October 14th, 2019 (1441صفر14)

اعلان استنبول کے بعد کیا ہوگا؟

 

عارف بہار
ترکی کے دارالحکومت استنبول میں او آئی سی کے سربراہ اجلاس میں اقوام عالم سے بیت المقدس کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں امریکا کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے اعلان کو امن عمل کے خاتمے سے تعبیر کیا گیا۔ اسلامی تعاون تنظیم کی سربراہی اس وقت ترکی کے پاس ہے اسی لیے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے امریکی فیصلے کے مضمرات پر غور کرنے اور مسلمانوں کے اجتماعی موقف کو سامنے لانے کے لیے او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔ اجلاس اس لحاظ سے اہم رہا ہے کہ اس میں جہاں سعودی عرب کے فرماں روا شاہ عبداللہ شریک ہوئے وہیں ایران کے صدر حسن روحانی نے بھی شرکت کی۔ پاکستان سے وزیر اعظم کی قیادت میں ایک بھاری بھرکم وفد بھی اجلاس میں شرکت ہوا۔ اردن کے شاہ عبداللہ سمیت بائیس ملکوں کی بھرپور نمائندگی رہی۔
ایران اور سعودی عرب اس وقت علاقائی سیاست میں طاقت اور بالادستی کی لڑائی میں شریک ہیں جس سے مسلمانوں کے کاز کو تقویت نہیں مل رہی مگر سعودی عرب اور ایران جیسے متحارب مسلمان ملکوں اور ترکی اور پاکستان جیسے مضبوط دفاع کے حامل ملکوں کی شرکت نے کانفرنس کی اہمیت کو دوچند کر دیا۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس پہلی بار غصے اور مایوسی کا شکار دکھائی دیے۔ ان کے خطاب سے یہ حقیقت اور تاسف جھلک رہا تھا کہ امریکا نے اوسلو معاہدے کے نام پر ان سے دھوکا کیا۔ انہوں نے امریکا کے اس فیصلے کو امن عمل سے دستبرداری کے مترادف قرار دیا۔ گویا امریکا اس عمل میں ضامن اور سہولت کار کی حیثیت چھوڑ کر اب باقاعدہ طور پر جارح کے ساتھ کھڑا ہو گیا ہے۔ اوسلو معاہدے کے ذریعے یاسر عرفات کو بے اختیار فلسطینی اتھارٹی کی سربراہی سونپ کر انہیں حماس اور اسلامی جہاد جیسی فعال تنظیموں کی مزاحمت کو ختم کرنے اور اسے سیاسی دھارے میں لانے کی حکمت عملی اختیار کی گئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اسرائیل فلسطینی حریت پسندوں کے تابڑ توڑ میزائل اور خود کش حملوں کی زد میں تھا اور اسرائیل کے لیے چلتے پھرتے انسانی بموں کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں رہا تھا۔ اسرائیل فلسطین کے ہمسایہ مسلمان ملکوں سے فدائی حملے روکنے کی درخواستیں کرتا پھر رہا تھا۔ ایسے میں فلسطینی اتھارٹی اور یاسر عرفات جیسی قد آور شخصیت نے حماس اور اسلامی جہاد جیسی فعال تنظیموں کو اپنی ساکھ اور شہرت کی قیمت پر امن عمل کا حصہ بنانے کا راستہ اپنایا۔ یاسر عرفات نے جب اس سارے تعاون کے بعد اسرائیل سے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف پیش رفت کا مطالبہ کیا تو اسرائیلی فوج نے فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ اور اپنے عہد کے مشہور مزاحمتی قائد کو رام اللہ کے کمپاونڈ میں محصور کر دیا۔ وہ مہینوں کمپاونڈ میں محصور رہے اور یہیں ان کی طبیعت بگڑ گئی اور ایک روز انہیں فرانس کے دارالحکومت پیرس منتقل کیا گیا جہاں وہ چند دن زیر علاج رہنے کے بعد پراسرار انداز میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کے بعد یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ یاسر عرفات کو سلوپوائزننگ کے ذریعے قتل کیا گیا۔ طاقتور کی دنیا میں یہ خبریں گرم رہنے کے بعد دم توڑ گئیں اور یاسر عرفات کی موت ایک معما ہی رہی۔ اس کے بعد محمود عباس فلسطینی اتھارٹی کے نئے سربراہ بنائے گئے اور ان سے حماس کو کچلنے کے لیے پولیس مین کا کام لینے کی کوشش کی گئی۔ 1993کے اوسلو معاہدے کے چوبیس سال بعد امریکا نے وہ سارے خواب توڑ دیے جو ایک آزاد ریاست کے حوالے سے فلسطینیوں کو دکھائے گئے تھے۔
فلسطین پر اوسلو معاہدے کی حقیقت اب کھل کر سامنے آگئی ہے۔ اس معاہدے سے فارغ ہوتے ہی امریکی صدر بل کلنٹن نے کشمیر پر اسی طرز پر ایک معاہدے کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔ یہاں بھی مسئلے کے حل سے زیادہ حکومت پاکستان سے حریت پسندوں کی طاقت کو غیر محسوس طور پر توڑنے، انہیں کسی نہ کسی طرح بندوق چھوڑ کر امن معاہدے پر آمادہ اور مجبور کرنے کا وہی کام لینا مقصود تھا جس کے لیے یاسر عرفات کو منتخب کیا گیا تھا۔ فلسطین اور کشمیر مسلم امہ کے دو دیرینہ تنازعات ہیں۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے او آئی سی کے اجلاس کے موقع پر جہاں فلسطین کے حوالے سے زور دار موقف اپنایا وہیں انہوں نے کشمیر کے مسئلے کا تذکرہ بھی شد ومد سے کیا اور مسلمان دنیا کو یاد دلانے کی کوشش کی کہ کشمیر کا مسئلہ بھی مسلم امہ کے اس مسئلے کی طرح سنگین اور اُلجھا ہوا ہے جہاں اسرائیل کا اسٹرٹیجک پارٹنر بھارت پوری قوت سے مسلمان آبادی کو تباہ وبرباد کررہا ہے۔ اسرائیل نے جو کچھ یاسر عرفات کے ساتھ کیا بھارت برسوں پہلے وہی سلوک کشمیریوں کے مقبول لیڈر شیخ عبداللہ کے ساتھ دہرا چکا ہے۔ بھارت نے انہیں مطلب براری کے بعد بائیس سال تک جیل میں ٹھونسے رکھا۔ سری نگر جیل ان کے لیے رام اللہ کا کمپاؤنڈ بنی رہی۔ جہاں سے انہیں اس وقت رہائی ملی جب ان کے قویٰ مضمحل ہو چکے تھے اور ان کی قوت ارادی اور مزاحمت کی صلاحیت جواب دے چکی تھی۔ آج بھی بھارت کشمیر میں عوامی مزاحمت کو کچلنے کے لیے اسرائیل کے تجربات ہی سے نہیں بلکہ اسلحے اور ہر قسم کی ٹیکنالوجی سے فائدہ اُٹھا رہا ہے۔ چہروں کو چھلنی کرنے اور آنکھوں کو بے نور کرنے والی پیلٹ گن ان دونوں مقامات پر اسرائیل اور بھارت کا مشترکہ ہتھیار ہے۔ یہی وجہ کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے جب اپنی تقریر کے دوران پیلٹ گن سے چھلنی لڑکی کی تصویر لہرائی تو یہ ایک فلسطینی لڑکی کی تصویر تھی۔ مظلوم کی حیثیت سے کشمیر اور فلسطین کی تحریکوں میں جہاں حیرت انگیز مماثلت اور مطابقت ہے وہیں ظالم اور جارح کی حیثیت سے اسرائیل اور بھارت کا کردار بھی ایک جیسا ہے۔ اس لیے ایران، ترکی، پاکستان اور سعودی عرب جیسے بااثر ملکوں کو ان مسائل کے حل کے لیے بھی ایک جیسی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔
اعلان استنبول تو ہو گیا مگر ایسے کتنے ہی اعلان ہواؤں میں تحلیل اور اخبار کی ایک دن کی سرخی بن کر لوح حافظہ سے مٹ جاتے رہے ہیں۔ اس اعلان کے بعد مسلمان دنیا کے چار پانچ بااثر ملکوں کو ٹھوس اقدامات پر متفق ہونا ضروری ہوگا وگرنہ مسلمان دنیا یونہی گرم کیک کی طرح ٹکڑوں میں ہڑپ اور ہضم ہوتی رہے گی۔