October 20th, 2019 (1441صفر21)

اندرونی اور بیرونی خطرات بڑھ گئے

 

 

عید میں سورج کا پارہ بلند رہے گا تو عید کے فوری بعد سیاست میں انتہائی گرماگرمی کے امکانات ہیں ۔ حزب اختلاف کی تقریبا تمام ہی پارٹیاں عید کے بعد حکومت کے خلاف مورچہ لگانے پر متفق ہوگئی ہیں ۔ اسے حزب اختلاف کی خوش قسمتی کہیے یا پھر حکومت کی حماقتیں کہ اس نے سال مکمل ہونے سے قبل اپنے خلاف ہر طرف محاذ کھول لیا ہے ۔ مہنگائی کے طوفان اور سرکار کی احمقانہ معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں اب تو تحریک انصاف کے ووٹرز بھی منہ چھپا کر گھوم رہے ہیں ۔ سیاسی پارٹیوں کے دھرنوں ، جلسوں اور جلوسوں کی وجہ سے ملک کی رہی سہی معیشت بھی خطرے میں ہے ۔ ایسی صورتحال میں عمران خان کی جانب سے تین ججوں کے خلاف ریفرنس بھیجنے کا جواز سمجھ میں نہیں آتا ۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کے لیے جو جواز قرار پایا ہے ، اگر اس جواز کو معیار مان لیا جائے تو قومی اسمبلی کے سارے ہی ارکان کے خلاف ریفرنس دائر ہوجانا چاہیے ۔ جس صدر نے اس ریفرنس کو جوڈیشیل کونسل کو بھیجنے کے لیے دستخط کیے ہیں ، ان پر بھی اسی طرز کے الزامات لگتے رہے ہیں ۔ ملک کے وکلاء نے اس ریفرنس کے خلاف شدید مزاحمت کا اعلان کیا ہے ۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ اب آگ عدالت کے باہر نہیں بلکہ عدالت کے اندر لگائی جایا کرے گی اور وہ روز توہین عدالت کریں گے اور معافی بھی نہیں مانگیں گے ۔ یہ اعلان کسی ڈسٹرکٹ بار کے سربراہ نے نہیں کیا ہے بلکہ سپریم کورٹ بار کے صدر کا ہے جسے حکومت کو سنجیدگی سے لینا پڑے گا۔ جب سے عمران خان برسراقتدار آئے ہیں روز ایک نئی حماقت کا سامنا ہے ۔ فواد چودھری کے پاس صرف اور صرف رویت ہلال کا مسئلہ رہ گیا ہے جیسے ملک میں ہر طرف آئی ٹی کی انڈسٹری پھل پھول رہی ہے ، ہر شہر میں سرکاری آئی ٹی ہونیورسٹی نے اپنا کام شروع کردیا ہے اور نگر نگر آئی ٹی پارک میں زبردست کام ہورہا ہے ۔ فواد چودھری کو سائنس کا وزیر بنانے سے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت اس ملک میں تعلیم خاص طور سے سائنس کے فروغ میں کتنی سنجیدہ ہے ۔ اسی طرح چوری شدہ مقالہ ثابت ہونے والی کالج کی ایک اسسٹنٹ پروفیسر کو انسدادہشت گردی کے ادارے کا سربراہ بنادیا گیا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک میں کہیں پر بھی نہ تو کوئی میرٹ ہے اور نہ کوئی قانون ۔ حکومت نے حزب اختلاف کے سامنے اور وکلاء کے سامنے بھی ڈٹے رہنے کا اعلان کیا ہے جس کا واضح مطلب ہے محاذ آرائی ۔ اب حکومت کس کس جگہ محاذ آرائی کرے گی ۔ اگر سندھ میں پیپلزپارٹی نے مورچہ لگانے کا فیصلہ کیا تو بندرگاہیں مفلوج ہوسکتی ہیں ۔ اسی طرح مولانا فضل الرحمٰن خیبر پختون خوا میں حکومت کے لیے مشکل کھڑی کرسکتے ہیں جبکہ ایسی ہی صورتحال بلوچستان میں بھی درپیش ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ پنجاب میں متحدہ اپوزیشن حکومت کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتی ہے ۔ رہی سہی کسر وکلاء پوری کردیں گے اس طرح پورے ملک میں افراتفری کی صورتحال ہوگی ۔ اس پس منظر میں ایران اور امریکا تنازع اگر بڑھتا ہے اور مودی اور اشرف غنی کوئی مہم جوئی کربیٹھتے ہیں تو سمجھا جاسکتا ہے کہ پاکستان کو کتنی نازک صورتحال درپیش ہوگی ۔ ابھی تو بجٹ نہیں آیا ہے جس سے لوگ پہلے سے لرزاں ہیں ۔ بجٹ آنے کے بعد عوامی ردعمل بھی حزب اختلاف کے موافق ہوگا ۔ بہتر ہوگا کہ عمران خان سمجھداری کا مظاہرہ کریں اور سارے مورچوں پر لگی آگ ٹھنڈی کرنے کی کوشش کریں ۔ عمران خان یو ٹرن کے لیے مشہور ہیں اور اگر انہوں نے ججوں کے خلاف ریفرنس واپس لے لیا تو اس میں کوئی خرابی کی بات بھی نہیں ہے ،اس طرح سے وکلاء کا گرم مورچہ ختم ہوجائے گا ۔ اسی طرح وہ معاشی پالیسیاں عوام دشمنی میں بنانے کے بجائے عوام دوست بنائیں تاکہ عوام میں پھیلا ہوا غم و غصہ ختم کیا جاسکے ۔ روز بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ، ہر ماہ پٹرول کی قیمت میں زبردست اضافہ اور روز ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری کو ختم کیا جائے اور روپے کو ایک سو روپے پر بحال کیا جائے تاکہ معیشت مستحکم ہوسکے ۔ عمران خان کو سمجھنا چاہیے کہ اگر عوام کی پشت پناہی کے بغیر وہ کچھ بھی نہیں کرسکتے اور اس وقت انہوں نے مہنگائی کے طوفان بلا خیز سے عوام کو چراغپا کردیا ہے۔

                                    بشکریہ جسارت