June 17th, 2019 (1440شوال14)

انقلاب کی ضرورت تو ہے

 

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ایران کے دورے کے دوران ایک ایسی بات کہہ دی ہے جو خود ان کے لیے بھی خطرے کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نئے پاکستان کو ایران جیسے انقلاب کی تلاش ہے۔ اگرچہ انہوں نے براہ راست اس خواہش کا اظہار نہیں کیا ہے کہ پاکستان کو ایران جیسے انقلاب کی ضرورت ہے لیکن اس کا مطلب یہی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ایرانی معاشرے میں مساوات ہے اور یہ سب انقلاب کی بدولت ہوا ہے ہم نئے پاکستان میں بھی ایسا انقلاب لانا چاہتے ہیں جس سے امیر غریب کا فرق ختم ہو جائے۔ وزیر اعظم کی جانب سے یہ بیان کروڑوں پاکستانیوں کی خواہش کا اظہار ہے۔ پتا نہیں انہوں نے کروڑوں پاکستانیوں کی ترجمانی کی ہے یا ایرانی قیادت کو خوش کرنے کے لیے ان کے تقریر نویس نے اپنی باتیں انہیں لکھ کر دے دی تھیں جن سے ایرانی رہنمامطمئن ہو جائیں۔ لیکن ایران جیسا انقلاب کوئی مذاق نہیں ہے۔ اگر ایران کے انقلاب سے شیعہ سنی اختلاف نکال دیا جائے تو جو صورت حال ایران میں تھی وہی کم و بیش پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک میں ہے۔ بادشاہت ، ظلم کا نظام، عوام کی جاسوسی، گھروں سے غائب کرنا، بے تحاشا ٹیکس، غریب کے لیے الگ قانون اور حکمرانوں کے لیے کوئی قانون نہیں مختصر طبقہ عیش میں اور اکثریت کے لیے سختیاں۔ وزیر اعظم عمران خان نے درست کہا کہ برابری نہیں ہے۔ جب برابری نہ ہو تو نفرتیں بڑھتی ہیں اور پھر انقلاب ہی مسائل حل کرتا ہے۔ ایران میں انقلاب محض حکومت یا حکمرانوں کی تبدیلی نہیں تھا۔ پورا طرز حکمرانی تبدیل ہوا۔ دین حکومت سے باہر تھا اب بے دین حکومت سے باہر ہوگئے۔ لیکن خان صاحب ،اس سارے عمل میں لاکھوں لوگ بھی مارے گئے۔ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ حکمران طبقہ اس ظلم کے نظام کو جاری رکھنا چاہتا تھا۔ پہلے شاہ نے ہزاروں لوگوں کو مارا پھر انقلاب کے بعد شاہ کے وفاداروں کو کئی برس تک مارا جاتا رہا۔ انقلاب خون بھی مانگتا ہے۔ یہ بات بھی وزیر اعظم کے ذہن میں رہنی چاہیے کہ جس چیز کو وہ تبدیلی کہتے ہیں وہ انقلاب نہیں۔ اور جسے وہ نیا پاکستان کہتے ہیں وہ نیا پاکستان بھی نہیں ہے بلکہ وہی پرانا پاکستان ہے جس میں تبدیلی یا انقلاب کی خواہش ہر پاکستانی کے دل میں تھی۔ اس خواہش کو استعمال کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی حکومت بنائی گئی ۔کپتان کو جو ٹیم ملی وہ پرانے پاکستان کے پرانے پاپیوں کی تھی۔ انہوں نے جو تباہی پھیلائی اس سے جان چھڑانے کے لیے لیپا پوتی کی گئی اور وزراء کے قلمدان ادھر ادھر کردیے گئے۔ لیکن یہ بھی کوئی تبدیلی نہیں۔ انقلاب کی خواہش کو ہائی جیک کر کے ان کی حکومت اتاری گئی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں انقلاب کی خواہش ختم ہوگئی ہے۔ بلکہ یہ خواہش اور ضرورت پہلے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ عمران خان کے بقول پرانے پاکستان میں حالات جتنے خراب تھے اب اس سے بھی زیادہ خراب ہیں۔ برابری اب بھی نہیں آسکی ہے۔ نواز شریف خاندان کے لیے قانون کچھ ہے اور علیمہ باجی کے لیے کچھ اور۔ فردوس عاشق اعوان کے مشیر بنتے ہی تحقیقات بند۔ اور اپوزیشن والوں کے لیے ہر روز نیا مقدمہ۔ خان صاحب انقلاب کی پیاس بڑھ چکی اور اس کے لیے حالات تو نہایت موزوں ہیں۔ اب فیصلہ انہیں اور اس انقلاب کا راستہ روکنے والوں کو کرنا ہوگا کہ وہ خون بہنے سے بچانا چاہتے ہیں تو خود انقلاب کو راستہ دے دیں۔ انقلاب تو بہرحال آئے گا۔ یہ بھی کوئی نہیں جانتا کہ کیسے اور کس کے ہاتھوں آئے گا لیکن انقلاب کے لیے جو لوازمات ہیں وہ تیار ہو چکے ہیں صرف ایک انقلابی قیادت کے میدان میں نکلنے کی دیر ہے۔ پھر مغربی میڈیا اور اس کا غلام پاکستانی میڈیا اسے بنیاد پرست انتہا پسند یا دہشت گرد کچھ بھی کہے۔ یہ دیوار پر لکھا ہو یا نہیں قسمت میں ضرور لکھا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان جائزہ لیں کہ پاکستان میں انقلاب کے اسباب میں سے کون کون سے ایسے ہیں جن کے ذمے دار وہ خود ہیں۔ ایک یہ کہ انہوں نے پرانے پاکستان کے ان تمام لوگوں کے افراد کو اپنی ٹیم میں شامل کیا جنہیں وہ پہلے بھی چور ڈاکو کہتے تھے اور اب بھی کہتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ انہوں نے آئی ایم ایف میں جانے سے بہتر خودکشی کرلینے کا عزم کیا تھا۔ لگتا ہے کہ وہ دونوں ہی کر گزریں گے۔ آئی ایم ایف کے پاس جانا خودکشی سے کم نہیں۔ پھر وزارت خزانہ ہمیشہ کی طرح عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے پسندیدہ فرد کے حوالے کردی۔ زرداری کے دور کے وزیر خزانہ کو مشیر خزانہ بنا لیا۔ وہی ٹیکس پر ٹیکس۔ عوام اسی طرح غائب ہو رہے ہیں جیسے ایران میں ہوتے تھے۔ یہاں بادشاہ نہیں لیکن ہمارے حکمران بادشاہوں سے کم بھی نہیں ۔۔ حکمران تو دور کی بات ہے۔ اسمبلیوں کے ارکان کا حال بادشاہوں سے بدتر ہے۔ سودی معیشت، دین بیزاری، قادیانیت نوازی، توہین رسالتؐ کے مجرموں کی عزت اور عاشقان رسولؐ پر سختیاں۔ بس پھر انقلاب کا انتظار کریں ۔

                                                                                                                                                         بشکریہ جسارت