November 18th, 2019 (1441ربيع الأول21)

مہنگائی کا طوفان سب کچھ ڈبو دے گا

 

بینک دولت پاکستان نے پیش گوئی کی ہے کہ رمضان المبارک سے قبل ہی ملک میں مہنگائی کا ایک اور طوفان آئے گا ۔ یہ پیش گوئی بینک دولت پاکستان نے رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کی جاری کردہ رپورٹ میں کی ہے ۔ مہنگائی کی وجوہات کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہوا ۔ رپورٹ میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ قومی پیداوار میں اضافے کا ہدف بھی حاصل نہیں ہوسکے گا جبکہ شرح نمو ساڑھے تین سے چار فیصد کے درمیان رہے گی ۔ پیداواری لاگت میں اضافہ ہونے کی وجہ سے پاکستانی مصنوعات دیگر ممالک کی مصنوعات سے مقابلہ نہیں کرپارہی ہیں اور یوں پاکستان کی برآمدات میں بھی قابل ذکر کمی ہوئی ہے جس کی وجہ سے مالیاتی خسارہ اور جاری کھاتے کا خسارہ بھی قابو سے باہر رہے گا۔ کچھ عرصہ پہلے ہی منی بجٹ پیش کرتے ہوئے تحریک انصاف کے معاشی ماہر اسد عمر نے دعویٰ کیا تھا کہ مالیاتی خسارہ 4.9 فیصد تک رہے گا ۔ اب بینک دولت پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ مالیاتی خسارہ بھی کم از کم 6 تا 7 فیصد تک جائے گا جبکہ جاری کھاتے کا خسارہ بھی ساڑھے پانچ فیصد تک جائے گا۔ بینک دولت پاکستان نے جو کچھ بھی دوسری سہ ماہی کی رپورٹ میں کہا ہے ، ہم نے ان تمام خدشات کا اظہار اسی وقت کیا تھا جب اسد عمر دوسرا منی بجٹ پیش کررہے تھے ۔ جس بری طرح پاکستانی روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں گرائی گئی ہے ، اس کا یہ خوفناک نتیجہ پہلے ہی سے متوقع تھا ۔ تاہم یہ عمران خان اور ان کی معاشی ٹیم کی ڈھٹائی ہے کہ وہ اب بھی یہ امر تسلیم کرنے سے انکاری ہیں کہ پاکستان میں مہنگائی کا طوفان ان کی ناقص پالیسیوں کا نتیجہ ہے ۔ تحریک انصاف کے برسراقتدار آنے کے بعد پاکستان میں پیداواری لاگت میں اضافے کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ڈالر ایک سو روپے سے بڑھ کر 144 روپے پر پہنچ گیا، ایل پی جی گیس سلنڈر کی قیمت 900 روپے فی سلنڈر سے بڑھ کر 1600 روپے پر ، یوریا کھاد کی قیمت 1200 روپے فی بوری سے بڑھ کر 1850 روپے اور ڈی اے پی کھاد کی قیمت 2300 روپے فی بوری سے بڑھ کر 3700 روپے فی بوری پر پہنچ گئی ہے ۔ بجلی ، گیس اور پٹرول کی قیمت ہر کچھ دن بعد بڑھاد ی جاتی ہے ۔ حکومت کی گڈ گورننس کا یہ عالم ہے کہ سوئی سدرن گیس نے 15 ارب روپے سالانہ مالیت کی گیس چوری کو بل ادا کرنے والے صارفین سے وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس ضمن میں اوگرا کو سمری ارسال کردی گئی ہے اور چندہی دن کی بات ہے کہ عوام پرگیس کے نرخوں میں 144 فیصد کا مہنگائی بم گرایا جاچکا ہوگا ۔ اسد عمر خود فرما چکے ہیں کہ مہنگائی اتنی بڑھے گی کہ عوام کی چیخیں نکل جائیں گی ۔ عمران خان بتائیں کہ روپے کی بے قدری کیوں کی گئی تھی اور اس سے برآمدات میں کتنا اضافہ ہوا ۔عمران خان کے معاشی ماہر اسد عمر بتائیں کہ صرف ڈالر کی بے قدری کے نتیجے میں جو پیداواری لاگت میں اضافہ ہوا ہے ، اس کا ان کے پاس کیا جواب ہے ۔ سرکاری حج کے اخراجات میں اضافہ ہی یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ مہنگائی میں کتنا زبردست اضافہ ہوا ۔ ارکان پارلیمنٹ تو اپنی تنخواہیں کئی گنا خود ہی بڑھا لیتے ہیں ، کیا سرکار نے اتنا ہی اضافہ نجی و سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی کیا ہے ۔ عمران خان نے حکومت میں آنے سے قبل کرپشن کے خاتمے کے بلند بانگ دعوے کیے تھے ، کیا وہ بتائیں گے کہ اس میں انہیں کتنی کامیابی ملی ہے اور اب تک وہ لوٹی گئی کتنی رقم قومی خزانے میں واپس لاچکے ہیں ۔ اس وقت عملی طور پر ملک میں بینکاروں کی حکومت ہے جو اپنے سود کی وصولی کے لیے روز ایک نیا ٹیکس لگاتے ہیں ۔ افسوسناک صورتحال تو یہ ہے کہ یہ نئے ٹیکس انہی لوگوں پر عاید کیے جارہے ہیں جو پہلے سے ہی ٹیکس کی ادائیگی کررہے ہیں ۔ جو ادارے اور لوگ ٹیکس چوری کرتے ہیں ، ان کے لیے ایمنسٹی اسکیم لائی جاتی ہے ۔ عمرانی حکومت میں سوئی سدرن اور کے الیکٹرک سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ اربوں روپے کی گیس اور بجلی کی چوری میں ان صارفین کا کیا قصور ہے جو باقاعدگی سے اپنا بل ادا کرتے ہیں ۔ حکومت کیونکر ان اداروں کو اس امر کی اجازت دیتی ہے کہ اپنی نااہلی یا اپنے عملے کی مدد سے چوری ہونے والی گیس اور بجلی کے بل بھی ان ہی صارفین سے وصول کریں ۔ جب پٹرول، گیس اور بجلی کے نرخ بڑھا دیے جائیں اور روپے کی قدر دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں گرادی جائے تو کس طرح سے ملکی پیداوار کی لاگت کو قابو میں کیا جاسکے گا اور کس طرح سے پاکستانی مصنوعات دیگر ممالک کی مصنوعات کا مقابلہ کرسکیں گی ۔ جب ایک فرد کے پاس کھانے ہی کونہیں ہوگا تو وہ ٹیکس کس طرح سے ادا کرسکے گا ۔ یہ صورتحال اسی طرح جاری رہی تو ملک میں انارکی کو کوئی بھی نہیں روک سکے گا۔ بہتر ہوگا کہ مہنگائی کے طوفان کے عقب میں چھپے ہوئے عوامی غیظ و غضب کے طوفان کا ابھی سے ادراک کر لیا جائے بصورت دیگر عوامی غیظ و غضب کا یہ طوفان سب کچھ بہا کر لے جائے گا ۔ عمرانی حکومت کے پاس صرف ایک ہی نسخہ ہے کہ ہر بات کا الزام سابق حکومتوں پر ڈال دیا جائے۔ اگر یہ درست ہو تو بھی حکومت اقتدار میں آنے کے بعد اتنا تو کرتی کہ مہنگائی اور کرپشن کو وہیں پر روک دیتی جہاں وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھاتے وقت تھی۔

                                                                                                                                                                                      بشکریہ جسارت