October 15th, 2019 (1441صفر15)

ٹرمپ اور یروشلم کی مختصر تاریخ

 

تحریر: حبیب الرحمن

یرو شلم جس کو القدس اور بیت المَقدِس بھی کہا جاتا ہے اس کو امریکا کے صدر ٹرمپ نے اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے کر پوری دنیا میں ایک آگ بھڑکانے ماحول پیدا کردیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہود ہوں یا نصاریٰ، کبھی مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے لیکن دنیا بھر کے مسلمان نہ جانے کیوں ان سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور اپنی ہر پریشانی کا علاج ان ہی کو سمجھتے ہیں۔ بے شک امریکا کی یا یہود و نصاریٰ کی پالیسیاں کبھی مسلمانوں کے حق میں نہیں رہیں لیکن جس قدر کھل کر مسلمانوں کے خلاف ’’ٹرمپ‘‘ کے دور میں باتیں ہو رہی ہیں یا پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں ایسا ماضی میں کبھی نہیں ہوا۔ یوں لگتا ہے کہ ہر آنے والا دن مسلمانوں کے لیے دشوار سے دشوار تر ہوتا جا رہا ہے اور کچھ معلوم نہیں کہ اس دشواری سے نکلنے کے لیے مسلمان ممالک کسی جد و جہد میں مصروف بھی ہیں یا نہیں۔ بظاہر تو ہر جانب ایسا نظر آتا ہے کہ جتنی بھی مسلمان ریاستیں ہیں، بالخصوص عرب مسلمان ریا ستیں، ان کو صرف اس بات سے غرض ہے کہ ان کی اپنی اپنی ’’گدیاں‘‘ سلامت رہیں۔ حال ہی میں اکتالیس عرب ممالک کی ایک مشترکہ فورس بنائی گئی ہے لیکن یہ فورس بھی محض اس لیے ہے کہ بادشاہوں کے تخت و تاج سلامت رہیں یا مسلمانوں کے چند مقامات مقدسہ محفوظ رہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان مقامات کو بھی فی الحال ’’مسلمانوں‘‘ ہی سے خدشہ ہے گویا ’’تحفظات‘‘ کی صورت میں بھی دونوں جانب سے خون مسلمانوں ہی کا بہنا ہے۔

نائن الیون کے بعد سے پوری امت مسلمہ پر ایک ایسا دباؤ آگیا ہے جو کسی صورت میں ٹلنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ المیہ یہ ہے کہ مسلمان ممالک جاگنے کے لیے تیار ہی نہیں۔ وہ آج تک اس بات ہی کو نہیں سمجھ پائے کہ ان کے گرد کس سازش کے تحت گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ مسلمان ممالک کو اپنے ملک کے اندر تو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر ہی دیا گیا ہے ساتھ ہی ساتھ ایک ملک کو دوسرے کے سامنے بھی لا کھڑا کیا ہے اور ہر ملک ایک دوسرے کے خاتمے کے در پے ہے۔ جنگ کے شعلے ہیں بلند سے بلند تر ہوتے جا رہے ہیں لیکن اس حدت کو اگر کوئی قوم محسوس نہیں کر رہی ہے تو مسلمان ہیں۔

گزشتہ دنوں جملہ عرب ممالک ’’ٹرمپ‘‘ کی پالیسیوں کی لپیٹ میں اس وقت آگئے جب اس نے ان کو مشترکہ اسلامی فوج بنانے کا مشورہ دیا۔ مشترکہ اسلامی فوج تو بن گئی لیکن اب تک ان کی ساری کارروائیاں دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر مسلمان ملکوں کے خلاف ہی عمل میں آتی رہی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد کہ ’’یروشلم‘‘ اسرائیل کا دارالحکومت ہوگا، کیا یہ 41 ممالک کی فوج ’’یمن‘‘ ہی پر حملہ کرتی رہے گی یا اس کی توپوں کا رخ اسرائیل کی جانب مڑ جائے گا؟۔

یرو شلم یا القدس یا بیت المقدس کیا ہے؟، اس کی مختصر تاریخ سے آگاہی کے لیے ایک مختصر نوٹ درج ذیل ہے تاکہ قارئین کو اس کے متعلق کچھ آگاہی ہو سکے۔

