August 26th, 2019 (1440ذو الحجة24)

معیشت کی تباہی کہاں جا کر رکے گی؟

 

بالا خر آئی ایم ایف کی تمام شرائط باضابطہ طور پر من و عن تسلیم کرلی گئی ہیں ۔ اگر کچھ کسر رہ گئی ہے تو وہ ان شرائط پر عملدرآمد سے متعلق ہے ۔ مثلا آئی ایم ایف کا اصرار ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری کا اختیار حکومت کے پاس علامتی طور پر بھی نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا اختیار اسٹیٹ بینک کے پاس ہونا چاہیے تاکہ آئی ایم ایف جب چاہے اور جتنا چاہے روپے کی بے قدری کرکے پاکستانی معیشت کو دھچکا پہنچاسکے ۔ پاکستان کا موقف ہے کہ سرکار آپ جب چاہیں گے اور جتنا چاہیں گے ، ہم روپے کو اتنا ہی بے قدر کردیں گے ۔ فی الحال تو یہ اختیار حکومت کے پاس رہنے دیں ۔ بعد میں خاموشی سے یہ کام بھی سرانجام دے لیا جائے گا ۔ اسی طرح حکومت کی اپنی صفوں میں اختلاف ہے کہ آئی ایم ایف سے کتنا قرض لیا جائے ۔ اسد عمر اور ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ جتنی ضرورت ہے ، قرض اتنا ہی لیا جائے جبکہ جہانگیر ترین اور ان کے ساتھیوں کا موقف ہے کہ جب آئی ایم ایف کی تمام شرائط تسلیم ہی کرلی ہیں ، بلکہ ان پر عملدرآمد بھی کرلیا ہے تو آئی ایم ایف سے پورے بارہ ارب ڈالر کا قرض لیا جائے جس پر بات چیت جاری تھی کیوں کہ آئی ایم ایف کے قرضے کی شرح سود انتہائی کم ہے ۔ آئی ایم ایف کی فرمائش پر روپے کی ملسل بے قدری جاری ہے ۔ اندازہ ہے کہ آئندہ چند ماہ میں ایک ڈالر ڈیڑھ سو روپے کے مساوی ہوجائے گا ۔ اس وقت بھی پاکستانی کرنسی پورے خطے میں سب سے زیادہ بے قدر کرنسی ہے ۔ صرف روپے کی اس بے قدری نے مہنگائی کا وہ طوفان برپا کیا ہے کہ ہر طرف الامان کی آواز ہے ۔ ملک میں معاشی سرگرمیاں تقریبا منجمد ہی ہوگئی ہیں جس کی وجہ سے حکومت کو ہر مد میں حاصل ہونے والی آمدنی میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے ۔ آمدنی میں اس کمی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے حکومت ہر شرط پر قرضہ لینے پر مجبور ہے ۔ اس وقت حکومت جھنجھلا کر فیڈرل بورڈ آف ریوینیو پر ڈنڈا چلا رہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس وصول کرکے سرکاری خزانے میں جمع کروایا جائے جبکہ اصل صورتحال یہ ہے کہ کئی مدات تو ایسی ہیں جن میں ٹیکس وصولی شرح صفر ہی ہوگئی ہے ۔ اس وقت سرکاری بزرجمہر خوشی سے بغلیں بجا رہے ہیں کہ درآمدات کم ہونے سے درآمدی بل کم ہوگیا ہے مگر اس درآمدات کے کم ہونے سے ملکی معیشت پر جو اثر پڑا ہے ، اسے کوئی نہیں دیکھ رہا ہے ۔ درآمدات کم ہونے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ملک میں ان کا متبادل تیار ہونے لگا ہے بلکہ اس کی وجہ لوگوں کی قوت خرید میں زبردست کمی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی درآمدی ڈیوٹی اور دیگر ٹیکس میں بھی زبردست کمی آئی ہے ۔ ٹیکس اہداف کو پورا کرنے کے لیے حکومت کے جبر کی وجہ سے ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان کو جعلی ٹیکس چالان جاری کرنا شروع کردیے ہیں ۔ بلکہ مذکورہ ٹیکس کی بینکوں کے ذریعے براہ راست کٹوتی بھی کررہے ہیں جس کی وجہ سے ٹیکس دہندگان میں سراسیمگی کی نئی لہر دوڑ گئی ہے ۔ ٹیکس حکام اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے جاری کردہ چالان غلط ہیں اور اپیل کورٹ میں پہلی پیشی میں ہی یہ رقومات انہیں واپس کرنا پڑیں گی تاہم ٹیکس حکام کا کہنا ہے کہ اس میں ایک دو ماہ لگیں گے اور اس عرصے میں موجودہ مالی سال ختم ہوجائے گا ۔ اس طرح ان کا ٹیکس کا ہدف پورا ہوجائے گا جبکہ لی گئی زیادہ رقوم کی واپسی کا عمل آئندہ مالی سال سے شروع ہوگا۔ اس طرح کتابوں میں ان کی کارکردگی بہترین رہے گی ۔ ایک طرف عمرانی حکومت کی ٹیم اس امر کا اعتراف کررہی ہے کہ حالیہ سرکاری اقدامات کے نتیجے میں ٹیکس دینے والوں کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیکس کے لیے ایمنسٹی اسکیم لائی جارہی ہے تو دوسری جانب ایف بی آر کے الیکٹرک کی طرز پر جعلی چالان دینے اور وصولی کرنے کی مہم جاری رکھے ہوئے ہے اور یہ ہر حکومت کا وتیرہ ہے کہ وہ کبھی کسی ملک یا ادارے سے حاصل کیے گئے قرض اور شرح سود کو منظر عام پر نہیں لاتی ۔ ان شرائط کے صرف وہ چند حصے منظر عام پر لائے جاتے ہیں جو دیکھنے میں دلکش ہوتے ہیں ۔ آئی ایم ایف کی ان خفیہ شرائط میں پاکستانی اثاثہ جات کی فوری طور پر نجکاری بھی شامل ہے ۔ حالانکہ عمرانی حکومت نے ابتدا ہی میں اعلان کیا تھا کہ نجکاری کی فہرست پر نظر ثانی کی جائے گی اور پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل جیسے اداروں کوجو ملک کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ، نجکاری کی فہرست سے نکال دیا جائے گا ۔ نہ صرف یہ بلکہ ان اداروں کو مکمل طور پر بحال بھی کیا جائے گا ۔ جمعرات ہی کو کراچی میں وفاقی وزیر نجکاری و شہری ہوابازی محمد میاں سومرو نے اخبار نویسوں سے گفتگو کے دوران میں انکشاف کیا کہ کسی بھی ادارے کو نجکاری کی فہرست سے خارج نہیں کیا گیا ، صرف موخر کیا گیا ہے ۔ محمد میاں سومرو نے بتایا کہ پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل کو بحال کرنے اور منافع بخش بنانے کے بعد فروخت کے لیے پیش کردیا جائے گا ۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پاکستان کے ہوائی اڈوں کی نجکاری کا عمل بھی جاری ہے اور اس سلسلے میں کئی مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں سے مذاکرات جاری ہیں ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عمرانی حکومت نے ملک کو آئی ایم ایف کے ہاتھوں گروی رکھ دیا ہے ۔ اب آئی ایم ایف کی فرمائش پر جو بھی اقدامات ہوں گے ، اس سے ملکی معیشت مزید تباہ ہوگی اور پھر مزید قرض لینے کے لیے نئی شرائط پر عمل کیاجائے گا ۔ یہ عجیب صورتحال ہے کہ جوں جوں ملک میں قرض آتا جارہا ہے ملک کی معیشت ابتر ہوتی جارہی ہے ۔ عمران خان کو سمجھنا چاہیے کہ ملکی مصنوعات اسی وقت بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلہ کرپائیں گی جب لاگت کم ہوگی۔ کھاد، زرعی ادویات اور بیجوں کی قیمتیں روزبڑھ جاتی ہیں تو کس طرح کسان اپنی لاگت پوری کرسکے گا ۔ جب بجلی ، گیس ، پٹرول اور خام مال ہی انتہائی مہنگے داموں دستیاب ہوں گے تو پاکستانی مصنوعات کس طرح سے بین الاقوامی منڈی میں مقابلہ کرپائیں گی ۔ دیکھتے ہی دیکھتے ڈالر کے مقابلے روپیہ پچاس فیصد بے قدر ہوگیا ہے تو ایک عام تنخواہ دار طبقہ کس طرح سے اپنی ضرورتیں پوری کرسکے گا ۔ عمران خان کو برسراقتدار آئے محض آٹھ ماہ ہوئے ہیں اور ان کی کارکردگی یہ ہے کہ ان کے دور میں حاصل کیے گئے قرضوں کی شرح بلند ترین ہے ، ان کے دور میں بجلی کے نرخ سب سے زیادہ بڑھائے گئے ہیں ، اتنی قلیل مدت میں انہوں نے پاکستانی کرنسی کو جتنا بے قدر کیا ہے ، اتنا تو گزشتہ حکومتوں نے پورے پانچ برس بھی نہیں کیا ہے ۔ وہ اوران کے وزراء ایک ہی راگ الاپ رہے ہیں کہ ایک ڈیڑھ برس کی مشکل اورہے ۔ اس کے بعد ملک میں ہن برسنے لگے گا ۔ عمران خان اور ان کے وزراء کا خیال ہے کہ جیسے ہی ملک میں تیل نکلے گا ، ملک میں ڈالر کی برسات ہوجائے گی ۔ انہیں پتا ہونا چاہیے کہ تیل نکالنے والی کمپنیوں سے ہونے والے معاہدات کیا ہیں ۔ پاکستان اپنے ہی ملک سے نکلنے والا تیل ان کمپنیوں سے بین الاقوامی قیمت پر خریدے گا جبکہ کُل آمدنی میں سے پاکستان کو محض بارہ فیصد رائلٹی ملے گی ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عمران خان اور ان کی ٹیم کو اس پوری صورتحال سے بے خبر رکھا گیا ہے یا پھر یہ لوگ یوٹوپیا میں رہتے ہیں اور انہیں حقیقت حال سے ذرہ برابر بھی آگاہی نہیں ہے ۔ اس عرصے میں پاکستانی صنعت و زراعت کا برا حال ہوچکا ہوگا اور عوام اسی طرح خوشحالی کا پوچھ رہے ہوں گے جس طرح اس وقت پاکستان سے لوٹے گئے مال کی واپسی کا دریافت کررہے ہیں اور اس کے جواب میں عمران خان آئیں بائیں اور شائیں کررہے ہیں ۔ بہتر ہو گا کہ عمران خان محب وطن معاشی ماہرین کی نئی ٹیم ترتیب دیں جو ملک کوموجودہ صورتحال سے نکالنے کے لیے انقلابی حکمت عملی ترتیب دے ۔ معاشی قربانی کی ابتدا اوپر سے شروع کریں اور سب سے پہلے پارلیمنٹ کے ارکان کے الاؤنسز اور تنخواہ میں کٹوتی کی جائے پھر اس کے بعد عوام کو ایک روٹی کھانے کا مشورہ دیا جائے ۔ فوج سے بھی عوام کی طرح ٹیکس وصول کیا جائے اور انہیں ایکسائیز ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسوں میں دی جانے والی مراعات کا خاتمہ کیا جائے ۔ عدلیہ سے تعلق رکھنے والوں کو بھی دیے گئے ٹیکس استثنیٰ کا خاتمہ کیا جائے ۔

                                                                                                                                                                 بشکریہ جسارت