October 15th, 2019 (1441صفر15)

پاکستان کا دشمن عربوں کا دوست …..؟

 

ملک الطاف حسین

سیّدنا علیؓ نے فرمایا ہے ’’دوست کے دشمن کو کبھی اپنا دوست مت بنانا ورنہ دوست بھی چلا جائے گا‘‘۔ سیّدنا حسینؓ نے فرمایا کہ ’’وہ دو چہرے کبھی نہیں بھولیں گے ایک وہ جس نے مشکل وقت میں ساتھ دیا اور دوسرا وہ جس نے مشکل وقت میں ساتھ چھوڑ دیا‘‘۔ مفتی اعظم فلسطین امین الحسینی مرحوم نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’میں ہٹلر کی حمایت اس لیے کرتا ہوں کہ دشمن کا دشمن بھی دوست ہوتا ہے‘‘۔
’’عرب‘‘ نہ صرف ہمارے دوست ہیں بلکہ بھائی بھی ہیں، عربوں اور ہمارے درمیان دوستی ڈالر یا ریال کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ دوستی ’’لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ‘‘ پر ایمان لانے کی وجہ سے ہے۔ عرب سرزمین ہمارے لیے مقدس اور عرب محترم ہیں۔ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے خادم الحرمین شریفین کو اہل پاکستان اپنا غیر علانیہ قائد سمجھتے ہیں، اسرائیل سے نفرت اور فلسطین سے محبت ہر پاکستانی کا نظریہ ہے، جب کہ مقبوضہ بیت المقدس کی آزادی و بازیابی کے لیے بھی پاکستان کا ہر مسلمان ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے ہر وقت تیار ہے۔ عرب سرزمین کی حفاظت اور بالخصوص سعودی عرب کے دفاع اور تحفظ کو تمام پاکستانی اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کا ایک سابق آرمی چیف ہزاروں فوجیوں کے ساتھ سعودی عرب کی سرزمین پر سعودی عرب کے دفاع کے لیے موجود ہے۔
عربوں نے بھی ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا جو پاک عرب دوستی کی مضبوطی اور عقیدے کی ہم آہنگی کا مظہر ہے، تاہم یکم مارچ کو ابوظہبی میں منعقد ہونے والے ’’او آئی سی‘‘ کے وزرائے خارجہ اجلاس میں ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج کو مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی دعوت پر اہل پاکستان کو دُکھ ہوا۔ پاکستانی یہ سمجھتے ہیں کہ بھارتی وزیر خارجہ کا ’’او آئی سی‘‘ اجلاس کو خطاب پلوامہ سے بھی بڑا حملہ ہے جو سفارتی محاذ پر پاکستان کے خلاف کیا گیا ہے جب کہ مزید افسوسناک اور شرمناک بات یہ ہے کہ مذکورہ اجلاس میں بھارت کو ’’مبصر‘‘ کا درجہ دیا گیا جو اِس بات کا واضح اشارہ ہے کہ بھارت کو او آئی سی کا رکن بنانے کی سازشوں اور کوششوں کو نتیجہ خیز بنانے کا آخری مرحلہ شروع ہوچکا ہے اور یہ کام کوئی دوسرا نہیں ہمارے اپنے دوست کررہے ہیں جن کی کل تک ہمارے وزیراعظم عمران خان گاڑی ڈرائیور کررہے تھے۔
سعودی عرب، عرب لیگ اور او آئی سی کا ’’مسئلہ کشمیر‘‘ پر موقف ہمیشہ پاکستان کے حق میں رہا۔ یکم مارچ 2019ء سے پہلے تمام سربراہ یا وزراء کے اجلاسوں میں ’’مسئلہ کشمیر‘‘ کو اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ قراردادوں کے مطابق حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا جسے بھارت ہمیشہ مسترد کرتا رہا۔ او آئی سی نے جب بھی مقبوضہ کشمیر کے حالات معلوم کرنے کے لیے کوئی نمائندہ وفد بھیجنے کی کوشش کی تو بھارت نے ایسے کسی وفد کو بھی اجازت نہیں دی۔ بھارت کی اِس ضد اور ہٹ دھرمی کے باوجود عرب دوستوں کا ’’مسئلہ کشمیر‘‘ پر اصولی موقف تبدیل نہیں ہوا۔ بھارت کے ساتھ عربوں کے گہرے تجارتی روابط کبھی بھی ’’پاک عرب دوستی‘‘ کو متاثر نہ کرسکے۔ تاہم اب صورتِ حال بدلنا شروع ہوگئی ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا اگست 2015ء میں متحدہ عرب امارات کا دورہ جہاں ابوظہبی میں مندر کے لیے زمین الاٹ کی گئی اور اِس کے بعد اپریل 2016ء میں سعودی عرب کا دورہ جہاں بھارتی وزیراعظم کو ’’شاہ عبدالعزیزؒ ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔ مذکورہ دوروں میں عرب دوستوں نے بھارتی وزیراعظم کی خوب پزیرائی کی، شاندار استقبال سمیت اربوں ڈالر کے معاہدے اور مندر کے لیے زمین عطیہ کی۔
جنوری 2019ء میں متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد بن زید بن سلطان النہیان اور بعدازاں فروری 2019ء میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پاکستان کے دورے پر تشریف لائے، بے مثال استقبال اور دوطرفہ تعاون کے یادگار سمجھوتے ہوئے، دونوں دوستوں نے ڈالر اور ریال دل کھول کر دیے مگر ’’مسئلہ کشمیر‘‘ پر نہ صرف پاکستانی موقف کی تائید نہ کی گئی بلکہ بھارت کے جارحانہ کردار کی بھی مذمت نہیں کی گئی۔ اسلام آباد میں ولی عہد نے کہا ’’میں سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر ہوں‘‘ مگر جب وہ نیو دہلی میں پاکستان اور امن کے دشمن نریندر مودی سے بغلگیر ہوئے تو فرمانے لگے کہ ’’مودی صاحب ہمارے بڑے بھائی ہیں‘‘ ولی عہد نے بعدازاں مودی صاحب کا چھوٹا بھائی ہونے کا ثبوت اِس طرح سے دیا کہ یکم مارچ کو ابوظہبی میں ہونے والی ’’او آئی سی‘‘ وزرائے خارجہ کانفرنس میں بھارتی وزیر خارجہ کو بھی شرکت اور خطاب کا موقع فراہم کیا۔ حالاں کہ پاکستان نے اس پر سخت احتجاج کیا، پاکستانی وزیر خارجہ نے بائیکاٹ کیا۔ پلوامہ حملے کا جھوٹا الزام لگا کر بھارت کے 2 طیارے پاکستان پر حملہ آور ہوئے، بھارتی جارحیت پر سخت ردعمل دینے کے بجائے عرب دوستوں نے ’’او آئی سی‘‘ جو صرف مسلم ممالک کی تنظیم ہے اُس میں پاکستان کے دشمن بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج کو پاکستان کے خلاف زہر اُگلنے کا موقع دیا جو پاک عرب دوستی اور برادرانہ تعلقات کی عکاسی نہیں۔
موجودہ ’’عرب قیادت‘‘ کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ستمبر 1969ء میں مراکش کے شہر رباط میں جب ’’او آئی سی‘‘ کی بنیاد رکھی جارہی تھی تو بھارت کے اُس وقت کے وزیر خارجہ سردار سورن سنگھ بھی وہاں پہنچے۔ شاہ فیصل، مراکش کے شاہ حسن، اردن کے شاہ حسین اور مصر کے صدر انورسادات کے بے حد اصرار کے باوجود پاکستان کے صدر جنرل یحییٰ خان اِس بات پر اَڑ گئے کہ بھارت کو ’’او آئی سی‘‘ کا رکن بنانا تو دور کی بات ہے اگر اجلاس شروع ہونے سے پہلے بھارتی وزیر خارجہ کا جہاز یہاں سے ٹیک آف نہ کر گیا تو پاکستان اجلاس کا بائیکاٹ کرے گا۔ سعودی فرمانروا شاہ فیصل کی یقین دہانی کے بعد ویسا ہی ہوا جیسا کہ صدر پاکستان جنرل یحییٰ خان نے کہا۔۔۔ مگر آج کا منظر انتہائی مختلف اور تکلیف دہ ہے۔ حالاں کہ آج کے عرب دوستوں کو پاکستان کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ آج کی عرب دُنیا غیر محفوظ اور جنگ زدہ ہے۔ پاکستان واحد ایٹمی اور فوجی قوت ہے جو عربوں کے خلاف کسی خوفناک بیرونی جارحیت کی صورت میں ڈھال بن سکتا ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کے دوست پاکستان کے دشمن کو اپنا دوست نہ سمجھیں۔ تجارتی مفادات اگر عقیدے کی جگہ لینا شروع کردیں گے تو ایک اُمت اور ایک کلمے کا رشتہ کمزور پڑنا شروع ہوجائے گا۔ مزید برآں یہ بات بھی تشویشناک ہے کہ سعودی ولی عہد کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کسی بھی موقع پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی ’’مسئلہ کشمیر‘‘ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی کوئی بات کی بلکہ ہر جگہ یعنی اسلام آباد اور نیو دہلی میں ایک جیسے الفاظ دہرائے گئے کہ پاکستان اور بھارت اپنے تنازعات کو دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔ حیرت ہے کہ 7 مارچ 2019ء کو سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر جب پاکستان تشریف لائے اور پاکستانی قیادت سے ملاقات کی تو انہوں نے ’’او آئی سی‘‘ وزرائے خارجہ اجلاس میں بھارتی وزیر خارجہ کو مدعو کرنے پر نہ تو کوئی معذرت کی اور نہ ہی مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی کوئی بات کی۔
ہم عرب دوستوں پر یہ بات واضح کردینا چاہتے ہیں کہ یو این او اور او آئی سی سمیت کسی بھی عالمی فورم پر حق و انصاف پر مبنی موقف اختیار کیا جائے گا تو اُس سے اُس ادارے اور تنظیم کے احترام اور تائید میں اضافہ ہوگا، تاہم اگر کہیں ایسا نہیں ہوا تو بھی حق کی گواہی اور انصاف کے اصولوں کو بدلا نہیں جاسکے گا۔ مقبوضہ کشمیر سے لے کر فلسطین تک اور شہید بابری مسجد سے لے کر مقبوضہ بیت المقدس تک کی صورت حال عرب دوستوں کے لیے چیلنج اور او آئی سی کا امتحان ہے۔ پاکستان اپنے حلقے کا کردار اور فرض ادا کرتا رہے گا۔ دوست اور دشمن کے فرق کو ضرور ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔ عقیدے کو تجارت نہیں بنے دیا جائے گا، بتوں کی پرستش اور ایک خدا بزرگ و برتر کی عبادت کے فرق کو ہر حال میں واضح کیا جائے گا۔ اسلام امن کا دین ہے جسے دنیا پر غالب ہونا ہے، مسلم اور غیر مسلم کا کعبہ ایک نہیں ہوسکتا۔ مقبوضہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے خون کو اگر پانی سمجھ لیا گیا ہے تو اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس کے دریا یوں ہی بہتے رہیں گے، اِس خون ناحق کو روکنا ہوگا، بابری مسجد کے کھنڈرات اور بیت المقدس کے بند دروازے اُمت کی غیرت کو للکار رہے ہیں، بہتر ہوگا کہ عرب لیگ اور او آئی سی حالات اور واقعات کا نزاکت کو سمجھیں۔ ہندو، یہود اور نصاریٰ کے ایجنڈے کو اپنی فائلوں سے باہر نکال پھینکیں۔ عالم اسلام جس کی قیادت ’’عرب دوست‘‘ کررہے ہیں سب کو ساتھ لے کر چلیں اور دوستوں کے دوست بن جائیں، اِس طرح کے باہمی اتحاد اور اتفاق میں ہم سب کی خیریت ہے۔