August 23rd, 2019 (1440ذو الحجة21)

امریکی سفارتخانہ منتقل۔۔۔ او آئی سی ناکام

 

ملک الطاف حسین

مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی جارحیت اور امریکی سفارتخانے کی منتقلی کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر لائحہ عمل طے کرنے کے لیے ترکی کے شہر استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کا غیر معمولی اجلاس منعقد کیا گیا۔ 18 مئی 2018ء کو ہونے والے اس اجلاس کی صدارت ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کی جب کہ سابق وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’او آئی سی کو مسئلہ فلسطین پر جوابی حکمت عملی تیار کرنا ہوگی، امریکا یروشلم کو اسرائیل کا نام نہاد دارلحکومت بنانے پر تُلا ہوا ہے، بین الاقوامی قانون کا نفاذ بلاامتیاز یقینی بنانا ہوگا، مسلم ممالک کو آپس کے اختلافات بالائے طاق رکھنا ہوں گے، پاکستان فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے‘‘۔
اجلاس کے آخر میں ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، اعلامیے کے الفاظ کے مطابق ’’فلسطینیوں کی حفاظت کے لیے عالمی فوج بنائی جائے، امریکی سفارتخانے کی منتقلی اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ القدس شریف کی تاریخی حیثیت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اُٹھائے جائیں گے۔ نہتے فلسطینیوں کے قتل عام کی مذمت، تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا مطالبہ، رمضان المبارک میں تمام رکن ممالک میں فلسطینیوں کے لیے امدادی مہم چلائی جائے گی۔ علاوہ ازیں 5 اور 6 مئی کو ڈھاکا میں تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس اور اس سے پہلے 15 اپریل کو عرب لیگ کے اجلاس میں فلسطین اور القدس شریف کے حوالے سے منظور کی جانے والی قرار دادوں کو سراہا گیا۔
’’بیت المقدس‘‘ پر اسرائیل نے 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا جب کہ اس سے پہلے 15 مئی 1948ء کو یہودیوں کی نظریاتی ریاست ’’اسرائیل‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔ تب سے اب تک ہر سال فلسطینی یوم نکبہ (تباہی کا دن) مناتے آرہے ہیں کیوں کہ 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے ساتھ ہی تقریباً 7 لاکھ فلسطینیوں کو مجبور کردیا گیا تھا کہ وہ اپنا مادر وطن چھوڑ کر نقل مکانی کرجائیں۔ اس سال جب کہ ’’یوم نکبہ‘‘ میں صرف ایک دن باقی تھا یعنی 14 مئی کو امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کردیا گیا، امریکا کے اس فیصلے نے جلتی پر تیل کا کام کیا، فلسطینی عوام جو یوم نکبہ کی یاد میں پہلے ہی سراپا احتجاج تھے امریکی سفارتخانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی پر مزید مشتعل ہوگئے۔ جس پر اسرائیلی فوجیوں نے سیدھی گولیاں چلا کر 62 فلسطینیوں کو شہید اور ڈھائی ہزار کو شدید زخمی کردیا۔ فلسطینیوں کے قتل عام پر عالمی برادری نے نوٹس لیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تحقیقات کرانے کے لیے جو قرار داد جمع کرائی اُسے امریکا نے ویٹو کردیا، تاہم 17 مئی 2018ء کے اخبارات کے مطابق ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف نے فلسطینیوں کے ہونے والے قتل عام کی تحقیقات کرانے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی سفارتخانے کا مقبوضہ بیت المقدس منتقل ہونے کا صاف مطلب یہ ہے کہ امریکا بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کو تسلیم کرنے کے لیے پہلا قدم اُٹھا چکا ہے جب کہ سفارتخانے کی عمارت کی افتتاحی تقریب میں صدر ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا اور ان کے یہودی شوہر کی شرکت امریکی صدر کی مزید دلچسپی اور ریاست یہود سے گہری عقیدت کا اظہار ہے۔ یاسر عرفات کے ساتھ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے امریکی صدور کی موجودگی میں جتنے بھی معاہدے اور مذاکرات ہوئے ان سب پر صدر ٹرمپ کے حالیہ فیصلے نے پانی پھیر دیا۔ یاد رہے کہ 3 دسمبر 2017ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس ہوا۔ صدر ٹرمپ اور امریکی مندوب نکی ہیلی کی دھمکیوں کے باوجود ترکی نے پاکستان اور یمن کی حمایت سے جنرل اسمبلی میں قرار داد پیش کی۔ 128 ممالک نے اس کے حق میں اور 9 نے مخالفت میں ووٹ دیے، جب کہ 35 ممالک غیر حاضر رہے۔ قرارداد کی منظوری پر ایوان تالیوں سے گونج اُٹھا، جس پر یو این سیکرٹری جنرل نے کہا کہ یکطرفہ امریکی فیصلوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ علاوہ ازیں 15 اپریل 2018ء کو 29 ویں عرب لیگ سربراہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے فرمایا کہ ’’مسئلہ فلسطین ہمارا اوّلین مسئلہ ہے اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے حصول تک یہی مسئلہ ہمارا اوّلین مسئلہ ہی رہے گا‘‘۔ تاہم یہ بات انتہائی تکلیف دہ اور حیران کن ہے کہ مسلم ممالک کے شدید ردعمل اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھاری اکثریت سے منظور کی جانے والی قرار داد کے بعد بھی امریکی صدر ٹرمپ نے 14 مئی 2018ء کو امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کر ہی دیا۔
اس حوالے سے اگر دیکھا جائے تو عالمی برادری کا کردار جنرل اسمبلی سے منظور کی جانے والی قرار داد کی روشنی میں حوصلہ افزا ہے۔ دسمبر 2017ء کو اسلامی کانفرنس کا اجلاس کہ جس میں مقبوضہ بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت قرار دیا گیا تھا اور اس طرح سے 15 اپریل کو سعودی عرب میں عرب لیگ کے اجلاس سمیت ڈھاکا میں ہونے والے تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاسوں میں جو قراردادیں منظور کی گئیں اور مزید یہ کہ جس طرح سے سعودی شاہ نے فلسطین اور اس کے عوام کو تمام عالم عرب اور مسلمانوں کے وجدان کا حصہ قرار دیا ہے ان تمام کا جائزہ لینے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس قدر عالمی حمایت، جاندار موقف اور انتہائی متحرک عالمی اداروں کی تائید کے باوجود ’’مسلم قیادت‘‘ امریکی صدر پر دباؤ ڈالنے میں کیوں ناکام رہی کہ وہ اپنے سفارتخانے کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ جب کہ یہ بات بھی انتہائی مایوس کن اور تشویشناک ہے کہ او آئی سی کا جو ہنگامی سربراہ اجلاس ہوا کوئی موثر ردعمل کیوں نہ دے سکا؟؟۔ کانفرنس کا ’’مشترکہ اعلامیہ‘‘ یہ سمجھانے اور بتانے کے لیے کافی ہے کہ کانفرنس کے شرکا امریکی صدر کو فیصلہ واپس لینے پر مجبور کرنے کے لیے کوئی واضح پیغام دینے کو تیار نہیں تھے۔ ڈھائی ارب مسلمانوں کی آبادی، 57 آزاد مسلم ممالک جن میں 22 عرب ملک بھی شامل ہیں، 40 لاکھ کے قریب فوج، 34 مسلم ملکوں کے فوجی دستوں پر مشتمل فوجی اتحاد، ایک مسلم ملک ایٹمی ہتھیاروں سے لیس، تیل کی دولت اور دیگر وسائل سے مالا مال، بہترین جغرافیہ اور شاندار تاریخ کے حامل، عقیدہ توحید اور خاتم النبیینؐکی رسالت پر ایمان ہونے کی وجہ دنیا کی امامت اور شرفِ انسانیت پر فائز اُمت کی قیادت آج اگر ایک بیت المقدس کو آزاد کرانے میں کامیاب نہیں ہوپارہی تو آگے چل کر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی حفاظت کو کس طرح سے یقینی بنایا جائے گا؟ جب کہ بابری مسجد سے لے کر مسجد اقصیٰ، برما سے یمن، افغانستان سے عراق، فلسطین سے کشمیر اور شام تک پہلے ہی مسلمانوں کے عقیدے، عزت و آبرو اور جان و مال پر ظالم قوتیں حملہ آور ہیں جن کا کوئی ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔
اسلامی کانفرنس کے سربراہ اجلاس کے پاس بہت کچھ کرنے کو تھا، امریکا کے ساتھ تجارتی اور فوجی معاہدے معطل ہوسکتے تھے، امریکی بینکوں میں موجود مسلم ممالک کی دولت بھی واپس لی جاسکتی تھی تاہم اگر یہ تمام آپشنز فی الحال استعمال نہ بھی کیے جاتے تو تب بھی مسلم سربراہوں کے پاس ایک ایسا آپشن موجود تھا کہ اگر اُس پر عمل کرنے کا فیصلہ کیا جاتا تو امریکا چند گھنٹوں میں نہ صرف مسلم قیادت کے پاؤں پکڑنے پر تیار ہوجاتا بلکہ بیت المقدس میں اپنے سفارتخانے کا بورڈ سر پر رکھ کر بھاگ کھڑا ہوتا۔ وہ آپشن یہ تھا کہ کانفرنس غیر ضروری طویل اعلامیہ جاری کرنے کے بجائے چند سطروں پر مشتمل صرف ایک اعلان سناتی اور وہ یہ کہ امریکا کو تین دن کا وقت دیا جاتا ہے کہ وہ بیت المقدس سے اپنا سفارتخانہ واپس لے جائے بصورت دیگر چوتھے روز پر امریکا کو تمام مسلم ممالک میں اپنے سفارتخانے بند کرنا ہوں گے۔ امریکی عملے کو نکلنے کے لیے 10 دن کا وقت دیا جائے گا، ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد مزید ضروری اور فوری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اسلامی کانفرنس کے مذکورہ فیصلے کے جواب میں اگر امریکا نے عدم تعاون سمیت کسی بھی طرح کے دباؤ یا طاقت کے استعمال کی بات کی تو اُس کا بھرپور مقابلہ اور سامنا کیا جائے گا۔ کسی بھی مرحلے پر امریکا کو مذاکرات کی کوئی تجویز نہیں دی جائے گی۔ تاوقتیکہ امریکی سفارتخانہ بیت المقدس سے نکال باہر نہیں کردیا جاتا۔
ہم سمجھتے ہیں کہ یہ انتہائی پُرامن مگر موثر قدم تھا جسے اُٹھایا جانا چاہیے تھا، یقین ہے کہ او آئی سی کے تمام رکن ممالک اس کے اعلان کی بھرپور تائید کرتے کیوں کہ بیت المقدس کو پہلے ہی 13 دسمبر 2017ء کے او آئی سی اجلاس میں فلسطین کا دارالحکومت قرار دیا جاچکا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم ممالک کی عسکری اور حکمران سیاسی قیادت جب تک ’’جہاد‘‘ سے منہ موڑے رکھے گی تب تک شیطانی اور سامراجی قوتوں کا اس پر خوف طاری رہے گا۔ عزت اور عظمت اس میں تھی اور ہے کہ ہم اللہ کے بھروسے پر میدان میں کھڑے ہوجائیں۔ نبی پاکؐ سے محبت اور خلفائے راشدینؓ کی تقلید ہماری قوت اور تعارف ہونا چاہیے۔ بدر، اُحد، خیبر، موتہ، یُرموک اور کربلا کے درس کو اپنی کامیابی کی ضمانت سمجھنا ہوگا، جہاد اور شہادت سے اگر راہِ فرار اختیار کی گئی تو ہم عزت اور عظمت دونوں سے محروم کردیے جائیں گے۔