October 16th, 2019 (1441صفر16)

اسرائیل میں نسل پرستی کا قانون اور نتائج

 

تمار انصار

 اسرائیل کی پارلیمان (الکنیست) نے جمعرات ۱۹ جولائی ۲۰۱۸ء کو یہود کی بالادستی کو آئینی جواز عطا کرنے اور فلسطینیوں کے خلاف نسلی امتیاز کو قانونی تحفظ دینے کے لیے ایک متنازع دستوری بل کی منظوری دی ہے۔ جس کے تحت اسرائیلی ریاست میں صرف یہود کو حقِ خود ارادیت کا حق حاصل ہوگا اور فلسطینیوں سمیت دوسری قومیں اس پر حقِ وطنیت نہیں جتلا سکیں گی۔
’یہود کی قومی ریاست کاقانون‘ پارلیمان میں پیش ہوا، تو ایوان کے ۱۳۰ ؍ارکان میں سے ۶۲نے اس کے حق میں ووٹ دیا ،جب کہ ۵۵ نے اس کی مخالفت کی اور دوارکان نے  راے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ پارلیمان میں ’عرب مشترکہ فہرست‘ سے تعلق رکھنے والے ارکان نے اس قانون کے خلاف سخت نعرے بازی کی تو انھیں زبردستی ایوان سے نکال باہر کیا گیا۔
 نیتن یاہو نے اس موقعے پر کہا کہ ’’ صہیونیت اور اسرائیل کی تاریخ میں یہ ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے‘‘۔اس قانون کی خاص خاص شقیں یہ ہیں:
    ۱-     اسرائیل صرف یہود کا تاریخی وطن ہے اور انھیں اس میں قومی حقِ خود ارادیت کے استعمال کا خاص الخاص حق حاصل ہوگا(یعنی فلسطینیوں کا اب کوئی وطنی حق نہ ہوگا)۔
     ۲-    اسرائیل میں عبرانی کے ساتھ عربی کی سرکاری زبان کی حیثیت ختم کردی گئی ہے۔اس کا درجہ گھٹا کر اب اس کو محض ’خصوصی حیثیت ‘ دی گئی ہے۔
     ۳-     قانون کے مطابق :’’ریاست یہود کی آباد کاری کی ترقی کو ایک قومی ذمہ داری سمجھتی ہے اور وہ اس کے قیام کی حوصلہ افزائی اور فروغ کے لیے اقدامات کرے گی‘‘۔
     ۴-     مقبوضہ القدس ( یروشلم ) کو اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت قرار دیا گیا ہے۔
     ۵-     قانون کے تحت سات شاخہ مینورہ (ہانوکا) کو ایک یہودی علامت قرار دیا گیا ہے اور یہودی گیت   ہَتِکفاه (عربی میں الامل، بمعنی امید) کو قومی ترانہ قرار دیا گیا ہے۔
 واضح رہے کہ اسرائیل میں آباد عربوں کی آبادی ۱۸ لاکھ سے متجاوز ہے۔وہ صہیونی ریاست کی کل ۹۰ لاکھ آبادی کا ۲۰ فی صد ہیں ۔ یہ فلسطینی شہری ۱۹۴۸ء میں صہیونی مسلح جتھوں کے   عرب علاقوں پر قبضے کے وقت اور مابعد بچ جانے والوں کی اولاد ہیں۔وہ اسرائیل کے قیام کے وقت صہیونی ملیشیاؤں کے ہاتھوں نسلی تطہیر کے دوران میں بچ جانے میں کامیاب رہے تھے اور  اسرائیل کے زیر قبضہ عرب شہروں اور قصبوں میں صدیوں سے آباد چلے آرہے ہیں۔دریاے اُردن کے مقبوضہ مغربی کنارے اور محاصرہ زدہ غزہ کی پٹی میں آباد لاکھوں فلسطینیوں کے برعکس انھیں بعض شہری حقوق حاصل ہیں، مثلاً ووٹ اور پارلیمان میں نمایندے بھیجنے کا حق۔ لیکن انھیں صہیونی ریاست میں سالہا سال سے بنیادی انسانی اور شہری حقوق سے محروم رکھنے کے لیے اسرائیل نے دسیوں قانون منظور کررکھے ہیں۔اس طرح گذشتہ سات عشروں سے ہی نسل پرستانہ سلوک روا رکھا جارہا ہے۔
