October 20th, 2019 (1441صفر21)

ہندو لڑکیوں کا قبول اسلام اور تاریخ کا معمول

 

شاہنواز فاروقی 

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کوئی ہندو لڑکی اسلام قبول کرتی ہے تو سیکولر اور لبرل انتہا پسند ایک ہنگامہ برپا کردیتے ہیں۔ وہ قبول اسلام کے ہر واقعے کو ’’جبری قبولیت‘‘ یا Forced Conversion قرار دے دیتے ہیں۔ حال ہی میں سندھ کی دو ہندو لڑکیوں رینا اور روینا نے اپنی آزاد مرضی سے اسلام قبول کرکے دو مسلمان لڑکوں سے شادی کی تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے انگریزی پریس نے ’’توبہ توبہ یہ تو جبر ہے‘‘ کا شور برپا کردیا۔ انگریزی اخبارات ڈان اور دی نیوز نے بڑی بڑی خبریں شائع کیں۔ ڈان نے 26 مارچ 2019ء کو Forced Conversion اور دی نیوز نے اس روز The Unequal other کے عنوان سے اداریے لکھ ڈالے۔ ڈان نے رینا اور روینا کے قبول اسلام کو صرف ’’جبری قبولیت‘‘ قرار نہیں دیا بلکہ اس نے اپنے اداریے میں اس جبری قبولیت کی پشت پر Power Dynamics بھی تلاش کرلیں۔ دی نیوز نے اپنے اداریے میں اس بات پر ماتم کیا کہ پاکستان میں ہر سال ایک ہزار سے زیادہ ہندو اور عیسائی خواتین کو جبراً مسلمان بنالیا جاتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بیچارے ہندو اور عیسائی مسلمانوں کے ’’مساوی‘‘ نہیں ہیں۔ یعنی یہ لوگ مساوی ہوتے تو کیوں جبراً اسلام قبول کرتے۔ بلاشبہ Conversion کی پشت پر ’’جبر‘‘ بھی موجود ہوسکتا ہے مگر ڈان اور دی نیوز نے تو اس بات کے طے ہونے کا انتظار ہی نہیں کیا کہ رینا اور روینا کا قبول اسلام جبری ہے یا اختیاری۔ دونوں اخبارات نے تحقیق سے پہلے ہی دونوں کے قبول اسلام کو ’’Forced‘‘ یا جبری قرار دے دیا۔ یہ کھلی بد دیانتی بھی ہے اور بدنیتی بھی۔ یہ رویہ معروضی صحافت کے ہر اصول کے خلاف ہے۔ اس رویے کا مطلب یہ ہے کہ ڈان اور دی نیوز اپنے قارئین کو یہ یقین کرنے پر ’’مجبور‘‘ کررہے ہیں کہ قبول اسلام واقعتاً جبری ہے اختیاری نہیں۔ حالاں کہ دونوں اخبارات نے جب اداریے لکھے تو ان کے پاس اس سلسلے میں کوئی شہادت موجود نہ تھی۔ انہوں نے محض ’’قیاس‘‘ کی بنیاد پر ہندو لڑکیوں کے قبول اسلام کو ’’Forced‘‘ قرار دیا۔ آخر یہ کیسا اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جس کے دائرے میں لوگوں کے اسلام قبول کرنے کے عمل کو بھی ’’ظلم‘‘ اور ’’جبر‘‘ بنایا جارہا ہے اور وہ بھی محض ’’قیاس‘‘ اور ’’پروپیگنڈے‘‘ کے زور پر۔ لیکن یہ تو چند سرسری باتیں تھیں۔ اس مسئلے کو وسیع تاریخی سیاق و سباق میں رکھ کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اسلام کی صداقت، علمیت، طاقت، حسن، جمال اور دلکشی بے مثال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام دنیا میں سب سے زیادہ تیزی کے ساتھ پھیلنے والا مذہب ہے۔ ہندو ازم ہندوستان میں پیدا ہوا اور یہیں کا ہو کر رہ گیا، وہ کبھی ہندوستان کے جغرافیے سے نکلا ہی نہیں۔ عیسائیت پیدا تو فلسطین میں ہوئی مگر عیسائیت یورپ کا مذہب بن کر رہ گئی۔ بدھ ازم مشرق بعید سے آگے نہ جاسکا۔ یہودیت کا دائرہ مسلسل سُکڑ رہا ہے اور یہودیت فنا ہوتا ہوا مذہب ہے۔ سکھ ازم پنجاب میں پیدا ہوا اور پنجاب اور اس کے قرب و جوار سے کبھی آگے نہ بڑھ سکا۔ مگر اسلام کا قصہ ہی کچھ اور ہے۔ اسلام مکے اور مدینے سے اُبھرا اور ساری دُنیا پر چھا گیا۔اسلام یورپ پہنچا اور اس نے ’’مسلم اسپین‘‘ کا تجربہ خلق کیا، اسلام چین پہنچا اور اس نے لاکھوں چینیوں کو مسلمان کیا، اسلام روس پہنچا اور اس نے لاکھوں روسیوں کو مسلمان کیا، اسلام ہندوستان آیا اور اس نے کروڑوں ہندوؤں کو مسلمان کیا، اسلام افریقا پہنچا اور اس نے افریقا کی درجنوں قوموں کو مسلمان بنایا۔ اہم بات یہ ہے کہ اسلام نے یہ کام کسی جبر، دھونس، دھاندلی اور طاقت کے بغیر کیا۔ اس کی وجہ مسلمانوں کی کشادہ دلی بھی تھی مگر اس کا اصل سبب خود اسلام ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں۔ مسلمان اگر طاقت اور جبر کو بروئے کار لاتے تو مسلمانوں نے ہندوستان پر ایک ہزار سال حکومت کی، یہ اتنی طویل مدت ہے کہ اس مدت میں پورا ہندوستان مسلمان ہوجاتا۔ ہندوستان میں مسلمانوں کے ایک ہزار سال پرانے زمانے کے ایک ہزار سال ہیں۔ اُس وقت نہ انسانی حقوق کا کوئی مسئلہ تھا نہ بی بی سی اور سی این این تھے کہ مسلمانوں کو اپنی طاقت اور اپنے جبر کے رپورٹ ہونے کا خوف ہوتا۔ مسلمان اس طویل مدت میں جو چاہتے کرلیتے، اُن کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہ ہوتا۔ مگر مسلمانوں نے ایک ہندو کو بھی جبراً مسلمان نہیں کیا۔ سوال یہ ہے کہ جو کام مسلمانوں نے گزشتہ چودہ سو سال میں نہیں کیا وہ کام مسلمان اب کیوں کرنے لگے؟۔
اسلام کی حالیہ مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ اسلام کی قوت نے آج سے ستر اَسّی سال قبل فرانس کے مفکر رینے گینوں کو مسلمان کیا، اردو ادب کے سب سے بڑے نقاد محمد حسن عسکری کے بقول رینے گینوں یورپ کی گزشتہ 600 سال کی تاریخ کے سب سے بڑے مفکر تھے۔ اسلام نے یورپ کے کئی ممتاز دانش وروں مثلاً فرتھجوف شوآں، ٹائٹس برک ہارٹ اور مارٹن لنگز کو مسلمان کیا۔ بعض لوگ ان افراد کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ تمام مذاہب کو مساوی الحیثیت سمجھتے ہیں۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو مگر سوال یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کے نزدیک تمام مذاہب برابر ہیں تو بھی انہوں نے اسلام ہی کیوں قبول کیا، ہندوازم اور بدھ ازم کیوں قبول نہیں کیا؟۔ گزشتہ ایک صدی سے مسلمانوں کے پاس کوئی طاقت نہیں مگر اس کے باوجود مغرب میں بڑے بڑے لوگ مسلمان ہورہے ہیں۔ مثلاً پاپ گلوکار کیٹ اسٹیون نے اسلام قبول کیا، فرانس کے ممتاز دانشور ہوف مین نے اسلام قبول کیا، معروف صحافی ایوان ریڈلے اور برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی سالی لورین بوتھ نے اسلام قبول کیا۔
بھارت کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ ذاکر نائیک نے گزشتہ 25 سال میں صرف مکالمے کے ذریعے ہزاروں ہندوؤں کو مشرف بہ اسلام کیا۔ مشرف بہ اسلام ہونے والوں میں لڑکیوں اور خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے۔ مذکورہ بالا تمام حقائق کو دیکھا جائے تو کہا جائے گا کہ اسلام اور اسلامی تاریخ کے لیے مختلف مذاہب اور اقوام کے لوگوں کا قبول اسلام ایک ’’معمول کی بات‘‘ ہے۔ یعنی لوگ اسلام کے حسن و جمال، اس کی صداقت، اس کی طاقت، اس کی علمیت اور اس کی دلکشی سے متاثر ہو کر مسلمان ہوتے رہے ہیں، ہورہے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ اس عمل میں نہ حیرت کی بات تھی، نہ ہے نہ ہو گی۔ مگر پاکستان کے سیکولر اور لبرل عناصر اتنے بڑے اسلام دشمن ہیں کہ انہیں ہر مشرف بہ اسلام ہونے والے شخص کا اسلام ’’Forced‘‘ نظر آتا ہے۔
