October 14th, 2019 (1441صفر14)

ریاست مدینہ, یو ٹرن,قبل بعثتِ نبوی

 

ڈاکٹر وسیم علی برکاتی

صاحبو! اس دنیا کو بنے کتنا عرصہ بیت چکا ہے اندازے اور قیاس آرائیاں ہی ہیں۔ ہماری سوچ اور فکر جواب دے جاتی ہے۔ ہم اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں ہی مارتے رہ جاتے ہیں۔ آدمؑ ، ہابیل، قابیل، موسیٰ ؑ ، عیسیٰ ؑ کے قصے، فرعونوں کی باتیں۔ قرآن کھول کھول کر ہر بات بتا رہا ہے اور اس کو بھی لگ بھگ پندرہ سو سال کا سفر ہوگئے۔ قرآن کی ہر بات سچی، کھری، صاف، مدلل اور ثابت شدہ ہے۔ ہر بات ایسی ہے کہ ہم جھٹلانا چاہیں تو اس کے لیے ایک شیطانی کافرانہ طاقت کی ضرورت پڑتی ہے۔ جو ایک عام انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ اللہ کے مقابلے میں شیطان کی تائید کرنے کے لیے کتنی بے ضمیری اور جگری طاقت چاہیے میرے لیے اس کا اندازہ لگانا بڑی مشکل اور ناممکن سی بات ہے۔ فرعونوں کی بادشاہت، ہٹلر، چرچل، ماوزے تنگ، بش سینئر اور جونیئر نہ جانے کتنے ہی مطلق العنان حکمران آئے اور اپنا نام�ۂ اعمال اپنے ساتھ لے گئے۔ اگر ہمارا ایمان اس بات پر پختہ ہے کہ ’’یوم الدین‘‘ قائم ہوگا اور اس ’’یوم الدین‘‘ کا مالک اللہ تبارک و تعالیٰ ہے۔ تو پھر ہم کس طرح انکار کرسکتے ہیں کہ یہ تمام حکمران کل ’’یوم الدین‘‘ کے قائم ہونے پر اللہ کے سامنے نہیں کھڑے ہوں گے۔ جو بھی اس فانی دنیا سے اپنے نام�ۂ اعمال میں جو کچھ لکھ کر لے جائے گا۔ وہ اسے ’’یوم الدین‘‘ میں دیکھے گا۔
دنیا میں حکمرانی اور منصب کا حصول گو کہ بظاہر باعث عزت و افتخار ہے لیکن تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ صحابہ کرامؓ ہمیشہ اقتدار اور منصب سے بچنے کی کو شش کرتے تھے۔ کیوں کہ انہیں احساس تھا کہ اگر یہ منصب ملا تو کل ’’یوم الدین‘‘ کے وقت اس کی جواب دہی بھی بڑی کڑی ہوگی۔ جب عوام کے ایک ایک غضب کیے گئے حقوق کی جوابدہی ہوگی۔ ہمارے موجودہ حکمران نہ صرف منصب کے لیے بڑے بڑے دعوے کردیتے ہیں بلکہ ان کے حواری انہیں اللہ کے بعد سب سے بہتر قرار دینے کی جرأت بھی کر بیٹھتے ہیں۔ ہم نہیں سوچتے کہ اللہ کے ہاں زبان بولے گی، ہاتھ اور پاؤں گواہی دیں گے کہ کیا کیا بداعمالیاں ان کے ذریعے سرزد کی گئی ہیں۔ جب اللہ کے بعد ایک عام انسان کو سب سے بہتر کہا گیا تو اللہ کے رسول ؐ اور صحابہ کرامؓ اور اولیاء اللہ کو کس درجہ پر کردیا گیا۔ یہی زبان گواہی دے گی۔ اللہ سورہ نور آیت ۲۴ میں فرماتا ہے ’’وہ اس دن کو بھول نہ جائیں جبکہ ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ، پاؤں ان کے کرتوتوں کی گواہی دیں گے‘‘۔ زبانو ں سے بڑے بڑے دعوے کرنا اور ملک کو ریاست مدینہ بنانے کے دعوے کرنا کہیں ’’لمَ تقولون مالا تفعلون‘‘ کے زمرے میں تو نہیں آتے۔ کہ اللہ فرماتا ہے کہ ’’اے مومنو! تم وہ بات کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں ہو‘‘۔ کل ’’یوم الدین‘‘ اگر حساب دینا پڑ گیا کہ تم تو ریاست مدینہ بنانے کی بات کرتے تھے۔ لیکن تم نے تو نہ صرف یہ کہ اپنے قول کو پورا نہیں کیا بلکہ اس کے خلاف کام کیے تو اللہ ربّ العزت کے سامنے کل ’’یوم الدین‘‘ کے موقع پر کیا جواب بن پڑے گا۔
