October 20th, 2019 (1441صفر21)

اقتصادی سروے کا آئینہ

 

حکومت نے روایتی طور پر بجٹ سے قبل اکنامک سروے جاری کیاہے۔ اکنامک سروے کے اعداد و شمار ہر لحاظ سے انتہائی مایوس کن ہیں اور اس پر سرکار کا رویہ مزید مایوسی کا سبب ہے ۔ اس پس منظر میں عمرانی حکومت نے منگل کو 70 کھرب سے زاید کا بجٹ پیش کر دیا جس میں 35 کھرب سے زیادہ کا خسارہ ہے جو عوام ہی بھریں گے ۔ اکنامک سروے رپورٹ یوں تو ملک میں گزشتہ ایک سال کی مالیاتی جائزے پر مبنی رپورٹ ہوتی ہے مگر درآمد شدہ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ تحریک انصاف کی ایک سالہ کارکردگی پر پردہ ڈالنے کے لیے گزشتہ پانچ برسوں کے معاملات کا تذکرہ کرتے رہے ۔ عمران خان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے معاشیات کا کوئی ایک اشاریہ ایسا نہیں ہے جو مثبت ہو۔ ایسا نہیں ہے کہ عمران خان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک کسی جنگ میں شامل ہوگیا ہو یا کسی قدرتی آفت نے تباہی مچادی ہو ، جس کی وجہ سے ملک کی اقتصادیات کی نیّا ڈوب رہی ہو ۔ جو بھی خرابی آئی ہے وہ عمران خان کی اپنی ٹیم کی لائی ہوئی ہے ۔عمران خان کی ٹیم میں کوئی ماہر معیشت ہی نہیں تھا جو پہلے دن سے معاشی پالیسی تشکیل دیتا ۔ لے دے کر ایک اسد عمر تھے جن کا چہرہ کبھی بھی بطور ماہر معیشت سامنے نہیں آیا ۔ وہ ایک بڑی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ضرور تھے مگر مذکورہ کمپنی میں بھی ان کی کارکردگی بہتر نہیں رہی اور اطلاعات کے مطابق انہیں جبری طور پر مستعفی ہونا پڑا ۔ اس کے بعد ماہرین معیشت کے نام پر آئی ایم ایف کے حاضر سروس ملازمین پاکستان پر مسلط کردیے گئے ۔ پہلے آئی ایم ایف کے دیے گئے املا پر اسد عمر اینڈ کمپنی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری کررہی تھی جس کی وجہ سے پاکستان کی معیشت گرداب میں پھنسی کشتی کی طرح بری طرح ہچکولے کھانے لگی ۔ بعد میں بینک دولت پاکستان کو آئی ایم ایف کے براہ راست حوالے کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب روپے کی بے قدری کے آگے کوئی روک ٹوک ہی نہیں ہے اور روز روپیہ ڈالر کے مقابلے میں گرنے کا نیا ریکارڈ قائم کرتا ہے ۔ بینک دولت پاکستان کے موجودہ گورنر رضا باقر جب مصر میں آئی ایم ایف کے نمائندے تھے ، وہاں پر بھی ان کی یہی کارگزاری تھی جس نے مصر کو معاشی طور پر تباہ کرکے رکھ دیا ۔ پاکستان کی معاشی لگام آئی ایم ایف کو دینے کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ پاکستانی معیشت مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے ۔ یہی کہانی اکنامک سروے کے اعداد و شمار بھی بیان کر رہے ہیں۔ تمام تر سرکاری چلت پھرت کے باوجود مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ نے اکنامک سروے کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ تجارتی اور جاری اخراجات کا خسارہ ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے اور ملک کو نادہندگی اور دیوالیہ کے خطرے کا سامنا ہے ۔ سرکار بار بار ایک ہی بات خم ٹھونک کر کہتی ہے کہ اس کی پالیسیوں کے نتیجے میں درآمدات میں زبردست کمی آئی ہے جس کے نتیجے میں ملک میں تجارتی توازن میں بہتری آئی ہے ۔ اکنامک سروے کے مطابق درآمدات میں 9.4 فیصد کمی آئی ہے تو برآمدات میں بھی 9.1 فیصد کمی آئی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہو اکہ سرکاری پالیسی کے نتیجے میںتجارت ہی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور سرکار جھوٹ بول رہی ہے ۔ مشیر خزانہ نے اکنامک سروے کے لیے دی گئی بریفنگ میں بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران برآمدات میں اضافہ ہی نہیں ہوا مگر انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں برآمدات کو مستحکم رکھنا تو درکنار ، اس میں زبردست کمی دیکھنے میں آئی ۔ وہ بار بار کفایت شعاری کی تلقین کرتے رہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھی قوم کے نام اپنے پیغام میں کفایت شعاری ہی پر زوررکھا مگر عمران خان کے پاس 80افراد کو سرکاری خرچ پر عمرہ کروانے کا کیا جواز تھا ۔ عمران خان اور ان کے مشیر خزانہ عوام سے بار بار قربانی کی اپیل کررہے ہیں مگر ایوان وزیر اعظم اور ایوان صدر کے بجٹ میں کتنی کٹوتی کی گئی ہے ، اس کے بارے میں دونوں خاموش ہیں ۔ اسی طرح عمران خان اور ان کی معاشی ٹیم بار بار ایک ہی قوالی گارہی ہے کہ لوگ ٹیکس نہیں دیتے مگر اربوں روپے کی جائیداد رکھنے والے عمران خان خود کتنا انکم ٹیکس دیتے ہیں ، یہاں پر تحریک انصاف کی پوری ٹیم کو سکتہ ہوجاتا ہے ۔ ایک غریب آدمی تو ہر لمحے ہی ٹیکس دیتا رہتا ہے ۔ بجلی ، گیس ، اشیائے خور و نوش ، ادویہ ، اسپتال کے بل، ریلوے کے کرایے ، تعلیمی اداروں کی فیس ہر چیز میں ٹیکس دیتا ہے ۔ وزیر اعظم تو مفت کی بجلی استعمال کرتے ہیں ، ایوان وزیر اعظم سے بنی گالہ جانے کے لیے عوام کے ٹیکسوں کی آمدنی سے ہیلی کاپٹر میں سفر کرتے ہیں اور اربوں روپے کی جائیداد رکھتے ہوئے ، شاہانہ طرز زندگی گزارتے ہوئے چند لاکھ روپے کا بھی انکم ٹیکس ادا نہیں کرتے ہیں ۔ مدینہ کی ریاست بنانے کا دعویٰ کرنے والوں کو علم ہونا چاہیے کہ غزوہ خندق میں جب دوسروں کے پیٹ پر ایک پتھر بندھا ہوا تھا تو ان کے رہنما، سرکار دو عالم ؐ کے پیٹ پر دو پتھربندھے ہوئے تھے ۔ عمران خان اور ان کی معاشی ٹیم قوم کو کیوں آگاہ نہیں کرتی کہ محض روپے کی بے قدری کے ایک فیصلے ہی نے ملک کی معیشت کو تلپٹ کرکے رکھ دیا ہے ۔ بہتر ہوگا کہ عمران خان گزشتہ حکومتوں کا رونا رونے کے بجائے اپنی ایک برس کی کارکردگی کی بات کریں ۔ گزشتہ ادوار میں اگر پاکستان کو لوٹا گیا ہے تو اس لوٹی گئی رقم کو واپس لانے کے لیے عمران خان اور ان کی ٹیم نے اب تک کون سا تیر مارا ہے ۔ عمران خان کو یہ تسلیم کرلینا چاہیے کہ ان کی حکومت پاکستان کے تاریخ کی ناکام ترین حکومت ہے ۔ اس کا خمیازہ قوم کو یہ بھگتنا پڑ رہا ہے کہ اب پاکستان بطور ملک بھی ناکام ممالک کی فہرست میں شامل ہونے جارہا ہے ۔ بہتر ہوگا کہ یا تو عمران خان اپنی ٹیم میں تبدیلی لائیں اور تجربہ کار اور محب وطن کھلاڑیوں کو ٹیم میں جگہ دیں یا پھر عمران خان کو لانے والے اپنے فیصلے پر نادم ہوں اور ان کی جگہ کسی ایماندار، محب وطن اور اہل شخص کو مسند اقتدار پر جگہ دی جائے ۔