August 26th, 2019 (1440ذو الحجة24)

وزیر اعظم صاحب!72 گھنٹے گزر چکے

 

جب سے عمرانی حکومت برسراقتدار آئی ہے ، لگتا ہے ملک میں کوئی حکومت ہی نہیں ہے ۔ کسی بھی شعبے میں حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لے لیں تو پتا چلتا ہے کہ ہر طرف انارکی کا دور دورہ ہے ۔ اس کی حالیہ مثال دواؤں کی قیمت میں اضافہ ہے ۔ دواؤں کی قیمت میں دوا ساز کمپنیوں نے ازخود اضافہ کردیااور یہ اضافہ بعض کیسوں میں سو فیصد سے بھی زاید ہے ۔ دواؤں کی قیمت میں اس طرح کا اضافہ کیا جانا ازخود حکومت کی رٹ کے خلاف ہے ۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ قیمتوں میں اضافہ کرنے کے بعد بھی حکومت کہیں خواب خرگوش کے مزے لیتی رہی ۔ جب میڈیا پر خوب شور شرابا ہوگیا تو حکومت جاگی اور اعلان کردیا کہ اضافہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ عمران خان نے 72گھنٹے میں اضافی قیمتیں واپس لینے کا حکم دیا لیکن انہیں کسی نے بتایا نہیں کہ 72 گھنٹے کب کے گزر گئے ۔بات قبولیت یا ناقبولیت کی نہیں ہے ، اضافہ واپس لینے کی ہے حکومت نے اضافہ واپس لینے کے احکامات جاری کردیے ۔ جس پر عمل پیرا نہیں ہوا ۔ ساتھ ہی اضافہ کی گئی ادویات کا اسٹاک مارکیٹ سے اٹھانے کے احکامات بھی جاری کردیے ۔ اس کے جواب میں ادویہ ساز کمپنیوں نے مارکیٹ میں ادویہ کی فراہمی ہی بند کردی ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مریض اور ان کے لواحقین مارکیٹ میں ادویہ کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں اور بلیک میں خریدنے پر مجبور ہیں ۔ حکومت میں بیٹھے بزرجمہر حکم پر حکم جاری کررہے ہیں مگر کوئی یہ بتانے والا نہیں ہے کہ یہ سب جو کچھ بھی ہوا ، اس کا ذمہ دار کون ہے اور ان ذمہ داروں کے خلاف کیا کارروائی ہوئی ۔ دوا ساز اداروں نے ازخود کیسے حکومت کی منظوری کے بغیر اضافہ کرلیا اور جب اضافہ ہورہا تھا تو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے افسران کہاں تھے اور انہوں نے بروقت اقدامات کیوں نہ کیے ۔ اب دوا ساز کمپنیوں نے ادویہ کی ترسیل اچانک روک دی ہے جس سے مریضوں کو شدید تکلیف کا سامنا ہے تو اس کا ازالہ کیوں نہیں کیا جارہا ۔ ان ادویہ ساز کمپنیوں نے کئی ماہ تک اضافہ کرکے اربوں روپے کی اضافی آمدنی حاصل کی ، یہ اضافی آمدنی عوام سے لوٹی گئی رقم ہے ، اس رقم کو ان کمپنیوں سے حاصل کرکے سرکاری خزانے میں جمع کروایا جائے اور ان کمپنیوں پر بھاری جرمانے عاید کیے جائیں تاکہ ان کمپنیوں کو ان کے کیے کی سزا مل سکے ۔ ڈرگ انسپکٹروں نے کیوں اپنے کارمنصبی کے تحت عاید کردہ فرائض میں کوتاہی کی ۔ جو ادویہ ساز کمپنیاں حکومت کی ہدایات ماننے سے انکاری ہیں ، ان کو جاری کردہ لائسنس کیوں منسوخ نہیں کیے جارہے ۔ اس طرح کے کئی سوالات ہیں جن کے جوابات کہیں پر موجود نہیں ہیں۔ بس بڑھکیں مارنے کا مقابلہ جاری ہے کہ کسی کو بھی دہشت گردی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور دہشت گرد ہیں کہ اطمینان سے بلا اجازت ہی دہشت گردی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ عمران خان اور ان کی ٹیم کی سمجھ میں یہ بات کیوں نہیں آتی کہ حکومت کا کام بیان دینا یا دھمکیاں دینا نہیں ہے بلکہ حکومت کے پاس مکمل اختیارات ہوتے ہیں اور اس کا کام ان اختیارات کا درست ، بروقت اور بلاتخصیص استعمال ہے ۔ کچھ دن یہ شور شرابا چلتا رہے گا پھر خاموشی سے یہی ادویات اضافہ شدہ نرخ پر بتدریج مارکیٹ میں ملنا شروع ہوجائیں گی اور عوام رو پیٹ کر اسے قسمت کا لکھا سمجھ کر خاموش ہوجائیں گے ۔ یہ صورتحال صرف دواؤں تک محدود نہیں ہے بلکہ ہر شعبہ زندگی میں یہی حال ہے ۔سرکاری سرپرستی میں بجلی ، گیس اور پٹرول کے نرخ بڑھا دیے جاتے ہیں ، کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔ بجلی اور گیس کی کمپنیاں چاہے جتنا اضافی بل بھیج دیں ، کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ ٹیکس کا محکمہ چاہے جتنے کا ٹیکس بھیج دے ، کوئی شنوائی نہیں ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کو چوروں اور ڈاکوؤں کے حوالے کردیا گیا ہے اور حکومت لوٹ کے مال میں سے اپنا حصہ وصول کرکے اسے قانونی کرنے کے سرٹیفکٹ جاری کرتی ہے ۔ عمران خان صاحب آپ اب وزیر اعظم ہیں اور عوام کو چوروں اور ڈاکوؤں سے بچانا آپ کی ذمہ داری ہے ۔ اصولی طور پر تو ادویہ ساز کمپنیوں کے مالکان کے خلاف بھاری قید و جرمانے کی سزائیں ہونی چاہییں ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہ ،ڈائریکٹروں ، انسپکٹروں اور دیگر افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کرتے ہوئے انہیں برطرف کیا جائے اور ان کے اثاثوں کی چھان بین کی جائے تاکہ اس کا علم ہوسکے کہ اس عرصے میں انہوں نے خاموشی کی کیا قیمت وصول کی ۔ وزیر صحت اور سیکریٹری صحت کو اپنی نااہلی پر ازخود مستعفی ہوجانا چاہیے ۔

                                                                                                                                                                 بشکریہ جسارت