October 15th, 2019 (1441صفر15)

مکار دشمن سے دوستی کی خواہش

 

وزیر اعظم عمران خان نے بشکیک میں روسی خبررساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت سے کشیدگی کی اصل وجہ کشمیر ہے ۔ عمران خان نے خظے میں امن کو درپیش خطرے کی درست نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بھارت کے ساتھ پاکستان کے حالات معمول پر آجائیں تو پاکستان کو اسلحے پر خرچ کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ پاکستان کشمیر تنازع کا براہ راست فریق ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان ہی اس مسئلے کے حل کے لیے متحرک نہیں ہے ۔ بھارت نے کشمیر پر پہلے دن سے جارحانہ پالیسی اپنائی ہے ۔ 1948 میں پہلے کشمیر میں فوج داخل کرکے قبضہ کیا ، اس کے بعد سے کشمیر پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے ابھی تک مقبوضہ وادی میں مسلسل جبر و تشدد کا سلسلہ جاری ہے ۔ کوئی دن نہیں جاتا کہ نہتے کشمیریوں پر بھارتی فوج تشدد نہ کرتی ہو جس کے نتیجے میں روز ہی وہاں پر شہادتیں ہوتی ہیں اور کشمیری نوجوان ، بچے و خواتین زخمی بھی ہوتے ہیں ۔ روز ہی کریک ڈاؤن ہوتا ہے جس کے بعد متعدد نوجوان لاپتا کردیے جاتے ہیں ۔ گاہے گاہے بھارتی فوج کنٹرول لائن پر فائرنگ کرتی ہے جس کے نتیجے میں پاکستانی دیہاتوں میں رہنے والے غریب جان سے جاتے ہیں اور ان کی املاک کو بھی نقصان پہنچتا ہے ۔ کشمیر وہ تنازع ہے جس پر اقوام متحدہ کی متفقہ قرارداد کے ذریعے پوری دنیا نے اپنا فیصلہ سنادیا کہ کشمیریوں کو ان کی مرضی سے فیصلہ کرنے کے لیے حق خود ارادیت دیا جائے جسے بھارت ڈھٹائی سے ماننے سے مسلسل انکاری ہے ۔ چونکہ پاکستان اس تنازع کا براہ راست فریق ہے ، اس لیے اصولی طور پر پاکستان ہی کو اس مسئلے کے حل کے لیے سب سے زیادہ متحرک ہونا چاہیے اور ہر ممکن طریقہ استعمال کرکے بھارت کو اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل کے لیے مجبور کرنا چاہیے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس ضمن میں پاکستان ہی سب سے زیادہ سستی کا شکار ہے ۔ کسی بھی سطح پر پاکستان میں کشمیر کی آزادی کے لیے کوئی تحریک ہی نہیں ہے ۔ پاکستانی وزارت خارجہ اس پر روایتی بیان دے کر خاموش ہوجاتی ہے اور بس ۔ نہ تو اس سلسلے میں اقوامتحدہ کی سطح پر کوئی تحریک چلائی جاتی ہے کہ بھارت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے مجبور کیا جاسکے اور نہ ہی عالمی برادری میں اس ضمن میں دوستوں کی مدد کے حصول کے لیے کوئی کاوش نظر آتی ہے ۔ اب تو پاکستان کے اندر بھی لوگ اس اہم ترین مسئلے کو بھولتے جارہے ہیں اور ایک منظم سازش کے ذریعے اس اہم مسئلے کو نصابی کتب سے خارج کردیا گیا ہے ۔ مسئلہ کشمیر پاکستان کے لیے اہم ترین ہے ۔ یہیں سے پاکستان آنے والے دریاؤں کے سوتے پھوٹتے ہیں جن کا رخ بھارت رفتہ رفتہ موڑ رہا ہے اور پاکستانی دریاسوکھتے جارہے ہیں ۔ اسی تنازع کی وجہ سے پاکستان اپنے دفاعی بجٹ کے لیے بھاری رقم مختص کرنے پر مجبور ہے ۔ اگر بھارت کے ساتھ کشیدگی ختم ہوجائے تو پاکستان یہی رقم اپنے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرسکتا ہے ۔ عمران خان صاحب جب اس امر سے آگاہ ہیں کہ اصل مسئلہ کشمیر ہے تو اپنی داخلہ و خارجہ پالیسی میں بھی کشمیر کے تنازع کے حل کو ترجیح دیں ۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب کو ہدایت کریں کہ وہ اقوام متحدہ میں اس مسئلے کو زندہ کرے اور اقوام متحدہ کو یاد دلائے کہ اس کی ایک قرارداد ایسی بھی ہے جسے بھارت ماننے سے انکاری ہے ۔ اگر بھارت اس قراردار پر عمل کرنے سے انکار کرے تو اقوام متحدہ کی جانب سے بھارت کے خلاف کارروائی کو ممکن بنایا جائے ۔ اسی طرح تمام ممالک میں پاکستانی سفارتخانوں کو بھی متحرک ہونے کے احکامات جاری کیے جائیں تاکہ عالمی سطح پر بھارت کو تنہا کیا جاسکے ۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم کو پوری دنیا میں اجاگر کیا جائے تاکہ بھارت کا غیر انسانی متشدد چہرہ دنیا کے سامنے آسکے ۔ پاکستان میں بھی نئی نسل کو اس اہم ترین مسئلے سے آگاہ کرنے کے لیے تعلیمی نصاب میں اس موضوع کو موثر انداز میں شامل کیا جائے ۔ عمران خان کو سمجھنا چاہیے کہ ان کا سامنا پنڈت چانکیہ کو ماننے والے مکار مودی سے ہے جس کے توڑ کے لیے انہیں موثر اور متحرک حکمت عملی کی ضرورت ہے ۔ یہ اہم ترین مسئلہ صرف زبان کی توپیں چلانے سے حل نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے انہیں خود ہی قدم آگے بڑھانا پڑے گا ۔ تجربہ یہ بتاتا ہے کہ بھارت اسی وقت امن کی زبان سمجھتا ہے جب اسے یقین ہوجائے کہ سامنے والا اسے برابر کا نقصان پہنچانے کی اہلیت رکھتا ہے ۔ اس لیے صرف امن کی پیشکش و خواہش سے کام نہیں چلے گا ۔ عمران خان یہ بھی یاد رکھیں کہ مودی کا بھارت کبھی بھی کشمیر سے دست بردار ہو گا نہ امن کے لیے پاکستان کی پیشکش قبول کرے گا۔ بی جے پی کی بقا پاکستان سے کشیدگی بڑھانے میں ہے ۔ بار بار التجا کرنا اپنی بات کھونا اور پاکستان کو بے وقار کرنا ہے۔شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں عمران خان کی طرف سے ایک بار پھر بھارت کو امن کی پیشکش کی گئی جو مودی نے ایک بار پھر ٹھکرا دی ۔ مودی کی وہی رٹ ہے کہ اسلام آباد دہشت گردوں کے خلاف اقدامات کرے جب کہ اس خطے کا سب سے بڑا دہشت گرد تو خود مودی ہے جسے گجرات کا قسائی کا لقب دیا گیا تھا ۔ بھارتی ریاست گجرات میں اس نے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے مسلمانوں کا قتل عام کروایا اور ریاستی غنڈوں نے کئی مسلمانوں کو زندہ جلا دیا ۔ اس درندگی پر امریکا نے مودی کو ویزا دینے سے انکار کر دیا تھا لیکن پھر دو دہشت گرد مل بیٹھے۔ پورے بھارت میںمسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ ہے اور گائے کے تحفظ کے نام پر مسلمانوں کو قتل کیا جار ہا ہے ۔کیا کسی نے یہ باتیں عمران خان کو نہیں بتائیں ۔

                                                                                                           بشکریہ جسارت