اسرائیلی صدر ریووین رولین نے حکومت کے نام ایک کھلے خط میں اس نسل پرستانہ قانو ن میں پنہاں خطرات کے بارے میں خبردار کیا تھا۔اسرائیلی اٹارنی جنرل نے بھی اس کی نسل پرستی پر مبنی بعض شقوں کی مخالفت کی تھی ۔جس کے بعد بہت ہی مبہم زبان میں تیار کردہ بل منظور کیا گیا ہے۔ اسرائیلی پارلیمان کے عرب رکن احمد طبی کا کہنا تھا کہ ’’ میں نہایت صدمے کے ساتھ (اسرائیل میں) جمہوریت کی موت کا اعلان کرتا ہوں‘‘۔
 نیتن یاہو نے منظوری سے ایک ہفتہ پہلے مجوزہ قانون کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہم اسرائیل کی جمہوریت میں تمام شہری حقوق کو یقینی بنائیں گے، اور اکثریت کے حقوق کا بھی تحفظ کریں گے‘‘۔
عربوں نے اس امتیازی قانون کو بالکل مسترد کردیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہودی اکثریت اس طرح کی قانون سازی کے ذریعے عرب آبادی اور اسرائیل میں آباد تمام مذاہب کے پیرو کار عربوں کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتی ہے۔قانونی ماہرین نے بھی اس قانون کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ اس قانون سے نسل پرستی کے بارے میں بین الاقوامی ممانعتوں کی بھی خلاف ورزی ہوئی ہے۔اس سے صہیونی ریاست میں آباد فلسطینیوں کے خلاف امتیازی اور نسل پرستانہ سلوک کو مزید تقویت ملے گی، جس میں بہت سے امتیازی نسل پرستانہ خصائص سمو دیے گئے ہیں۔ اس قانون میں ایک جانب یہود کی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آباد کاری کی سرگرمیوں کی توثیق کی گئی ہے اور دوسری جانب اس کی کوئی جغرافیائی حد بندی بھی نہیں کی گئی ہے۔اسرائیل کی مشرقی القدس سمیت مقبوضہ مغربی کنارے اور شام کے علاقے گولان کی چوٹیوں کو نوآبادیانے [زبردستی کالونی بنانے]کی پالیسی کو قانونی قرار دیا گیا ہے،جب کہ بین الاقوامی قانون کے تحت اس کی یہ تمام سرگرمی غیر قانونی ہے۔
 اسرائیل میں عرب اقلیتی حقوق کے لیے کام کرنے والے قانونی مشاورتی گروپ عدالہ نے کہا ہے کہ ’’یہ قانون دراصل نسلی برتری کو آگے بڑھانے کی ایک کوشش ہے، جس کے ذریعے یہود اور غیر یہود کے درمیان بنیاد ی حقوق کے امتیاز کی ایک واضح لکیر کھینچ دی گئی ہے۔اس متنازع قانون میں اسرائیل کی ’نسل پرستانہ اور نسلی تعصب کی بنیاد‘ کی تعریف کی گئی ہے۔اس کے تحت اسرائیل دنیا میں کہیں بھی آباد یہود کو تو اپنا شہری تسلیم کرتا ہے، لیکن اسرائیل کے اندر رہنے والے غیر یہود کو اس سے آئینی طور پر بے دخل کردیتا ہے‘‘۔ عدالہ کے تجزیے کے مطابق: ’’یہ قانون فلسطینیوں کے خلاف امتیازی سلوک کو جائز قرار دیتا ہےاور مختصراً یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ فلسطینیوں کو ان کی اپنی ہی سرزمین پر غیر ملکی قرار دے دیا گیا ہے‘‘۔ عدالہ کا کہنا ہے: ’’آج کی دنیا میں ایسے کسی ملک کو جمہوری ریاست قرار نہیں دیا جاسکتا، جہاں آئینی شناخت کا تعیّن نسلی تعلق کی بنیاد پر کیا جاتا ہو اور یہ امر برابر کی شہریت کے اصول کو ساقط کردیتا ہے‘‘۔
