August 26th, 2019 (1440ذو الحجة24)

مہنگائی، انتظامیہ کہاں ہے؟

 

رمضان البارک کا چاند نظر آتے ہی حسب سابق مہنگائی کا جن بھی بے قابو ہوگیا ہے اور لوڈ شیڈنگ کا بھوت بھی ہر سُو ناچ رہا ہے ۔ ماہ صیام کے آغاز سے قبل شہری انتظامیہ اور اداروں نے اعلانات کیے تھے کہ گراں فروشی کو روکنے کے لیے تمام تر اقدامات کرلیے گئے ہیں ۔ اسی طرح اعلان کیا گیا تھا کہ ماہ صیام میں لوڈ شیڈنگ میں بھی کمی کی جائے گی ۔ تاہم یہ دونوں اعلانات بھاپ بن کر ہوا میں اُڑ گئے اور عوام حیران پریشان ہیں کہ کراچی میں حکومت کی رٹ نام کی کوئی چیز موجود بھی ہے کہ نہیں ۔ پھلوں کی قیمتوں میں سو فیصد سے زاید اضافہ سرکار کا منہ چڑانے کے لیے کافی ہے ۔ رات گئے کمشنر کراچی کا ایک پریس ریلیز ضرور موصول ہوا جس میں بتایا گیا تھا کہ گراں فروشی کو روکنے کے لیے چھاپے مارے گئے اور اتنے لاکھ کا جرمانہ وصول کرلیا گیا مگر گراں فروشی کو روکنے کے اقدامات کہیں پر بھی نظر نہیں آئے ۔ گراں فروشی کا آغاز پھل اور سبزی منڈی سے ہوتا ہے مگر ان دونوں منڈیوں میں کمشنر کراچی کی ٹیم نے داخلے سے پرہیز کیا ۔ شام کے اوقات میں دکھاوے کے لیے چند مارکیٹوں میں چھاپے ضرور مارے گئے اورپریس ریلیز جاری کرکے کمشنر کراچی کی ڈیوٹی پوری ہوگئی ۔انتظامیہ کم از کم اپنے دعووں کے بھرم کے لیے ہی اقدامات کرے اور منڈی سے لے کر ٹھیلوں تک مناسب قیمت پر پھل اور سبزیوں کی فراہمی کو یقینی بنائے ۔ اسی طرح کراچی کے شہری موسم گرما میں حسب سابق کے الیکٹرک کی چیرہ دستیوں کا شکار ہیں ۔ اوقات سحر اور افطار کے ساتھ ساتھ دن میں لوڈ شیڈنگ سے روزے داروں کا صبر آزمایا جارہا ہے ۔ کے الیکٹرک ایک ایسا ادارہ ہے جس نے سب کو قابو میں کیا ہوا ہے ۔ کسی منصب دار کو براہ راست رشوت دے کر تو کسی کے رشتے داروں کوبھاری تنخواہوں پر نوکریاں دے کر ۔ اس کا عذاب کراچی کے شہری بھگتتے ہیں جہاں پر نہ تو کوئی عدالت شہریوں کی داد رسی کو تیار ہے اور نہ ہی محتسب کا ادارہ ۔ رہ گئی انتظامیہ تو لگتا ہے کہ وہ کے الیکٹرک کی تنخواہ دار ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کے الیکٹرک کے خلاف کوئی انقلاب ہی کراچی کو اس کے مظالم سے نجات دلاسکے گا ۔        

                                                                         بشکریہ جسارت