October 14th, 2019 (1441صفر14)

جماعت اسلامی کا احتجاج عوام کے لیے

 

 

جماعت اسلامی آج سے ملک بھر میں احتجاجی مہم شروع کررہی ہے ۔ یوں تو حزب اختلاف کی ساری ہی پارٹیاں حکومت کے خلاف احتجاج کرنے جارہی ہیں مگر جماعت اسلامی اور دیگر پارٹیوں کی احتجاجی مہم میں یہ واضح فرق ہے کہ جماعت اسلامی عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے اور مہنگائی کے طوفان کے خلاف احتجاج کررہی ہے جبکہ دیگر پارٹیاں اپنے سربراہوںکے خلاف کرپشن کے کیسوں میں گرفتاری کے خلاف سراپا احتجاج ہیں ۔ جماعت اسلامی کے سواملک کی ساری ہی پارٹیاں موروثی پارٹیاں ہیں اور شخصیات کے گرد گھومتی ہیں ۔ ان شخصیات نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے اور دونوں ہاتھوں سے ایک ایک پروجیکٹ میں اربوں روپے کی کرپشن کی ہے ۔ اب جبکہ ان کے خلاف کرپشن کے کیس رجسٹر ہوگئے ہیں اور ان کے تحت گرفتاریاں شروع ہوگئی ہیں تو ان پارٹیوں نے احتجاج کا اعلان کردیا ہے ۔ جماعت اسلامی ہی پاکستان کی واحد سیاسی و مذہبی جماعت ہے جس میں موروثیت کا عمل دخل نہیں ہے ۔ اس کے ارکان مدت پوری ہونے کے بعد ہر سطح پر اپنے ناظم اور امیر کا انتخاب کرتے ہیں ۔ یہ انتخابات باقاعدگی سے عمل میں آتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی کسی کی کرپشن کے دفاع کے بجائے عوامی مسائل پراحتجاجی میدان میں اتری ہے ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کرپشن کے خلاف عمران خان کے اقدامات کا بالکل درست تجزیہ کیا ہے کہ حکومت احتساب نہیں ،سیاست کررہی ہے۔اگر احتساب ہوتا تو قابل مواخذہ لوگ وزیر اعظم کے اردگرد نہ بیٹھے ہوتے ۔ اگر بے لاگ احتساب ہوا تو اسمبلیاں خالی اور جیلیں بھر جائیں گی۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ مہنگائی نے حقیقت میں عوام کی چیخیں نکال دی ہیں۔اب جماعت اسلامی عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے میدان میں نکلی ہے تو یہ عوام کا فرض ہے کہ وہ اس احتجاج میں جماعت اسلامی کا ساتھ دیں کیوں کہ ان ہی کے حقوق اور ان کی آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے جماعت اسلامی نے احتجاج کی کال دی ہے ۔ اگر عوام نے اس مہم میں جماعت اسلامی کا ساتھ نہ دیا تو پھر سمجھ لینا چاہیے کہ عوام نے اپنی غلامی پر سرتسلیم خم کردیا ہے ۔ اگر اب بھی مزاحمت نہ کی گئی تو اس امر کے قوی اندیشے ہیں کہ پاکستان کو لاطینی امریکا یا افریقا کے بد حال ممالک کی صف میں لا کر کھڑا کردیا جائے گا جہاں پر افراط زر کی وجہ سے مقامی کرنسی کے اربوں روپے کے نوٹ چھاپنے پڑتے ہیں اورکئی کئی ماہ تنخواہ نہ ملنے پر فوج اور عدلیہ جیسے اداروں کے ارکان بھی ہڑتال پر چلے جاتے ہیں یا احتجاجی مظاہرے کرتے ہیں ۔ یہ وقت ہے کہ قومی مفاد میں پارٹی کی سیاست ترک کی جائے اور صرف ملک کے مفاد کی بات کی جائے ۔ آئی ایم ایف کے حاضر سروس ملازمین یا اس کے ایجنٹوں کی جو فوج ظفر موج ملک پر مسلط کردی گئی ہے ، اس سے گلو خلاصی کروائی جائے اور جن لوگوں نے ملک لوٹا ہے ، ان سے بلا امتیاز لوٹی ہوئی رقم واپس لی جائے ۔ سرکاری صفوں میں جو بھی قوم کے مجرم بیٹھے ہیں ، سب سے پہلے ان سے احتساب شروع کیا جائے تاکہ دیگر لوگوں کو عبرت ہوسکے ۔