یہ حقیقت راز نہیں کہ اسلام میں خواتین کا مقام اتنا بلند ہے کہ باقی مذاہب اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ عیسائیت کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ عورت ہے جس نے سیّدنا آدمؑ کو جنت سے نکلوایا۔ عیسائیت میں عورت جنس کی علامت ہے اور عیسائیت جنس کو ایک گھناؤنی چیز سمجھتی ہے۔ عیسائیت کے دائرے میں شادی کے بعد عورت اپنے شوہر سے کسی طرح نجات حاصل نہیں کرسکتی، خواہ اس کا شوہر کتنا ہی ظالم کیوں نہ ہو۔ ہندوازم میں عورت مرد کا سایہ ہے، اس کا باپ یا شوہر کی جائداد میں کوئی حصہ نہیں۔ ہندوازم میں بھی عورت شادی کے بعد شوہر سے الگ نہیں ہوسکتی۔ لیکن اسلام کا عقیدہ ہے کہ شیطان نے جنت میں سیّدنا آدمؑ اور اماں حوّا دونوں کو بہکایا۔ چناں چہ صرف عورت زوالِ آدم کا سبب نہیں۔ اسلام میں جنس کی اہمیت یہ ہے کہ رسول اکرمؐ نے نکاح کو نصف دین قرار دیا ہے۔ اسلام میں عورت باپ کی وراثت میں بھی حصے دار ہے اور شوہر کی چھوڑی ہوئی جائداد میں بھی حصے دار ہے۔ چناں چہ بدترین حالات میں بھی مسلمان عورت کی زندگی عیسائی اور ہندو عورتوں کی زندگی سے بہت بہتر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں گزشتہ پچاس سال کے دوران مسلمان ہونے والے لوگوں کا 60 فی صد خواتین پر مشتمل ہے۔ بھارت میں اگر بی جے پی اور دیگر شیطان صفت ہندو تنظیموں کا جبر نہ ہو تو ہر سال لاکھوں ہندو لڑکیاں مسلمان ہو کر مسلمان لڑکوں سے شادی کریں۔ یہ حقیقت عیاں ہے کہ مغرب میں عورت آزاد بھی ہے اور معاشی اعتبار سے طاقتور اور خود کفیل بھی۔ لیکن اس کے باوجود مغرب میں ہزاروں خواتین مسلمان ہوچکی ہیں۔ ممتاز دانشور ڈاکٹر حمید اللہ کے ہاتھ پر درجنوں فرانسیسی خواتین مسلمان ہوئیں۔ بھارت میں بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کی بہن وجے لکشمی پنڈت بھی مسلمان ہوگئی تھیں مگر گاندھی نے انہیں ڈرا دھمکا کر دوبارہ ہندو بنایا۔ اس وقت بھارت کے مسلمانوں کی معاشی حالت ابتر ہے مگر ہزاروں ہندو لڑکیاں مسلمانوں سے شادی کیے ہوئے ہیں۔ جبر نہ ہو تو مشرف بہ اسلام ہونے والی ہندو لڑکیوں کی تعداد لاکھوں بلکہ کروڑوں میں ہوگی۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان میں ہندو یا عیسائی لڑکیوں کا مشرف بہ اسلام ہونا اسلام تاریخ کے تسلسل کے سوا کچھ نہیں۔ مگر سیکولر اور لبرل عناصر اسے سازش میں ڈھال رہے ہیں، حالاں کہ ایک اسلامی معاشرے میں سیکولر اور لبرل لوگوں کی موجودگی حیران کن ہے۔ اس لیے کہ مسلمان سب کچھ ہوسکتا ہے لادین، یعنی سیکولر اور لبرل نہیں ہوسکتا۔ چناں چہ پاکستان میں اس بات پر تحقیق ہونی چاہیے کہ کہیں پاکستان میں لوگوں کو جبراً سیکولر اور لبرل تو نہیں بنایا جارہا؟ اس حوالے سے پاکستان کے ذرائع ابلاغ کے مواد اور کالجوں اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ کے عقاید اور نظریات کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