October 20th, 2019 (1441صفر21)

عوام تو دیوالیہ ہوگئے

 

وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک دیوالیہ ہونے سے بچا لیا، معیشت مستحکم ہوگئی، کٹھن راستہ طے کرلیا۔ کرنٹ اکائونٹ خسارہ 30 فیصد کم کردیا۔ ایسے ہی دعوے پاکستانی قوم کئی برس سے سن رہی ہے۔ کوئی ماہر معاشیات یہ نہیں بتا سکا کہ دیوالیہ پن کیا ہوتا ہے۔پاکستان کے حکمرانوں نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے کوئی ایک دو درجن مرتبہ بچایا ہے۔ جرنیلوں نے جب بھی اقتدار سنبھالا ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔ انہوں نے بچا لیا، بھٹو صاحب نے ملک سنبھالا تو دیوالیہ ہونے کے قریب تھا ان کو نکالا تو ضیا الحق نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا۔ وہ گئے تو بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور پھر بے نظیر اور نواز شریف باری باری آئے اور ہر ایک نے ہر مرتبہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔ معین قریشی، جنرل پرویز اور اس کے بعد زرداری اور پھر نواز شریف نے بھی یہی کہا اور اب عمران خان نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے لیکن عمران خان سمیت کوئی یہ نہیں بتا سکتا کہ دیوالیہ پن اور کیا ہوتا ہے۔ 104 روپے کا ڈالر 157 کا ہوگیا اس کے نتیجے میں بیٹھے بٹھائے قرضے میں 1000 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا۔ صرف قرضوں کی مالیت میں اضافہ نہیں ہوا، ہر شے کی خریداری ڈالروں میں ہوتی ہے اس اعتبار سے ہر ادائیگی پر ڈالر کی قیمت بڑھنے یا روپے کی قدر گرنے کے اعتبار سے اضافہ ہوگیا لیکن ملک پھر بھی دیوالیہ نہیں ہوا۔ وزیراعظم صاحب سیاسی، مذہبی، معاشی کسی معاملے میں توازن نہیں رکھتے۔ صرف لمبی ہانکنے میں استاد بنتے جارہے ہیں۔ انہیں اس بات کا فرق ہی محسوس نہیں ہورہا ہے کہ دیوالیہ پن کیا ہوتا ہے۔ انہوں نے ملک کس کو سمجھا ہوا ہے یہ تو انہیں ہی پتا ہوگا لیکن عوام مکمل دیوالیہ ہوچکے ہیں۔ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں جو اضافہ کیا گیا ہے وہ تو مہنگائی پہلے ہی کھا چکی تھی۔ پیٹرول مہنگا، سی این جی مہنگی، بجلی ہر ماہ مہنگی، آٹا، دال چاول، گوشت سب مہنگا… یہ کسی اور نے نہیں حکومت نے کہا ہے، پہلی مرتبہ اشیائے خورونوش اور وہ بھی گوشت، سبزی، پھل وغیرہ حکومت نے بجٹ میں مہنگے کردیئے جب آمدنی میں اضافہ نہیں ہوگا تو لوگ یہ اشیا کیسے خریدیں گے۔ جن کی آمدنی میں اضافہ ہوگا ان سے ٹیکس کی مد میں مزید وصول کرنے کا انتظام کرلیا گیا ہے۔ ہر محکمہ خسارے میں ہے۔ ریلویز کا خسارہ آسمان پر پہنچ چکا۔