یرو شلم جس کو ’’القدس‘‘ بھی کہا جاتا ہے ملک فلسطین میں واقع ہے لیکن فی زمانہ یہ شہر اسرائیل کے قبضے میں ہے۔ یہودیوں، مسیحیوں اور مسلمانوں، تینوں کے نزدیک مقدس ہے۔ یہاں سیدنا سلیمانؑ کا تعمیر کردہ معبد ہے جو بنی اسرائیل کے نبیوں کا قبلہ تھا اور اسی شہر سے ان کی تاریخ وابستہ ہے۔ یہی شہر مسیح (ء) کی پیدائش کا مقام ہے اور یہی ان کی تبلیغ کا مرکز تھا۔ مسلمان تبدیلی قبلہ سے قبل تک اسی کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے تھے۔ مکہ مکرمہ سے بیت المقدس کا فاصلہ تقریباً 1300 کلومیٹر ہے۔ شہر 31 درجے 45 دقیقے عرض بلد شمالی اور 35 درجے 13 دقیقے طول بلد مشرقی پر واقع ہے۔ بیت اللحم اور الخلیل اس کے جنوب میں اور رام اللہ شمال میں واقع ہے۔ بیت المقدس کو یورپی زبانوں میں Jerusalem (یروشلم) کہتے ہیں۔ ’’بیت المقدس‘‘ سے مراد وہ ’’مبارک گھر‘‘ یا ایسا گھر ہے جس کے ذریعے گناہو ں سے پاک ہوا جاتا ہے۔ پہلی صدی (ق م) میں جب رومیوں نے یروشلم پر قبضہ کیا تو انہوں نے اسے ’’ایلیا‘‘ کا نام دیا تھا۔ بیت المقدس پہاڑیوں پر آباد ہے اور انہی میں سے ایک پہاڑی کا نام کوہ صہیون ہے جس پر مسجد اقصٰی اور قبۃ الصخرہ واقع ہیں۔ کوہ صہیون کے نام پر ہی یہودیوں کی عالمی تحریک ’’صہیونیت‘‘ قائم کی گئی۔

سیدنا یعقوب علیہ السلام نے وحی الٰہی کے مطابق مسجد بیت المقدس (مسجد اقصٰی) کی بنیاد ڈالی اور اس کی وجہ سے بیت المقدس آباد ہوا۔ پھر عرصہ دراز کے بعد سیدنا سلیمان ؑ (961 ق م) کے حکم سے مسجد اور شہر کی تعمیر اور تجدید کی گئی۔ اس لیے یہودی مسجد بیت المقدس کو ہیکل سلیمانی کہتے ہیں۔ سنہ 620ء میں نبی کری ئ جبریل امینؑ کی رہنمائی میں مکہ سے بیت المقدس پہنچے اور پھر معراج آسمانی کے لیے تشریف لے گئے۔ یہ ایک ایسا شہر ہے جو تاریخ میں نہ جانے کتنی بار اجڑا اور نہ جانے کتنی بار آباد ہوا۔ ہیکل سلیمانی اور بیت المقدس کو 586ء (ق م) میں شاہ بابل (عراق) بخت نصر نے مسمار کر دیا تھا اور ایک لاکھ یہودیوں کو غلام بنا کر اپنے ساتھ عراق لے گیا۔ بیت المقدس کے اس دور بربادی میں سیدنا عزیرؑ کا وہاں سے گزر ہوا، انہوں نے اس شہر کو ویران پایا تو تعجب ظاہر کیا کہ کیا یہ شہر پھر کبھی آباد ہوگا؟ اس پر اللہ نے انہیں موت دے دی اور جب وہ سو سال بعد اٹھائے گئے تو یہ دیکھ کر حیران ہوئے کہ بیت المقدس پھر آباد اور پر رونق شہر بن چکا تھا۔ بخت نصر کے بعد 539 ق م میں شہنشاہ فارس روش کبیر (سائرس اعظم) نے بابل فتح کر کے بنی اسرائیل کو فلسطین واپس جانے کی اجازت دے دی۔ یہودی حکمران ہیرود اعظم کے زمانے میں یہودیوں نے بیت المقدس شہر اور ہیکل سلیمانی پھر تعمیر کر لیے۔ یروشلم پر دوسری تباہی رومیوں کے دور میں نازل ہوئی۔ رومی جرنیل ٹائٹس نے 70ء میں یروشلم اور ہیکل سلیمانی دونوں مسمار کر دیے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ 137 ق م میں رومی شہنشاہ ہیڈرین نے شوریدہ سر یہودیوں کو بیت المقدس اور فلسطین سے جلا وطن کر دیاتھا۔ چوتھی صدی عیسوی میں رومیوں نے عیسائیت قبول کرلی اور بیت المقدس میں گرجے تعمیر کیے۔

