October 14th, 2019 (1441صفر14)

اور عمران خان کی نفرت انگیز تقریر…!!!

 

مظفر اعجاز

یہ بات درست ہے کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین نے نفرت انگیز تقریر کی تھی۔ پاکستان، ریاست کے اہم اداروں، قائداعظم، پاک فوج، آئی ایس آئی کسی کو نہیں چھوڑا تھا سب کے خلاف بات کی تھی۔ یہ اور بات ہے کہ برطانوی پولیس کو اب تک اس بات کا ثبوت نہیں ملا کہ الطاف حسین نے نفرت انگیز تقریر کی تھی یا نہیں۔ لہٰذا ضمانت دے دی… لیکن ریاست پاکستان کی کیا اوقات… اس کے اداروں کی کیا حیثیت… اس کی فوج کے سالار کی کیا اہمیت، اس کے خفیہ اداروں کی کیا وقعت… اس ملک کا قیام جس شخصیت کے صدقے عمل میں آیا اس کے اور اس کے صحابہؓ کے بارے میں لاف گزاف کرنے کو کسی نے نفرت انگیز تقریر نہیں کہا۔ پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے پہلی مرتبہ جہالت کا ثبوت نہیں دیا ہے، اسے اگر دینی معاملات کا علم نہیں ہے تو اس مسئلے پر زباں کھولنے کی کیا ضرورت، نقل کفر، کفر نہ باشد کے مصداق عمران خان نے بہت واضح الفاظ میں صحابہ کرام کی توہین کی ہے۔ وہ کہتے ہیں… نعوذ باللہ، ’’جب جنگ بدر ہوئی تھی تو صرف 313 تھے لڑنے والے باقی ڈرتے تھے لڑنے کے لیے‘‘۔
جب جنگ احد ہوئی سرکار مدینہ نے تیر کمان والوں کو کہاکہ تم نے اپنی پوزیشن نہیں چھوڑنا۔ جب ’’لوٹ مار‘‘ شروع ہوئی تو وہ چھوڑ کر چلے گئے… سرکار مدینہ کا حکم نہیں مانا۔
اس سے قبل عمران خان کہہ چکے تھے کہ قرآن کریم میں سیدنا عیسیٰؑ کا ذکر ہی نہیں ہے۔ اس پر ان کے ہمنوا کہتے ہیںکہ عمران خان کی تقریر کو خوامخواہ مذہبی رنگ دیا جارہا ہے۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے خوامخواہ وضاحت کرڈالی کہ وزیراعظم کے تقریر میں کوئی متنازع بات ہی نظر نہیں آئی جبکہ مفتی تقی عثمانی کہتے ہیں کہ جنگ بدر میں صحابہؓ نہیں ڈرے اور جنگ احد کے لیے لوٹ مار کا لفظ بے ادبی ہے۔ لیکن معافی تو وزیراعظم نے اس وقت بھی نہیں مانگی تھی جب انہوں نے قادیانی مشیر رکھا تھا۔ جب شاتم رسول ملعونہ آسیہ کی رہائی کا اعلان کیا تھا، سیدنا عیسیٰؑ کے بارے میں اپنی کم علمی کا اظہار کیا تھا۔ اپنے وزیر بے تدبیر فواد چودھری کی جانب سے علما کرام اور رویت ہلال کے مسئلے پر بے ہودگی پر بھی معافی نہیں مانگی تھی۔
وزیراعظم کے بارے میں اب یہ کہا جارہا ہے کہ وہ دینی معاملات میں نہ بولا کریںلیکن کیا انہیں سیاسی معاملات، مذہبی معاملات، معاشی معاملات، قومی معاملات، بین الاقوامی معاملات میں سے کسی معاملے کی سمجھ بوجھ ہے؟ وہ کہتے ہیں کہ قوم منی لانڈرنگ کرنے والوں سے مجرموں جیسا سلوک کرے ان کی تعریفیں بند کی جائیں۔ ذرا نیب کی ٹیم کا انکسار دیکھیں جب آصف زرداری کو منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کرنے پہنچی تو ایسا لگ رہا تھا کہ نکاح خواں نکاح نامے پر دستخط کروارہا ہے، نہایت خوشگوار ماحول تھا۔ یعنی مذاق ہورہا تھا۔ سر گاڑی آرہی ہے سر ٹینشن نہ لیں۔ سر پہلے کاغذات چیک کرلیں، ان پر اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے وزیراعظم عوام کو مشورہ دے رہے ہیں کہ ایسے لوگوں سے مجرموں جیسا سلوک کریں اور ایک سرکاری ادارہ ایسے لوگوں سے وی آئی پی سلوک کررہا ہے۔ کوئی موٹر سائیکل چور، کسی مسجد سے گھڑی چرانے والا، کوئی کسی سے رقم چھینتا ہوا پکڑا جائے تو یہ سرکاری ادارے اٹھا کر گاڑی میں پھینکتے ہیں ٹھڈے مارتے ہوئے لے جاتے ہیں۔ وزیراعظم کو زرداری کی عزت کی فکر ہے سرکار دو عالمؐ کے صحابہ کی خود توہین کررہے ہیں۔ حیرت ہے اس شرانگیزی پر پاکستان میں کوئی سرکاری ادارہ حرکت میں نہیں آیا۔ وزیراعظم کی کیا اوقات کہ صحابہؓ کے بارے میں بے ادبی پر مشتمل تبصرے کریں۔ حیرت ہے کہ اپنی پارٹی کے لیڈر پر کوئی الزام سن کر پاگل ہونے والے سیاسی رہنما خاموش ہیں۔ حتیٰ کہ اپنے عقیدے، اپنے مسلک اور اپنی فقہ کے خلاف ایک لفظ بھی نہ سننے والے مختلف مسالک کے علما کا ردعمل بھی بہت ہلکا رہا۔ بس رسمی احتجاج… جب اس ملک کا وزیراعظم اسلامی سربراہ کانفرنس میں یہ کہے کہ مغرب ہمارے پیغمبر کی توہین کیوں کرتا ہے، اس لیے کہ ہم نے کہیں بتایا نہیں کہ ہم اپنے پیغمبر سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ ہماری طرف سے مضبوط جواب نہیں جاتا… اور پھر فرمایا کہ میرا مطلب یہ نہیں کہ ہم فوجی کارروائی کریں بائیکاٹ کریں، یا ان کے خلاف سفارتی مہم چلائیں، ایسے دورخے اور ڈرپوک حکمرانوں کے ہوتے ہوئے مغرب توہین رسالتؐ ہی کرے گا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا وزیراعظم صحابہ کی توہین کرے گا تو مغرب کو شہ ملے گی۔ عمران خان کے اس حوالے سے بیان پر اسمبلی، سینیٹ، صوبائی اسمبلیوں ہر جگہ قرارداد مذمت منظور ہونی چاہیے۔ وہ آئین کی خلاف ورزی کے بھی مرتکب ہوئے ہیں۔ دائرہ اسلام سے نکالنا اور اس میں شامل کرنا ہمارا کام نہیںلیکن علمائے کرام اس مسئلے پر کیوں غور کریں۔ امید ہے مولانا طارق جمیل کی غلط فہمی بھی رفع ہوگئی ہوگی۔