وزیراعظم اس سے قبل بھی ایسی ہی باتیں کرچکے ہیں کہ ایک فیصد لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔ انہیں یہ معلوم ہی نہیں کہ ٹیکس دینے والا اور فائلر دو الگ چیزیں ہیں۔ گندم کھیت سے فلور مل کو جاتا ہے وہ خریدتا ہے اس پر ٹیکس ہے۔ وہ کتنا ادا کرتا ہے کتنا چراتا ہے یہ الگ مسئلہ ہے لیکن گندم کی خریداری کے ساتھ ہی ٹیکس شروع، اسی گندم کا آٹا پستا ہے اور مارکیٹ میں آتا ہے اس کی فروخت پر ٹیکس ہے۔ اس آٹے سے روٹی بن کر دکانوں میں ملتی ہے اس پر بھی ٹیکس ہے۔ اس آٹے سے میدہ نکالا جاتا ہے اور جب یہ مارکیٹ میں آتا ہے تو اس کی قیمت میں ٹیکس شامل ہوتا ہے۔ اس میدے سے ڈبل روٹی بنتی ہے اس کی قیمت میں بھی ٹیکس شامل ہوتا ہے اور اسی ڈبل روٹی سے سینڈوچ بنتے ہیں ان پر بھی ٹیکس ہوتا ہے۔ یہ صرف ایک مثال ہے ہر چیز پر اسی طرح کئی کئی ٹیکس ہیں۔ تنخواہ دار بھی ٹیکس دیتا ہے، پیٹرول ڈلوانے والا بھی دیتا ہے حتیٰ کہ ہر شے خرید نے بیچنے پر ٹیکس ہے اور یہ کہتے ہیں کہ ایک فیصد لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔ اچھا اب یہ تسلیم کرلیا جائے کہ ملک دیوالیہ ہونے سے بچا لیا گیا ہے، معیشت مستحکم ہوگئی ہے، کٹھن راستہ طے کرلیا گیا ہے تو جناب اب اسی تیز رفتاری سے عوام کو اس خوش خبری کے ثمرات بھی ملنے چاہئیں۔ تو خان صاحب بتائیں کہ عوام کب رس نچوڑیں گے۔ ان کے تو خون کا آخری قطرہ بھی نچوڑ لیا گیا ہے اور وں کی طرح انہوں نے بھی دعویٰ تو کردیا کہ ملک کو بچا لیا گیا ہے لیکن بچا کر معیشت مستحکم کرکے عوام کو فائدہ کیا پہنچایا۔ عالمی مارکیٹ کے نام پر پیٹرول مہنگا کرنے میں ایک دن نہیں لگتا۔ جبکہ خریداری لمبی مدت کی ہوتی ہے۔ قیمت بھی لمبی مدت کی طے شدہ ہوتی ہے تو اس کامیابی کے ثمرات بھی عوام کو دینا شروع کریں۔ تنخواہیں بڑھائیں، ٹیکس کم کریں۔ اشیائے ضروریہ کی آسان قیمتوں پر فراہمی یقینی بنائیں۔ قیمتوں کو کنٹرول کریں۔ ترقیاتی منصوبے شروع کریں۔ سڑکیں، پانی، بجلی، پارکس بنیادی چیزیں ہیں۔ رہائش کا مسئلہ حل کرائیں۔ کیوں کہ معیشت مستحکم ہوگئی ہے۔ مستحکم معیشت کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ فی کس آمدنی بڑھ جاتی ہے۔ اگر عالمی معیار پر دیکھیں تو اس وقت پاکستانیوں کی فی کس اوسط آمدنی بنگلا دیش سے بھی نیچے جارہی ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں افغان کرنسی ہم سے زیادہ مستحکم ہے۔ دعوے تو ایشیائی ٹائیگر بننے کے پہلے بھی ہوتے رہے ہیں لیکن ٹائیگر کی دم کاٹ کر گلے میں زنجیر ڈال دی جاتی ہے تو خاک چھلانگ لگائے گا۔ ہاں معیشت مستحکم ہوئی ہے تو حکمران طبقے کی ہوئی ہے، اپوزیشن کی ہوئی ہے۔ پی ٹی آئی کے وزرا کی ہوئی ہے جو پی ٹی آئی کے وزرا نہیں ہیں۔ یہ کبھی مشرف کے وزیر تھے، کبھی نواز شریف کے اور کبھی زرداری کے وزیر تھے۔ یہ کسی کے وزیر نہیں ہیں یہ اپنی مدد کرنے کے لیے پارٹیاں بدلتے ہیں۔ کچھ دن بعد یہ کہیں اور چلے جائیں گے۔ وزیراعظم صاحب نے اقامے والوں کا احتساب کرنے کی بات بھی کی ہے۔ لیکن ذرا وہ بیرون ملک فنڈنگ، بنی گالہ، علیمہ باجی اور علیم خان کا حساب بھی لینے کی بات کریں تاکہ معیشت اور مستحکم ہو سکے۔ یہ دعوے کرنا تو کوئی مسئلہ نہیں ہر حکمران نے کشمیر بھی کئی کئی مرتبہ آزاد کرایا ہے آپ سے تو اب کشمیر، عافیہ اور امت مسلمہ کا نام بھی نہیں لیا جاتا۔ پہلے حکمرانوں کا ذہنی دیوالیہ پن دور ہونا چاہیے اس کے بعد ہی ملک دیوالیہ ہونے سے بچے گا۔

بشکریہ جسارت