دعوی ٰ تو یہ تھا کہ ریاست مدینہ بنائیں گے لوٹا ہو پیسہ واپس لائیں گے۔ لیکن ڈیم فنڈ کے نام پر سب سے پہلے عوام کے حلق سے پیسہ نکلوا لیا گیا۔ دعویٰ تو ہے ریاست مدینہ کی طرح جس طرح صحابہ کرامؓ خود سادہ زندگی گزارتے تھے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتے تھے۔ عوام کو خوشحال کرتے تھے۔ ایسی مدینے جیسی ریاست بنے گی۔ لیکن پہلا بل جو انتہائی برق رفتاری اور حکومت اور اپوزیشن کے اتفاق سے پاس ہو ا وہ اراکین اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا بل تھا۔ وزیراعلیٰ چار لاکھ تنخواہ، اسپیکر دو لاکھ اسی ہزار، اراکین اسمبلی ایک لاکھ پچانوے ہزار ماہانہ تنخواہ وصول کریں گے۔ اور دیگر مراعات اس کے علاوہ ہیں ا8۔ ہمارے ملک میں جہاں موبائل فون رکھنے پر ٹیکس عائد کردیا گیا ہے وہاں اسمبلی اراکین کو بجلی کے بل کی سہولت، پٹرول اور پروٹوکو ل کی سہولت مفت فراہم کی جارہی ہے۔ ’’جا پتر راوی نہاوی تے آویں‘‘۔ ہماری اسمبلی کی کینٹین دنیا کی سستی ترین کینٹین (chepest place to eat}۔ یہاں اسمبلی اراکین کو چائے ایک روپے، جبکہ عوام کو ایک کپ چائے 25 روپے کا پڑتا ہے، روٹی ایک روپے کی جبکہ عوام کو روٹی دس روپے کی پڑتی ہے۔ مرغی کا سالن چوبیس روپے کا جبکہ عوام کو مرغی کا سالن پچاس روپے کا ملتا ہے۔ دواؤں کی قیمتیں پچاس سے سو فی صد تک بڑھ چکی ہیں۔ جو دوا ساٹھ روپے کی تھی وہ ایک سو پچیس روپے کی ہوگئی۔ لگتا ہے کہ موجودہ حکمران جس ریاست مدینہ کی بات کر رہے ہیں وہ ریاست مدینہ بعد از بعثت نبوی ؐ نہیں ہے۔ جہاں عوام کے حقوق دیے جاتے ہوں۔ بلکہ موجودہ حکمران جس ریاست مدینہ کی بات کررہے ہیں وہ ریاست مدینہ قبل بعثت نبوی ؐ ہے کہ جہاں اشرافیہ، اپنے لیے آسائشیں اور چھوٹ کے عمل کو تقویت دیتے تھے۔ اور عوام کے حقوق غضب کرتے تھے۔ نیب چیرمین کہتے ہیں کہ ملک اٹھانوے ارب ڈالر کا مقروض ہوچکا ہے۔ دولت کہاں خرچ کی گئی ہے۔ پٹرول کی قیمتیں بڑھا کر عوام کو مزید بدحال کیا جارہا ہے۔ ہر طرف لوٹ مار اور ڈکیتیوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا، انسانی جان کی کوئی اہمیت نہیں، گیس کے نرخ بڑھ گئے، بجلی کے بل بڑھا کر دیے جارہے ہیں۔ عوام پانی کو ترس رہے ہیں۔ اور اشرافیہ پانی چوری کرارہی ہے۔ کراچی کا پانی تقریباً پچیس جگہ سے چوری ہونے کی خبریں آرہی ہیں۔ کرپشن، عریانی و فحاشی کا جو رخ نظر آرہا ہے وہ ریاست مدینہ قبل از بعثت نبوی ؐ کی طرف اشارے دیتا نظر آرہا ہے۔ اللہ جل شانہُ قرآن کریم میں فرماتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی ہی پر راضی اور مطمئن ہو گئے ہیں، اور جو لو گ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں، ان کا آخری ٹھکانا جہنم ہوگا، ان برائیوں کی پاداش میں جن کا اکتساب وہ کرتے رہے۔