 اس قانون سے اسرائیل کو ایک جمہوری ریاست کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنے والوں کو بھی شرمندگی کا سامنا ہے۔اس کی مخالفت میں پیش پیش لبرل یہودی شخصیات میں اسرائیل کے لابی گروپ جے اسٹریٹ کے سربراہ جیرمی بن آمی نمایاں ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ اس قانون کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ اسرائیل میں آباد عرب کمیونٹی اور دوسری اقلیتوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ نہ وہ برابر کے شہری ہیں اور نہ ہوسکتے ہیں۔ ان یہودی لیڈروں کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ اس سے اسرائیل کا ایک جمہوری ریاست کی حیثیت سے چہرہ دنیا کے سامنے داغ دار ہو جائے گا۔ یورپی یونین نے بڑے دبے الفاظ میں اس متنازع قانون پر تنقید کی ہے، لیکن ساتھ ہی اس کو ’اسرائیل کا اندرونی معاملہ‘ بھی قرار دے دیا ہے۔
 اسرائیل کی نسل پرستانہ پالیسی کی مخالفت میں مہم چلانے والے کارکنان صہیونی ریاست کےبائیکاٹ، اس کے خلاف قانونی کارروائی اور پابندیوں سمیت مختلف اقدامات پر زور دے رہے ہیں۔اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ کی تحریک کے بانی عمر برغوثی کہتے ہیں:’’ اگر اسرائیل کے جبرواستبداد کے خلاف بائیکاٹ ،کارروائی اور پابندیوں کا کوئی وقت ہے تو وہ آج ہی  ہے۔ اسرائیل میں سرکاری طور پر نسل پرستی پر مبنی قانون کی منظوری سے فلسطینی عوام ، عرب اقوام اور   دنیا بھر میں ہمارے اتحادیوں کے لیے اقوام متحدہ پر دباؤ ڈالنے کے دروازے کھل گئے ہیں کہ  وہ نسل پرستی مخالف قوانین پر دوبارہ فعال ہو اور اسرائیل کے خلاف بھی بالکل اسی طرح کی سخت پابندیاں عائد کرے، جس طرح کی پابندیاں اس نے نسل پرست جنوبی افریقہ کے خلاف عائد  کی تھیں‘‘ ۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی ایک ایجنسی نے گذشتہ سال اپنی ایک قانونی مطالعاتی رپورٹ شائع کی تھی۔ اسرائیل میں تمام فلسطینی عوام کے ساتھ نسل پرستانہ سلو ک کیا جارہا ہے۔  اس سے پہلے ۲۰۱۲ء میں اقوام متحدہ کے ایک خصوصی نمایندے نے رپورٹ میں لکھا تھا کہ اسرائیلی حکام ’اراضی کی ترقی کے ایک ایسے ماڈل‘ پر عمل پیرا ہیں جس میں اقلیتوں کو نکال باہر کیا گیا ہے اور یہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک پر مبنی ہے۔ اسی طرح اقوام متحدہ کی ’کمیٹی براے استیصال نسلی امتیاز‘نے لکھا تھا کہ ’’اسرائیلی سرزمین میں کئی ایک امتیازی قوانین کا نفاذ کیا گیا ہے جن سے غیر یہود کمیونٹیاں غیر متناسب انداز میں متاثر ہورہی ہیں‘‘۔مگر افسوس کہ اس بات کا کم ہی امکان ہے کہ اقوام متحدہ اسرائیل کے خلاف اس کےنسل پرستی پر مبنی اقدامات کے خلاف کوئی کارروائی کرے گی۔
________________