نبی کریم ؐ معراج کو جاتے ہوئے بیت المقدس پہنچے۔ 2ھ بمطابق 624ء تک بیت المقدس ہی مسلمانوں کا قبلہ تھا، حتی کہ حکم الٰہی کے مطابق کعبہ (مکہ) کو قبلہ قرار دیا گیا۔ 17ھ یعنی 639ء میں عہد فاروقی میں عیسائیوں سے ایک معاہدے کے تحت بیت المقدس پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔ خلیفہ عبدالملک کے عہد میں یہاں مسجد اقصٰی کی تعمیر عمل میں آئی اور صخرہ معراج پر قبہ الصخرہ بنایا گیا۔ سنہ 1099ء میں پہلی صلیبی جنگ کے موقع پر یورپی صلیبیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کر کے 70 ہزار مسلمانوں کو شہید کر دیا۔ 1187ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو عیسائیوں کے قبضے سے چھڑایا۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران انگریزوں نے بیت المقدس اور فلسطین پر قبضہ کر کے یہودیوں کو آباد ہونے کی عام اجازت دے دی۔ یہود و نصاریٰ کی سازش کے تحت نومبر 1947ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دھاندلی سے کام لیتے ہوئے فلسطین اور عربوں اور یہودیوں میں تقسیم کر دیا اور جب 14 مئی 1948ء کو یہودیوں نے اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا تو پہلی عرب اسرائیل جنگ چھڑ گئی۔ اس کے جنگ کے نتیجے میں اسرائیلی فلسطین کے 78 فی صد رقبے پر قابض ہو گئے، تاہم مشرقی یروشلم (بیت المقدس) اور غرب اردن کے علاقے اردن کے قبضے میں آ گئے۔ تیسری عرب اسرائیل جنگ (جون 1967ء) میں اسرائیلیوں نے بقیہ فلسطین اور بیت المقدس پر بھی تسلط جما لیا۔ یوں مسلمانوں کا قبلہ اول ہنوز یہودیوں کے قبضے میں ہے۔ یہودیوں کے بقول 70ء کی تباہی سے ہیکل سلیمانی کی ایک دیوار کا کچھ حصہ بچا ہوا ہے جہاں دو ہزار سال سے یہودی زائرین آ کر رویا کرتے تھے اسی لیے اسے ’’دیوار گریہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اب یہودی مسجد اقصٰی کو گرا کو ہیکل تعمیر کرنے کے منصوبے بناتے رہتے ہیں۔ اسرائیل نے بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت بھی بنا رکھا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ٹرمپ کے اس فیصلے نے مسلم دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نہ جانے وہ کون سی مسلم دنیا ہے جو ہل رہی ہے۔

مسلم دنیا تو اس وقت بھی نہ ہلی جب 1967ء میں اسرائیل نے بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تھا اور کئی عرب ممالک کی بنیادیں تک ہلا کر رکھ دی تھیں۔ مسلم دنیا تو اس وقت بھی سوئی رہی تھی جب بیت المقدس کو یہودیوں نے آگ لگا دی تھی.

آج بھی 1967والے حالات ہیں۔ اس وقت یہودیوں نے اس علاقے کو فتح کیا تھا اور اب یہود نے نصاریٰ کی مدد سے اس مقدس شہر کو اپنا دارالحکومت بنا نے کا واضح اعلان کر دیا ہے۔ ایسے موقعے پر دیکھنا یہ ہے کہ مسلم امہ کی غیرت جوش و ولولے میں بدلتی ہے یا اس کی غیرت کی ساری چنگاریاں سرد پڑچکی ہیں۔ مجھے ایک مرتبہ پھر نعیم صدیقی یاد آرہے ہیں جنہوں نے ایسے موقعے کے لیے ارشاد فرمایا تھا کہ

یروشلم یروشلم

تو اک حریم محترم

ترے ہی سنگ در پہ آج منہ کے بل گرے ہیں ہم

تجھے دیا ہے ہاتھ سے بزخم دل بہ چشم نم