August 26th, 2019 (1440ذو الحجة24)

ملعونہ آسیہ آزاد، عافیہ کب آئے گی؟

 

وزیر اعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ ملعونہ آسیہ مسیح جلد ہی پاکستان سے چلی جائے گی ۔انہوں نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں پیچیدگی ہے جس سے میڈیا کو آگاہ نہیں کیا جاسکتا ۔ ملعونہ آسیہ مسیح کے لیے تو وزیر اعظم عمران خان نے پوری دنیا کو یقین دلادیا کہ وہ حفاظت سے ہے اور جلد ہی پاکستان چھوڑ دے گی مگر انہوں نے اس بارے میں قوم کو ایک بار بھی اعتماد میں نہیں لیا کہ پاکستان کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کب وطن واپس پہنچے گی۔آسیہ ملعونہ اور ڈاکٹر عافیہ کے کیس میں اس حد تک تو مماثلت ہے کہ دونوں کیسوں میں عدالت پر اثرانداز ہوا گیا ۔ پاکستان میں حکومت کے اثر انداز ہونے کی وجہ سے آسیہ کو رہائی مل گئی حالانکہ سیشن کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ دونوں آسیہ کو موت کی سزا سنا چکی تھیں ۔ ڈاکٹر عافیہ کے کیس میں بھی امریکی حکومت اثر انداز ہوئی اور ناقابل یقین بیان پر کہ عافیہ نے نہتا اور کمزور ہونے کے باوجود ایک امریکی کمانڈو کی بندوق چھین کر اس پر فائرنگ بھی کردی اور خود زخمی ہو گئی، عافیہ کو 88 برس کی سزا سنا دی گئی ۔ یہ پاکستانی قوم کی بدقسمتی ہے کہ عافیہ کو جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں باقاعدہ امریکی حکومت کو فروخت کیا گیا ۔ سرکاری سطح پر اس بردہ فروشی کی شاید ہی تاریخ سے کوئی مثال مل سکے ۔ اس پر طرفہ تماشا عافیہ کی رہائی کے بارے میں ہر حکومت کی پراسرار خاموشی ۔ عمران خان حکومت میں آنے سے قبل کئی بار ڈاکٹر عافیہ کوپاکستان واپس لانے کے بارے میں پرزور مطالبہ بھی کرتے رہے اور یہ بھی اعلان کیا کہ برسراقتدار آنے کے بعد ڈاکٹر عافیہ کو پاکستان لانا ان کی پہلی ترجیح ہوگی ۔ عمران خان کو اقتدار میں آئے آٹھ ماہ سے زاید عرصہ گزرچکا ہے اور ابھی تک اس سلسلے میں ان کی بس اتنی ہی کارکردگی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اس بارے میں خاموشی اختیار کی جائے ۔ یہ قوم کا حق ہے کہ اسے آگاہ کیا جائے کہ آسیہ تو جارہی ہے مگر عافیہ کب آئے گی ۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا کیس ہر لحاظ سے منفرد ہے ۔ انہیں کراچی سے ان کے تین کمسن بچوں سمیت سرکاری سرپرستی میں دن دہاڑے اغوا کیا گیا ۔ اغوا کے بعد انہیں افغانستان منتقل کیا گیا ۔ برسوں ڈاکٹر عافیہ کا کچھ پتا نہیں چلا ۔ بعد میں ایون ریڈلے کے اس انکشاف کے بعد کہ ایک پاکستانی خاتون بگرام جیل میں قید ہیں ، عافیہ پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے بگرام میں ایک امریکی کمانڈو سے اس کی بھاری بھرکم گن چھین لی اور اس پر فائرنگ بھی کردی ۔ یہ سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے کہ ایک کمزور اور نہتی خاتون جس کا تعلیمی ریسرچ سے تعلق رہا ہو ، وہ کس طرح ایک مستعد کمانڈو سے گن چھین سکتی ہے ۔ اگر ایسا ہے تو امریکی فوج کو اپنی فوج کی تربیت پر نظر ثانی کرنی چاہیے ۔ اس الزام کے بعد ڈاکٹر عافیہ کو ہتھکڑی اور بیڑی لگا کر امریکا پہنچادیا گیا ۔ امریکا کی کٹھ پتلی عدالت نے اس بھونڈے الزام کو تسلیم بھی کرلیا اور ڈاکٹر عافیہ کو 88 برس کی سزا بھی سنادی ۔ امریکیوں نے جو کچھ بھی کیا ، اس پر تو اس وقت بات ہوسکتی ہے جب پاکستان میں کوئی باحمیت حکمران ہوتا ۔ یہاں پر تو امریکی حکومت کی اس پیشکش کے باوجود کہ اگر حکومت پاکستان باقاعدہ درخواست کرے تو وہ ڈاکٹر عافیہ کو پاکستان کے حوالے کرنے کو تیار ہے ، زرداری ، نواز شریف میں سے کسی نے بھی پورے دور حکومت میں اتنی سی زحمت نہیں کی حالانکہ نواز شریف کے وزراء بھی اور خود نواز شریف نے بھی اس بارے میں کئی بار یقین دہانی کروائی ۔ عمران خان سے ڈاکٹر عافیہ کے خاندان اور پوری قوم کو بڑی امیدیں تھیں کہ انہوں نے اس بارے میں واضح یقین دہانی کروائی تھی ۔ تاہم یہ بھی عمران خان کا ایک بڑا یوٹرن ثابت ہوا ۔ قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ آخرایسی کیا وجہ ہے کہ کوئی بھی حکومت ڈاکٹر عافیہ کو پاکستان واپس لانے سے خوفزدہ ہے ۔ طالبان روز مذاکرات کرکے اپنے لیڈروں کی آزادی کو یقینی بناتے ہیں ۔ ملاعبدالسلام ضعیف اور ملا عبدالغنی برادر جیسے لوگ جو امریکی فوج کی قید میں تھے ، اب مذاکرات کی میز پر امریکا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی شرائط منوا رہے ہوتے ہیں ۔ کیا پاکستانی قوم اور پاکستانی حکمراں طالبان سے بھی زیادہ کمزور ہیں جو ایک کمزور عورت کو پاکستان لاتے ہوئے ڈرتے ہیں ۔ بہتر ہوگا کہ عمران خان کم از کم اتنی جرأت کا مظاہرہ کریں کہ وہ قوم کو صاف صاف ان وجوہات سے آگاہ کردیں کہ ڈاکٹر عافیہ کو کیوں پاکستان واپس نہیں لایا جاسکتا ۔ یا پھر وہ ان تمام عوامل کو قوم کے سامنے رکھیں جن کی وجہ سے عافیہ کی وطن واپسی ناممکن ہے ۔ ایسی صورت میں امریکا کو واضح بتادیا جائے کہ اس کو مطلوب قیدی بھی پاکستان سے باہر نہیں جاسکتے اور اگر کسی قیدی نے پاکستان سے غداری کی ہے تو اسے غداری کی سزا موت کی صورت میں دی جائے گی ۔ یہ عجیب صورتحال ہے کہ پاکستان روز جذبہ خیر سگالی کے طور پر بھارتی ماہی گیروں کو رہا کردیتا ہے مگر بھارت سے پاکستانی قیدیوں کی لاشیں ملتی ہیں ۔ پاکستان بھارت سے غیر قانونی سرحد پار کرنے والوں کو فوری طور پر بھارت کے حوالے کردیتا ہے مگر بھارت میں پاکستان سے شادی ہو کر گئی ہوئی خاتون کو طلاق کے بعد پاکستان بھیجنے پر راضی نہیں ۔ پاکستان حملہ آور ابھے نندن کو بھی عزت و احترام کے ساتھ بھارت کے حوالے کردیتا ہے اور جواب میں لائن آف کنٹرول پر پاکستان میں سول آبادی پر بمباری جاری ہے ۔امریکی ایجنٹ ریمنڈ ڈیوس پاکستان میں تین افراد کو دن دہاڑے قتل کردیتا ہے ۔ پوری پاکستانی سرکاری مشینری اپنا تمام اثر و رسوخ استعمال کرکے اسے پاکستان سے پورے گارڈ آف آنر کے ساتھ رخصت کرتی ہے ۔ آسیہ کو سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ سزائیں دیتی ہیں مگر اسے پوری سرکاری مشینری بری کرواتی ہے ۔ اس عرصے میں غیرملکی سفارتکاروں کو بھی آسیہ سے ملاقات کی سہولت فراہم کی جاتی ہے ۔ اب جذبہ خیر سگالی کے طور پر اسے ملک سے باہر بھیجنے کی وزیر اعظم خود نوید سنا رہے ہیں ۔ وزیر اعظم بس ایک وضاحت کردیں کہ پاکستان میں پاکستانیوں کی حکومت ہے یا پھر امریکا ، اسرائیل اور بھارت کے نمائندوں کی ۔ اگر پاکستانیوں کی نمائندہ حکومت ہے تو خدا را پاکستانی مفادات کا خیال کریں جس طرح امریکی اور بھارتی حکومتیں اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے کمربستہ رہتی ہیں ، پاکستانی حکومت بھی اٹھ کھڑی ہو ۔ڈاکٹر عافیہ ٹیسٹ کیس ہے جس میں ابھی تک حکمراں ناکام ہیں ۔