October 20th, 2019 (1441صفر21)

فلسطین اسرائیل تنازع اور سعودی فارمولا

 

عمران احمد سلفی
مغربی ممالک کی سازشوں اور امت مسلمہ کی زبوں حالی انتشار و افتراق اور نیشنلزم کی تحریک کے نتیجے میں اسلام کے قلب پر اسرائیل کا خنجر گڑے ہوئے آج نصف صدی بیت چکی ہے اور روز اول سے اسرائیلیوں کی کوشش رہی ہے کہ خوف لالچ دھونس دھاندلی اور مغربی ممالک کی زیر سرپرستی طاقت کے بے دریغ استعمال کے ہتھکنڈوں کے ذریعے زمینوں سے بے دخل کر کے یہودیوں کو جو پوری دنیا میں بکھرے ہوئے ہیں یکجا کر کے فلسطین میں آباد کیا جائے ۔ اس عمل میں اسرائیل کو اپنے مربی و آقا امریکا ،برطانیہ، روس اور دیگر مغربی ممالک کی مکمل تائید حاصل رہتی ہے اگرچہ یہ مغربی ممالک دنیا بھر میں اپنی جمہوریت ، انسانیت اور اعلیٰ اقدار کا ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتے۔ انہیں انڈونیشیا کے مشرقی تیمور میں تو ظلم جلدی نظر آ جاتا ہے لیکن فلسطین و برما وکشمیر میں بہتا ہوا انسانی لہو نظر نہیںآتا ہے اس پر مستزاد یہ کہ اقوام متحدہ جو ظلم و انصافی کے خلاف مظلوموں کی داد رسی کا بین الاقوامی چارٹر اپنے سر پر سجائے پھرتا ہے وہ بھی وہیں کارروائی کرتا ہے جہاں امریکا، برطانیہ و دیگر مغربی ممالک چاہتے ہیں۔ خون مسلم کی ارزانی اقوام متحدہ کی نظر میں بھی کوئی وقعت نہیں رکھتی کیوں کہ یہ لوگ مسلمان ہیں اور غلیلوں سے اسرائیلی فوجیوں پر پتھراؤ کر کے دہشت گردی کے مرتکب ہوتے ہیں لہٰذا یہ کسی طور بھی انصاف کے لائق نہیں البتہ اسرائیل اگر ٹینکوں اور F-16 سے فلسطینی بستیاں تاراج کرے اور عورتوں ، بچوں اور بوڑھوں کو نشانہ بنائے تو عین جائز ہے کیوں کہ یہ عمل انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں نہیں آتا ۔ یہی صورتحال کشمیر۔ شیشان اور فلپائن و برما میں بھی درپیش ہے۔ چوں کہ وہ سب بھی مسلمان ہیں اور عالم اسلام بے حسی و بے حمیتی کا شکار ہے۔
فلسطین میں جاری تشدد میں گُزشتہ چند برسوں بالخصوص تحریک انتفاضہ کے وجود میں آنے کے بعد بہت اضافہ ہو گیا۔جب یاسر عرفات کے ذریعہ امریکا نے امن مزاکرات کے نام پر اسرائیل اور فلسطین اتھارٹی کو یکجا بٹھانے کا اہتمام کیا تھا۔ یہ مزاکرات محض اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور ہوس ملک گیری کے لیے جاری متشدد پالیسیوں کی وجہ سے بار آور نہ ہو سکے تھے۔بلکہ فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے بش انتظامیہ نے بھی 11 ستمبر کے بعد اسرائیل کو کھلی چھوٹ دے رکھی تھی جس کی وجہ سے آج فلسطین کا مسئلہ بین الاقوامی سطح پر ہوگیا ہے اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا منطقی نتیجہ ہے کہ فلسطینیوں میں ایک نیا جذبہ آزادی خودکش حملوں کی صورت میں پروان چڑھ رہا ہے۔
آج اگر فلسطین اسرائیلی فوجی حملوں کی زد میں ہے تو اسرائیل بھی جانثار فلسطینیوں کے ہاتھوں زبردست تباہی و بربادی کا شکار ہو رہا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کشت و خون کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا ۔ عالمی ضمیر کب بیدار ہوگا؟ آیا امت مسلمہ کے وجود میں زندگی کی رمق بھی باقی ہے یا نہیں؟ او آئی سی کا کرادار کیا ہے؟وہ اپنی ذمے داریوں سے کس طرح عہدا بر آ ہو رہی ہے؟ ایسے ماحول میں جبکہ عالم اسلام بے حسی اور خوف و دباؤ کا شکار ہے کہ مبادا امریکا بہادر کہیں کسی ملک کو دہشت گرد قرار دے کر اپنے اتحادیوں کے ہمراہ چڑھ نہ دوڑے اور واحد سپر پاور ہونے کے دعوے کے ساتھ اسلامی ممالک کو تاخت و تاراج نہ کردے۔