ترجمان القرآن سے بات کرکےاس بات کو ممکن بنایاگیا کہ انہیں ترجمان القرآن ہر ماہ ان کے پتوں پر جاری کیا جائے۔ یہ کام تسلسل سے جاری رہا۔

اسلامی لٹریچرکی فراہمی:

قانون سازی کرنے والے افراد کو مختلف ایشوز میں اسلامی تعلیمات سےآگہی فراہم کرنے کی غرض سے متعلقہ موضوعات پر وقتافوقتََا لٹریچر ہدیہ کیا جاتا رہا۔خصوصاََحدود آرڈینیس پر سیشن کے دوران اس موضوع پر کتابچے،کتب اور رسائل مہیا کیے گئے۔

لاجزمیں درس قرآن کا انعقاد:

تزکیہ وتربیت کے لیے اسمبلی لاجزمیں ہفتہ واردرس ِقرآن سیشنزکے درمیان رکھا جاتا رہا،جس میں دیگر پارٹیزکی خواتین بھی و قتاََفوقتاََ  شریک ہوتی رہیں۔

کیفے ٹیریامیں خواتین کا حصہ مختص کرانا:

سیشن کےدوران ارکان اسمبلی کا کیفے ٹیریا جانا ایک ضرورت تھی، اس میں کوشش کرکے ایک گوشہ محض خواتین کے لیے مختص کرایا گیا جہاں وہ سہولت سے اپنی ضرورت کو پورا کرسکیں۔

وقارواحترام کا ماحول بنانا:

باپردہ خواتین کے ایوانوں میں جانے اور پردے میں رہتے ہوئے قومی ایشوز پر وقار کے ساتھ اپنے مؤقف کا اظہار کرنے اور اسمبلی سیشنز میں بھرپور حصہ لینے سے ماحول میں ایک ستھراپن پیدا ہوا اور دیگرپارٹیز کی خواتین نے بھی باوقار لباس اور سرپر دوپٹے کا اہتمام کیا اور مخلوظ ماحول کے ناشائستہ رویوں سے پرہیز کیا،جس سے ایک اچھے ماحول کو پروان چڑھنے کا موقع ملا۔

ارکین اسمبلی کی انفرادیت:

ممبران پارلیمنٹ ہوتے ہوئے بھی کبھی ان خواتین نے اساعزازکا استعمال نہیں کیا۔ کسی سے ملاقات کے لیے کبھی اپنا کارڈ استعمال نہیں کیااور نہ اپنے بچوں کو اپنی والدہ کا ریفرنس استعمال کرنے دیا۔ہمیشہ لائن میں لگ کر اپنی باری آنے کا نتظارکیا۔عوام الناس کے درمیان کھڑی ہوتی تھیں اور کوئی گمان نہیں کرسکتا تھا کہ یہ رکن پارلیمنٹ ہیں۔مختلف اداروں میں ملاقات کا جو طریقہ کارعام آدمی کے لیے تھا وہی طریقہ کار اختیار کیا۔