October 15th, 2019 (1441صفر15)

عالم اسلام کے خلاف کھلا اعلانِ جنگ

 

سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی کا امریکی فیصلہ

تحریر: عالم نقوی

کیا القدس شریف (بیت ا لمقدس) کو ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعے ناجائز اور غاصب حکومت اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لینا تیسری جنگ عظیم کے نقارے پر پہلی چوٹ ہے ؟

کیا یہ اقدام اکیسویں صدی میں سرگرم دجال کے نمائندوں کی سربراہی، نیتن یاہو یا کسی اور فرعون وقت اور قارون زمانہ کے بجائے ڈونلڈ ٹرمپ کے سپرد کیے جانے کاباضابطہ اعلان ہے ؟

بظاہر اِن دونوں سوالوں کے جواب اثبات میں ہیں اور امت کے اِتحاد کے سوا اس مسئلے کا اور کوئی حل ہمیں نہیں معلوم۔ خوشی ہے کہ ابتدائی طور پر دنیا کے کئی مسلم ممالک کی جانب سے ٹرمپ کے اِس فیصلے کے خلاف کم و بیش یکساں رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے۔

سعودی فرماں روا شاہ سلمان نے مذکورہ فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اُسے نہ صرف ناقابل ِقبول قرار دیا ہے بلکہ اپنے دوست ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اِس فیصلے کو واپس لیں اور امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے سے باز رہیں ۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے بھی اپنے ہم منصب رجب طیب اِردوان کو فون کیا۔ دونوں ملکوں نے ٹرمپ کے اس اعلان کو غیر قانونی ،اشتعال انگیز اور نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے نہایت خطر ناک قرار دیا ہے ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکا کے روایتی اور قدرتی حلیف برطانیہ اور آسٹریلیا تک نے نہ صرف نئے امریکی مؤقف کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے بلکہ کم و بیش اُن ہی الفاظ میں اس’ٹرمپیائی اقدام‘ کی مذمت کی ہے جن کا استعمال انڈونیشیا اور پاکستان جیسے مسلمان ممالک نے کیا ہے اور جہاں تک عرب دنیا ،مسلم دنیا اور بڑی حد تک پوری غیر مسلم دنیا کے عوام کے مخالفانہ ردعمل کا سوال ہے وہ بھی حسب ِمعمول صہیونی مقتدرہ کے ہر فیصلے کے خلاف ہے ۔

لیکن کیا ڈونلڈ ٹرمپ اس اجتماعی عالمی رد عمل کا احترام کرتے ہوئے اپنا دجالی فیصلہ واپس لے لیں گے ؟ ہمارا جواب ہے نہیں ۔اس لیے کہ دنیا بھر کے قدرتی وسائل اور اقتدار پر قابض مقتدرہ عوام کی نہیں صرف اپنے مفادکی پابند ہے۔آپ صرف پچھلے 17 برس کے مختلف عوامی مظاہروں کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو آپ کے لیے بھی ہمارے جواب کی درستگی پر یقین کے سوا کوئی چارہ نہ رہ جائےگا۔

دنیا بھر کے امن پسند عوام کب چاہتے تھے کہ عراق و افغانستان کے غریب و نادار و بے قصور عوام پر جنگ مسلط کی جائے؟ 16، 17 برس قبل دنیا کا شاید ہی کوئی بڑا شہر ایسا ہو جہاں کے عوام نے لاکھوں کی تعداد میں جمع ہو کر ممکنہ جنگ کے خلاف مظاہرے نہ کیے ہوں۔ لیکن نہ صرف ’دہشت گردی مخالف جنگ‘(وار اگینسٹ ٹیرر)کے نام پرعراق و افغانستان کو ’اجتماعی تباہی کے ہتھیارو ں(ڈبلیو ایم ڈیز ) کے ذریعے پتھر کے زمانے میں پہنچا نے سے گریز نہیں کیا گیا بلکہ لاکھوں’ بے گناہ شہریوں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

یہود ومشرکین اہل ایمان کے دائمی اور فطری دشمن ہیں(المائدہ۔۸۲) ۔جب تک پوری امت مسلمہ متحد ہوکر اپنے دفاع کے لیے قرآن کریم کے احکامات (الانفال ۔۶۰) پر عمل نہیں کرے گی نہ اس کے مسائل حل ہوں گے نہ دنیا ئے انسانیت کو ’اِستِعماری اِستِثمار‘ سے نجات ملے گی ۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام کر، اِفتراق و اِنتشار کو ختم کر کے امت ِواحدہ، امت وسط اور خیر امت بنے بغیراب کچھ نہیں ہونے والا۔ محض زبانی جمع خرچ تو کبھی کافی نہیں ہوتا ۔اب یہ سعودی عرب، ایران، ترکی ،متحدہ عرب امارات ،بحرین ،پاکستان اور انڈونیشیا وغیرہ وغیرہ 57 مسلم ممالک کے اصلی امتحان کا وقت ہے ۔صرف بیان بازی سے کام نہیں چلنے والا۔

تیسری جنگ عظیم تو اِبلیس اور اُس کے سبھی دجالی نمائندوں کا پوری دنیا میں اپنے واحد ’ استعماری استثماری نظام‘ کے قیام کا آخری ایجنڈا ہے ۔اور یہ تیسری عظیم جنگ اجتماعی تباہی والے جدید ترین ’ایٹمی ،کیمیاوی ،حیاتیاتی اور موسمی ہتھیاروں ‘کے ناقابل تصور اِبلیسی اِستعمال کی عظیم جنگ ہوگی اور اس جنگ میں حقیقی کامیابی با لآخر اُنہی کی ہوگی جوٹرمپوں ،یا ہوؤں ،شاہوں ،مودیوں اور یو گیوں کے بجائے صرف اور صرف اللہ واحد ا لقہار و جبار سے ڈرنے والے ہوں گے! ’اور جو اللہ سے ڈرے گا اللہ ان کے لیے نجات کی صورت نکال دے گا اور ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے وہم و گمان بھی نہ ہو اور جس نے اللہ پر توکل کر لیا تو(بس) اللہ(ہی) اُس کے لیے کافی ہے اور بے شک اللہ اپنے(ہر) کام کو پورا کر کے رہتا ہے اور اُس نے ہر چیز کا ایک اندازہ ( پیمانہ ) مقر ر کر رکھا ہے (سورہ طلاق آیت۲۔ ۳) فھل من مدکر ؟