October 20th, 2019 (1441صفر21)

عمرانی ٹیم معیشت تبا ہ کر رہی ہے

 

عمران خان کی حکومت نے عوام پر پٹرول بم بھی گرادیااور پٹرول کی قیمت میں مزید چھ روپے فی لیٹر کا اضافہ کردیا ہے ۔ پٹرولیم کی مصنوعات میں اضافے کے نتیجے میں چند دن بعد ہی بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا اعلان کردیا جائے گا ۔ گیس کی قیمتوں میں 144 فیصد اضافے کا پہلے ہی فیصلہ کیا جاچکا ہے ۔ یہ سب کچھ وہ حکومت کررہی ہے جس نے انتخابات سے قبل پٹرول ، گیس اور بجلی کی قیمتوں کو متناسب کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ وزیر خزانہ اسد عمر کی قومی اسمبلی میں تقریر ریکارڈ کا حصہ ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ عالمی قیمتوں کے حساب سے پاکستان میں پٹرول کی قیمت 46 روپے فی لیٹر ہونی چاہیے ۔ اشیائے صرف کی قیمتوں میں روز اضافہ ہورہا ہے ، خاص طور سے ادویہ کی قیمتوں میں اضافہ تو انتہائی ہوشربا ہے ۔بینک دولت پاکستان نے اپنی رپورٹ میں واضح طور پر بتایا تھا کہ پیداواری لاگت میں اضافے کی وجہ سے برآمدات بھی متاثر ہورہی ہیں اور یوں پاکستان کا توازن ادائیگی بری طرح متاثر ہے ۔سمجھ میں نہیںآرہا کہ عمران خان اور ان کے معاشی ماہرین کی ٹیم پاکستان کی معیشت کے ساتھ کس طرح کا کھلواڑ کررہی ہے ۔ جو کچھ پاکستان کے ساتھ کیا جارہا ہے ، اسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے کسی غیر تربیت یافتہ ڈرائیور کو ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھا دیا گیا ہو اور اب ہر لمحے گاڑی کا تصادم ہورہا ہے ۔ ادنیٰ درجے کا طالب علم بھی یہ بات جانتا ہے کہ ملک کو ترقی دینے کے لیے توازن ادائیگی کو پاکستان کے حق میں ہونا چاہیے ۔ اگر توازن ادائیگی پاکستان کے حق میں نہیں ہو تو اس کا مطلب واضح طور پر بھاری قرض کا حصول ہے اور بھاری قرض کا مطلب بھاری سود ہے ۔ جب بھی قرض لینے آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں ، اس کے پاس فرمائشوں کی ایک طویل فہرست ہوتی ہے جس میں ٹیکسوں ، تیل ، گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ لازمی ہوتا ہے ۔ اسی طرح برآمدات میں اضافے کا لالی پاپ دکھا کر ڈالر کے مقابلے میں ملکی کرنسی کی بھاری گراوٹ کی تجویز پر بھی عمل کروایا جاتا ہے ۔اس سب کا انتہائی بھیانک نتیجہ نکلتا ہے یعنی مہنگائی کا زبردست طوفان ۔ اس کے نتیجے میں ادائیگی کا توازن مزید خراب ہوتا ہے اور ملک کو اخراجات کے لیے مزید قرض لینے کی ضرورت پڑتی ہے اور پھر سے قرض دینے والے ادارے ڈالر کے مقابلے میں کرنسی کی بے قدری ، تیل ، گیس اور بجلی کے نرخ بڑھانے کا حکم صادر کردیتے ہیں ۔ یہ حکومت کا کام ہے کہ ملک کے مفاد میں بہترین فیصلے کرے نہ کہ قرض دینے والے اداروں کے دیے گئے املا پر آنکھ بند کرکے عمل کرتی رہے ۔ دنیا میں جن ممالک نے بھی ترقی کی ہے ، ان کے ماڈل ہی کو دیکھ لیا جائے تو پتا چل جائے کہ ترقی کے لیے کون سے اقدامات درکار ہیں ۔ چین نے تمام صنعتوں کے لیے پانچ برس تک بجلی مفت کردی تھی جس سے اس کی پیدواری لاگت اتنی نیچے آگئی کہ دنیا کا کوئی ملک اس کا مقابلہ نہیں کرسکا ۔ پاکستان میں تو یہ صورتحال ہے کہ ایک ہی چیز پر کئی کئی مرتبہ ٹیکس عاید کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے ٹیکس چوری کے رحجان میں اضافہ ہوا ہے ۔ اس صورتحال کا واضح مطلب یہی ہے کہ اب قانونی طور پر صنعتکاری و کاروبار ممکن نہیں رہا ہے ۔ اس کے نتیجے میں بلیک اکانومی پھل پھول رہی ہے ۔ ایک ایک وزیر اور بیوروکریٹ کے گھر سے چھاپوں کے دوران اربوں روپے کی غیر ملکی کرنسی کی برآمدگی ہی سب کچھ بتانے کے لیے کافی ہے ۔ ہم پہلے بھی یہ درخواست کرچکے ہیں کہ اب ملک کی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے ، اس طرف توجہ دی جائے ۔ انقلابی اقدامات کا مطلب کہیں سے ٹیکس دینے والے عوام پرٹیکسوں کا مزیدبوجھ ڈالنا نہیں ہے بلکہ ٹیکس کم کیے جائیں اور ٹیکس کے نظام کی پیچیدگی کو ختم کرکے سادہ ترین کیا جائے تاکہ ٹیکس ادا کرنے کے خواہشمند لوگ بہ آسانی ٹیکس ادا کرسکیں ۔ اسی طرح بجلی ، گیس کی چوری کو ختم کیا جائے اور اس عمل میں شریک بدعنوان عملے کو مثالی سزائیں دی جائیں ۔ بجلی ، گیس اور پٹرول کے نرخ کم کیے جائیں ۔ ڈالر کی شرح کو ایک سو روپے پر منجمد کردیا جائے تاکہ صنعتکار و کاروباری حضرات طویل منصوبہ بندی کرسکیں ۔ اور ابھی تو حکمرانوں کو ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر بھی سر جھکانا ہے۔ 

                                                                                بشکریہ جسارت