آخر کار امریکا نے اپنی وفاداری کا حق ادا کیا ۔اس فکر کے علی الرغم سعودی سابق فرماں روا عبداللہ بن عبدالعزیزؒ نے فلسطین بلکہ عرب اسرائیل تنازع کے مستقل دیر پا پر امن اور بقائے باہمی کے اصولوں کے تحت امن فارمولا پیش کیا تھا۔ اس پر عمل ہوجاتا تو آج یہ صورتحال پیدا ہی نہیں ہوتی۔ فلسطین اور دیگر عرب ممالک نے اس امن فارمولے کو سراہتے ہوئے قابل قبول قرار دیاتھا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا اسرائیل اس فارمولے سے اتفاق کرتا جب کہ اس کا نظریہ و فلسفہ اور عزائم پوری سرزمین عرب پر قبضہ کرنے کے ہیں جو اس کی پارلیمنٹ کی عمارت پر کنندہ تحریر کے ذریعہ روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ سعودی عرب کی تجویز کے مطابق اگر اسرائیل 1967ء کی جنگ اور مابعد قبضہ کیے گئے علاقے خالی کردے اور جنگ سے پہلے کی پوزیشن پر واپس چلا جائے تو عرب ممالک بھی خیر سگالی کے طور پر اسرائیل کو تسلیم کر لیں گے اور باہمی امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں میں حصہ لیں گے۔اس طرح اگرچہ بحیثیت امت مسلمہ اسرائیل کے ناجائز و ناپاک وجود کو سند قبولیت حاصل ہو جائے گی اور فلسطین جو پورے کا پورا مسلمانوں کا ہے اور یہودی تسلط ہر گز پسندیدہ نہیں ہو سکتا لیکن ان سب کے باوجود سعودی امن فارمولا فلسطین اسرائیل تنازعے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں امید کی کرن ثابت ہو سکتا تھا بشرطیکہ اسرائیل بھی اس منصوبہ کو سند قبولیت عطا کرتا اور صدق دل سے امن کا خواہاں ہوتا۔
بادی النظر میں یہ فارمولا بہت پر کشش تھا مگر اسرائیلی ہٹ دھرمی کا ریکارڈ ماننے والوں کے لیے یہ بات قرین قیاس محسوس ہوتی ہے کہ یہ بیل منڈھے نہیں چڑھے گی کیوں کہ اسرائیل اس فارمولے سے اتفاق نہیں کرے گا اور اگر بادل نخواستہ اس پر صاد کر بھی دے تو جس طرح یاسر عرفات کے ساتھ امریکی نگرانی میں مزاکرات کا حشر کیا وہی سلوک اس منصوبے کے ساتھ کر سکتا ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو پائے ۔ بہرحال امید پر دنیا قائم ہے۔ اگر امریکا بہادر چاہتا تو یہ مسئلہ مشرقی تیمور کی طرح حل ہو سکتا تھا ۔ عالم اسلام کا اتحا د و اتفاق جرأت و بے باکی کفار سے مرعوبیت کا خاتمہ سیاسی معاشی اقتصادی سائنسی تعلیمی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں ترقی ایک بار عہد اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا سبب بن سکتے ہیں اور مسلمان اپنا کھویا ہوا وقار و عظمت رفتہ حاصل کر سکتے ہیں بشرطیکہ قرآن و سنت سے خالص وابستگی اور دیگر تمام نظریات باطل سے مکمل علیحدگی اختیار کرلیں۔ تمام اسلامی سربراہان عالمی ضمیر بیدار کر نے کے لیے فعالیت کا مظاہرہ کریں اور او آئی سی کے لیے جان وجود میں نئی روح پھونکیں تاکہ وہ اسلامی مفادات کے تحفظ کا فریضہ صحیح معنوں میں ادا کر سکیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے القدس سے متعلق حالیہ اعلان عالم اسلام کے قلب پر خنجر گھوپنے کے مترادف ہے۔ پوری دنیا میں بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے امریکی صدر کا یہ زہریلا اعلان اسلام اور مسلم دشمنی کا کھلااظہار ہے جس کے خلاف عالم اسلام کے حکمرانوں کو متحد ہو کر سخت لاے علم اختیار کرنا ہوگا .