October 15th, 2019 (1441صفر15)

کیا عدالتیں وزیراعظم کی منشا کے تابع ہیں

 

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر نواز شریف اور آصف زرداری قوم کا پیسہ واپس کردیں تو انہیں چھوڑ دیں گے ۔ یہ ایک عجیب سی پیشکش ہے جو عمران خان نے کی ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ ملک کسی قاعدے اور قانون کے تحت نہیں چلایا جارہا ہے بلکہ یہاں پر بادشاہت ہے اور بادشاہ کا ہر لفظ قانون ہے ۔ عمران خان کو معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جس کا ایک باقاعدہ آئین ہے ۔ اسی آئین کے تحت پارلیمان سے منظور کردہ قوانین ہیں جس کے تحت ہر جرم کی سزا مقرر ہے ۔ اگر نواز شریف ، آصف زرداری یا ان کے ساتھیوں نے ناجائز طریقے سے پیسہ بنایا ہے اور لوٹ مار کی ہے ، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قوم کے مجرم ہیں ۔ ان دونوں کو عدالت میں پیش کرنا چاہیے اور تمام تفتیشی اداروں کو چاہیے کہ ایمانداری کے ساتھ تمام ثبوت عدالت میں پیش کریں ۔ پھر عدالت نہ صرف لوٹی ہوئی رقم واپس لے بلکہ ان دونوں اور اس طرح کے تمام افراد کو بھاری جرمانے کے ساتھ قانون کے مطابق مثالی سزائیں دے تاکہ آئندہ ایسا کرنے کی کسی اور کو جرات نہ ہو ۔ عمران خان کی پیشکش کا مطلب یہ ہے کہ عدالتیں ان کی منشاء کے مطابق فیصلہ کریں گی ۔ اگر عمران خان چاہیں گے تو عدالتیں نواز شریف اور آصف زرداری کو چھوڑ دیں گی ۔ یہ انتہائی خوفناک صورتحال ہے کہ عدالتیں حکومت کی مرضی کے مطابق فیصلہ کریں ۔کچھ ایسا ہی فیصلہ بحریہ ٹاؤن کیس میں عدالت عظمیٰ نے دیا ہے ۔ جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ ریاض ملک نے فراڈ کرکے حکومت کی زمین پر قبضہ کیا ہے تو پھر ریاض ملک کو چھوڑنے کا کوئی جواز نہیں تھا ۔ ہزاروں ارب روپے کی زمین پر ریاض ملک نے قبضہ کیا ۔ انہیں سیکڑوں ارب روپے کی ادائیگی کا حکم دیا گیا وہ بھی قسطوں میں ۔ اس وقت اسٹیٹ بینک کی اعلان کردہ شرح سود 10.75 فیصد ہے جبکہ بینک 18 فیصد سے زاید وصول کررہے ہیں مگر ریاض ملک کو چھوٹ دی گئی کہ اگر وہ ادائیگی میں تاخیر کریں گے تو صرف 4 فیصد سود ادا کریں گے ۔ یعنی ریاض ملک کو پوری چھوٹ دی گئی کہ وہ لوگوں سے مال بٹور کر جرمانہ ادا کریں اور اب تک ریاض ملک نے جو کچھ لوٹا ماری کی وہ سب معاف ۔ کچھ ایسا ہی قومی احتساب کا ادارہ نیب کرتا ہے ۔ کسی بھی کرپٹ شخص کو پکڑتا ہے تو اول تو اس کے خلاف ثبوت ہی برسوں عدالت میں پیش نہیں کیے جاتے اور پھر عدالت میں یہ کہہ کر ملزم کو کلین چٹ دے دی جاتی ہے کہ اس کے خلاف ثبوت نہیں مل سکے ۔ اگر کوئی بہت ہی واضح کیس ہو تو ملزم سے چند فیصد رقم پلی بارگین کے نام پر لے کر ملزم کو عیاشی کے ساتھ لوٹی گئی رقم سے محظوظ ہونے کے لیے قانونی طور پر آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ اب ایسی ہی باضابطہ پیشکش عمران خان نے کردی ہے ۔ آخر عمران خان اور نیب پاکستانی قوم میں کیا روایت جاری کرنا چاہتے ہیں ۔ ریاض ملک کے کیس ، نیب کی پلی بارگیننگ اور عمران خان کی آصف زرداری اور نواز شریف کو چھوڑ دینے کی پیشکش واضح طور پر پوری قوم کو ایک ہی پیغام دے رہی ہے کہ جو بھی شخص لوٹ مار اور کرپشن کرنا چاہتا ہے ، وہ کر گزرے ۔ اگر پکڑمیں آگیا تو چند فیصد اور وہ بھی آسان اقساط میں دینے کی سہولت موجود ہے ۔ جتنے بڑے پیمانے پر لوٹ مار ہوگی ، اتنی ہی آسانیاں فراہم کی جائیں گی ۔ البتہ لاکھوں میں کرپشن کرنے والے کو اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کی بالکل اجازت نہیں ہے اور اسے معاشرے کے لیے عبرت بنادیا جائے گا ۔ عمران خان صاحب کو پتا ہونا چاہیے کہ ان کی پارٹی کا نام ہی تحریک انصاف ہے اور انصاف یہ ہے کہ جس نے بھی جرم کیا ہے ، اس کو بلا امتیاز اس کے جرم کے مطابق سزا دی جائے ۔ اگر کوئی عادی مجرم ہے تو اس کو خصوصی طور پر زیادہ سزا دی جائے تاکہ معاشرہ ایک درست سمت میں گامزن رہ سکے ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ انتہائی نچلی سطح سے انتہائی بالائی سطح تک کسی کو بھی کوئی ڈر اور خوف نہیں ہے ۔ چاہے نجی شعبے کے اسکول ہوں یا اسپتال وہ بھی کسی قاعدے اور قانون کے مطابق چلنے کو راضی نہیں ہیں ۔ سرکاری دفاتر میں چپراسی سے لے اعلیٰ مناصب پر بیٹھے ہوئے افسران بھی انتہائی دھڑلے کے ساتھ رشوت خوری میں مصروف ہیں ۔ اب تو کسی کو کسی احتسابی ادارے کا بھی خوف نہیں ہے کہ سب کو معلوم ہے کہ کہاں پر رشوت کا کیا ریٹ ہے ۔زبان زد عام ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے لیے بھی سیاسی پارٹیوں خصوصی طور پر آصف زرداری اور نواز شریف سے سودے بازی جاری ہے اور اسی سودے بازی کے تحت ان دونوں کو عدالت میں چلنے والے کیسوں میں ضمانت دی جارہی ہے ۔ ایسی صورتحال میں سمجھا جاسکتا ہے کہ ملک کس سمت میں جارہا ہے ۔

                                                                                                                               بشکریہ جسارت