June 17th, 2019 (1440شوال14)

حکومت آئی ایم ایف کےدر پر ڈھیر

 

میاں منیراحمد

عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام پر اتفاق ہوگیا ہے۔ اب آئی ایم ایف کا مشن اپریل کے آخری ہفتے میں پاکستان آئے گا۔ حکومت کے ساتھ تکنیکی تفصیلات طے ہوجانے کے بعد معاہدے پر دستخط بھی ہوجائیں گے، اور یہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا معاشی پیکیج ہوگا۔ آٹھ سے بارہ ارب ڈالر کے پیکیج کا قرض اگلی نسل اتارے گی۔ حکومت آئی ایم ایف کے پروگرام کی شرائط پر آئندہ ملکی معیشت استوار کرے گی۔ اس معاہدے کے باعث حکومت بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل ردو بدل کرتی رہے گی تاکہ عالمی ادائیگیاں کسی طرح بھی متاثر نہ ہوں۔ اپنے قرض کی مع سود محفوظ واپسی کے لیے آئی ایم ایف نے ملکی معیشت کے بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کی شرط رکھی ہے تاکہ پاکستان قرض کی واپسی اور عالمی ادائیگیوں کے بحران میں مبتلا نہ ہو۔ معاہدے سے قبل اس ادارے نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں پاکستان کے معاشی حالات کا نقشہ کھینچا گیا اور خوف میں مبتلا کرکے حکومت کو اپنی کڑی شرائط قبول کرنے پر آمادہ کیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ آئی ایم ایف سے اپنی شرائط پر پیکیج لینے کی نوید بھی سناتے رہے ہیں، لیکن اب عقدہ کھلا کہ آئی ایم ایف اپنی شرائط پر معاہدہ کررہا ہے۔ اپنی رپورٹ میں آئی ایم ایف نے پاکستان کے معاشی حالات مزید خراب ہونے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔ آئی ایم ایف نے ورلڈ اکنامک آؤٹ لک 2019ء رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی اقتصادی ترقی کی رفتار میں کمی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال اقتصادی ترقی 2.9 فیصد، جبکہ آئندہ سال 2.8 فیصد رہے گی۔ سال 2018ء میں پاکستان کی شرح نمو 5.2 فیصد تھی۔ رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 5.2 فیصد اور آئندہ سال 4.3 فیصد رہے گا۔ رواں مالی سال بے روزگاری 6.1 فیصد اور آئندہ سال 6.2 فیصد رہے گی، اس لیے پاکستان کو معاشی اشاریوں میں بہتری لانے کے لیے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس رپورٹ کے بعد اب بجٹ میں مروجہ ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کے ساتھ ساتھ نئے ٹیکس نافذ کیے جائیں گے، جس طرح آئی ایم ایف چاہے گا یوٹیلٹی بلوں میں اضافہ بھی ہوتا رہے گا۔ عمران خان نے تبدیلی، نیا پاکستان، کرپشن فری معاشرے کی تشکیل اور سیاسی و اقتصادی نظام میں اصلاحات کے ایجنڈے کی بنیاد پر عوام میں پذیرائی حاصل کی۔ اپنے اقتدار کے پہلے سو دن کا ایجنڈا عوام کے سامنے رکھا اور ریاست مدینہ کا تصور پیش کیا، تب کہیں جاکر انہیں ووٹ دلائے گئے۔ لیکن اقتدار کے بعد ضمنی بجٹ دینے کے باوجود حکومت ہانک کر عوام کو آئی ایم ایف کی دہلیز پر لے گئی۔ وہ آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کے لیے بجلی، گیس، پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے سے متعلق اُس کی پیش کردہ تجاویز کو اقتصادی اصلاحات کا نام دے رہی ہے۔ آئی ایم ایف اس حکومت سے اس قدر خوش اور مطمئن ہے کہ اسے آٹھ سے بارہ ارب ڈالر کا معاشی پیکیج دے رہا ہے، اور یہ اب تک کی ملکی تاریخ کا سب سے بڑا پیکیج ہوگا، اس سے قبل پیپلزپارٹی کو چھ ارب ڈالر کا پیکیج مل چکا ہے، لیکن مسلم لیگ کے لیے آئی ایم ایف نے کبھی چار ارب ڈالر سے بڑھ کر پیکیج منظور نہیں کیا۔ حکومت یہ پیکیج مل جانے پر کامیابی کے ڈونگرے برسائے گی، لیکن حقیقت میں یہ پہلی حکومت ہے جو ہنی مون پیریڈ ختم ہونے سے قبل ہی عوام کو مایوس کرچکی ہے۔ اصلاحات کے نام پر عوام کو مہنگائی کی ٹکٹکی کے ساتھ باندھ دیا گیا ہے۔ تاہم مایوس عوام جس ردعمل کا اظہار کرسکتے ہیں، اس کا پی ٹی آئی کی قیادت کو بخوبی ادراک ہونا چاہیے۔ حکومت پہلے مسلسل کہہ رہی تھی کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا چاہتی، اسی لیے سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات سے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے سود پر نقد رقوم لیں۔ یہ رقم کہاں خرچ ہوئی، اس کا حساب پارلیمنٹ میں پیش کیے بغیر آئی ایم ایف سے بھی رجوع کرلیا۔ حال ہی میں ورلڈ بینک نے ’’سوسال کا پاکستان‘‘نامی پروگرام دے دیا ہے، اس میں چمڑی صرف عوام کی ادھیڑی جائے گی۔ جب تک ملک میں آمدنی کے ذرائع پیدا نہیں کیے جاتے، ملک کے معاشی حالات درست نہیں ہوسکتے۔ آج کے پاکستان کو کسی بھی لحاظ سے خوش حال پاکستان کہنا درست نہیں ہے۔ آئی ایم ایف سے نجات کا راستہ تحریک انصاف کی حکومت نے ڈھونڈا تھا اور دوست ملک کی طرف ہاتھ بڑھایا، لیکن نہ جانے کیوں آئی ایم ایف کے سامنے ڈھیر ہوگئی اور اس کی ناجائز شرائط بھی مان لی گئی ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ حکومت کی بات چیت گزشتہ چھ ماہ سے جاری تھی، جس میں اہم نکتہ یہی تھا کہ حکومت عالمی ادائیگیوں کے لیے کیا اقدامات اور اہداف طے کررہی ہے۔ جواب میں آئی ایم ایف نے بھی اپنی تجاویز دیں۔ آئی ایم ایف یہ بھی چاہتا ہے کہ ڈالر کی روپے کے مقابلے میں شرح تبادلہ اسٹیٹ بینک طے کرے اور حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہونا چاہیے۔ یہ تجویز غالباً اس لیے آئی کہ پاکستان نے چین کے ساتھ تجارت ڈالر کے بجائے یوآن کرنسی میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بہرحال طویل خاموش مذاکرات کے بعد حکومت اور آئی ایم ایف قابلِ قبول شرائط پر معاہدہ کرنے پر رضامند ہوگئے۔ آئی ایم ایف کسی بھی ملک کو قرض فراہم کرنے کے لیے بنیادی طور پر یہ دیکھتا ہے کہ اس ملک میں سرمایہ کاری کتنی ہورہی ہے۔ اس لحاظ سے اس وقت ملک میں سب سے بڑا منصوبہ سی پیک ہے، عالمی مالیاتی ادارہ اور قرض فراہم کرنے والے دیگر تمام ادارے اس منصوبے کی تفصیلات مانگ رہے ہیں، ان کے خیال میں یہ منصوبہ سرمایہ کاری نہیں بلکہ قرض کی شکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت مسلسل تحفظات دور کرنے میں لگی رہتی ہے اور عالمی اداروں کے تحفظات اُس وقت مزید بڑھ جاتے ہیں جب ملک میں اپوزیشن جماعتیں سی پیک پر حکومت کے فیصلوں پر سوال اٹھاتی ہیں۔ تاہم سی پیک اور ملک میں سرمایہ کاری دو مختلف موضوع ہیں اور ان پر غور کے لیے پارلیمنٹ کی تمام جماعتوں میں ایک میثاق پر اتفاق ہونا ضروری ہے۔ حکومت نے ترکی کے ساتھ بھی اسٹرے ٹیجک اکنامک فریم ورک کا ایک ڈرافٹ تیار کیا ہے جس کی تفصیلات بھی آئی ایم ایف کے ساتھ زیر بحث آئی ہیں۔ پارلیمنٹ میں ابھی تک صرف پیپلزپارٹی کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی تفصیلات پیش کرے، جبکہ مسلم لیگ(ن) سمیت دیگر تمام جماعتیں خاموش ہیں۔ حکومتوں میں رہنے والی سیاسی جماعتوں کے ماہرین اس صورتِ حال کا تجزیہ کرتے ہیں تو ان کی بنیادی سوچ یہی ہوتی ہے کہ سرمایہ کاری کی بلاواسطہ اور بالواسطہ افادیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا، سرمایہ کاری ترقی کے لیے ناگزیر ہے ایک ایسی معیشت میں، جس میں نجی شعبہ سرمایہ کاری میں سبقت رکھتا ہو۔ پاکستان میں معیشت کا یہی نقشہ ہے، اس لیے ضرورت ہے کہ حکومت سرمایہ کاروں کی جائز ضرورتوں کا خیال رکھے۔ لیکن تحریک انصاف کی حکومت سرمایہ کاری کے عمل کو تحفظ دینے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ ایک جمود طاری ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک، عالمی بینک اور آئی ایم ایف، تینوں متفق ہیں کہ ترقی کی رفتار جس کا ہدف 6.2 فیصد رکھا گیا تھا، وہ نصف سے بھی کم ہوگی۔ آئی ایم ایف تو یہ بھی کہہ رہا ہے کہ یہ سلسلہ آئندہ دو سال تک جاری رہے گا۔ یہی بات آئی ایم ایف سے بریفنگ لینے کے بعد وزیر خزانہ اسد عمر بھی کررہے ہیں کہ ملکی معیشت دو سال بعد درست ہوگی۔ یہ ایک مایوس کن صورت حال ہے، اس کی وجہ خود حکومت ہے جس میں قوتِ فیصلہ نہیں ہے، اسی وجہ سے احتساب کا عمل بھی مشکوک ہوتا جارہا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ احتساب کا عمل قانون کی عمل داری میں رہے، کسی بھی سطح پر حکومت کا دخل نظر نہیں آنا چاہیے۔ وزیراعظم عمران خان یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ نیا ایف بی آر بنائیں گے، جس کے لیے ملک بھر میں کم و بیش چالیس پچاس ہزار بالکل نئے ملازمین چاہیئں۔ اگر یہی دوبارہ کھپانے ہیں تو پھر نیا ایف بی آر بنانے کا فائدہ؟ ملک میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار سیاسی ماحول بھی چاہیے۔ اس وقت متعدد اہم بیوروکریٹس، کاروباری شخصیات نیب کے روبرو ایک سال سے پیشیاں بھگت رہی ہیں، تفتیش وہیں کی وہیں رکی ہوئی ہے، کمزور پراسیکیوشن کی وجہ سے عدلیہ ریلیف دے رہی ہے۔ یہ صورت حال قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کی بڑی جماعتوں کے لیے تو کسی حد تک پریشانی پیدا کررہی ہے لیکن حکومت کے اتحادی بہت فائدے میں ہیں۔ ابھی بجٹ میں ان کے ووٹ کی ضرورت ہوگی تو انہیں منہ مانگی مراعات دینا پڑیں گی، کیونکہ حکومت کے پاس قومی اسمبلی میں قطعی اکثریت نہیں ہے، بلکہ یہ اتحادی جماعتوں کے بل پر حکومت میں ہے۔ پیپلزپارٹی تو اسے سلیکٹڈ حکومت کہتی ہے، جب کہ اسے طفیلی حکومت کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ بجٹ میں حکومت متعدد نئے قانون بھی لارہی ہے، بینکنگ سسٹم میں اصلاحات ہوں گی اور قانون منظور کرایا جائے گا۔ سینیٹ میں تو حکومت کے پاس اکثریت نہیں، لہٰذا مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے بغیر یہ کام کیسے ہوگا؟ یہ قانون سازی چونکہ آئی ایم ایف کی فرمائش پر ہورہی ہے اس لیے کچھ لو اور کچھ دو ہوگا تو حکومت بجٹ پاس کراسکے گی اور اپوزیشن محض احتجاج ریکارڈ کرائے گی۔