October 20th, 2019 (1441صفر21)

تنخواہ دار طبقے کا خون نچوڑنے کی تیاری 

 

حکومت آئندہ بجٹ کی تیاریوں میںمصروف ہے جو رمضان کے فوری بعد پیش کردیا جائے گا ۔ بجٹ کی تیاری معمول کی بات ہے مگر عمران خان کے برسراقتدار آتے ہی جو معاشی اقدامات کیے گئے ہیں، اس کی وجہ سے ہر شخص بجٹ کے بارے میں متفکر ہے ۔ روایتی طور پر حکومت بجٹ ہی میں پرانے ٹیکسوں میں رد و بدل کرتی ہے اور نئے ٹیکس عاید کرتی ہے تاہم اب یہ روایت بتدریج متروک ہوتی جارہی ہے ۔ حکومت جب چاہتی ہے نئے ٹیکس عاید بھی کردیتی ہے اور پرانے ٹیکسوں میں اضافہ بھی کردیتی ہے ۔ اہم ترین چیز پٹرول ، گیس اور بجلی میں ماہانہ بنیاد پر رد و بدل معمول بن چکا ہے جس سے کوئی بھی صنعتکار اپنی مصنوعات کی تخمینی لاگت کا کبھی بھی درست اندازہ نہیں کرسکتا ہے ۔ پاکستان میں پیش کیا جانے والا آئندہ بجٹ اس لحاظ سے منفرد ہوگا کہ اسے مکمل طور پر آئی ایم ایف کی اپنی ٹیم نے تیار کیا ہے ۔ اس بجٹ کے حوالے سے جو بھی اشارے مل رہے ہیں وہ انتہائی پریشان کن ہیں ۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال میں کھربوں روپے کے نئے ٹیکس لگانے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی تنخواہ دار طبقے پر بھی بم گرانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس کے تحت قابل ٹیکس آمدنی کی حد 12 لاکھ روپے سے 6 لاکھ روپے کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔ یہ تنخواہ دار طبقہ ہی ہے جو انتہائی ایمانداری سے ٹیکس ادا کرتا ہے ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جب سے موجودہ حکومت برسراقتدار آئی ہے مہنگائی میں دگنا اضافہ ہوگیا ہے مگر تنخواہوں میں ابھی تک ایک فیصد بھی اضافہ نہیں ہو اہے ۔ اس کے برعکس بیروزگاری میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس استثناء کی حد دگنی کی جاتی ، حکومت نے الٹا اسے کم کرکے 6 لاکھ سالانہ پر لانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اسی طرح حکومت نے آئندہ بجٹ میں انکم ٹیکس کی مد میں 334 ارب روپے کے نئے ٹیکس عاید کرنے ، سیلز ٹیکس کی مد میں 150 ارب روپے ، کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 95 ارب روپے اور فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی کی مد میں بھی 150 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ اس کے علاوہ ایل این جی پر فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی عاید کرنے ، جنرل سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے ، ریٹیل کی سطح پر نئے ٹیکس عاید کرنے اور ویلیو ایڈیڈ ٹیکس کے نفاذ کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جس سے ملک میں مہنگائی کا سیلاب مزید ہولناک ہو جائے ۔ اس جانب پہلے بھی توجہ دلائی جاتی رہی ہے کہ سونے کا انڈا دینے والی مرغی کو ذبح کرنے سے گریز کیا جائے ۔ عوام کے پاس سکت ہوگی تو ٹیکس وصول ہوں گے ۔ جب عوام ہی نان شبینہ کو محتاج ہوں گے تو ان سے کس طرح کوئی ٹیکس وصول کرسکتا ہے ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جو لوگ خوشحال تھے وہ غربت کی سطح پر پہنچ گئے ہیں اور جو غریب تھے وہ غربت کی لکیر کو بھی پار کرگئے ہیں ۔آئی ایم ایف کا تو کام ہی یہی ہے کہ وہ کھیت کھلیان کو بھی فروخت کرکے ٹیکس وصولی کے اپنے اہداف کو پورا کرتی ہے مگر سرکار میں بیٹھے ہوئے پاکستانیوں کو تو سمجھ میں آناچاہیے کہ وہ پاکستانی عوام کے نمائندہ ہیں ۔ اب تک کی حکومت کی ساری معاشی پالیسیاں عوام دشمن ثابت ہوئی ہیں ۔ بجلی ، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں روز کے اضافے نے تباہی پھیلا کر رکھ دی ہے ۔ اس پر مستزاد عمرانی حکومت کا ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری کا انوکھا کارنامہ جس نے ملک کی جڑیں تک ہلا کر رکھ دی ہیں ۔ جس تیزی کے ساتھ گزشتہ ایک ماہ میں روپے کی بے قدری کی گئی ہے ، اس نے ملکی معیشت کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہے ۔ اگرمحکمہ خزانہ میں موجود آئی ایم ایف کی موجودہ ٹیم کو مزید موقع دیا گیا تو اندیشہ ہے کہ ایک ڈالر دو سو پاکستانی روپوں کے مساوی کردیا جائے گا ۔ عمران خان اور ان کے سرپرست اس صورتحال پر سنجیدگی سے غور کریں کہ ملک کو معاشی طور پر کمزور کرنا ملک کی سلامتی سے کھیلنے کے مترادف ہے ۔ بہتر ہوگا کہ فوری طور پر آئی ایم ایف کی معاشی ٹیم کی چھٹی کی جائے اور بجٹ محب وطن معاشی ماہرین سے بنوایا جائے جس میں عوام کو ریلیف دیا جائے ۔ بجلی ، گیس اور پٹرول کی قیمتیں کم از کم سطح پر لائی جائیں تاکہ پاکستانی صنعت بھی اپنے پیر پر کھڑی ہوسکے ۔ ڈالر کو دوبارہ سے ایک سو پاکستانی روپے کی سطح پر لایا جائے تاکہ ملک میںمعاشی استحکام پیدا ہوسکے ۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر پاکستان کی معیشت افریقا اور لاطینی امریکا کے ممالک کی طرح ہوجائے گی جس کا کوئی مستقبل نہیں ہوگا ۔

                                                                                                                                    بشکریہ جسارت